خاوند کی آہ
 ایک خاوند صاحب اپنا ماتھا شہادت کی انگلی اور انگھوٹھے سے پکڑے ہوئے رو رہے تھے ، میں نے کہا بھائی تجھے کیا ہوا ؟‌ کیا جسم کا سارا پانی آنکھوں سے نکالنے کا ارادہ ہے ؟ کہا مختار کیا کروں میرا مرنے کو جی چاہتا ہے ۔۔ میرے منہ سے آہ کے علاوہ اور لفظ نکلتا ہی نہیں ۔۔۔ یوں لگتا ہے بچپن سے شاید یہی لفظ سیکھا ہے ۔۔۔ میرا پورا جسم صرف آہ بناتا ہے اور سب کام چھوڑ گیا ہے ۔۔۔ آج سے پانچ سال پہلے میں نے راتوں کا سکون بیچ کر ۔۔۔ موتیوں سے قیمتی آنسو دیکر ۔۔۔ دل و دماغ‌دیکر ایک خوبصورت عورت کی توجہ خریدی ۔۔۔ میں‌نے اسے کہا تھا تم صرف میرے سامنے رہا کرو ۔۔۔ بھوک لگے تو جگر حاضر ہے پیاس لگے تو اشک حاضر ہیں ۔۔۔ چلنا ہوتو سر آنکھوں‌پر ۔۔ رہنا ہوتو دل و دماغ‌حاضر ہیں‌۔۔ وہ مانوس ہوگئی ۔۔۔ جو میں‌چاہتا تھا وہی اس کی چاہت بن گئی یعنی ہم نے شادی کرلی ہماری شادی کو پانچ سال ہوگئے ہیں‌۔۔۔ میں اپنا جسم اور بعض اوقات ضمیر تک بیچ کر اسے آرام خرید کردیتا رہا ۔
 پھر وہ زور زور سے رونے لگا۔۔۔ اور کہتا ہے مختار تجھے معلوم ہے ؟ اس نے میرے ساتھ کیا کیا ؟ میں نے اسے ٹوٹ کر چاہا تھا اس نے مجھے توڑ کر رکھ دیا ۔۔۔ میں ٹوٹ گیا وہ کسی اور سے جڑ گئی ۔۔۔ وہ اپنا سب کچھ کسی دوسرے کو مفت دے رہی ہے ۔۔۔
 آہ
 اللہ مجھے ماردے ورنہ یہ گرم آہیں میرا سینہ جلادیں‌گی۔