وہابی کا وضو بھی شرعا وضو نہیں

فقہ محمدی کلاں جلد 1 صفحہ 49 میں درج ہے
اور اسی طرح جائز ہے مسح کرنا صرف پگڑی پر بغیر سر کے ۔

وہابی اگر غسل کرتا ہے پلید پانی سے ، کپڑے پہنتا ہے تو منی سے لبریز ، جس سے بدن اور کپڑے دونوں پلید پھر وہابی کو اگر وضو کی ضرورت پڑے تو جوہڑ کے پلید پانی سے یا کتا بلی کنویں میں مرا ہوا ہو تو اس پانی سے وضو بناتا ہے وثیابک فطھر والرجز فاھجر کا انکار کرکے وضو بناتا ہے اگر پاک پانی سے بھی وضو کرے وہ بھی ناقص یعنی وامسحو بروء سکم کی تحریف کرکے پگڑی پر مسح کرکے جان چھڑاتا ہے اور صراحۃ قرآن کریم کی مخالفت کرتا ہے ۔ پلید پانی کے استعمال سے تو وضو ہوسکتا ہی نہیں پلید پانی سے جراءت بھی کرتا ہے تو ناکام رہتا ہے ، پاک پانی سے اگر وضو کرتا ہے تو سر کے مسح کا منکر ہے یا پانی کی پلیدی کی وجہ سے س پر ہاتھ پھیرنا پسند نہیں‌کرتا ۔

قرآنی فیصلہ
سر کا مسح ازروئے قرآن فرمان خداوندی وامسحو بروءسکم فرض‌ہے تاویل کی کوئی گنجائش ہی نہیں‌ وضو میں ایک فرض کو بھی ترک کردیا تو وضو کالعدم ہے جیسا کہ نماز میں ایک فرض کے ترک سے نماز نماز ہی نہیں‌ عمدا چھوڑے تو ایمان سے گیا ایسے ہی وہابی وضو میں‌عمدا سر کے مسح کو چھوڑتا ہے بلکہ پگڑی پر کرتا ہے تو منکر قرآن کریم ہے دشمن خداوندکریم ہے باغی ہے جب وضو ہی نہیں تو نماز کیسے درست ہوئی ۔
او اہلحدیث کے مدعیو !
کیا مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں فرمایا ہے کہ قرآن مجید کو بھی اپنی مرضی سے بدل لیا کرو ۔
توبو الی اللہ ۔