بلغ العلیٰ بکمالہ

بلغ العلیٰ بکمالہ

بلغ العلیٰ بکمالہ
کشف الدجیٰ بجمالہ
حسنت جمیع خصالہ
صلوا علیہ وآلہ

وہ عجیب رات سعید تھی
یہاں شادی تھی وہاں عید تھی
جو نبی کو حسرت دید تھی
تو خدا کو شوق وصال تھا

بلغ العلیٰ بکمالہ

وہی جلوہ اپنا دکھا گئے
میرے دل میں جن کا خیال تھا
وہی خواب میں مرے آگئے
کہ نظر میں جن کا جمال تھا

بلغ العلیٰ بکمالہ

نہ بشر کا حسن نہ حور کا
کہ وہ سایہ نور تھا نور کا
تھا عجب جمال حضور کا
کہ خدا بھی محو جمال تھا

بلغ العلیٰ بکمالہ

ملا نور اپنے ہی نور سے
ملے اور انبیاء دور سے
کوئی بڑھ سکا نہ حضور سے
یہ تو آپ ہی کا کمال تھا

بلغ العلیٰ بکمالہ

(تضمین بر رباعی حضرت شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.