دوسری آہ
وہ ہے جو دنیاوی اور فانی اشیاء کے چھن جانے کی وجہ سے نکلتی ہے ۔ کوئی مرگیا تو واویلا ۔۔۔ کوئی چیز گم ہوگئی تو آہ و زاری ۔۔۔ یہ آہ شکایت ہے ۔۔۔ آہ و فغاں نہ کیجئے ۔۔۔ انا للہ وانا الیہ راجعون کی طرف دھیان دیجیے ۔۔۔ اسی آہ کے متلعق کہا جاتا ہے ۔۔۔
چوں‌از بالا قضا بہ تو روئے
روتو اللہ گو وآہ مگوئے
یعنی جب اوپر سے تقدیر تیری طرف منہ کرے توتیرے منہ سے آہ نہ نکلے ۔
اسی آہ کے متعلق ایک شاعر نے کہا ۔۔
آہ اگر دم زند چوں مرداں
آہ راھم زراہ وا گرداں
یعنی آہ دم مارنے لگے تو مردوں کی طرح آہ کو رستے سے ہٹادے
( آہ کی یہ قسم بزدلی کی علامت ہوتی ہے )