نعتِ رسولِ مقبول

از: مولانا صاحبزادہ ابوالحسن واحد رضوی

کاش ہو اس وقت اُن کا ذیلِ عالی ہاتھ میں        

جب لوائِ حمد لیں گے وہ مثالی ہاتھ میں

چاند ہو ٹکڑے، پھر سورج، رواں ہو آب بھی

طاقتیں رکھتے ہیں وہ ایسی نرالی ہاتھ میں

ہاتھ خالی ان کے در سے کوئی بھی پلٹا نہیں

کچھ نہ کچھ جاتا ہے لے کر ہر سوالی ہاتھ میں

جس کو چاہیں، جس قدر چاہیں عطا کرتے ہیں وہ

”دو جہاں کی نعمتیں ہیں اُن کے خالی ہاتھ میں“

باغِ عالم کا اُنہیں حق نے بنایا باغباں

پتہ پتہ ملک میں ہے، ڈالی ڈالی ہاتھ میں

دشمنِ جاں پر بھی ہوتی ہے عنایت کی نظر           

باگ ملک عفو کی آقا نے کیا لی ہاتھ میں

تشنہ لب واحد کی آقا! ختم کیجئے تشنگی

یہ بھی لے کر در پہ آیا ہے پیالی ہاتھ میں