لطیفہ نمبر 16 :-
مولانا تھانوی کی صورت کا تصور نماز میں کرنا جائز ہے
مولانا موصوف کے فتوے کا حاصل :-

کسی نے خط میں لکھا کہ اگر آپ ( مولانا تھانوی ) کی صورت کا تصور کر لوں تو نماز میں جی لگتا ہے ، فرمایا جائز ہے ۔،
( ملفوظات اشرف العلوم بابۃ ماہ رمضان 1355 ھ ص 84 )
مگر مولانا اسمٰعیل دہلوی فرماتے ہیں :-
نماز میں زنا کے وسوسے سے اپنی بی بی کی مجامعت کا خیال بہتر ہے اور شیخ یا اسی جیسے اور بزرگوں کی طرف خواہ رسالت مآب ہی ہوں اپنی ہمت کو لگا لینا اپنے بیل اور گدھے کی صورت میں مستغرق ہونے سے بُرا ہے ۔
( صراط مستقیم مترجم ، اردو مطبوعہ کتب خانہ رحیمیہ دیو بند ص 97 )

پھر فرماتے ہیں :-

غیر کی تعظیم اور بزرگی جو نماز میں ملحوظ ہو وہ شرک کی طرف کھینچ کر لے جاتی ہے :-
صراط مستقیم ص 97 ایضاً )

غور فرمائیے !!!!!!!!
فخر عالم کا خیال و تصور نماز میں لانا اور جمانا ، گدھے اور بیل کے خیال سے بد تر اور شرک کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر مولانا تھانوی کی صورت نماز میں جی لگانے کے لئے بہ جہت تعظیم بسانا اور ان کی صورت کے تصور و خیال کو بحالت نماز قائم رکھنا ، نہ گدھے اور بیل کے خیال سے بد تر اور نہ شرک کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے ، ورنہ علمائے دیو بند کے ‘‘حجۃ اللہ فی الارض ‘‘ یہ نہ لکھتے کہ ‘‘‘ جائز ہے ‘‘‘
اس کا قدرتی طور پر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ رسول کے تصور و خیال کو نماز میں شرک کہہ دیا جائے تا کہ عظمت شان میں کچھ تو کمی ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مولانا تھانوی کے لئے اسی امر کو جائز قرار دیا جائے تا کہ حق پرستی کو کچھ تو دھچکا پہو نچے ۔ اس مقام پر اس شعر کو پڑھنا نا مناسب نہ ہو گا ۔
نگاہ لطف کی اک اک ادا نے لوٹ لیا
وفا کے بھیس میں اک بے وفا نے لوٹ لیا