لطیفہ نمبر 14 :-

مولوی عبد الباری ندوی مؤلف جامع المجد دین کی ایک عبارت فاضل اکبر آبادی نقل کرتے ہیں :-
حضرت تھانوی علیہ الرحمہ کا سب سے نمایاں اور بڑا کمال راقم الحروف ( عبد الباری ندوی) کی نظر میں یہ تھا کہ علم و عمل میں حدود کی رعایت اس درجہ تھی کہ حضرات انبیاء کا تو ذکر نہیں ورنہ لوازم بشریت کے ساتھ اس سے زائد کا تصور دشوار ہے اور اس میں یقیناً اس نعمت کا دخل تھا کہ اللہ تعالٰی نے بسطۃً فی العلم کے ساتھ بسطۃً فی العمل کا بھی وافر حصہ عطا فرمایا تھا جسمانی خلقت ظاہر و باطنی حواس کی اور نتیجہ اعتدال مزاج کی لطافت میں بھی مجددامت کی ذات نبی امت صلی اللہ تعالٰٰی علیہ وآلہ وسلم کی پر تو تھی ۔
( برہان فروری 52ء ص 112 ، 113 )

فاضل اکبر آبادی اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد یوں تبصرہ فرماتے ہیں :-

حضرات انبیاء کا تو ذکر ہی نہیں ورنہ لوازم بشریت کے ساتھ اس سے زائد کا تصور دشوار ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس عبارت کا مطلب بجز اس کے اور کیا ہو سکتا ہے کہ تابعین و تبع تابعین اور ائمہ عظام و صدیقین و شہداء تو کیا ، مولانا تھانوی کا مقام صحابہ سے بھی اونچا تھا کیونکہ صحابی سب ایک ہی مرتبے کے نہیں تھے ۔ ان میں آپس میں بھی فرق مراتب تھا اور لوازم بشریت کے ساتھ اس سے زائد کا تصور ہی نہ ہونا یہ سب سے اونچا مرتبہ ہے ، اس بناء پر مولانا تھانوی فرداً فرداً ہر ایک صحابہ سے اونچے نہ سہی ، بعض صحابہ سے جو دوسرے صحابہ کے مقابلے میں مفضول تھے ، ان سے لا محالہ تھانوی صاحب اونچے ہو ہی گئے ۔
( برہان دہلی فروری 1952ء ص 114 )