لطیفہ نمبر 20
خانقاہ گنگوہ کے بھرے مجمع میں مولانا گنگوہی کا مولانا نانوتوی سے لپٹنے کی فرمائش مولانا گنگوہی کا ان سے چپکنا اور مولانا نانوتوی کا انکار کرتے ہوئے جگ ہنسائی سے ڈرانا ۔ اس پر مولانا گنگوہی کا جواب کہ لوگ کہیں گے کہنے دو ۔
( پرواہ نہیں جب کوئی خدا سے بندوں سے پرواہ کرنا کیا )
دن دھاڑے گنگوہ کی خانقاہ میں اکابر دیوبند کے معاشقہ کی ٹریننگ :
ایک دفعہ گنگوہ کی خانقاہ میں مجمع تھا حضرت گنگوہی ، حضرت نانوتوی کے مرید و شاگرد سب جمع تھے اور یہ دونوں حضرات بھی وہیں مجمع میں تشریف فرما تھے کہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی نے حضرت مولانا قاسم نانوتوی سے محبت آمیز لہجے میں فرمایا ۔ یہاں ذرا سا لیٹ جاؤ ۔
حضرت نانوتوی کچھ شرما سے گئے مگر حضرت گنگوہی نے پھر فرمایا تو بہت ادب کے ساتھ چت لیٹ گئے اور مولانا قاسم نانوتوی کی طرف کروٹ لے کر اپنا ہاتھ اُن کے سینہ پر رکھ دیا جیسے کوئی عاشق صادق اپنے قلب کو تسکین دیا کرتا ہے ۔ مولانا قاسم نانوتوی ہر چند فرماتے رہے کہ میاں کیا کر رہے ہو ۔ یہ لوگ کیا کہیں گے ۔ حضرت ( گنگوہی) نے فرمایا لوگ کہیں گے کہنے دو
۔
( ارواح ثلٰثہ ص289 )
یہ وہی قاسم نانوتوی ہیں جنہوں نے بڑی قراءت سے فرمایا تھا :-
انما انا قاسم واللہ یُعطی :
مگر آج انہیں حضرت گنگوہی نے نہ صرف خواب میں بلکہ گنگوہ کی خانقاہ میں بھرے مجمع کے سامنے دن کی روشنی میں بھی چار خانہ چت کر دیا ۔