لطیفہ نمبر 6 :-
جب آپ نے اکابر دیوبند کے دین و ایمان کو سمجھ لیا کہ ‘‘ ایں خانہ ہمہ آفتاب است ‘‘ تو آئیے اب ان حضرات کے حالات کا بھی ایک سرسری جائزہ ان کی ہی روایات کی روشنی میں لیتے چلیں۔
وہ اپنے معاملات میں تاویل و توجیہہ و اغماض ومسامحت سے کام لیتے تھے !
انھوں نے اپنے ایک مرید کے کفری طرز عمل کے بارے میں نہیں کہا کہ کلمئہ کفر ہے۔ اور شیطانی فریب اس کفری طرز عمل کو غایت محبت پر محمول کر کے ٹال دیا۔
مولانا تھانوی کے بارے میں فاضل دیوبند مولانا سعید احمد اکبر آبادی کی تحقیق!
‘‘اپنے معاملات میں تاویل و توجیہہ اور اغماض و مسامحت کرنے کی مولانا میں جو خو تھی اس کا اندازہ ایک واقعہ سے بھی کیا جاسکتا ہے کہ ایک مرتبہ کسی مرید نے مولانا کو لکھا کہ میں نے رات خواب میں دیکھا کہ میں ہر چند کلمئہ تشہید صحیح صحیح ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن ہر بار ہوتا یہ ہے کہ لا الٰہ الا اللہ کے بعد اشرف علی رسول اللہ منھ سے نکل جاتا ہے ظاہر ہے کہ اس کا صاف اور سیدھا جواب یہ تھا کہ کلمئہ کفر ہے شیطان کا فریب ہے اور نفس کا دھوکہ ہے۔ تم فوراً توبہ کرو اور استغفار پڑھو۔ لیکن مولانا تھانوی صرف یہ فرما کر بات آئی گئی کر دیتے ہیں کہ تم کو مجھ سے غایت محبت ہے اور یہ سب اسی کا نتیجہ و ثمرہ ہے ‘‘ ( برہان دہلی فروری 1952 ء صفحہ 107 )