اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ فاتحہ 6

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِيْمَ
ہم کو سیدھے راستہ پر چلا۔
 
علامہ نووی (رح) نے اس حدیث کو امام ابن ماجہ (رح) اور امام ترمذی (رح) کے حوالوں سے بیان کیا اور اس میں یا محمد کے الفاظ ہیں ‘ علامہ نووی (رح) نے لکھا ہے کہ امام ترمذی (رح) نے اس حدیث کو حسن صحیح لکھا ہے۔ امام نسائی (رح) نے اس حدیث کو سنن کبری (ج ٦ ص ١٦٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ) میں روایت کیا ہے۔
امام محمد جزری (رح) نے اس حدیث کو امام ترمذی (رح) ‘ امام حاکمرحمۃ اللہ علیہ اور امام نسائی (رح) کے حوالوں سے ذکر کیا اور اس میں بھی یا محمد کے الفاظ ہیں۔ (الاذکار ص ١٢٧‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٣٧٥ ھ)
قاضی شوکانی (رح) ” حصن حصین “ کی شرح میں لکھتے ہیں :
اس حدیث کو امام ترمذی (رح) ‘ امام حاکم (رح) نے ” مستدرک “ میں اور نسائی (رح) نے روایت کیا ہے جیسا کہ مصنف (رح) نے بیان کیا ہے ‘ امام طبرانی (رح) نے اس حدیث کو تمام اسانید بیان کرنے کے بعد کہا : یہ حدیث صحیح ہے ‘ امام ابن خزیمہ (رح) نے بھی اس حدیث کو صحیح کہا ‘ سو ان ائمہ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے البتہ نسائی کی روایت میں یہ تفرد ہے کہ اس میں یہ ذکر بھی ہے : اس نے دو رکعت نماز پڑھی ‘ اس حدیث میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وسیلہ پیش کرنے کے جواز کی دلیل ہے ‘ اس لیے ساتھ یہ اعتقاد لازم ہے کہ حقیقۃ دینے والا اور منع کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے ‘ جو وہ چاہتا ہے وہ ہوجاتا ہے اور جو وہ نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا۔ (تحفۃ الذاکرین ص ١٣٨۔ ١٣٧‘ مطبوعہ مطبع مصطفے البابی و اولا دہ ‘ مصر ‘ ١٣٥٠ ھ)
حضرت عثمان بن حنیف (رض) کی یہ حدیث جس کی بکثرت محدثین نے اپنی اپنی تصانیف میں صحت سند کی صراحت کے ساتھ روایت کیا ہے اس مطلوب پر قوی دلیل ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے دعا کرنا اور آپ سے دعا کی درخواست کرنا جائز اور مستحسن ہے اور چونکہ آپ کی ہدایات قیامت تک کے مسلمانوں کے لیے حجت ہیں ‘ اس لیے آپ کے وصال کے بعد بھی آپ کے وسیلہ سے دعا کرنا اور آپ سے دعا کی درخواست کرنا جائز ہے اور بالخصوص آپ کے وصال کے بعد آپ کے توسل سے دعا کے جواز پر دلیل یہ ہے کہ حضرت عثمان بن حنیف (رض) نے حضرت عثمان (رض) کے زمانہ خلافت میں ایک شخص کو اس کی قضاء حاجت کے لیے یہ دعا تعلیم کی ‘ اس حدیث کو امام طبرانی (رح) اور امام بیہقی (رح) نے اپنی اپنی تصانیف میں صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے ‘ جیسا کہ عنقریب ہم بیان کریں گے۔ یہاں تک جو ہم نے احادیث بیان کی ہیں ان میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات ظاہرہ میں آپ کے توسل پر دلیل ہے ‘ اب ہم ایسی احادیث پیش کررہے ہیں جن میں آپ کی وفات کے بعد آپ کے توسل پر دلیل ہے۔
حضرت عمر (رض) کے زمانہ خلافت میں صحابہ (رض) کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دعا کی درخواست کرنا۔
حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں ایک سال قحط پڑگیا تو حضرت بلال بن حارث مزنی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روضہ پر حاضر ہوئے اور عرض کیا : اپنی امت کے لیے بارش کی دعا کیجیے۔
حافظ ابن ابی شیبہ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
مالک الدار ‘ جو حضرت عمر (رض) کے وزیر خوراک تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں (ایک بار) لوگوں پر قحط آگیا ‘ ایک شخص (حضرت بلال بن حارث مزنی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک پر گیا اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اپنی امت کے لیے بارش کی دعا کیجئے کیونکہ وہ (قحط سے) ہلاک ہو رہی ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا : عمر کے پاس جاؤ ان کو سلام کہو اور یہ خبر دو کہ تم پر یقیناً بارش ہوگی ‘ اور ان سے کہو : تم پر سوجھ بوجھ لازم ہے ‘ تم پر سوجھ بوجھ لازم ہے ‘ پھر وہ حضرت عمر (رض) کے پاس گئے اور ان کو یہ خبر دی ‘ حضرت عمر (رض) رونے لگے اور کہا : اے اللہ ! میں صرف اسی چیز کو ترک کرتا ہوں جس میں میں عاجز ہوں۔ (المصنف ج ١٢ ص ٣٢‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن ‘ کراچی ‘ ١٤٠٦ ھ)
نیز حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں :
حافظ ابوبکر بیہقی (رح) اپنی سند کے ساتھ مالک سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب کے زمانہ میں (ایک بار) قحط واقع ہوا ایک شخص (حضرت بلال بن حارث مزنی (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک پر حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اپنی امت کے لیے بارش کی دعا کیجئے کیونکہ وہ (قحط سے) ہلاک ہو رہی ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا : عمر کے پاس جاؤ ان کو سلام کہو اور یہ خبر دو کہ تم پر یقیناً بارش ہوگی ‘ اور ان سے کہو : تم پر سوجھ بوجھ لازم ہے ‘ تم پر سوجھ بوجھ لازم ہے ‘ پھر وہ حضرت عمر (رض) کے پاس گئے اور ان کو یہ خبر دی ‘ حضرت عمر (رض) عنہنے کہا : اے میرے رب ! میں صرف اسی چیز کو ترک کرتا ہوں جس میں میں عاجز ہوں۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (البدایہ والنہایہ ج ٧ ص ٩٢۔ ٩١ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)
حافظ ابوعمرو بن عبدالبر ١ (حافظ عمرو یوسف بن عبداللہ عبدالبر قرطبی مالکی متوفی ٤٦٣ ھ ‘ الاستیعاب علی ہامش الاطابہ ج ٢ ص ٤٦٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) اور حافظ ابن کثیر نے بھی اس روایت کو ذکر کیا ہے۔ (الکامل فی التاریخ ج ٢ ص ٣٩٠۔ ٣٨٩‘ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ‘ ١٤٠٠ ھ)
علم حدیث میں حافظ ابن کثیر کی شخصیت موافقین اور مخالفین سب کے نزدیک مسلم ہے اور حافظ ابن کثیر (رح) نے امام بیہقی (رح) کی اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور اس روایت میں یہ تصریح ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد حضرت بلال بن حارث مزنی (رض) نے آپ کے قبر انور پر جا کر آپ سے بارش کی دعا کے لیے درخواست کی اور حضرت عمر (رض) سے یہ واقعہ اور اپنا خواب بیان کیا اور حضرت عمر (رض) نے اس کو مقرر رکھا اور اس پر انکار نہیں کیا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر (رض) کے نزدیک بھی وصال کے بعد صاحب قبر سے دعا کی درخواست کرنا جائز ہے۔
اس حدیث کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :
امام ابن ابی شیبہ نے سند صحیح کے ساتھ حضرت عمر کے خازن مالک الدار سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں (ایک بار) قحط واقع ہوا ‘ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک پر حاضر ہوا اور عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اپنی امت کے لیے بارش کی دعا کیجئے ‘ کیونکہ وہ ہلاک ہورہی ہے ‘ پھر اس شخص کو خواب میں آپ کی زیارت ہوئی اور یہ کہا گیا کہ عمر کے پاس جاؤ ‘ الحدیث۔ سیف نے ” فتوح “ میں روایت کیا ہے کہ جس شخص نے یہ خواب دیکھا تھا وہ یکے از صحابہ حضرت بلال بن حارث مزنی (رض) تھے۔ (فتح الباری ج ٢ ص ٤٩٦ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)
اس حدیث کو حافظ ابن کثیر اور حافظ ابن حجر عسقلانی دونوں نے سندا صحیح قرار دیا ہے اور ان دونوں کی تصحیح کے بعد کسی تردد کی گنجائش باقی نہیں رہتی اور نہ کسی کا انکار درخور اعتناء ہے۔
حضرت عثمان (رض) کے زمانہ خلافت میں صحابہ (رض) کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دعا کی درخواست کرنا :
حضرت عثمان بن حنیف (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص اپنے کسی کام سے حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پاس جاتا تھا اور حضرت عثمان (رض) اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے ‘ اور نہ اس کے کام کی طرف دھیان دیتے تھے ‘ ایک دن اس شخص کی حضرت عثمان بن حنیف (رض) سے ملاقات ہوئی ‘ اس نے حضرت عثمان بن حنیف (رض) سے اس بات کی شکایت کی ‘ حضرت عثمان (رض) نے اس سے کہا : تم وضو خانہ جا کر وضو کرو ‘ پھر مسجد میں جاؤ اور وہاں دو رکعت نماز پڑھو ‘ پھر یہ کہو : اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور ہمارے نبی، نبی رحمت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ‘ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ کے واسطے سے آپ کے رب عزوجل کی طرف متوجہ ہوا ہوں تاکہ وہ میری حاجت روائی کرے اور اپنی حاجت کا ذکر کرنا ‘ پھر میرے پاس آنا حتی کہ میں تمہارے ساتھ جاؤں ‘ وہ شخص گیا اور اس نے حضرت عثمان بن حنیف (رض) کے بتائے ہوئے طریقہ پر عمل کیا ‘ پھر وہ حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پاس گیا ‘ دربان نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور ان کو حضرت عثمان بن عفان (رض) کے پاس لے گیا، حضرت عثمان (رض) نے اس کو اپنے ساتھ مسند پر بٹھایا اور پوچھا ‘ تمہارا کیا کام ہے ؟ اس نے اپنا کام ذکر کیا ‘ حضرت عثمان (رض) نے اس کا کام کردیا : تم نے اس سے پہلے اب تک اپنے کام کا ذکر نہیں کیا تھا اور فرمایا : جب بھی تمہیں کوئی کام ہو تو تم میرے پاس آجانا ‘ پھر وہ شخص حضرت عثمان (رض) کے پاس چلا گیا اور جب اس کی حضرت عثمان بن حنیف (رض) سے ملاقات ہوئی تو اس نے کہا : اللہ تعالیٰ آپ کو جزاء خیر دے ‘ حضرت عثمان (رض) میری طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے اور میرے معاملہ میں غور نہیں کرتے تھے حتی کہ آپ نے ان سے میری سفارش کی ‘ حضرت عثمان بن حنیف (رض) نے کہا : بخدا ! میں نے حضرت عثمان (رض) سے کوئی بات نہیں کی، لیکن ایک مرتبہ میں رسول کی خدمت میں موجود تھا ‘ آپ کے پاس ایک نابینا شخص آیا اور اس نے اپنی نابینائی کی آپ سے شکایت کی ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم اس پر صبر کرو گے ؟ اس نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے راستہ دکھانے والا کوئی نہیں ہے اور مجھے بڑی مشکل ہوتی ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : تم وضو خانے جاؤ اور وضو کرو ‘ پھر دو رکعت نماز پڑھو ‘ پھر ان کلمات سے دعا کرو ‘ حضرت عثمان بن حنیف (رض) نے کہا : ابھی ہم الگ نہیں ہوئے تھے اور نہ ابھی زیادہ باتیں ہوئی تھیں کہ وہ نابینا شخص آیا درآں حالیکہ اس میں بالکل نابینائی نہیں تھی، یہ حدیث صحیح ہے۔
حافظ زکی الدین عبد العظیم بن عبد القوی منذری متوفی ٦٥٦ ھ نے ” الترغیب والترہیب “ (ج ١ ص ٤٧٦۔ ٤٧٤‘ مطبوعہ دار الحدیث ‘ قاہرہ ‘ ١٤٠٧ ھ) میں اور حافظ الہیثمی (رح) نے مجمع الزوائد (ج ٢ ص ٢٧٩‘ مطبوعہ بیروت) میں اس حدیث کو بیان کرکے لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
شیخ ابن تیمیہ کے حوالے سے حضرت عثمان بن حنیف (رض) کی روایت کی تائید ‘ توثیق اور تصیح :
امام طبرانی (رح) نے اس حدیث کو روایت کر کے کہا : اس حدیث کو شعبہ نے ابوجعفر سے روایت کیا ہے اور شعبہ سے اس حدیث کو صرف عثمان بن عمر (رض) نے روایت کیا ہے اور وہ اس روایت کرنے میں متفرد ہے (یعنی اس کا کوئی متابع نہیں ہے اور یہ حدیث غریب ہے) اور حدیث صحیح ہے ‘ شیخ ابن تیمیہ نے امام طبرانی (رح) پر اعتراض کیا کہ اس حدیث کو شعبہ سے روایت کرنے میں صرف عثمان بن عمر (رض) متفرد نہیں ہے بلکہ روح بن عبادہ نے بھی اس حدیث کو شعبہ سے روایت کیا ہے اور یہ اسناد صحیح ہے ‘ اس کا خلاصہ یہ ہے امام طبرانی (رح) کی یہ روایت دو صحیح سندوں سے مروی ہے ‘ شیخ ابن تیمیہ کی اصل عبارت یہ ہے :
امام طبرانی (رح) نے کہا : اس حدیث کو شعبہ نے ابوجعفر سے روایت کیا ہے اور اس کا نام عمر بن ابی یزید ہے اور وہ ثقہ ہے ‘ عثمان بن ابی عمر ‘ شعبہ سے اس روایت میں متفرد ہے۔ ابوعبداللہ مقدسی نے کہا : اور حدیث صحیح ہے۔
میں کہتا ہوں کہ امام طبرانی (رح) نے اپنے مبلغ علم کے اعتبار سے عثمان بن ابی عمر (رض) کو متفرد کہا ہے ‘ ان کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ روح بن عبادہ نے بھی شعبہ سے اس حدیث کو روایت کیا ہے اور یہ اسناد صحیح ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ عثمان بن ابی عمر (رض) اس روایت میں متفرد نہیں ہے۔ (مجموع الفتاوی ج ١ ص ١٩٥۔ ١٩٤‘ مطبوعہ دارالجیل ‘ ریاض ‘ ١٤١٨ ھ)
طبرانی کی روایت مذکورہ کا صحاح کی دوسری روایت سے تعارض کا جواب :
ایک سوال یہ ہوسکتا ہے کہ حضرت عثمان بن حنیف (رض) کی اس روایت کو امام ترمذی (رح) ‘ امام ابن ماجہ (رح) ‘ امام احمد (رح) اور امام ابن سنی (رح) نے روایت کیا اور اس میں حضرت عثمان (رض) کے زمانہ خلافت میں وسیلہ کے ساتھ دعا کا ذکر نہیں ہے ‘ اس کے برخلاف امام طبرانی (رح) اور امام بیہقی (رح) نے حضرت عثمان بن حنیف (رض) کی اس روایت میں حضرت عثمان (رض) کے زمانہ خلافت میں بھی حضور سے توسل کرنے کا ذکر کیا ہے ‘ اس کی کیا وجہ ہے ؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ایک حدیث کو بعض ائمہ اختصار کے ساتھ روایت کرتے ہیں اور بعض ائمہ تفصیل کے ساتھ روایت کرتے ہیں ‘ اعتراض کا محل یہ تھا کہ اس روایت کی سند صحیح نہ ہوتی یا ضعیف ہوتی اور جب شیخ ابن تیمیہ نے خود بیان کیا کہ طبرانی (رح) کی مفصل حدیث دو صحیح سندوں کے ساتھ مروی ہے تو پھر اعتراض کی کب گنجائش ہے ؟
امام بیہقی (رح) نے پہلے دوسندوں کے ساتھ اس حدیث کو اختصارا روایت کیا (دلائل النبوۃ ج ٢ ص ١٦٧۔ ١٦٦) پھر اس حدیث کو روح بن قاسم عن ابی جعفر مدینی عن ابی امامہ بن سہل بن حنیف کی سند سے تفصیل کے ساتھ روایت کیا جیسا کہ امام طبرانی نے روایت کیا ہے اور اس کے بعد مزید یہ کہا :
اس حدیث کو ہشام دستوائی نے از ابو جعفر از ابوامامہ بن سہل از عم خود روایت کیا ہے ‘ ابوامامہ کے چچا حضرت عثمان بن حنیف (رض) ہیں۔ (لائل النبوۃ ج ٦ ص ١٦٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)
امام بیہقی (رح) کی اس مفصل روایت کا اور اس دوسری سند کا شیخ ابن تیمیہ نے بھی ذکر کیا ہے ‘ لکھتے ہیں :
امام بیہقی (رح) نے اس سند کے ساتھ قصہ کو روایت کیا ہے اور اس سے آپ کے وصال کے بعد آپ سے توسل پر استدلال کیا جاتا ہے ‘ بشرطیکہ یہ روایت صحیح ہو (فتاوی ابن تیمیہ ج ١ ص ٢٦٨‘ مطبوعہ بامر فہد بن عبدالعزیز آل السعود)
توسل بعد از وصال پر شیخ ابن تیمیہ کے اعتراضات اور مصنف کے جوابات :
شیخ ابن تیمیہ (رح) نے یہ تو کہا ہے کہ اگر اس حدیث کی سند صحیح ہو تو اس حدیث سے وفات کے بعد وسیلہ ثابت ہے ‘ لیکن انہوں نے اس حدیث کی سند پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور اس میں کوئی ضعف نہیں نکال سکے ‘ علاوہ امام بیہقی (رح) کی روایت بیان کرنے کے بعد انہوں نے اسی روایت کو امام طبرانی (رح) کے حوالہ بیان کرچکے ہیں ‘ لہذا جب امام طبرانی (رح) کی روایت صحیح ہے اور اس روایت کی دوسری سند بھی صحیح ہے تو شیخ ابن تیمیہ کے اپنے اقرار کے مطابق وفات کے بعد وسیلہ ثابت ہوگیا اور یہ واضح ہوگیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد آپ سے دعا کی درخواست کرنا اور آپ کو یا محمد کے صیغہ سے ندا کرنا صحابہ کرام (رض) کے نزدیک جائز تھا، جبھی حضرت عثمان بن حنیف (رض) نے ایک شخص کو یہ دعا تلقین کی کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں آپ کے وسیلہ سے آپ کے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں تاکہ وہ میری حاجت پوری کر دے۔
شیخ ابن تیمیہ (رح) نے اس بحث میں جو آخری اعتراض کیا ہے وہ یہ ہے :
حافظ ابوبکر بن خیثمہ نے اپنی تاریخ میں اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے :
حضرت عثمان بن حنیف (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک نابینا شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا : میری بینای چلی گئی ہے ‘ آپ اللہ تعالیٰ سے میری لیے دعا کیجئے ‘ آپ نے فرمایا : جا کر وضو کرو اور دو رکعت نماز پڑھو ‘ پھر کہو : اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور تیرے نبی محمد نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ‘ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں اپنے رب کے حضور اپنی بصارت لوٹانے کے لیے آپ کی شفاعت طلب کرتا ہوں ‘ اے الہ ! میرے حق میں میری شفاعت کو قبول کر اور میری بصارت لوٹانے میں میری نبی کی شفاعت قبول فرما ‘ اور اگر تمہیں کوئی اور کام ہو تو پھر اسی طرح کرنا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی بصارت لوٹا دی۔ (فتاوی ابن تیمیہ ج ١ ص ٢٧٥‘ مطبویہ بامر فہد بن عبدالعزیز آل السعود)
اس روایت پر شیخ ابن تیمیہ نے حسب ذیل اعتراضات کیے ہیں :
(١) اگر تمہیں کوئی اور کام ہو تو اسی طرح کرو “ یہ حضرت عثمان بن حنیف (رض) کے الفاظ ہیں ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے الفاظ نہیں ہیں۔
(٢) دوسرے راویوں کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں (جیسا کہ گزر چکا ہے) اور اگر بالفرض یہ الفاظ ثابت ہوں تب بھی یہ دلیل نہیں ہے ‘ کیونکہ اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ دعا کے بعض الفاظ کافی ہیں ‘ کیونکہ انہوں نے مشروع دعا کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ دعا کے بعض الفاظ کہنے کا حکم دیا ہے۔
(٣) حضرت عثمان بن حنیف (رض) نے یہ گمان کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد بھی اس طرح (یعنی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے) دعا کرنا جائز ہے ‘ حالانکہ حدیث کے الفاظ اس کے خلاف ہیں ‘ کیونکہ نابینا صحابی (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا تھا کہ آپ اس کے لیے دعا کریں اور اس کو یہ یقین تھا کہ آپ اس کے لیے دعا کریں گے اور آپ نے اس کو حکم دیا تھا کہ وہ دعا میں یہ کہے کہ اے اللہ ! حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما ! اور اس طریقہ سے یہ دعا اس وقت صحیح ہوگی جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے لیے دعا کریں اور اس کی شفاعت کریں اور جس کو آپ کی دعا کرنے اور آپ کے شفاعت کرنے کا علم نہیں ہے، اس کا اس طریقہ سے دعا کرنا صحیح نہیں ہے ‘ اس طریقہ سے دعا کرنا اور شفاعت طلب کرنا آپ کی حیات دنیاوی میں ہی درست تھا اور یا قیامت کے دن درست ہوگا جب آپ شفاعت فرمائیں گے۔ (فتاوی ابن تیمیہ ج ١ ص ٢٧٦۔ ٢٧٤‘ مطبوعہ بامر فہدبن عبدالعزیز)
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر یہ الفاظ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نہ ہوں بلکہ حضرت عثمان بن حنیف (رض) ہی کے ہوں تب بھی کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ کسی چیز کے جائز ناجائز ہونے میں شیخ ابن تیمیہ کی بہ نسبت صحابی رسول کی فہم اور ان کے اجتہاد پر اعتماد کرنا زیادہ قرین قیاس ہے۔
دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ حافظ ابن ابی خیثمہ کی اس روایت سے ہمارا استدلال نہیں ہے ‘ اگر اس پر شیخ کو اعتراض ہے تو اس روایت کو ہم چھوڑ دیتے ہیں ‘ ہمارا استدلال تو امام طبرانی (رح) کی روایت ہے جس کے متعلق خود شیخ ابن تیمیہ (رح) نے تصریح کی ہے کہ یہ دو صحیح سندوں سے مروی ہے۔
تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ جب ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دعا کی درخواست کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کی اس درخواست کی طرف متوجہ کردیتا ہے یا اس درخواست پر مطلع کردیتا ہے ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری دعا کی قبولیت کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور شفاعت کرتے ہیں اور اس میں کون سا شرعی یا عقلی استبعاد ہے ؟
امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھ پر میری امت کے اچھے اور برے تمام اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٢٠٧‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
اس حدیث کے پیش نظر جب آپ کا کوئی امتی آپ سے دعا کی درخواست کرے گا تو آپ کو اس کا علم ہوجائے گا اور آپ اس کی شفاعت فرمائیں گے ‘ کیونکہ آپ نے خود اپنے وسیلہ سے دعا کرنے اور دعا کی درخواست کرنے کی ہدایت دی ہے اور اس ہدایت کو عام رکھا ہے اور اس میں حیات یا بعد از وفات کی قید نہیں لگائی ‘ اس لیے شیخ ابن تیمیہ (رح) کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ ” اور اس طریقہ سے دعا اس وقت صحیح ہوگی، جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے لیے دعا کریں اور اس کی شفاعت کریں اور جس کو آپ کے دعا کرنے اور آپ کے شفاعت کرنے کا علم نہیں ہے اس کا اس طریقہ سے دعا کرنا صحیح نہیں ہے “ کیونکہ حیات اور ممات میں وسیلہ کے جواز اور عدم جواز کا فرق علم کے ہونے یا نہ ہونے کی وجہ سے ہوسکتا تھا اور آپ کے ہر دو صورت میں علم حاصل ہے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام احکام مسلمانوں کے لیے قیامت تک کے لیے حجت ہیں اور آپ کے افعال مسلمانوں کے لیے اسوہ اور نمونہ ہیں ‘ اگر آپ کا کوئی حکم صرف آپ کی حیات مبارکہ کے ساتھ مخصوص ہو اور بعد کے لوگوں کے لیے اس کا کرنا جائز ہو تو آپ پر لازم ہے کہ آپ یہ بیان فرمائیں کہ یہ حکم میری زندگی کے ساتھ خاص ہے اور بعد کے لوگوں کے لیے اس حکم عمل کرنا جائز نہیں ہے جیسا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبردہ بن نیار (رض) کو ایک شش ماہہ بکرے کی قربانی کرنے کا حکم دیا اور فرما دیا : تمہارے بعد کسی کے لیے یہ عمل جائز نہیں ہے ‘ امام بخاری روایت کرتے ہیں :
حضرت براء (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بردہ (رض) نے نماز عید سے پہلے قربانی کرلی ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے بدلہ میں اور قربانی کرو ‘ انہوں نے کہا : میرے پاس صرف چھ ماہ کا ایک بکرا ہے جو سال کے بکرے سے فربہ ہے آپ نے فرمایا : اس کے بدلہ میں اس کی قربانی کردو ‘ اور تمہارے بعد کسی اور کے لیے شش ماہہ بکرے کی قربانی جائز نہیں ہوگی۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٨٣٤‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ استثناء اس لیے بیان فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام اقوال اور افعال مسلمانوں کے حق میں قیامت تک کے لیے حجت ہیں اگر آپ یہ استثناء نہ فرماتے تو چھ ماہ کے بکرے کی قربانی سب کے لیے قیامت تک جائز ہوجاتی ‘ شیخ ابن تیمیہ (رح) کہتے ہیں : وفات کے بعد کسی بزرگ سے دعا کی درخواست کرنا شرک کی طرف لے جاتا ہے۔
ہر چند کہ انبیاء اور صالحین اپنی اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور اگر یہ فرض کیا جائے کہ وہ زندوں کے لیے دعا کرتے ہیں اور بیشک اس کی تائید میں احادیث بھی ہیں ‘ پھر بھی کسی شخص کے لیے ان سے دعا کو طلب کرنا جائز نہیں ہے اور پہلے لوگوں میں سے کسی نے یہ نہیں کیا کیونکہ یہ شرک کا سبب ہے ‘ اور اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کا ذریعہ ہے ‘ اس کے برخلاف اگر ان کی زندگی میں ان سے دعا طلب کی جائے تو یہ شرک نہیں ہے۔ (فتاوی ابن تیمیہ ج ١ ص ٣٣٠‘ مطبوعہ بامر فہد بن عبدالعزیز آل السعود)
شیخ ابن تیمیہ (رح) کا یہ قاعدہ باطل ہے کیونکہ وفات کے بعد کسی سے دعا کی درخواست کرنا شرک کا سبب ہوتا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس نابینا صحابی سے فرما دیتے کہ اس طریقہ سے دعا کرنا صرف میری زندگی میں جائز ہے اور میرے وصال کے بعد اس طریقہ سے دعا کرنا جائز نہیں ہے ‘ بلکہ شرک کا سبب ہے ‘ کیونکہ آپ کی بعثت کا مقصد ہی شرک کی بیخ کنی کرنا تھا اور جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر کسی استثناء کے نابینا صحابی کو دعا کا یہ طریقہ تعلیم کیا تو معلوم ہوا کہ قیامت تک اس طریقہ سے دعا کرنا جائز ہے اور صحابی رسول حضرت عثمان بن حنیف (رض) نے اس حدیث سے یہی سمجھا تھا ‘ اسی وجہ سے انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد بھی ایک شخص کو دعا کا یہ طریقہ بتلایا اور ہمارے لیے صحابی رسول کے طریقہ کی اتباع کرنا ‘ شیخ ابن تیمیہ (رح) کے افکار کی اتباع کرنے سے بہتر ہے۔
توسل بعد از وصال کے متعلق شیخ عبدالحق محدث دہلوی کا نظریہ :
شیخ عبدالحق محدث دہلوی لکھتے ہیں :
کاش میری عقل ان لوگوں کے پاس ہوتی ‘ جو لوگ اولیاء اللہ سے استمداد اور ان کی امداد کا انکار کرتے ہیں ‘ یہ اس کا کیا مطلب سمجھتے ہیں ؟ جو کچھ ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ دعا کرنے والا ‘ اللہ کا محتاج ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے اور اس سے اپنی حاجت کو طلب کرتا ہے اور یہ عرض کرتا ہے کہ اے اللہ ! تو نے اپنے اس بندہ مکرم پر جو رحمت فرمائی ہے اور اس پر جو لطف و کرم کیا ہے اس کے وسیلہ سے میری اس حاجت کو پورا فرما ‘ کہ تو دینے والا کریم ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وہ اس اللہ کے ولی کو ندا کرتا ہے اور اس کو مخاطب کرکے یہ کہتا ہے کہ اے بندہ خدا اور اے اللہ کے ولی ! میری شفاعت کریں اور اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ میرا سوال اور مطلوب مجھے عطا کرے اور میری حاجت برلائے ‘ سو مطلوب کو دینے والا اور حاجت کو پورا کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے ‘ اور یہ بندہ درمیان میں صرف وسیلہ ہے ‘ اور قادر ‘ فاعل اور اشیاء میں تصرف کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے ‘ اور اولیاء اللہ ‘ اللہ تعالیٰ کے فعل ‘ سطوت ‘ قدرت اور غلبہ میں فانی اور ہلاک ہیں اور ان کو اب قبر میں افعال پر قدرت اور تصرف حاصل ہے اور نہ اس وقت قدرت اور تصرف حاصل تھا ‘ جب وہ زندہ تھے۔
اور امداد واستمداد کا جو معنی میں نے ذکر کیا ہے اگر موجب شرک اور غیر اللہ کی طرف توجہ کو مستلزم ہوتا جیسا کہ منکر کا زعم فاسد ہے تو چاہیے یہ تھا کہ صالحین سے طلب دعاء اور توسل زندگی میں بھی ناجائز ہوتا حالانکہ یہ بجائے ممنوع ہونے کے بالاتفاق جائز اور مستحسن ومستحب ہے ‘ اور اگر منکر یہ کہیں کہ موت کے بعد اولیاء اللہ اپنے مرتبہ سے معزول ہوجاتے ہیں اور زندگی میں جو فضیلت و کرامت انہیں حاصل تھی وہ باقی نہیں رہی تو اس پر کیا دلیل ہے ؟
اور اگر یوں کہیں کہ بعد موت کے وہ ایسی آفات وبلیات میں مبتلا ہوئے کہ انہیں دعا وغیرہ کی فرصت نہ رہی تو یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے اور نہ اس پر دلیل ہے کہ اولیاء کے لیے ابتلا قیامت تک رہتا ہے ‘ زیادہ سے زیادہ جو کہا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ ہر اہل قبر سے استمداد سود مند نہیں ہوتی بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض اولیاء جذب و استغراق کی کیفیت میں ہوں اور عالم لاہوت کے مشاہدہ میں اس طرح منہمک ہوں کہ اس دنیا کے حالات کی طرف توجہ اور شعور نہ رہے تو وہ اس دنیا میں تصرف نہ کریں جیسا کہ دنیا میں بھی اولیا اللہ کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔ ہاں اگر اولیاء اللہ کے حق میں زائرین کا یہ اعتقاد ہو کہ وہ مدد کرنے میں مستقل ہیں اور اللہ کی جانب میں توجہ کئے بغیر بطور خود ذاتی قدرت سے امداد کرتے ہیں ‘ جیسے بعض جہلاء کا عقیدہ ہے کہ وہ قبرکو بوسہ دیتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں اور اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے ہیں ‘ یہ تمام افعال ممنوع اور حرام ہیں اور ناواقف عوام کے افعال کا کوئی اعتبار نہیں ‘ اور وہ خارج از بحث ہیں اور عارف بشریعت و عالم بہ احکام بہ احکام دین ان تمام منکرات سے سخت بیزار ہیں اور مشائخ اور اہل کشف سے ارواح کا ملہ سے استفادہ کے بارے میں جو کچھ مروی ہے وہ حصر سے خارج ہے اور ان کی کتابوں میں مشہور اور مذکور ہے ‘ حاجت نہیں کہ ہم اس کا ذکر کریں اور ممکن ہے کہ وہ منکر متعصب کو فائدہ نہ دے۔ اللہ تعالیٰ ہم کو اس بدعقیدگی سے محفوظ رکھے۔ (اشعۃ اللمعات ج ٣ ص ٤٠٢۔ ٤٠١ مبطوعہ مطبع تیج کمار ‘ لکھنو)
توسل بعد از وصال کے متعلق علامہ آلوسی (رح) کا نظریہ :
علامہ آلوسی (رح) لکھتے ہیں :
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں اور آپ کے وصال کے بعد آپ کی عزت اور وجاہت کے وسیلہ سے اللہ سے دعا کرنے میں میرے نزدیک کوئی حرج نہیں ہے ‘ اور آپ کی وجاہت سے یہاں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت مراد ہے۔ مثلا اللہ تعالیٰ کی آپ سے وہ کامل محبت جس کا یہ تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی دعا کو مسترد نہ کرے اور آپ کی شفاعت کو قبول فرمائے ‘ اور جب کوئی شخص دعا میں کہتا ہے : اے اللہ ! میں اپنی اس حاجت کے پورا ہونے میں تیری محبت کو وسیلہ بناتا ہوں اور اس دعا میں اور تمہارے اس قول میں کوئی فرق نہیں ہے کہ اے اللہ ! میں تیری رحمت کو وسیلہ بناتا ہوں کہ تو میرا یہ کام کردے ‘ بلکہ میں یہ کہنا بھی جائز سمجھتا ہوں کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اے اللہ ! میں تجھ کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجاہت کی قسم دیتا ہوں کہ تو یہ کام کر دے۔
وجاہت اور حرمت کے ساتھ سوال کرنے میں ایک جیسی بحث ہے ‘ توسل اور ذات محض کی قسم دینے میں یہ بحث جاری نہیں ہوگی ‘ ہاں وجاہت اور حرمت کے وسیلہ سے دعا کرنا کسی صحابی سے منقول نہیں ہے اور شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ صحابہ (رض) وسیلہ کے ساتھ دعا کرنے سے اس لیے اجتناب کرتے تھے کہ لوگوں کے ذہنوں میں کوئی بدعقیدگی جگہ نہ پکڑے ‘ کیونکہ ان کا زمانہ بتوں کے ساتھ توسل کرنے کے قریب تھا ‘ اس کے بعد ائمہ طاہرین نے بھی صحابہ (رض) کی اقتداء میں وسیلہ کے ساتھ دعا نہیں کی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کی اس وقت کی عمارت کو منہدم کر کے بناء ابراہیم پر اس کو دوبارہ تعمیر کرنا چاہتے تھے ‘ لیکن چونکہ آپ کی قوم تازہ تازہ کفر سے نکلی تھی ‘ اس لیے آپ نے فتنہ پیدا ہونے کے خدشہ سے اپنے ارادہ کو ترک کردیا جیسا کہ حدیث صحیح میں ہے ‘ میں نے وجاہت سے توسل اور قسم دینے کا جواز اور اس کی توجیہ اس لیے بیان کی ‘ تاکہ عام مسلمانوں کو اس دعا میں حرج نہ ہو ‘ کیونکہ بعض لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجاہت کے وسیلہ سے دعا کرنے پر گمراہی کا حکم لگانے کا دعوی کرتے ہیں، اس تقریر سے میرا یہ مقصد نہیں ہے کہ اس طرح وسیلہ سے دعا کرنا ان دعاؤں سے افضل ہے ‘ جو قرآن مجید اور احادیث میں مذکور ہیں اور جن دعاؤں پر صحابہ کرام (رض) کاربند رہے اور اخیار تابعین نے جس طریقہ کو اپنا یا ‘ یقیناً دعا کا یہی طریقہ زیادہ اچھا ‘ زیادہ جامع ‘ زیادہ نفع آور اور زیادہ سلامتی والا ہے۔ (روح المعانی ج ٦ ص ١٢٨‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
توسل بعدازوصال کے متعلق غیر مقلد عالم شیخ الزمان کا نظریہ :
شیخ وحید الزمان لکھتے ہیں : جب دعا میں غیر اللہ کے وسیلہ کا جواز ثابت ہے تو اس کو زندوں کے ساتھ خاص کرنے پر کیا دلیل ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے جو حضرت عباس (رض) کے وسیلہ سے دعا کی تھی، وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے ممانعت پر دلیل نہیں ہے ‘ انہوں نے حضرت عباس (رض) کے وسیلہ سے اس لیے دعا کی تاکہ حضرت عباس (رض) کو لوگوں کے ساتھ دعا میں شریک کریں ‘ اور انبیاء (علیہم السلام) اپنی قبروں میں زندہ ہیں ‘ اسی طرح شہداء اور صالحین بھی زندہ ہیں ‘ ابن عطاء نے ہمارے شیخ ابن تیمیہ کے خلاف دعوی کیا ‘ پھر اس کے سوا اور کچھ ثابت نہیں کیا کہ بطور عبادت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استعانت کرنا جائز نہیں ہے ‘ ہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وسیلہ پیش کرنا جائز ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد حضرت عثمان بن حنیف (رض) نے اس شخص کو آپ کے وسیلہ سے دعا تعلیم کی جو حضرت عثمان (رض) کے پاس جاتا تھا اور حضرت عثمان (رض) اس کی طرف التفات نہیں کرتے تھے، اس دعا میں یہ الفاظ تھے : اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور ہمارے نبی محمد نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، اس حدیث کو امام بیہقی (رح) نے سند متصل کے ساتھ ثقہ راویوں سے روایت کیا ہے : کاش میری عقل ان منکرین کے پاس ہوتی ! جب کتاب اور سنت کی تصریح سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اعمال صالحہ کا وسیلہ پیش کرنا جائز ہے تو صالحین کے وسیلہ کو بھی اس پر قیاس کیا جائے گا اور امام جزری نے ” حصن حصین “ کے آداب دعا میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں انبیاء اور صالحین کا وسیلہ پیش کرنا چاہیے ‘ اور ایک اور حدیث میں ہے : یا محمد ! میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہوں ‘ سید نے کہا کہ یہ حدیث حسن ہے موضوع نہیں ہے ‘ امام ترمذی (رح) نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ‘ ایک حدیث میں ہے : میں تیرے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور موسیٰ (علیہ السلام) کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں ‘ اس کو علامہ ابن اثیر (رح) نے ” نہایہ “ میں اور علامہ طاہر پٹنی (رح) نے ” مجمع بحار الانوار “ میں ذکر کیا ہے ‘ اور امام حاکم (رح) ‘ امام طبرانی (رح) اور امام بیہقی (رح) نے ایک حدیث میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی اس دعا کو روایت کیا ہے : اے اللہ ! میں تجھ سے بحق محمد سوال کرتا ہوں ‘ اور ابن منذر (رح) نے روایت کیا ہے : اے اللہ ! تیرے نزدیک محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جو وجاہت اور عزت ہے میں اس کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں ‘ علامہ سبکی (رح) نے کہا ہے کہ وسیلہ پیش کرنا ‘ مدد طلب کرنا اور شفاعت طلب کرنا مستحسن ہے ‘ علامہ قسطلانی (رح) نے یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے اللہ کی طرف متوجہ ہو کر آہ وزاری کرنے کا متقدمین اور متاخرین میں سے کسی نے انکار نہیں کیا تھا حتی کہ ابن تیمیہ آیا اور اس نے انکار کیا ‘ قاضی شوکانی نے کہا کہ انبیاء میں سے کسی نبی ‘ اولیاء میں سے کسی ولی اور علماء میں سے کسی عالم کا بھی وسیلہ پیش کرنا جائز ہے جو شخص قبر پر جا کر زیارت کرے یا فقط اللہ سے دعا کرے اور اس میت کے وسیلہ سے دعا کرے کہ اللہ میں تجھ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ تو مجھے فلاں بیماری سے شفاء دے اور میں اس نیک بندے کے وسیلہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں تو اس دعا کے جواز میں کوئی شک نہیں ہے۔ قاضی شوکانی کا کلام ختم ہوا۔ (ہدیۃ المہدی ص ٤٩‘ مطبوعہ میور پریس ‘ دہلی ‘ ١٣٢٥ ھ)
توسل بعد از وصال کے متعلق غیر مقلد عالم قاضی شوکانی کا نظریہ :
غیرمقلد عالم شیخ مبارکپوری ” الدرالنضید “ سے قاضی شوکانی کی عبارت نقل کرتے ہیں :
انبیاء اور صالحین کے توسل سے منع کرنے والے قرآن مجید کی ان آیات سے استدلال کرتے ہیں : ہم ان کی صرف اس لیے عبادت کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیں۔ (الزمر : ٣) اللہ کے ساتھ کسی کی عبادت نہ کرو۔ (جن : ١٨) اسی کو (معبود سمجھ کر) پکارنا برحق ہے ‘ اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو (معبود سمجھ کر) پکارتے ہیں جو ان کو کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ (الرعد : ١٤) ان آیات سے استدلال صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ سورة زمر کی آیت نمبر ٣ میں یہ تصریح ہے کہ مشرکین بتوں کی عبادت کرتے تھے اور جو شخص مثلا کسی عالم کے وسیلہ سے دعا کرتا ہے وہ اس کی عبادت نہیں کرتا بلکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس عالم کے علم کی وجہ سے اس کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک فضیلت اور وجاہت ہے ‘ وہ اس وجہ سے اسی کے وسیلہ سے دعا کرتا ہے وہ اس کی عبادت نہیں کرتا بلکہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس عالم کے علم کی وجہ سے اس کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک فضیلت اور وجاہت ہے ‘ وہ اس وجہ سے اس کے وسیلہ سے دعا کرتا ہے ‘ اس طرح سورة جن کی آیت نمبر ١٨ میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرکے پکارنے (یا عبادت کرنے) سے منع کیا ہے ‘ مثلا کوئی شخص کہے : میں اللہ اور فلاں کی عبادت کرتا ہوں ‘ اور جو شخص مثلا کسی عالم کے وسیلہ سے دعا کرتا ہے وہ صرف اللہ سے دعا کرتا ہے اور اللہ کے بعض نیک بندوں کے اعمال صالحہ کے وسیلہ پیش کرتا ہے، جیسا کہ ایک غار میں تین شخص تھے اور اس غار کے منہ پر ایک چٹان گرگئی تو انہوں نے اپنے اعمال صالحہ کے وسیلہ سے دعا کی ‘ اسی طرح سورة رعد کی آیت نمبر ١٤ میں ان لوگوں کی مذمت کی ہے جو ان لوگوں کو (معبود سمجھ کر) پکارتے تھے جو ان کو کوئی جواب نہیں دے سکتے تھے اور اپنے رب کو نہیں پکارتے تھے جو ان کی دعا قبول کرتا ہے اور جو شخص مثلا کسی عالم کے وسیلہ سے دعا کرتا ہے ‘ وہ صرف اللہ سے دعا کرتا ہے اور کسی اور سے دعا نہیں کرتا ‘ اللہ کے بغیر نہ اللہ کے ساتھ۔ (تحفۃ الاحوذی ج ٤ ص ٢٨٣‘ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان)
انبیاء (علیہم السلام) اور بزرگان دین سے براہ راست استمداد کے متعلق احادیث :
انبیاء (علیہم السلام) اور بزرگاں دین سے براہ راست مدد طلب کرنے کی اصل یہ حدیث ہے :
امام ابن ابی شیبہ (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : کراما کاتبین کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر کیے ہیں جو درختوں سے گرنے والے پتوں کو لکھ لیتے ہیں ‘ جب تم میں سے کسی شخص کو سفر میں کوئی مشکل پیش آئے تو وہ یہ ندا کرے : اے اللہ کے بندو ! تم پر اللہ رحم فرمائے میری مدد کرو۔ (المصنف ج ١٠ ص ٣٩٠ مطبوعہ ادارۃ القرآن ٗکراچی ٗ ٦۔ ١٤ ھ)
حافظ ابوبکر دینوری معروف بابن السنی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کسی ایک شخص کی سواری ویران زمین میں بھاگ جائے تو وہ یہ ندا کرے : اے اللہ کے نیک بندو ! اس کو روک لو ‘ اے اللہ کے نیک بندو اس کو روک لو ‘ کیونکہ زمین میں اللہ عزوجل کے کچھ روکنے والے ہیں جو اس کو روک لیتے ہیں۔ (عمل الیوم واللیلہ ص ١٦٢‘ مطبوعہ مطبع مجلس الدائرۃ المعارف ‘ حیدر آباد دکن ‘ ١٣١٥ ھ)
امام بزار (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کراما کاتبین کے سوا ‘ اللہ تعالیٰ کے فرشتے ہیں جو درخت سے گرنے والے پتوں کو لکھ لیتے ہیں ‘ جب تم میں سے کسی شخص کو جنگل کی سرزمین میں کوئی مشکل پیش آئے تو وہ یہ ندا کرے : اے اللہ کے نیک بندو ! میری مدد کرو۔
(کشف الاستار عن زوائد البزارج ٤ ص ٣٤‘ مطبوعہ، وسستہ الرسالۃ بیروت)
حافظ الہیثمی (رح) بیان کرتے ہیں :
حضرت عتبہ بن غزوان (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص کسی چیز کو گم کر دے درآن حالیکہ وہ کسی اجنبی جگہ پر ہو تو اس کو یہ کہنا چاہیے کہ اے اللہ کے بندو ! میری مدد کرو ‘ کیونکہ اللہ کے کچھ ایسے بندے ہیں جن کو ہم نہیں دیکھتے۔ یہ امر مجرب ہے ‘ اس حدیث کو امام طبرانی (رح) نے روایت کیا اور اس کے بعض راویوں کے ضعف کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ‘ البتہ یزید بن علی نے حضرت عتبہ کو نہیں پایا۔ (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١٣٢‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کراما کاتبین کے سوا اللہ کے فرشتے ہیں جو درخت سے گرنے والے پتوں کو لکھ لیتے ہیں ‘ جب کسی ویران زمین پر کسی کو مشکل پیش آئے تو وہ یہ ندا کرے : اے اللہ کے نیک بندو ! میری مدد کرو (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١٣٢‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٣٠١٤ ھ)
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کسی ایک کی سواری ویران زمین میں بھاگ جائے تو وہ یہ ندا کرے : اے اللہ کے نیک بندو ! روک لو ‘ اے اللہ کے نیک بندو ! روک لو ‘ اے اللہ کے نیک بندو روک لو ‘ کیونکہ زمین میں اللہ تعالیٰ کے روکنے والے ہیں جو اس کو عنقریب روک لیں گے ‘ اس کو امام ابویعلی (رح) اور طبرانی (رح) نے روایت کیا ہے اور طبرانی (رح) کی روایت میں یہ اضافہ ہے : وہ اس کو تمہارے لیے روک لیں گے۔
(مجمع الزوائد ج ١٠ ص ١٣٢‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)
رجال غیب (ابدال) سے استمداد کے متعلق فقہاء اسلام کے نظریات :
علامہ نووی ‘ امام ابن السنی کی کتاب سے حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) کی روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : مجھ سے میرے بعض اساتذہ نے بیان کیا جو بہت بڑے عالم تھے کہ ایک مرتبہ ریگستان میں ان کی سواری بھاگ گئی، ان کو اس حدیث کا علم تھا انہوں نے یہ کلمات کہے : (اے اللہ کے بندو ! روک لو) اللہ تعالیٰ نے اس سواری کو اسی وقت روک دیا۔ (علامہ نووی فرماتے ہیں :) ایک مرتبہ میں ایک جماعت کے ساتھ سفر میں تھا ‘ اس جماعت کی ایک سواری بھاگ گئی ‘ وہ اس کو روکنے سے عاجز آگئے ‘ میں نے یہ کلمات کہے تو بغیر کسی اور سبب کے صرف ان کلمات کی وجہ سے وہ سواری اسی وقت رک گئی۔ (کتاب الاذکار ص ٢٠١‘ مطبوعہ دار الفکر ‘ بیروت ‘ طبع رابع ‘ ١٣٧٥ ھ)
ملاعلی قاری نے بھی علامہ نووی کی عبارت کو نقل کیا ہے۔ (الحرز الثمین شرح حصن حصین علی ہامش الدرالغالی ص ٣٧٨‘ مطبوعہ المبطعۃ المنیریہ ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٣٠٤ ھ)
شیخ شوکانی نے بھی علامہ نووی (رح) کی اس عبارت کو نقل کیا ہے (تحفۃ الذاکرین بعدۃ الحصن الحصین ص ١٥٥‘ مطبوعہ مطبع مصطفے البابی واولادہ مصر ‘ ١٣٥٠ ھ)
ملاعلی قاری ” یاعباد اللہ “ کی شرح میں لکھتے ہیں :
” اے اللہ کے بندو “ اس سے مراد فرشتے ہیں یا مسلمان جن یا اس سے مردان غیب مراد ہیں جن کو ابدال کہتے ہیں (یعنی اولیاء اللہ) ۔ (الحرز المثین علی ہامش الدرالغالی ص ٣٧٨‘ مطبوعہ المطبعۃ المیریہ ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٣٠٤ ھ)
شیخ محمد بن جزری نے ” حصن حصین “ میں اس حدیث کو طبرانی ‘ ابویعلی ‘ ابن السنی ‘ بزار اور ابن ابی شیبہ کے حوالوں سے درج کیا ہے ‘ ان تمام ورایات کو درج کرنے کے بعد ملاعلی قاری لکھتے ہیں :
بعض ثقہ علماء نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے اور مسافروں کو اس کی ضرورت پڑتی ہے اور مشائخ سے مروی کہ یہ امر مجرب ہے۔ (الحرز المثین علی ہامش الدرالغالی ص ٣٧٩‘ مطبوعہ المطبعۃ المیریہ ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٣٠٤ ھ)
شیخ شوکانی ‘ حضرت ابن عباس (رض) کی روایت میں لکھتے ہیں :
مجمع الزوائد میں ہے کہ اس حدیث کے روای ثقہ ہیں ‘ اس حدیث میں ان لوگوں سے مدد حاصل کرنے پر دلیل ہے جو نظر نہ آتے ہوں ‘ جیسے فرشتے اور صالح جن ‘ اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ جیسا کہ جب سواری کھسک جائے یا بھاگ جائے تو انسانوں سے مدد حاصل کرنا جائز ہے۔ (تحفۃ الذاکرین ص ١٥٦۔ ١٥٥‘ مطبوعہ مطبع مصطفے البابی و اولا دہ ‘ مصر ‘ ١٣٥٠ ھ)
امام ابن اثیر اور حافظ ابن کثیر کے حوالوں سے عہد صحابہ (رض) میں ندائے یا محمداہ کا رواج :
عہد صحابہ اور تابعین میں مسلمانوں کا یہ شعار تھا کہ وہ شدائد اور ابتلاء کے وقت ” یا محمداہ “ کہہ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ندا کرتے تھے۔
جنگ یمامہ میں جب مسیلمہ کذاب اور مسلمانوں کے درمیان گھمسان کی لڑائی ہو رہی تھی ‘ اس کا نقشہ کھینچنے کے بعد علامہ ابن اثیر لکھتے ہیں :
پھر حضرت خالد بن ولید نے (دشمن کو) للکارا اور للکارنے والوں کو دعوت (قتال) دی ‘ پھر مسلمانوں کے معمول کے مطابق یا محمداہ کہہ کر نعرہ لگایا ‘ پھر وہ جس شخص کو بھی للکارتے اس کو قتل کردیتے تھے۔ (الکامل فی التاریخ ج ٢ ص ٢٤٦‘ مطبوعہ دار الکتاب العربیہ بیروت)
حافظ ابن کثیر بھی جنگ کے اس منظر کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
پھر حضرت خالدرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمانوں کے معمول کے مطابق نعرہ لگایا اور اس زمانہ میں ان کا معمول یا محمداہ کا نعرہ لگانا تھا۔ (البدایہ والنہایہ ج ٦ ص ٣٢٤‘ مطبوعہ دارا الفکر ‘ بیروت)
حافظ ابن اثیر اور ابن کثیر نے یہ تصریح کی ہے کہ عہد صحابہ اور تابعین میں شدائد اور ابتلاء کے وقت یا محمداہ کہنے کا معمول تھا ‘ ندائے غائب کے منکرین کے ہاں حافظ ابن کثیر کی بہت پذیرائی ہے اور ان کا یہ لکھنا کہ عہد صحابہ وتابعین میں یا محمداہ کہنے کا معمول تھا ‘ ان کے خلاف قوی حجت ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی نے ” المطالب العالیہ “ میں ذکر کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر عیسیٰ میری قبر پر کھڑے ہو کر ” یا محمد “ کہیں تو میں ان کو ضرور جواب دوں گا۔ (المطالب العالیہ ج ٤ ص ٣٤٩‘ مطبوعہ مکہ مکرمہ)
ندائے یا محمد اور توسل میں علماء دیوبند کا موقف :
شیخ رشید احمد گنگوہی ” یا رسول اللہ انظرحالنا ‘ یا نبی اللہ اسمع قالنا “ کے جواز یاعدم جواز کی بحث میں لکھتے ہیں : یہ خود معلوم آپ کو ہے کہ ندا غیر اللہ تعالیٰ کو دور سے شرک حقیقی جب ہوتا ہے کہ ان کو عالم سامع مستقل عقیدہ کرے ورنہ شرک نہیں ‘ مثلا یہ جانے کہ حق تعالیٰ انکو مطلع فرما دیوے گا یا باذنہ تعالیٰ انکشاف ان کو ہوجاوے گا یا باذنہ تعالیٰ ملائکہ پہنچا دیویں گے جیسا کہ درود کی نسبت وارد ہے ‘ یا محض شوقیہ کہتا ہو محبت میں یا عرض حال محل تحسر و حرمان میں ‘ ایسے مواقع میں اگرچہ کلمات خطابیہ بولتے ہیں لیکن ہرگز نہ مقصود اسماع ہوتا ہے نہ عقیدہ ‘ پس ان ہی اقسام سے کلمات مناجات واشعار بزرگان کے ہوتے ہیں کہ فی حد ذاتہ نہ شرک ہیں نہ معصیت مگر ہاں بہ وجہ موہم ہونے کے ان کلمات کا مجامع میں کہنا مکروہ ہے کہ عوام کو ضرر ہے اور فی حد ذاتہ ابہام بھی ہے ‘ لہذا نہ ایسے اشعار کا پڑھنا منع ہے اور نہ اس کے مولف پر طعن ہوسکتا ہے (الی قولہ) مگر اسی طرح پڑھنا اور پڑھوانا کہ اندیشہ عوام کا ہو بندہ پسند نہیں کرتا گو اس کو معصیت بھی نہیں کہہ سکتا مگر خلاف مصلحت وقت کے جانتا ہے۔ (فتاوی رشیدیہ کامل ص ٢٨‘ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز ‘ کراچی)
گویا محمد یا رسول اللہ کے نعروں سے علماء دیوبند کا منع کرنا ذاتی نا پسندیدگی کی وجہ سے ہے کوئی حکم شرعی نہیں ہے۔ شیخ گنگوہی سے سوال کیا گیا :
سوال : اشعار اس مضمون کے پڑھنے : ” یا رسول کبریا فریاد ہے ‘ یا محمد مصفطے فریاد ہے ‘ مدد کر بہر خدا حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میری تم سے ہر گھڑی فریاد ہے “ کیسے ہیں ؟
جواب : ایسے الفاظ پڑھنے محبت میں اور خلوت میں بایں خیال کہ حق تعالیٰ آپ کی ذات کو مطلع فرما دیوے یا محض محبت سے بلا کسی خیال سے جائز ہیں اور بعقیدہ عالم الغیب اور فریاد رس ہونے کے شرک ہیں اور مجامع میں منع ہیں کہ عوام کے عقائد کو فاسد کرتے ہیں ‘ لہذا مکروہ ہوں گے۔ (فتاوی رشیدیہ کامل ص ٩٥‘ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز کراچی)
عام مسلمان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عالم الغیب نہیں سمجھتے ‘ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ‘ البتہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسی صفت عطا فرمائی ہے جس سے آپ پر حقائق غیبیہ منکشف ہوجاتے ہیں جس طرح ہم کو ایسی صفت عطا فرمائی ہے جس سے ہم پر عالم شہادت کے واقعات منکشف ہوجاتے ہیں ‘ نہ ہم بذاتہ شہادت (عالم ظاہر) کے عالم ہیں نہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بذاتہ غیب کے عالم ہیں۔ ہم پر اللہ تعالیٰ نے عالم شہادت منکشف کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اللہ عزوجل نے عالم غیب بھی منکشف کیا۔ یہی عام مسلمانوں کا عقیدہ ہے اور شیخ گنگوہی کی تصریح کے مطابق یہ شرک اور معصیت نہیں ہے بلکہ جائز ہے ‘ علماء اہل سنت اپنی تقاریر اور تصانیف میں عوام کو یہ فرق ہمیشہ سے ہر دور میں بتاتے رہتے ہیں اور عام مسلمان اس فرق کو جانتے ہیں ‘ اس لیے عوام کے جلسوں میں بھی اس قسم کے اشعار پڑھنا جائز ہیں کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک مانتا ہے اور اس کی عبادت بجا لاتا ہے اس کے متعلق یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مستقل سامع یا مستقل عالم گردانتا ہے ‘ البتہ ذاتی ناپسندیدگی کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔
شیخ رشید احمد گنگوہی لکھتے ہیں :
اور اولیاء کی نسبت بھی یہ عقیدہ ایمان ہے کہ حق تعالیٰ جس وقت چاہے ان کو علم و تصرف دیوے اور عین حالت تصرف میں حق تعالیٰ ہی مصرف ہے ‘ اولیاء ظاہر میں مصرف ہی معلوم ہوتے ہیں ‘ عین حالت کرامت و تصرف میں حق تعالیٰ ہی ان کے واسطے سے کچھ کرتا ہے (فتاوی رشیدیہ کامل ص ٤٩‘ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز کراچی)
شیخ محمود الحسن (آیت) ” ایاک نستعین “ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
اس کی ذات پاک کے سوا کسی سے حقیقت میں مدد مانگنی بالکل ناجائز ہے ‘ ہاں اگر کسی مقبول بندہ کو محض واسطہ رحمت اور غیر مستقل سمجھ کر استعانت ظاہری اس سے کرے تو یہ جائز ہے کہ یہ استعانت درحقیقت حق تعالیٰ ہی سے استعانت ہے۔ (حاشیتہ القرآن الحکیم ص ٢‘ مطبوعہ تاج کمپنی ‘ کراچی)
مفتی محمد شفیع دیوبندی لکھتے ہیں :
اور حقیقی طور پر اللہ کے سوا کسی کو حاجت روانہ سمجھے اور کسی کے سامنے دست سوال دراز نہ کرے ‘ کسی نبی یا ولی وغیرہ کو وسیلہ قرار دے کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنا اس کے منافی نہیں (معارف القرآن ‘ مطبوعہ ادارۃ المعارف ‘ کراچی ‘ ١٣٩٧ ھ)
شیخ رشید احمد گنگوہی اس سوال کے جواب میں لکھتے ہیں کہ دعا میں بحق رسول وولی اللہ کہنا ثابت ہے یا نہیں ‘ بعض فقہا ومحدثین منع کرتے ہیں ‘ اس کا کیا سبب ہے ؟
جواب : بحق فلاں کہنا درست ہے اور معنی یہ ہیں کہ جو تو نے اپنے احسان سے وعدہ فرمالیا ہے اس کے ذریعہ سے مانگتا ہوں مگر معتزلہ اور شیعہ کے نزدیک حق تعالیٰ پر حق لازم ہے اور وہ بحق فلاں کے یہی معنی مراد رکھتے ہیں ‘ سو اس واسطے معنی موہم اور مشابہ معتزلہ ہوگئے تھے ‘ لہذا فقہاء نے اس لفظ کا بولنا منع کردیا ہے تو بہتر ہے کہ ایسا لفظ نہ کہے جو رافضیوں کے ساتھ تشابہ ہوجاوے فقط۔ (فتاوی رشیدیہ کامل ص ٩٤‘ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز کراچی)
شیخ محمد سرفراز خاں صفدر لکھتے ہیں :
یہاں ہم صرف ” المہند “ کی عبارت پر اکتفاء کرتے ہیں جو علماء دیوبند کے نزدیک ایک اجماعی کتاب کی حیثیت رکھتی ہے۔
جواب : ہمارے نزدیک اور ہمارے مشائخ کے نزدیک دعاؤں میں انبیاء واولیاء و صدیقین کا توسل جائز ہے ‘ ان کی حیات میں یا بعد وفات کے بایں طور کہے کہ یا اللہ ! میں بوسیلہ فلاں بزرگ کے تجھ سے دعا کی قبولیت اور حاجت برائی چاہتا ہوں ‘ اسی جیسے اور کلمات کہے ‘ چناچہ اس کی تصریح فرمائی ہے ہمارے مولانا محمد اسحاق دہلوی ثم المکی نے ‘ پھر مولانا رشید احمد گنگوہی نے بھی اپنے فتاوی میں اس کو بیان فرمایا ہے جو چھپا ہوا آج کل لوگوں کے ہاتھ میں موجود ہے اور یہ مسئلہ اس کی پہلی جلد کے صفحہ نمبر ٩٣ پر مذکور ہے ‘ جس کا جی چاہے دیکھ لے۔ (انتہی المہند ص ١٢۔ ١٣) (تسکین الصدور ص ٤١٣‘ مطبوعہ ادارہ نصرۃ العلوم ‘ گوجرانوالہ)
شیخ اشرف علی تھانوی (رح) امام طبرانی (رح) اور امام بیہقی (رح) کے حوالوں سے حضرت عثمان بن حنیف (رض) کی روایت ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
(ف) اس سے توسل بعد الوفات بھی ثابت ہوا اور علاوہ ثبوت بالروایۃ کے درایۃ بھی ثابت ہے کیونکہ روایت اول کے ذیل میں جو توسل کا حاصل بیان کیا گیا تھا ‘ وہ دونوں حالتوں میں مشترک ہے۔ (نشر الطیب ص ٢٥٣‘ مطبوعہ تاج کمپنی ‘ کراچی)
حضرت بلال بن حارث (رض) نے حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روضہ مبارک پر حاضر ہو کر بارش کی دعا کے لیے درخواست کی تھی اس کے متعلق شیخ محمد سرفراز خاں صفدر لکھتے ہیں :
اس روایت کے سب راوی ثقہ ہیں اور حافظ ابن کثیر ‘ حافظ ابن حجر اور علامہ سمہودی وغیرہ اس روایت کو صحیح کہتے ہیں ‘ امام ابن جریر (رح) اور حافظ ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ ١٧ ھ اور ١٨ ھ کی ابتداء (تاریخ طبری ج ٤ ص ٩٨‘ البدایہ والنہایہ ج ٧ ص ٩١) اور مورخ عبدالرحمان بن محمد بن خلدون (المتوفی ٨٠٨ ھ) فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ ١٨ ھ کا ہے۔ (ابن خلدون ج ٢ ص ٩٦٩)
یہ واقعہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات حسرت آیات سے تقریبا سات آٹھ سال بعد پیش آیا ‘ اس وقت بکثرت حضرات صحابہ کرام (رض) موجود تھے۔ خواب دیکھنے والے کوئی مجہول شخص نہیں تھے ‘ بلکہ جلیل القدر صحابی حضرت بلال بن حارث مزنی (المتوفی ٦٧ ھ) (رض) تھے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر مبارک کے پاس حاضر ہو کر طلب دعا اور سوال شفاعت شرک نہیں ورنہ یہ جلیل القدر صحابی یہ کارروائی ہرگز نہ کرتے۔
یہ معاملہ نرے خواب کا نہیں ہے بلکہ اس سچے خواب کو خلیفہ راشد حضرت عمر (رض) کی تائید وتصویب حاصل ہے اور اس کارروائی کا حکم پہلے تو ” علیکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الراشدین الحدیث “ کے تحت سنیت کا ہوگا ورنہ استحباب اور اقل درجہ جواز سے کیا کم ہوگا (تسکین الصدور ص ٣٥٢۔ ٣٤٩“ ملخصا ‘ مطبوعہ ادارہ نصرۃ العلوم ‘ گوجرانوالہ )
بقیہ تشریح اگلی آیت میں

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.