قریش:

حضورِ اقدس (صلی اللہ علیہ وسلم)کے خا ندان نبوت میں سب ہی حضرات اپنی گو نا گوں خصوصیات کی وجہ سے بڑے نامی گرامی ہیں مگر چند ہستیاں ایسی ہیں جو آسمان فضل و کمال پرچاند تارے بن کر چمکے ان با کمالوں میں سے ‘‘ فہر بن مالک‘‘ بھی ہیں ان کا لقب ‘‘قریش‘‘ ہے اور ان کی اولاد قریشی یا ‘‘قریش‘‘ کہلاتی ہے!
‘‘ فہر بن مالک ‘‘ قریش‘‘ اس لئے کہلاتے ہیں کہ ‘‘قریش‘‘ ایک سمندری جانور کا نام ہےجو بہت ہی طا قتور ہوتا ہےاور سمندری جانوروں کو کھا ڈالتا ہے۔ یہ تمام جانوروں پر ہمیشہ غالب ہی رہتا ہےکبھی مغلوب نہیں ہوتا چونکہ ‘‘فہر بن مالک ‘‘ اپنی شجاعت اور خدا داد طاقت کی بنا پر تمام قبائل عرب پر غالب تھے اس لئے تمام اہل عرب ان کو ‘‘ قریش‘‘ کے لقب سے پکارنے لگے۔ چنانچہ اس بارے میں ‘‘شمرخ بن عمر و حمیری‘‘ کا شعر بہت مشہور ہےکہ ۔۔۔،
وقریش ھی التی تسکن البحر۔۔۔ بھا سمیت قریش قریشا
یعنی ‘‘قریش‘‘ ایک جانور ہے جوسمندر میں رہتا ہے اسی کے نام پر قبیلہ قریش کا نام ‘‘ قریش‘‘ رکھ دیا گیا۔(زُرقانی علی المواہب جلد اول صفحہ 76)
حضور(صلی اللہ علیھ وسلم)کے ماں،باپ کا سلسلہ نسب ‘‘فہر بن مالک‘‘ سے ملتا ہے اس لئے حضوراکرم(صلی اللہ علیھ وسلم) ماں باپ دونوں کی طرف سے ‘‘ قریشی‘‘ ہیں۔