قاسم نانوتوی اور انگریز آفیسر

اب انگریز کے خلاف دیوبندی اکابر کی افسانہ جہاد و بغاوت کی پوری رپورٹ الٹ دینے والی ایک سنسنی خیز کہانی سنیے سوانح قاسمی میں‌مولوی قاسم صاحب نانوتوی کے ایک حاضر باش مولوی منصور علی خان کی زبانی یہ قصہ بیان کیا گیا ہے وہ کہتے ہیں‌:
کہ ایک دن مولانا نانوتوی کے ہمراہ میں‌نانوتہ جارہاتھا کہ اثنائے راہ میں‌مولانا کا حجام افتاں و خیزاں آتا ہوا ملا اور اس نے خبر دی کہ نانوتہ کے تھانیدار نے ایک عورت کے بھگانے کے الزام میں میرا چالان کردیا ہے خدارا مجھے بچائیے ۔ مولوی منصور علی خان کا بیان ہے کہ نانوتہ پہنچتے ہی مولانا نے اپنے مخصوص کارندہ منشی محمد سلیمان کو طلب کیا اور پر جلال آواز میں‌فرمایا اس غریب کو تھانیدار نے بے قصور پکڑا ہے تم اس سے کہہ دو کہ یہ (حجام) ہمارا آدمی ہے اس کو چھوڑ دو ورنہ تم بھی نہ بچو گے اس کے ہاتھ ہتھکڑی ڈالو گے تو تمہارے ہاتھ میں‌بھی ہتھکڑی پڑے گی ۔
( سوانح قاسم ج 1 ص 321،322 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور )
لکھا ہے کہ منشی محمد سلیمان نے مولانانانوتوی کا حکم ہوبہوتھانیدار تک پہنچادیا تھانیدار نے جواب دیا کہ اب کیا ھوسکتا ھے روزنامچہ میں اس کا نام لکھ دیا گیا مولانا نانوتوی نے اس کے جواب پر حکم دیا کہ تھانیدار سے جا کر کہہ دو کہ اس کا نام روزنامچہ سے کاٹ دو منصورعلی خان کا بیان ہے کہ مولانا کا یہ حکم پاکر سراسیمگی کی حالت میں تھانیدار خود ان کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا حضرت نام نکالنا بڑا جرم ہے اگر نام اس کا نکالا تو میری نوکری جاتی رہے گی فرمایا اس کا نام ( روزنامچہ سے ) کاٹ دو تمہاری نوکری نہیں جائے گی۔( حاشیہ سوانح قاسمی ج 1 ص 323 مطبوعہ مکتبہ رحمانیہ لاہور ) واقعہ کا راوی کہتا ہے کہ مولانا کہ حکم کے مطابق تھانیدار نے حجام کو چھوڑ دیا اور تھانیدار تھانیدار ہی رہا مجھے اس واقعہ پر بجز اس کے اور کوئی تبصرہ نہیں کرنا ہے کہ مولوی قاسم صاحب نانوتوی اگر انگریزی حکومت کے باغیوں میں تھے تو پولیس کا محکمہ اس قدر ان کے تابع فرمان کیوں تھا اور تھانیدار کو یہ دھمکی کہ اسے چھوڑ دو ورنہ تم بھی نہ بچوگے وہی دے سکتا ہے جسکی ساز ، باز اوپر مرکزی حکام سے ہو ۔