اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف پاپائے روم کی ہرزہ سرائی

اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف پاپائے روم کی ہرزہ سرائی

 

                       اسلام پر تلوار کے زور سے پھیلنے کا الزام لگانا اور اس کے مقدس نظریہ جہاد کو خودساختہ معانی پہنا کر اس کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنا یوں تو ہر دور میں اہلِ مغرب کا محبوب مشغلہ رہا ہے لیکن تاریخی تناظر مین دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ صلیبی جنگوں کے بعد اس الزام کو مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈے کے لئے باقاعدہ ایک حربے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اسلام مخالف اس مہم میں سب سے اہم کردار یورپ کے کلیساوں خصوصاً پاپائے روم کا رہا ہے۔ مفتی اعظم دہلی اور مسجد فتحپوری (دہلی) کے شاہی امام و خطیب علامہ مفتی ڈاکٹر محمد مکرم احمد صاحب نے بجا طور پر ارشاد فرمایا ہے کہ ”پوپ بینی ڈکٹ کا بیان اسلام مخالف تحریک کا حصہ ہے اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، پہلے بھی رومن کیتھولک چرچ کی طرف سے اس طرح کے اسلام مخالف توہین آمیز بیانات آتے رہے ہیں اور انہی کے نتیجہ میں صلیبی جنگیں ہوئیں۔ لیکن مسلمانوں کو مشتعل ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ تدبر سے ڈپلومیسی اور میڈیا کے ذرائع کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔“ اور اب نائن الیون کے بعد مغرب اور اسلامی دنیا کے درمیان پیدا ہونے والی تلخیوں اور کشیدگیوں کو مزید ہوا دینے کے لئے خفی و جلی کوششوں کا جو سلسلہ جاری ہے وہ بھی اپنی کیفیت و کمیت کے لحاظ سے اسی سلسلہ کی کڑی محسوس ہوتی ہے۔
                       پاپائے روم پوپ بینی ڈکٹ ششم نے گزشتہ روز جرمنی کی ایک یونیورسٹی میں خطاب کے دوران اسلام کے خالف اس الزام کا اعادہ کرتے ہوئے جس طرح اسلام کی جہادی تعلیمات کا ناتا دہشت گردی سے جوڑنے کی سعیِ لاحاصل کی ہے وہ بلاشبہ اسلام اور بانیِ اسلام کی توہین کے زمرے میں آتی ہے اور اس سے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ دفترِ خارجہ پاکستان کی ترجمان نے اس پر اپنے سخت ردِّ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بینی ڈکٹ کے الفاظ قابلِ مذمت اور خطرناک ہیں اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے اسے اسلام کی روح اور تعلیمات کا سرے سے کوئی علم نہیں۔ ترجمانِ دفتر خارجہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر رومی کلیسا کے سربراہ نے اپنے لیکچر میں واقعتا وہ الفاظ استعمال کئے ہیں جو اخبارات میں شائع ہوئے ہیں تو ان کے یہ جملے اسلام کی توہین کے مترادف ہیں جسے عالمِ اسلام برداشت نہیں کرے گا۔ اس لئے ہم اس قسم کے بیان کی مذمت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس سے مذاہب کے مابین ہم آہنگی اور افہام و تفہیم کی کوششوں کو زبردست دھچکا لگے گا۔
                       ملک کی تمام جید شخصیات اور عمائدین نے پوپ کے اس بیان کو جہالت کا آئینہ دار قرار دیا اور پوپ سے مطالبہ کیا کہ وہ عالمِ اسلام سے معافی مانگیں۔ یومِ جمعہ کے موقع پر ملک گیر احتجاج کے دوران علماءنے کہا کہ اس بیان نے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات مجروح کئے ہیں۔ ادھر دفتر خارجہ میں ویٹی کن کے سفیر کو طلب کرکے انہیں مسلمانوں کے شدید ردِعمل سے آگاہ کیا۔ روزنامہ جنگ (۷۱ستمبر2006ء) نے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ پوپ بینڈکٹ کی جہاد، شانِ رسالتﷺ، اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی اور الزام تراشی دراصل ایک باقاعدہ سازش اور امتِ مسلمہ کے خلاف عصبیت کا حصہ اور مظاہرہ ہے اس پر پاکستان اور دوسرے مسلمان ممالک کا ردِّ عمل بجا اور درست لیکن اس مسئلہ سے نمٹنے کا یہ کوئی موثر حل نہیں اس کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ملّتِ اسلامیہ اپنے خلاف صلیبی قوتوں کی سازشوں کا ادراک کرتے ہوئے اپنی صفوں میں اتحاد و یکجہتی پیدا کرے۔ مسلمان امام احمد رضا کے پیش کردہ فلاح و نجات کے چار نکاتی پروگرام پر عمل کرتے ہوئے عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے نکل کر باہر آئیں اور اپنی مالیاتی اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کریں۔ ہمیں اس حقیقت کو ایک لمحہ کے لئے بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اسلام دشمن قوتیں ان کے وسائل پر قبضہ کرکے انہیں اقتصادی اور سیاسی غلامی کے شکنجے میں جکڑنا چاہتی ہیں۔ اس طرح کی اسلام دشمن سازشوں کا صحیح ادراک ہی امتِ مسلمہ کو تباہی سے بچاسکتا ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.