مسواک  کا بيان
آقا و مولي صلی اللہ علیہ وسلم  کا فرمان عاليشان ہے، اگر يہ بات نہ ہوتي کہ ميري امت پر گراں ہوگا تو ميں ان کو حکم ديتا کہ وہ ہر نماز کے ساتھ مسواک کيا کريں۔ (بخاري)۔  حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمايا، مسواک لازم کر لو کيونکہ اس سے منہ کي صفائي ہوتي ہے اور رب تعالي بھي راضي ہوتاہے۔  (مسند احمد)
علماء فرماتے ہيں کہ مسواک کرنے کے ستر (70)  فائدے ہيں جن ميں سے ايک يہ ہے مرتے وقت کلمہ طيبہ نصيب ہوتا ےہ اور نزع کي تکليف آسان ہوجاتي ہے۔
مسواک کرنا وضو  کے ليے سنت ہے۔ مسواک نہ بہت نرم ہو نہ بہت سخت۔ بہتر ہے کہ پيلو، زيتون يا نيم وغيرہ لکڑي کي ہو۔
مسواک چھوٹي انگلي کے برابر موٹي اور زيادہ سے يادہ ايک بالشت لمبي ہو اور اتني چھوٹي بھي نہ ہو کہ مسواک کرنا دشوار ہو۔
 مسواک داہنے ہاتھ ميں اس طرح پکڑيں کہ چھوٹي انگلي مسواک کے نيچے اور بيچ کي تين انگلياں اوپر ار انگوٹھا مسواک کے نيچے ہو اور مٹھي بند نہ کي جائے، اس طرح مسواک کرنے والا بواسير کے مرض سے محفوظ رہتا ہے،
مسواک دانتوں کي چوڑائي ميں کرني چاہيے لمبائي ميں نہيں? پہلے اوپر کے دانت دائيں جانب اور پھر بائيں جانب سے صاف کريں پھر نيچے کے دانت پہلے دائيں اور پھر بائيں جانب سے صاف کريں، اوپر نيچے دائيں بائيں کم از کم تين تين مرتبہ مسواک کريں اور ہر بار مسواک دھوليں۔