نماز کي قبوليت کا گمان رکھيے

نماز کي قبوليت کا گمان رکھيے
 نماز کے دوران جو دنياوي خيالات آئيں، ان کي طرف توجہ نہ کريں بلکہ انکي پرواہ کيے بغير اپنے ذہن کو نماز ميں پڑھے جانے والے الفاظ اور ان کے معاني کي طرف متوجہ کرنے کي کوشش کرتے رہيں؟
بعض لوگ يہ سوال کرتے ہيں کہ ہميں يہ اطمينان کيسے ہو کہ ہم نے جو نماز پڑھي اسے اللہ تعالي نے قبول فرماليا؟ اس کا جواب سمجھنے کے ليے اس حديث پاک پر غور کيجئے، ارشاد ہوا ، اللہ تعالي قيامت ميں اپنے بندے کے ساتھ ويسا معاملہ کرے گا جيسا بندے نے اپنے رب کے ساتھ ظن رکھا ہوگا؟ لہذا خوف خدا کے ساتھ ساتھ عبادت کے قبول ہونے کا حسن ظن رکھنا بھي ضروري ہے؟
علماء کرام فرماتے ہيں، اگر تم نے فجر کي نماز پڑھي اور پھر ظہر کي نماز بھي پڑھ لي تو يہ نيک گمان کرو کہ اللہ تعالي نے تمہاري فجر کي نماز قبول فرمالي? پھر جب نماز عصر پڑھ لو تو ظہر کے قبول ہونے کا اطمينان کرلو، اسي طرح ہر اگلي نماز ادا کرنے کے بعد پچھلي نماز قبول ہونے کا اطمينان کر لو کيونکہ اگر اللہ تعالي تمہاري نماز فجر قبول نہ فرماتا تو تمہيں نماز ظہر ميں حاضر ہونے کي توفيق نہ ديتا? رب کريم کا تمہيں ہر اگلي نماز ادا کرنے کي توفيق دينا اس بات کي دليل ہے کہ اس نے تمہاري پچھلي نماز کو قبول فرماليا ہے؟

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.