نعت  شريف
جو بنوں پر ہے بہار چمن آرائي دوست
خلد کا نام نہ لے بلبل شيدائي دوست
تھک کے بيٹھے تو در دل پہ تمنائي دوست
کون سے گھر کا اجالا نہيں زيبائي دوست
عرصہ حشر کجا موقف محمود کجا
ساز ہنگاموں سے رکھتي نہيں يکتائي دوست
مہر کس منہ سے جلودارئ جاناں کرتا
سايہ کے نام سے بيزار ہے يکتائي دوست
مرنے والوں کو يہاں ملتي ہے عمر جاويد
زندہ چھوڑے گي کسي کو نہ مسيحائي دوست
ان کو يکتا کيا اور خلق بنائي يعني
انجمن کرکے تماشا کريں تنہائي دوست
کعبہ و عرش ميں کہرام ہے ناکامي کا
آہ کس بزم ميں ہے جلوہ يکتائي دوست
حسن بے پردہ کے پردے نے مٹا رکھا ہے
ڈھونڈنے جائيں کہاں جلوہ ہرجائي دوست
شوق روکے نہ رکے پاؤں اٹھائے نہ اٹھے
کيسي مشکل ميں ہيں الله تمنائي دوست
شرم سے جھکتي ہے محراب کہ ساجد ہيں حضور
سجدہ کرواتي ہے کعبہ سے جبيں سائي دوست
تاج والوں کا يہاں خاک پہ ماتھا ديکھا
سارے داراؤں کي دار ہوئي دارائي دوست
طور پر کوئي‘ کوئي چرخ پہ يہ عرش سے پار
سارے بالاؤں پہ بالا رہي بالائي دوست
انت فيہم نے عدو کو بھي ليا دامن ميں
عيش جاويد مبارک تجھے شيدائي دوست
رنج اعداء کا رضا چارہ ہي کيا ہے کہ انہيں
آپ گستاخ رکھے علم و شکيبائي دوست