میرے سرکار کو یہ رتبہ ملا آج کی رات

میرے سرکار کو یہ رتبہ ملا آج کی رات
اُس کا مداح ہوا رب العلٰی آج کی رات

عرش پر شاہ مدینہ کو بلا کر حق نے
ہم گناہگاروں پر احسان کیا آج کی رات

مرحبا صل علٰی شان کریمی کے نثار
جھوم کر برسا کیا ابر عطا آج کی رات

رف رفِ شاہ مدینہ کی یہ رفتار لطیف
رہ گئی پیچھے بہت پیچھے ہوا آج کی رات

حق نے بخشی تھی ستاروں کو مہ کامل کو
روئے سرکار مدینہ کی ضیاء آج کی رات

زاہدوں کو تو عطا کی ہی تھی جنّت
ہم گناہگاروں کو بھی بخش دیا آج کی رات

حق کے محبوب ملے جنّتِ فردوس ملی
اور کیا چاہئیے سب کچھ تو ملا آج کی رات

فرش سے عرش پہ پہنچے جو شہ ہر دوسرا
مل گئے مہر گل عرض و سماں آج کی رات

میرے سرکار کو یہ رتبہ ملا آج کی رات
اُس کا مداح ہوا رب العلٰی آج کی رات