لطیفہ نمبر 10:-
حضرات یوسف و موسٰی وعیسٰٰی علیہم السلام میں جو کمالات انفراداً تھے ، وہ مجموعی طور پر شاہ وصی اللہ صاحب میں تھے ۔ مدیر ‘‘ الاحسان ‘‘ کی پیر پرستی
یہ مذکورہ بالا امور ‘‘ شرک فی الرسالۃ‘‘ ہیں ۔ فاضل دیوبند مولانا اکبر آبادی کا جواب!
منجملہ انھیں حضرات کے مرشدی و مولائی محی السنۃ والاخلاق ماحی البدعۃ والنفاق حضرت مولانا الشاہ محمد وصی اللہ صاحب دامت برکاتہم واضہم بھی ہیں۔ آپ کی جامعیت و کمال کے بارے میں اپنا خیال یہ ہے کہ
۔۔۔۔۔آفاقہا گرویدہ ام مہر تباں ورزیدہ ام
۔۔۔۔۔بسیار خوہان دیدہ ام لیکن تو چیزےدیگری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(یا)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حسن یوسف دم عیسٰے ید بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا دا
ری
(رسالہ الاحسان جلد 2 ستمبر 55ء ص4 )

لیکن فاضل دیو بند مولانا سعید احمد اکبر آبادی فرماتے ہیں :-
اس مقام پر ایک نہایت اہم اور ضروری نکتہ جسے اپنے مرشد کے ساتھ غالی عقیدت و ارادت رکھنے والے مرید اکثر بھول جاتے ہیں ، ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے کہ جس طرح اللہ تعالٰی کی ذات و صفات میں کسی کو شریک ماننا ، شرک فی اللہ اور کفر ہے اسی طرح آنخضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف و کمالات نبوت میں کسی کو شریک جاننا شرک فی الرسالۃ اور عظیم ترین معصیت ہے ۔( برہان ،دہلی فروری 1952 ء ص108 )
فاضل دیوبند موصوف کے اس اقتباس سے معلوم ہوا کہ یہ عقیدہ غیر نبی کیلئے کہ
حسن یوسف دم عیسٰی ید بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
شرک فی الرسالۃ اور عظیم ترین معصیت ہے ۔ کیونکہ شعر مذکورہ کے مصداق صرف تاجدار دو عالم ہیں نہ کہ مولانا شاہ وصی اللہ
کاش مدیر الاحسان خدا پرستی کو چھوڑ کر پیر پرستی کے نشہ میں وہ نہ لکھتے جو لکھ گئے ۔ انہیں تو یہ کہنا چاہئے تھا ،،
چھٹ جائے اگر دولت کونین تو کیا غم !
چھوٹے نہ مگر ہاتھ سے دامان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
۔آمین