لطیفہ نمبر 19 :-
بانی دارالعلوم دیوبند دُلہن کے روپ میں ، مولانا گنگوہی کے نکاح میں پھر دونوں حضرات نے وہ لطف حاصل کیا ، جو شب وصل میں زوجین آپس میں حاصل کرتے ہیں ۔ ایک دلچسپ اور ذوق مباشرت سے بھرا خواب ۔
مولانا رشید احمد گنگوہی نے ایک بار ارشاد فرمایا ، میں نے ایک بار خواب دیکھا تھا کہ مولوی محمد قاسم دُلہن کی صورت میں ہیں اور میرا اُن سے نکاح ہوا ہے سو جس طرح زن و شوہر کو ایک دوسرے سے فائدہ پہنچتا ہے اسی طرح مجھے ان سے اور انہیں مجھ سے فائدہ پہونچا ہے ۔
( تذکرۃ الرشید حصہ دوم صفحہ 289 )
یہ بات اپنی جگہ پر دوسری ہے کہ خدا جانے مولانا گنگوہی کتنے گندے خیالات ذہن میں رکھ کر سوتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اتنی بات تو سب کو تسلیم کرنی پڑے گی کہ مولانا نانوتوی کا ذوق مباشرت بڑا ہائی (high) تھا ۔ مباشرت کی گرما گرمی اور دھوم دھام ہوئی تو بانی دارالعلوم دیوبند سے بتشنگی شہوت بُجھائی تو دیوبند حضرات کے ‘‘ قاسم العلوم و الخیرات ‘‘ سے خواب ہو تو ایسا ہو ۔ اور اسٹینڈرڈ بھی ہو تو مولانا نانوتوی جیسا ۔
ممکن ہے اس حیا سوز عقد کو خواب و خیال کہہ کر ٹال دیا جائے مگر ذیل کے واقعہ کو کہاں لے جائیے گا ۔