لطیفہ نمبر 22:-
تین سال تک حضرت حاجی امداد اللہ صاحب کا چہرہ میرے قلب میں رہا ۔ میں نے ان سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کیا ۔ جب تک قلب میں وہ حاضر و ناضر تھے ۔ علمائے دیوبند کے نقطہء نظر سے مولانا گنگوہی کا شرک آمیز بیان !

خاں صاحب نے فرمایا کہ ایک دفعہ حضرت گنگوہی صاحب رحمۃ اللہ علیہ جوش میں تھے اور تصور شیخ کا مسئلہ در پیش تھا ۔ فرمایا ، کہہ دوں عرض کیا گیا کہ فرمائیے ۔ پھر فرمایا کہہ دوں عرض کیا گیا کہ فرمائیے پھر فرمایا کہہ دوں ۔ عرض کیا گیا فرمائیے ۔ تو فرمایا کہ تین سال کامل حضرت امداد کا چہرہ میرے قلب میں رہا ہے اور میں نے ان سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کیا ۔ ( ارواح ثلٰثہ حکایات 290 ، 307 )
غور فرمائیے
تین سال کامل مولانا گنگوہی اپنے پیر و مرشد حضرت امداد اللہ مہاجر مکی کے چہرہ کو قلب میں بسائے ہوئے تھے ، حاضر و ناظر جان کر ان سے سوالات بھی کرتے رہے
جبھی تو مولانا گنگوہی کا یہ کہنا درست ہوگا کہ ‘‘ میں نے ان سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کیا ‘‘ ۔ با وجود ان حقائق کے دیوبند کا کوئی ایسا جیالا فرزند نہیں ہے جو مولانا گنگوہی پر انگشت اعتراض اٹھائے اور گریبان تھام کر پوچھے کہ توحید کا درس دینے والا شرک سے رسم و رواہ کیوں پیدا کر رہا ہے – ؟؟؟؟