لطیفہ نمبر 8 :-
فضائل مصطفٰی آج مصلحۃً بیان کر دینا چاہئے تا کہ وہابیت کا شبہہ ختم ہو سکے ۔
———————علمائے دیوبند کا نقطہ نظر
فضائل کے لئے روایات درکار ہیں اور وہ مجھے یاد نہیں۔
مولانا تھانوی کا ارشاد!!
دارالعلوم دیوبند کے بڑے جلسے دستار بندی میں بعض اکابر نے ارشاد فرمایا کہ اپنی جماعت کی مصلحت کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فضائل بیان کئے جائیں تا کہ اپنے مجمع پر جو وہابیت کا شبہ ہے وہ دور ہو اور موقع بھی اچھا ہے کیونکہ اس وقت مختلف طبقات کے لوگ موجود ہیں۔ حضرت والا (‘تھانوی صاحب‘) نے باادب عرض کیا ،
اس کے لئے روایات کی ضرورت ہے اور وہ روایات مجھ کو مستحفر نہیں۔
( اشرف السوانح حصہ اول ص76 )
یہ حضرت والا وہی ہیں جن کے بارے میں بعض لوگوں نے یہ عقیدہ بنا رکھا ہے وہ حکیم الامت، مجدد دین و ملت، آیۃ من آیات اللہ، حجۃ اللہ فی الارض اور نہ جانے کیا کیا ہیں۔ مگر قربان جائیے ان کے مبلغ علم اور جذبہ محبت رسول پر کہ حجۃ اللہ فی الارض اور آیۃ من آیات اللہ ہوتے ہوئے بھی نہ تو فضائل رسول کی روایات ان کو مستحضر ہیں اور نہ ہی بیان فضائل سے کچھ دلچسپی ۔