بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
البقرہ 4
وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ
 
اور یہ لوگ اس (کلام) پر ایمان لاتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گا اور یہی لوگ آخرت پر یقین رکھتے ہیں
 
علامہ آلوسی حنفی (رح) لکھتے ہیں :
حق کی آنکھ سے کل کا مشاہدہ کرنا غیب ہے ‘ کبھی قرب نوافل کی وجہ سے بندہ پر کرم ہوتا ہے اور حق سبحانہ اس کی آنکھ ہوجاتا ہے جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے کان ہوجاتا ہے جس سے سنتا ہے اور قرب فرائض کے بعد اور ترقی کرتا ہے پھر وہاں ایسا نور ہوجاتا ہے کہ اس کے لیے غیب شہود ہوجاتا ہے اور جو چیزیں ہمارے سامنے سے غائب ہوں وہ اس کے سامنے حاضر ہوجاتی ہیں ‘ اس کے باوجود جو شخص اس مقام پر واصل ہو ‘ میں اس کے حق میں کہنا جائز نہیں قرار دیتا کہ اس کو غیب کا علم ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
(آیت) ” قل لایعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ “۔ (النمل : ٦٥)
ترجمہ : فرما دیجئے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی بھی (بہ ذات خود) غیب کو نہیں جانتا۔ (روح المعانی ج ١ ص ١١٤‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
نیز علامہ آلوسی (رح) لکھتے ہیں :
حق یہ ہے کہ جس علم کی اللہ تعالیٰ کے غیر سے نفی ہے یہ وہ علم ہے جو بہ ذاتہ ہو اور بلاواسطہ ہو اور جو علم خواص کو حاصل ہے ‘ وہ اللہ تعالیٰ عزوجل کے افاضہ کرنے کی وجہ سے ہے ‘ اس لیے یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ انہوں نے بہ ذاتہ اور بلاواسطہ غیب کو جان لیا ‘ بلکہ یہ کفر ہے ‘ اس لیے یہ کہا جائے گا کہ ان پر غیب ظاہر کیا گیا ہے یا وہ غیب پر مطلع کئے گئے ‘ ہرچند کہ عقلا یہ کہنا جائز ہے کہ انہیں غیب کا علم دیا گیا سوا نہیں غیب کا علم ہے یا وہ غیب جانتے ہیں لیکن اس کا استعمال شرعا جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں قرآن مجید کی ظاہر آیات سے تصادم اور تعارض ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
(آیت) ” قل لایعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ “۔ اور اس میں سوء ادب بھی ہے۔ (روح المعانی ج ١ ص ٢٠‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
خلاصہ بحث :
اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو علی حسب المراتب غیب کی خبروں پر مطلع فرمایا ہے لیکن غیب مطلق (یعنی تمام معلومات کا احاطہ کاملہ) یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور اسی کو غیب مطلق کا علم ہے ‘ اور غیب کی جن خبروں پر اللہ نے اپنے خواص کو مطلع فرمایا ہے ان کے اعتبار سے ان بندوں کو غیب کا علم ہے ‘ لیکن اس کو علم الغیب کہنا درست نہیں ہے کیونکہ ان کو ایسی صفت حاصل نہیں ہے جس سے ان پر ہر غیب منکشف ہو ‘ یہ علامہ شامی کی بیان کردہ توجہیہ ہے ‘ اور علامہ آلوسی کی توجیہ یہ ہے کہ اگرچہ ان کو بعض غیوبات پر مطلع کیا گیا لیکن ظاہر آیات سے تعارض کی بناء پر یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ان کو غیب کا علم ہے ‘ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ان کو غیب پر مطلع کیا گیا ہے یا ان پر غیب ظاہر کیا گیا ہے ‘ اور امام احمد رضا قادری (رح) کی تحقیق ہے کہ مطلقا غلم غیب بولا جائے تو اس سے علم ذاتی مراد ہوتا ہے ‘ اس لیے یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ فلاں شخص کو علم غیب ہے ‘ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بعض غیوب کو ظاہر فرمایا ‘ آپ کو بعض غیوب پر مطلع کیا گیا یا آپ کو غیب کی خبریں دی گئیں اور جن علماء اور فقہاء کی عبارات میں مخلوق کی طرف علم غیب کا اسناد کیا گیا ہے ‘ وہاں چونکہ غیب سے مراد غیب مطلق نہیں ہے اس لیے وہ عبارات عقلا جائز ہیں اور کفر وشرک نہیں ہیں لیکن ایسا کہنا شرعا مستحسن نہیں ہے۔
جس غیب کی خبر دے دی جائے آیا وہ غیب رہا یا نہیں ؟
ایک عام سوال یہ کیا جاتا ہے کہ جب انبیاء (علیہم السلام) اور اولیا کرام کو غیب کی خبر دے دی گئیء تو پھر وہ غیب نہ رہا ‘ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ غیب ایک امر اضافی ہے سو جن لوگوں کو اس کی خبر نہیں دی گئی ان کے اعتبار سے وہ غیب ہے ‘ جیسے اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے ‘ حالانکہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز غائب نہیں ‘ سو اللہ تعالیٰ کا عالم الغیب ہونا بھی اضافی ہے یعنی جو چیز ہمارے اعتبار سے غیب ہے وہ اس کا عالم ہے ‘ لیکن یہ سوال و جواب غیب کے لغوی معنی کے اعتبار سے ہیں ‘ غیب کے اصطلاحی معنی کے اعتبار سے یہ سوال وارد نہیں ہوتا ‘ کیونکہ غیب کا اصطلاحی معنی ہے ‘ جو چیز حواس خمسہ (عادیہ) اور بداہت عقل سے معلوم نہ ہو سکے ‘ اور جس غیب کی خبر دے دی جائے وہ پھر بھی غیب ہے کیونکہ اس کو حواس خمسہ اور بداہت عقل سے معلوم نہیں کیا جاسکتا ‘ مثلا ہم کو جنت ‘ دوزخ اور قیامت کی خبر دے دی گئی لیکن یہ چیزیں پھر بھی غیب ہیں کیونکہ ہم ان کو حواس خمسہ سے معلوم نہیں کرسکتے نہ بداہت عقل سے جان سکتے ہیں ‘ اگر یہ سوال کیا جاے کہ صاحب قوت قدسیہ تو ان مغیبات کا مشاہدہ کرلیتا ہے ‘ اس کے لیے یہ چیزیں غیب نہ رہیں ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ چیزیں اس کے لیے بھی غیب ہیں کیونکہ وہ بھی اپنے حواس خمسہ عادیہ سے ان چیزوں کو نہیں جان سکتا ‘ اس نے ان کو غیر معمولی اور غیر عادی قوتوں سے جانا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کو عالم الغیب اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ جو چیز انسان کے حواس خمسہ (عادیہ) اور اس کی بداہت عقل سے معلوم نہ کی جاسکے ‘ وہ اس کا عالم ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ حواس خمسہ اور عقل سے پاک اور منزہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور نماز قائم رکھتے ہیں : (البقرہ : ٣)
ایمان بالغیب کے بعد اس آیت میں متقین کی دوسری صفت بیان کی ہے کہ وہ نماز کو قائم رکھتے ہیں۔
صلوۃ کا لغوی معنی :
علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :
صلوۃ : عبادات مخصوصہ (نماز) کا نام ہے ‘ اس کی اصل دعا ہے اور چونکہ اس عبادت کا ایک جزدعا ہے ‘ اس لیے کل کو جز کا نام دے دیا گیا ‘ کوئی شریعت صلوۃ سے خالی نہیں رہی ‘ اگرچہ اس کی ہئیت مختلف شریعتوں میں مختلف تھی ‘ عبادت کی جگہ کو بھی صلوۃ کہتے ہیں ‘ اس لیے کلیسا پر بھی صلوۃ کا اطلاق کیا جاتا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” لھدمت صوامع وبیع وصلوت ومسجد “۔ (الحج : ٤٠)
ترجمہ : تو ضرور گرا دی جاتیں راہبوں کی خانقاہیں ‘ گرجے ‘ کلیسے اور مسجدیں۔ (المفردات ص ‘ ٢٨٦۔ ٢٨٥ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)
اقامت صلوۃ کے معانی اور محامل :
قرآن مجید کا اسلوب یہ ہے کہ جب کسی چیز کو اس کے تمام حقوق و فرائض اور اس کے تمام ظاہری باطنی آداب کے ساتھ ادا کرنا مقصود ہوتا ہے تو اس کو اقامت کے ساتھ تعبیر فرماتا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” ولوانہم اقاموالتورۃ والانجیل وما انزل الیہم من ربہم لاکلوا من فوقہم ومن تحت ارجلہم “۔ (المائدہ : ٦٦ )
ترجمہ : اور اگر وہ تورایت اور انجیل کو قائم رکھتے اور اس (کلام) کو (قائم رکھتے) جو ان کے رب کی طرف سے ان کے لیے نازل کیا گیا ہے تو وہ ضرور اپنے اوپر سے کھاتے اور اپنے پاؤں تلے سے (کھاتے)
(آیت) ” ان اقیموالدین ولا تتفرقوا فیہ “۔ (الشور : ١٣)
ترجمہ : اسی دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔
(آیت) ” فان خفتم الا یقیما حدود اللہ ‘ فلاجناح علیہما فیما افتدت بہ “۔ (البقرہ : ٢٢٩)
ترجمہ : اگر تم کو یہ خوف ہو کہ وہ دونوں (میاں ‘ بیوی) اللہ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت کے بدل خلع میں ان پر کوئی حرج نہیں ہے۔
(آیت) ” واقیموا الوزن بالقسط ولا تخسرو المیزان “ (الرحمان : ٩)
ترجمہ : اور انصاف کے ساتھ وزن کو قائم رکھو اور تولنے میں کمی نہ کرو
اس اعتبار سے اقامت صلوۃ کا معنی یہ ہے کہ نماز کی تمام شرائط پوری کی جائیں ‘ اس کے تمام فرائض ‘ واجبات ‘ سنن اور مستحبات کے ساتھ نماز کی تمام ظاہری حدود پوری کی جائیں ‘ اور نماز میں ادھر ادھر کی سوچ وبچار نہ ہو ‘ اور نماز کے دوران دنیاوی منصوبوں اور دنیاوی خیالات میں منہمک اور مستغرق نہ ہو ‘ وہ سوچے کہ وہ اللہ کے دربار میں کھڑا ہے اور اس سے مناجات کررہے ہے ‘ فقط اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو اور دوران نماز اس کا ڈر اور خوف دامن گیر رہے ‘ یہ نماز کی باطنی حدود ہیں اور اسی کا نام خشوع ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” الذین ھم فی صلاتھم خشعون “ (المومنون : ٢)
ترجمہ : وہ لوگ جو اپنی نمازیں خشوع سے پڑھتے ہیں
امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :
ثم قال قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) من توضا نحو وضوئی ھذا ثم صلی رکعتین لا یحدث فیھما نفسہ غفرلہ ماتقدم من ذنبہ “۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٢٨‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
پھر حضرت عثمان بن عفان (رض) نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے میرے اس طریقہ سے وضو کیا ‘ پھر اس طرح دو رکعت نماز پڑھی کہ اس میں اپنے دنیاوی کاموں کے منصوبے بنائے اور نہ ان میں سوچ بچار کی تو اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے۔
عن انس قال النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان احدکم اذا صلی یناجی ربہ الحدیث : (صحیح بخاری ج ٢ ص ٧٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھتا ہے تو وہ اپنے رب سے چپکے چپکے ہم کلام ہوتا ہے۔
نیز ” اقام العود “ کا معنی ہے : گیلی لکڑی کی کجی کو آگ کی گرمی پہنچا کرسیدھا کرنا ‘ اس لحاظ سے ” اقامت صلوۃ “ کا معنی ہے : ہر قسم کی کمی اور کجی سے افعال نماز کی حفاظت کرنا ‘ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” والذین ھم علی صلوۃ یحافظون “ (المومنون : ٩)
ترجمہ : اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں
” اقام کا معنی کسی چیز کو دائما کرنا بھی ہے اس لحاظ سے ” اقامت صلوۃ “ کا معنی ہے نماز کو پابندی کے ساتھ ہمیشہ پڑھنا ‘ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” الذین ھم علی صلاتھم دآئمون “۔ (المعارج : ٢٣)
ترجمہ : وہ لوگ جو نمازوں کو پابندی سے ہمیشہ پڑھتے ہیں
” اقام الامر “ کا معنی کسی چیز کو شوق کی فراوانی ‘ پوری توجہ اور دلچپسی سے کرنا بھی ہے اس لحاظ سے ” اقامت صلوۃ “ کا معنی ہے : نماز کو اس کے وقت پر پوری توجہ ‘ شوق اور انہماک سے پڑھنا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سستی اور غفلت کے ساتھ نماز پڑھنے والوں کی مذمت فرمائی ہے :
(آیت) ”۔ فویل للمصلین الذین ھم عن صلاتہم ساھون “۔ (الماعون : ٥۔ ٤)
ترجمہ : خرابی ہے ان نمازیوں کے لیے جو اپنی نماز سے غافل ہیں۔
(آیت) ”۔ واذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی ‘ یرآء ون الناس ولا یذکرون اللہ الا قلیلا “۔ (النسا : ١٤٢)
ترجمہ : اور جب منافق نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی سے کھڑے ہوتے ہیں (محض) لوگوں کو دکھانے کے لیے اور صرف تھوڑا سا اللہ کا ذکر کرتے ہیں
خلاصہ یہ ہے کہ نماز قائم کرنے کا معنی ہے : نماز کو اس کے ظاہری اور باطنی آداب کے ساتھ پڑھنا ‘ ہر قسم کی کمی اور کجی سے نماز کی حفاظت کرنا ‘ نماز کو پابندی اور دوام کے ساتھ پڑھنا اور نماز کو اپنے وقت پر شوق اور توجہ سے پڑھنا۔
بہ تدریج نمازوں کی فرضیت کی کیفیت کا بیان :
علامہ حصکفی حنفی (رح) لکھتے ہیں :
بعثت سے پہلے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی مخصوص نبی کی شریعت پر عمل نہیں کرتے تھے ‘ بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یا کسی اور نبی کی شریعت میں سے جو چیز آپ کے کشف (یا اجتہاد) کے مطابق ہوتی تھی ‘ آپ اس پر عمل کرتے تھے اور حدیث صحیح میں ہے کہ آپ غار حرا میں عبادت کرتے تھے۔ (بخاری) (الدرالمختار علی رد المختار ج ١ ص ‘ ٢٣٩‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)
علامہ شامی لکھتے ہیں :
غار حرا میں آپ کی عبادت کئی انواع پر مشتمل تھی ‘ لوگوں سے تخلیہ ‘ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور غور و فکر ‘ اور بعض علما نے کہا کہ غار حراء میں آپ کی عبادت صرف تفکر تھی۔ (الدرالمختار علی رد المختار ج ١ ص ‘ ٢٣٩‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)
علامہ سہیلی لکھتے ہیں کہ امام ابونعیم نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے :
حضرت زید بن حارثہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پہلی وحی نازل ہوئی تو حضرت جبریل (علیہ السلام) آئے اور وضو کی تعلیم دی ‘ حضرت جبریل وضو کرتے تھے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو وضو کرتے ہوئے دیکھتے رہے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح وضو کیا ‘ پھر جبریل (علیہ السلام) نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی اقتداء میں نماز پڑھی (الروض الانف ج ١ ص ١٦٣‘ مطبوعہ مکتبہ فاروقیہ ‘ ملتان)
ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ شب معراج سے پہلے صرف رات کی ایک نماز فرض تھی اور اس میں وقت کی کوئی تحدید نہیں تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے :
(آیت) ” یایھا المزمل قم الیل الا قلیلا نصفہ اوانقص منہ قلیلا اوزدعلیہ ورتل القران ترتیلا “ (المزمل ؛ ٤۔ ١)
ترجمہ : اے چادر لپیٹنے والے رات کو نماز میں قیام کریں مگر تھوڑی رات آدھی رات یا اس سے کچھ کم کردی یا اس پر کچھ بڑھا دیں ‘ اور (حسب عادت) ٹھہر ٹھہر کر قرآن پڑھیں
علامہ حربی نے کہا کہ پہلے دو نمازیں فرض تھیں دو رکعت صبح (طلوع آفتاب سے پہلے) کی نماز فرض تھی اور دو رکعت شام (غروب آفتاب سے پہلے) کی نماز فرض تھی ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” وسبح بالعشی والابکار “ ، (آل عمران : ٤١)
ترجمہ : صبح اور شام کو اللہ کی تسبیح کیجیے۔
اور امام شافعی (رح) نے بعض اھل علم سے نقل کیا ہے کہ پہلے پوری رات کی نماز فرض تھی ‘ پھر حسب ذیل آیت سے پوری رات کا قیام منسوخ ہوگیا اور رات کے بعض حصہ کا قیام فرض ہوگیا :rnّ (آیت) ” علم ان لن تحصوہ فتاب علیکم فاقرء وا ما تیسرمن القران “۔ (المزمل : ٢٠)
ترجمہ : اللہ کو علم ہے (اے مسلمانو ! ) تم پوری رات کا ہرگز احاطہ نہ کرسکو گے تو وہ رحمت سے تم پر متوجہ ہوا سو اس میں سے جتنا آسان ہو ‘ پڑھ لیا کرو۔
اور جب شب اسراء کو پانچ نمازیں فرض ہوئیں تو رات کے حصہ کے قیام کی فرضیت منسوخ ہوگئی۔ (فتح الباری ج ١ ص ٤٦٥‘ مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ‘ ١٤٠١ ھ)
علامہ سہلی لکھتے ہیں :
معراج ہجرت سے ڈیڑھ سال پہلے ہوئی ‘ حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ پہلے نماز دو دو رکعت فرض ہوئی تھی ‘ پھر سفر میں یہ تعداد برقرار رہی اور حضر میں رکعات کی تعداد بڑھا دی گئی ‘ ہجرت کے ایک سال بعد یہ تعداد بڑھائی گئی تھی۔ (الروض الانف ج ١ ص ١٦٣۔ ١٦٢‘ مطبوعہ مکتبہ فاروقیہ ‘ ملتان)
عبادات میں نماز کی جامعیت ’:
نماز اسلام کی تمام عبادات کی جامع ہے ‘ نماز میں توحید و رسالت کی گواہی ہے ‘ راہ خدا میں مال خرچ کرنا ہے ‘ قبلہ کی طرف منہ کرنا ہے ‘ دوران نماز کھانے پینے کو ترک کرنا اور نفسانی خواہشوں سے باز رہنا ہے اور ان امور میں زکوۃ ‘ حج اور روزہ کی طرف اشارہ ہے ‘ قرآن کریم کی تلاوت ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی حمد و تسبیح اور اس کی تعظیم ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر صلوۃ وسلام اور آپ کی تکریم ہے ‘ آخر میں سلام کے ذریعہ مسلمانوں کی خیر خواہی ہے ‘ اپنے اور دوسرے مسلمانوں کے لیے دعا ہے ‘ اخلاص ہے ‘ خوف خدا ہے ‘ تمام برے کاموں سے بچنا ہے ‘ شیطان سے ‘ نفس کی خواہشوں سے اور اپنے بدن سے جہاد ہے ‘ اعتکاف ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا بیان ہے ‘ اپنے گناہوں کا اعتراف اور استغفار ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے ‘ مراقبہ ہے ‘ مشاہدہ ہے اور مومن کی معراج ہے۔
قرآن کریم میں نوے سے زیادہ مرتبہ نماز کا ذکر کیا گیا ہے ‘ اسلام میں سب سے پہلے عبادت نماز ہے ‘ یہ صرف نماز کی خصوصیت ہے کہ وہ امیر و غریب ‘ بوڑھے اور جوان ‘ مراد اور عورت ‘ صحت مند اور بیمار ہر ایک پر یکساں فرض ہے ‘ یہی وہ عبادت ہے جو کسی حال میں ساقط نہیں ہوتی ‘ اگر کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتے تو بیٹھ کر پڑھو ‘ اگر بیٹھ کر بھی نہیں پڑھ سکتے تو لیٹ کر پڑھو ‘ اگر قیام نہیں کرسکتے تو چلتے ہوئے پڑھو ‘ حالت جنگ یا سفر میں اگر سواری سے اتر نہیں سکتے تو سواری پر پڑھو ‘ بہرحال نماز کسی حال میں مسلمان سے ساقط نہیں ہوتی۔
قرآن مجید اور احادیث میں نماز پڑھنے کی تاکید :
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” واقیموا الصلوۃ ولا تکونوا من المشرکین “۔ (الروم : ٣١)
ترجمہ : اور نماز قائم رکھو اور تم مشرکوں میں سے نہ ہوجاؤ۔
(آیت) ” ما سلککم فی سقر قالوا لم نک من المصلین ”۔ (المدثر : ٤٣۔ ٤٢)
ترجمہ : (جتنی مجرموں سے سوال کریں گے) تم کو کس چیز نے دوزخ میں داخل کردیا ؟ وہ کہیں گے : ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے۔
امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی شخص اور اس کے کفر اور شرک کے درمیان (فرق) نماز کو ترک کرنا ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٦١‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
یعنی نماز کو ترک کرنا کافروں اور مشرکوں کا کام ہے۔
امام نسائی : روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بندہ سے قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیاجائے گا وہ نماز ہے ‘ اگر وہ مکمل ہوئی تو مکمل لکھی جائے گی اور اگر اس میں کچھ کمی ہوئی تو کہا جائے گا : دیکھو کیا اس کی کچھ نفلی نمازیں ہیں جن سے اس کے فرض کی کمی کو پورا کردیا جائے ‘ پھر باقی اعمال کا اسی طرح حساب لیاجائے گا۔ (سنن نسائی ج ١ ص ٨٢ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
اس حدیث کو امام احمد (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ٢ ص ‘ ٣٢٨ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
امام احمد (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت عثمان بن ابی العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس دین میں نماز نہ ہو اس میں کوئی خیر نہیں۔ (مسند احمد ج ٤ ص ‘ ٢١٨ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
امام داؤد (رح) روایت کرتے ہیں :
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سات سال کی عمر میں اپنے بچوں کو نماز پڑھنے کا حکم دو ‘ اور دس سال کی عمر میں ان کو مار مار کر ان سے نماز پڑھواؤ ‘ اور ان کے بستر الگ الگ کردو۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ١٧‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)
اس حدیث کو امام احمد (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ٢ ص ١٨٧۔ ١٨٠، مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
امام ابن ماجہ (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جس مرض میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات ہوء اس میں آپ بار بار فرماتے تھے : نماز اور غلام۔ (سنن ابن ماجہ ص ١١٧‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
امام محمد بن سعد روایت کرتے ہیں :
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نزع روح کے وقت جب اپنی جان کی سخاوت فرما رہے تھے تو آپ کی زبان پر یہ الفاظ تھے : نماز اور غلام (الطبقات الکبری ج ٢ ص ٢٥٣‘ مطبوعہ دار صادر ‘ بیروت)
امام احمد (رح) روایت کرتے ہیں :
ابوعثمان بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت سلمان فارسی (رض) کے ساتھ ایک درخت کے نیچے کھڑا تھا ‘ انہوں نے ایک خشک شاخ پکڑ کر اس کو ہلایا حتی کہ اس کے پتے گرنے لگے ‘ پھر انہوں نے کہا : اے ابوعثمان ! کیا تم مجھ سے سوال نہیں کرو گے کہ میں نے ایسا کیوں کیا ؟ میں نے کہا : آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح کیا تھا ‘ میں آپ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے کھڑا تھا ‘ آپ نے ایک خشک شاخ کو پکڑ کر اسے ہلایا حتی کہ اس کے پتے جھڑنے لگے ‘ آپ نے فرمایا : اے سلمان ! کیا تم مجھ سے سوال نہیں کرو گے کہ میں نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ آپ نے فرمایا : جب مسلمان اچھی طرح وضو کرتا ہے اور پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح اس درخت کے پتے گر رہے ہیں ‘ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی :
(آیت) ” واقم الصلوۃ طرفی النھار وزلفا من الیل ان الحسنت یذھبن السیات ذلک ذکری للذکرین “۔ (ھود : ١١٤)
ترجمہ : اور دن کے دونوں کناروں اور رات کے کچھ حصہ میں نماز کو قائم رکھو ‘ بیشک نیکیاں ‘ برائیوں کو مٹا دیتی ہیں ‘ یہ ان لوگوں کے لیے نصیحت ہے جو نصیحت قبول کرنے والے ہیں (مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٩۔ ٤٣٨۔ ٤٣٧‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
اس حدیث کو امام دارمی ١ (امام عبداللہ بن عبدالرحمان دارمی متوفی ٢٥٥ ھ ‘ سنن دارمی ج ١ ص ١٤٨‘ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان۔ ) اور امام طبرانی (رح) ٢ (امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ ‘ معجم کبیر ج ٦ ص ٢٥٧‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت) نے بھی روایت کیا ہے :
حافظ الہیثمی (رح) لکھتے ہیں :
اس حدیث کو امام احمد (رح) نے روایت کیا ہے اور امام طبرانی (رح) نے اس حدیث کو ” معجم اوسط “ اور ” معجم کبیر “ میں روایت کیا ہے ‘ امام احمد (رح) کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ‘ اس کی روایت سے استدلال میں اختلاف ہے ‘ اور اس کی سند کے بقیہ راوی صحیح ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ١ ص ٢٩٨‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)
حافظ سیوطی (رح) بیان کرتے ہیں :
ابو وائل بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی (رض) نے فرمایا : جب بندہ نماز پڑھتا ہے تو اس کے سر کے اوپر اس کے گناہ جمع ہوجاتے ہیں اور جب وہ سجدہ کرتا ہے تو گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جس طرح درخت کے پتے جھڑتے ہیں ‘ اس حدیث کو امام ابن زنجویہ نے روایت کیا ہے۔ (جامع الاحادیث الکبیر ج ١٩ ص ٥١٨۔ ٥١٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)
امام ابن عساکر حضرت ابوامامہ باہلی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص وضو کرے اور تین بار اپنے ہاتھوں کو دھوئے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں کے ہر گناہ کو مٹا دیتا ہے ‘ اور جو کلی کرے اور ناک میں پانی ڈالے تو اللہ تعالیٰ اس کی زبان اور ہونٹوں کے ہر گناہ کو مٹا دیتا ہے ‘ اور جو اچھی طرح وضو کرکے اللہ کی طرف متوجہ ہو کر نماز پڑھے وہ گناہوں سے اس طرح صاف ہوجاتا ہے جس طرح اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا ہو ‘ راوی نے پوچھا : آپ نے اس حدیث کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خود سنا ہے ؟ فرمایا : ایک دو ‘ تین ‘ چار ‘ پانچ ‘ چھ بار نہیں ‘ بیشمار مرتبہ سنا ہے۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ٤ ص ٤٠۔ مطبوعہ دارالفکر ‘ دمشق ‘ ١٤٠٤ ھ)
تارک نماز کے متعلق فقہاء اسلام کے نظریات :
قاضی ابن رشد مالکی (رح) لکھتے ہیں :
جو شخص نماز کی فرضیت کا انکار نہ کرتا ہو ‘ لیکن نماز کا تارک ہو اور کہنے کے باوجود بھی نماز نہ پڑھتا ہو ‘ اس کے متعلق امام احمد (رح) اسحاق ‘ اور ابن المبارک (رح) نے یہ کہا ہے کہ وہ کافر ہوگیا اور اس کو قتل کرنا واجب ہے ‘ اور امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) کا مذہب یہ ہے کہ اس شخص کو حدا قتل کردیا جائے اور امام ابوحنفیہ (رح) اور اہل ظاہر کا مذہب یہ ہے کہ اس کو قید کیا جائے اور اس پر تعزیر لگائی جائے حتی کہ وہ نماز پڑھنے لگے۔
اس اختلاف کا سبب یہ ہے کہ اس مسئلہ میں احادیث مختلف ہیں۔
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی مسلمان کو تین وجوہ کے سوا اور کسی وجہ سے قتل کرنا جائز نہیں ہے ‘ ایمان کے بعد کفر کرے یا شادی شدہ شخص زنا کرے یا کسی شخص کو بغیر بدلہ کے قتل کرے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
یہ حدیث امام ابوحنفیہ (رح) کی دلیل ہے۔
حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارے اور ان کے درمیان (سلامتی کا) عہد نماز ہے ‘ سو جس شخص نے نماز کو ترک کیا اس نے کفر کیا (ترمذی و نسائی) اور حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (رح) بندہ اور کفر اور شرک کے درمیان (فرق) نماز کا ترک کرنا ہے۔ (صحیح مسلم)
یہ حدیثیں امام احمد (رح) اسحاق (رح) اور ابن المبارک (رح) کی دلیل ہیں جو تارک نماز کو کافر قرار دیتے ہیں اور اس کے کفر کی وجہ سے اس کے قتل کو واجب قرار دیتے ہیں اور امام ابوحنفیہ (رح) اس حدیث کو تغلیظ اور زجروتوبیخ پر محمول کرتے ہیں اور یہ تاویل کرتے ہیں کہ نماز کو ترک کرنا ‘ کافروں کا فعل ہے اور یہ صورۃ کفر ہے حقیقۃ کفر نہیں ہے اور امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) جو تارک نماز کے حد اقتل کرنے کو واجب کہتے ہیں ان کا قول ضعیف ہے اور اس کی کوئی دلیل نہیں ہے البتہ ایک ضعیف قیاس ہے کہ سب سے بڑا حکم نماز کا ہے اور سب سے بڑی نہی قتل ہے ‘ اور امام احمد وغیرہ جو تارک صلوۃ کو کافر کہتے ہیں یہ قول خارجیوں کے مذہب کے مشابہ ہے جو گناہوں کی وجہ سے مومن کی تکفیر کرتے ہیں۔ (بدایۃ المجتہد ج ١ ص ٦٦۔ ٦٥‘ مخلصا مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)
تارک نماز کے متعلق فقہاء حنبلیہ کا نظریہ :
علامہ مرداوی حنبلی لکھتے ہیں :
اگر کسی شخص نے نماز کی فرضیت کا انکار کیے بغیر سستی سے نماز کو ترک کیا تو اس کو نماز پڑھنے کی دعوت دی جائے ‘ اگر وہ نماز کا وقت تنگ ہونے تک نہ پڑھے تو اس کو قتل کرنا واجب ہے ‘ یہی مذہب ہے اور اسی پر جمہور اصحاب کا عمل ہے ‘ ابواسحاق بن شاقلا نے کہا : اگر اس نے ایک نماز نہیں پڑھی حتی کہ دوسری نماز کا وقت بھی نکل گیا تو اس کو قتل کرنا واجب ہے ‘ یہ قول حسن ہے اور ایک روایت یہ ہے کہ وہ تین نمازیں ترک کرے اور چوتھی کا وقت تنگ ہوجائے تو اس کو قتل کرنا واجب ہے اور ایک روایت میں تین دن کی نمازوں کا ذکر ہے۔ (الانصاف ج ١ ص ٤٠١‘ مخلصا مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٣٧٢ ھ)
نماز پڑھنے کی دعوت امام یا اس کے نائب کی طرف سے دی جائے گی اگر دعوت سے پہلے اس نے کثیر نمازیں بھی ترک کی ہوں تو اس کو قتل کرنا واجب نہیں ہے ‘ اس کی توبہ نماز پڑھنا ہے۔ (الانصاف ج ١ ص ٤٠٢‘ مخلصا مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٣٧٢ ھ)
آیا اس کو قتل حدا کیا جائے گا یا کفرا ؟ اس میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت یہ ہے کہ اس کو کفر کی وجہ سے قتل کیا جائے گا اور یہی مذہب ہے اور اکثر فقہاء کا مختار ہے اور دوسری روایت یہ ہے کہ اس کو حدا قتل کیا جائے گا اور یہ بعض فقہاء کا مختار ہے ‘ اور مذہب حنبلیہ کے مطابق اس کا حکم کفار کا حکم ہے اس کو غسل دیا جائے گا نہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی نہ اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا ‘ وہ کسی کا وارث ہوگا نہ اس کا کوئی وارث ہوگا ‘ اور وہ مرتد کی مثل ہے۔ (الانصاف ج ١ ص۔ ٤٠٥۔ ٤٠٤‘ مخلصا مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٣٧٢ ھ)
نماز کے علاوہ اور کسی عبادت کو سستی سے ترک کیا تو یہ کفر نہیں ہے۔ (الانصاف ج ١ ص ٤٠٣‘ مخلصا مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٣٧٢ ھ)
فقہاء حنبلیہ کا تارک نماز کو کافر قرار دینا صحیح نہیں ہے اور یہ مذہب خارجیوں کے مذہب کے مشابہ ہے ‘ ایمان کی بحث میں ہم خارجیوں کے مذہب کا رد کرچکے ہیں۔
تارک نماز کے متعلق فقہاء شافعیہ کا نظریہ :
علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی (رح) لکھتے ہیں :
جس شخص نے نماز کی فرضیت کا انکار کیا وہ مرتد ہے اور اس پر مرتدین کے احکام جاری ہوں گے۔
جس شخص نے کسی عذر کی وجہ سے نماز کو ترک کیا مثلا نیند یا نسیان کی وجہ سے تو اس پر فقط قضا ہے اور اس کے لیے وقت میں وسعت ہے۔ جس شخص نے بغیر کسی عذر کے سستی کی وجہ سے نماز کو ترک کیا تو صحیح قول یہ ہے کہ اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی اور شاذ قول یہ ہے کہ وہ منکر نماز کی طرح مرتد ہے۔
صحیح قول کی بناء پر نماز کے تارک کو حدا قتل کیا جائے گا ‘ اس کو کب قتل کیا جائے ؟ صحیح قول یہ ہے کہ جب وہ ایک نماز کو ترک کر دے اور اس کا وقت تنگ ہوجائے تو اس کو قتل کردیا جائے گا ‘ دوسرا قول یہ ہے کہ جب دوسری نماز کا وقت تنگ ہوجائے ‘ تیسرا قول یہ ہے کہ جب چوتھی نماز کا وقت تنگ ہوجائے ‘ چوتھا قول یہ ہے کہ جب وہ چار نمازیں ترک کر دے ‘ پانچواں قول یہ ہے کہ جب وہ سستی کی وجہ سے نمازیں تر کرنے کا عادی ہوجائے لیکن مذہب پہلا قول ہے۔
صحیح یہ ہے کہ اس کو مرتد کی طرح تلوار سے قتل کیا جائے گا۔ (روضۃ الطالبین ج ١ ص ٦٦٨۔ ٦٦٦ ملخصا ‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١١٠٥ ھ)
جب تارک نماز کو قتل کیا جائے تو اس کو غسل دیا جائے گا ‘ کفن پہنایا جائے گا اور اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی، اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا اور مسلمانوں کی طرح اس کی قبر بنائی جائے گی جیسا کہ باقی مرتکبین کبیرہ کے لیے کیا جاتا ہے ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ اس کو نہ غسل دیا جائے گا نہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی نہ اس کو کفن پہنایا جائے گا اور اس کی قبر مٹا دی جائے گی (روضۃ الطالبین ج ١ ص ٦٣٤ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١١٠٥ ھ)
علامہ شمس الدین محمد بن ابی العباس رملی نے بھی تارک نماز کے متعلق یہی تفصیل لکھی ہے۔ (نہایۃ المحتاج ج ٢ ص ٤٢٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)
نیز علامہ نووی لکھتے ہیں :
تارک نماز کو حدا قتل کرنے کی دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے :
(آیت) ” فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم وخذوھم واحصروھم واقعدوا لھم کل مرصد فان تابوا واقاموا الصلوۃ واتوالزکوۃ فخلوا سبیلھم (التوبہ : ٥)
ترجمہ : تم مشرکین کو جہاں کہیں پاؤ قتل کرو ‘ ان کو گرفتار کرو اور ان کا محاصرہ کرو اور ان کی تاک میں ہر گھات کی جگہ بیٹھو ‘ سو اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز کو قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ۔
نیز حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے لوگوں سے قتال (جنگ) کرنے کا حکم دیا گیا ہے حتی کہ وہ لا الہ اللہ محمد رسول اللہ “ کی گواہی دیں ‘ نماز قائم کریں ‘ زکوۃ ادا کریں ‘ جب وہ ایسا کریں گے ‘ تو مجھ سے اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کرلیں گے۔ (صحیح بخاری ومسلم) اور حدیث میں ہے : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (سنن ابوداؤد)
اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ جو شخص نماز قائم نہ کرے اس کو قتل کرنے کا حکم ہے ‘ اور پہلی حدیث کا تقاضا یہ ہے کہ جو نماز نہ پڑھے اس سے قتال کرنے کا حکم ہے اور دوسری حدیث کا تقاضا یہ ہے کہ جو تارک نماز ہو اس کو قتل کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔ (شرح المہذب ج ١ ص ١٧‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)
فقہاء شافعیہ کے دلائل کے جوابات :
اس آیت سے علامہ نووی (رح) نے جو استدلال کیا ہے ‘ فقہاء احناف نے اس کے متعدد جوابات دیئے ہیں ‘ پہلا جواب یہ ہے کہ ان کا استدلال مفہوم مخالف سے ہے اور فقہاء احناف کے نزدیک مفہوم مخالف سے استدلال صحیح نہیں ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ ان کا استدلال مفہوم مخالف سے ہے اور فقہاء احناف کے نزدیک مفہوم مخالف سے استدلال صحیح نہیں ہے ‘ دوسرا یہ کہ اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اگر وہ نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ‘ اس کا مفہوم مخالف یہ ہے کہ اگر وہ نماز نہ پڑھیں تو ان کا راستہ نہ چھوڑو اور راستہ نہ چھوڑنے کو قتل کرنا لازم نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کو گرفتار کرکے ان کو قید کیا جائے یا مارا پیٹا جائے ‘ تیسرا جواب یہ ہے کہ اگر راستہ نہ چھوڑو کا مطلب قتل کرنا ہو تو پھر تارک نماز کی طرح تارک زکوۃ کو بھی حدا قتل کرنا واجب ہونا چاہیے کیونکہ اس آیت میں دونوں کا ذکر ہے حالانکہ امام شافعی (رح) تارک زکوۃ کو قتل کرنے کے قائل نہیں ہیں ‘ چوتھا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں مشرکین کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے ‘ مسلمان تارک نماز کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا اور بحث اسی میں ہے۔
علامہ نووی (رح) نے ” صحیح بخاری “ اور ” صحیح مسلم “ کے حوالے سے جو حدیث ذکر کی ہے اس میں بھی مفہوم مخالف سے استدلال ہے ‘ علاوہ ازیں اس میں تارک نماز سے قتال اور جنگ کرنے کا حکم دیا ہے اس کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا ‘ اور تیسرا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں نماز اور زکوۃ دونوں کا ذکر ہے ‘ اس لیے شافعیہ کا تارک نماز اور تارک زکوۃ میں فرق کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔
علامہ نووی (رح) نے ” سنن ابوداؤد “ کی جس حدیث سے استدلال کیا ہے اس میں بھی مفہوم مخالف سے استدلال ہے ‘ علاوہ ازیں اس حدیث کے متعلق علامہ نووی (رح) نے خود لکھا ہے : یہ حدیث ضعیف ہے ‘ اس میں ایک مجہول راوی ہے۔ (شرح المہذب ج ١ ص ١٣‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)
تارک نماز کے متعلق فقہاء مالکیہ کا نظریہ :
علامہ حطاب مالکی لکھتے ہیں :
جس شخص نے کئی نمازیں عمدا ترک کیں حتی کہ ان کا وقت نکل گیا ‘ اگر وہ ان کے متعلق سوال کرے تو اس سے کہا جائے گا کہ وہ استغفار کرے اور جس شخص کے متعلق یہ معلوم ہوا کہ وہ سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے نمازوں کو ترک کرتا ہے ‘ اسے نماز پڑھنے کا حکم دیا جائے گا اور اگر اس نے نماز نہیں پڑھی تو اس کو دھمکایا جائے گا اور مارا پیٹاجائے گا ‘ اگر اس کے بعد بھی اس نے نماز نہیں پڑھی تو اس کو حدا قتل کردیا جائے گا نہ کہ کفرا بہ شرطی کہ وہ نماز کی فرضیت کا اقرار کرتا ہو اور منکر نہ ہو ‘ ابن التلمسانی نے اپنی شرح میں ابن العربی سے نقل کیا ہے کہ روزہ بھی نماز کی طرح ہے ‘ اس کے تارک کو بھی قتل کیا جائے گا ” ذخیرہ “ میں لکھا ہے کہ امام مالک کے نزدیک روزہ اور نماز کا تارک قتل کیا جائے گا اور امام شافعی (رح) اور عراقیین کے نزدیک تارک زکوۃ کو قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ زکوۃ جبرالی جاسکتی ہے۔ (مواہب الجلیل ج ١ ص ٤٢١۔ ٤٢٠‘ مکتبۃ النجاح ‘ لیبیا)
علامہ خرشی مالکی لکھتے ہیں :
اگرچہ تارک نماز یہ کہے کہ میں نماز پڑھوں گا اور بدستور ترک کرتا رہے اور نماز شروع نہ کرے ‘ پھر بھی اس کو قتل کردیا جائے گا کیونکہ مذہب کے نزدیک قولا اور فعلا امتناع اور صرف فعلا امتناع میں کوئی فرق نہیں ہے ‘ اس کو نماز کے ترک کی وجہ سے قتل کیا جائے گا اور نماز کا ترک محقق ہے۔ (الخرشی علی مختصر خلیل ج ١ ص ٢٢٧‘ مطبوعہ دار صادر ‘ بیروت)
علامہ دردیر مالکی لکھتے ہیں :
تارک نماز کو تلوار سے حدا قتل کیا جائے گا ‘ اس کی نماز جنازہ کوئی فاضل عالم نہیں پڑھائے گا اور اس کی قبر قائم رکھی جائے گی اس کو ہموار نہیں کیا جائے گا۔ (الشرح الکبیر علی حاشیۃ الدسوتی ج ١ ص ١٩١۔ ١٩٠‘ مطبوعہ دار الفکر ‘ بیروت)
فقہاء مالکیہ کا وجوب بھی وہی دلائل ہیں جن کو ہم نے فقہاء شافعیہ کے رد میں ذکر کیا ہے کیونکہ مالکیہ اور شافعیہ دونوں اس کے قائل ہیں کہ تارک نماز کو حدا قتل کردیا جائے گا اور بقول قاضی ابن رشد مالکی اس نظریہ پر کوئی دلیل نہیں ہے۔
تارک نماز کے متعلق فقہاء احناف کا نظریہ :
علامہ محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی لکھتے ہیں :
جو شخص نماز کی فرضیت کا انکار کرے وہ کافر ہے ‘ اور جو شخص نماز کو عمدا سستی سے ترک کرے وہ فاسق ہے ‘ اس کو قید کیا جائے گا حتی کہ وہ نماز پڑھنے لگے ‘ کیونکہ بندہ کو بندوں کے حق کے بدلہ میں قید کیا جاتا ہے تو اللہ کے حق کے بدلہ میں بندہ کو قید کرنے کا زیادہ حق ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ اس کو اس حد تک مارا جائے کہ اس کا خون بہنے لگے۔ (الدرالمختار علی رد المختار ج ١ ص ٢٣٥‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)
علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں :
امام محبوبی نے کہا ہے کہ تارک نماز کو مارا جائے ‘ اور ” حلیہ “ میں لکھا ہے کہ یہی مذہب ہے اور کہا : بشمول زہری ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ تارک نماز کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اس پر تعزیر لگائی جائے گی اور اس کو قید میں رکھا جائے گا حتی کہ وہ مرجائے یا توبہ کرے۔ (الدرالمختار علی رد المختار ج ١ ص ‘ ٢٣٥‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)
فقہاء احناف کے موقف پر دلیل :
فقہاء احناف تارک نماز کو فاسق کہتے ہیں اور اس کو حدا یا کفرا قتل کرنے کے قائل نہیں ہیں ‘ ان کے موقف پر یہ حدیث صراحۃ دلالت کرتی ہے ‘ امام ابوداؤد (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں جس نے اچھی طرح ان کا وضو کیا اور ان نمازوں کو ان کے وقت میں پڑھا اور ان کے رکوع اور خشوع کو مکمل کیا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے (اپنے کرم سے) اس کو بخشنے کا ذمہ لیا ہے اور جس نے ایسا نہیں کیا تو اس کا اللہ تعالیٰ پر کوئی ذمہ نہیں اگر وہ چاہے تو اس کو بخش دے اور چاہے تو اس کو عذاب دے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٦١‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)
اس حدیث کو امام احمد (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ٥ ص ‘ ٣٢٢ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
اس حدیث کو حافظ سیوطی (رح) نے امام ابو داؤد (رح) اور امام بیہقی (رح) کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔ (الجامع الاحادیث الکبیر ج ٤ ص ٢٩٠ مطبوعہ دارا الفکر بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)
علامہ نووی (رح) اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں : اس حدیث کو امام ابوداؤد (رح) اور دیگر ائمہ حدیث نے اسانید صحیہ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ (شرح المہذب ج ١ ص ١٧‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں (البقرہ : ٣)
اس آیت میں متقین کی تیسری صفت بیان کی گئی ہے۔
رزق کا لغوی معنی :
علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں :
رزق کا معنی ہے : عطاء خواہ دنیاوی عطا ہو یا اخروی اور رزق کا معنی نصیب ہے ‘ جو غذا پیٹ میں جائے اس کو بھی رزق کہتے ہیں ‘ علم دینے ککو بھی رزق کہتے ہیں۔ (المفردات ص ١٩٤‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)
رزق کا اصطلاحی معنی :
علامہ تفتازانی لکھتے ہیں :
رزق وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ جاندار تک پہنچائے اور وہ اس کا کھائے اور پیئے خواہ وہ حلال ہو یا حرام (شرح عقائد ص ٧٤‘ مطبوعہ سکندر علی تاجران کتب ‘ کراچی ‘ ٣٨)
علامہ میر سید شریف لکھتے ہیں :
رزق وہ ہے جس کو اللہ جاندار تک پہنچائے وہ اس کو کھائے اور رزق ‘ حلال اور حرام دونوں کو شامل ہے اور معتزلہ کے نزدیک رزق اس چیز کو کہتے ہیں جو بندہ کی ملکیت میں ہو اور وہ اس کو کھائے اس وجہ سے حرام رزق نہیں ہے کیونکہ وہ اس کی ملکیت میں نہیں ہوتا۔ (التعریفات ص ٤٩۔ ٤٨‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ٦، ١٣ ھ)
حرام کے رزق نہ ہونے پر معتزلہ کے دلائل :
معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی طرف رزق کی اضافت کی ہے اس آیت میں فرمایا ہے : اس میں سے جو ہم نے ان کو دیا ہے وہ خرچ کرتے ہیں۔
(آیت) ” ان اللہ ھو الرزاق ذوالقوۃ المتین (الذاریات : ٥٨)
ترجمہ : بیشک اللہ ہی بڑا رزاق اور بڑی زبردست قوت والا ہے
اگر حرام بھی رزق ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ بندوں تک حرام چیزوں کا پہنچانے والا ہے ‘ اور یہ قبیح کام ہے جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق نہیں ہے ‘ نیز اگر اللہ تعالیٰ نے بندوں تک حرام چیز پہنچائی اور بندوں نے اس کو کھالیا تو پھر بندوں سے مواخذہ کرنا کس طرح صحیح ہوگا اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے رزق میں سے خرچ کرنے پر بندوں کی مدح فرمائی ہے ‘ اگر حرام بھی رزق ہو تو حرام کو راہ خدا میں خرچ کرنا کب لائق تعریف ہوگا ! اور کفار نے جب بعض رزق کو حرام کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی اور فرمایا :
(آیت) ” قل ارء یتم ما انزل اللہ لکم من رزق فجعلتم منہ حراما وحللا، (یونس : ٥٩) آپ کہیے کہ تم بتاؤ توسہی اللہ نے تمہارے لیے جو رزق اتارا تو تم نے اس میں سے کچھ حرام کرلیا اور کچھ حلال !
اس آیت سے معلوم ہوا کہ رزق کا حرام کو شامل ہونا صحیح نہیں ہے اس لیے رزق کی صحیح تعریف یہ ہے : کسی چیز سے نفع حاصل کرنے کے لیے اس کو جاندار تک پہنچانا اور دوسرے کو اس سے نفع اٹھانے سے روکنا یعنی جس کو جو رزق دیا جائے اس سے نفع اٹھانا اسی کے ساتھ خاص ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ اس چیز کا مالک ہو اور اب حرام چیز رزق نہیں ہوگی، کیونکہ حرام چیز کا انسان مالک نہیں ہوتا۔
معتزلہ کے دلائل کے جوابات :
اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی کام قبیح نہیں ہے ہرچند کہ رزق حلال اور حرام دونوں کو شامل ہے پھر بھی اللہ کا رزاق ہونا اور اس کی طرف رزق کی نسبت میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ دیکھئے اللہ تعالیٰ خیر اور شر دونوں کا خالق ہے اور یہ معتزلہ کو بھی تسلیم ہے تو کیا اللہ کو خالق کہنے میں کوئی حرج ہے ‘ البتہ خصوصیت کے ساتھ شر کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنا جائز نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اس لیے یہ کہنا صحیح ہے کہ وہ ہر چیز کا خالق ہے یا وہ عرش اور کرسی کا خالق ہے البتہ خصوصا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ وہ کتوں اور خنزیر کا خالق ہے یا شیاطین کا خالق ہے۔ اسی طرح خصوصیت سے یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ وہ حرام چیزوں کا رازق ہے۔
معتزلہ کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ اگر رزق ‘ حرام کو شامل ہو تو پھر مال حرام کھانے پر بندوں سے مواخذہ کیوں ہوگا ؟ اس کا جواب واضح ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے مال کھانے سے بندوں کو منع کیا ہے اس لیے اس حکم کی خلاف ورزی کی وجہ سے بندوں سے مواخذہ ہوگا۔
تیسرا اعتراض یہ ہے کہ اس آیت میں رزق میں سے خرچ کرنے پر اللہ تعالیٰ نے متقین کی تعریف فرمائی ہے اگر رزق حرام کو بھی شامل ہے تو یہ کیسے لائق تعریف ہوگا، اس جواب یہ ہے کہ متقین اللہ کے رزق میں سے خالص حلال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور یہی وصف قابل تعریف ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” یایھا الذین امنوا انفقوا من طیبت ماکسبتم “ (البقرہ : ٢٦٧)
ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ کی راہ میں اپنی حلال اور پاک کمائی سے خرچ کرو۔
رہا یہ سوال کہ اس آیت میں رزق سے رزق حلال مراد لینے پر کیا دلیل ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے متقین کی مدح فرمائی ہے اور مدح اسی وقت ہوگی جب وہ رزق حلال کو اللہ کی راہ میں خرچ کریں گے۔
چوتھا اعتراض یہ ہے کہ مشرکین نے بعض رزق کو حرام کرلیا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت فرمائی اس کا جواب یہ ہے کہ ان کی مذمت اس وجہ سے کی ہے کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حرام نہیں کیا اس کو انہوں نے از خود حرام کرلیا جیسے انہوں نے بحیرہ سائبہ وغیرہ کو از خود حرام کرلیا تھا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” ماجعل اللہ من بحیرۃ ولا سآئبۃ ولاوصیلۃ ولاحام ‘(المائدہ : ١٠٣)
ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے (جانوروں میں سے) کسی کو بحیرہ بنایا ہے (جس جانور کا دودھ بتوں کے نام کردیا جائے اور کوئی اس کو استعمال نہ کرے وہ بحیرہ ہے ‘ جو جانور بتوں کے نام ہمارے زمانہ کے سانڈ کی طرح چھوڑ دیا جائے وہ سائبہ ہے ‘ جو اونٹنی مسلسل مادہ بچے جنے اس کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا اس کو وصیلہ کہتے تھے ‘ جو نراونٹ ایک خاص عدد سے جفتی کرچکا ہو اس کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا تھا اس کو حام کہتے تھے، مشرکین نے ان چاروں جانوروں کے استعمال کو لوگوں پر حرام کردیا تھا) نہ سائبہ نہ وصیلہ اور نہ حام۔
حرام کے رزق ہونے پر اہل سنت کے دلائل :
اہل سنت کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کے رزق کو از راہ کرم اپنے اپنے ذمہ لیا ہے :
(آیت) ” وما من دآبۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا “ (ھود : ٦)
ترجمہ : زمین پر چلنے والے ہر جاندار کا رزق اللہ کے ذمہ (کرم) پر ہے۔
فرض کیجئے ایک شخص نے ساری عمر حرام کھایا ہے ‘ اب اگر حرام کو رزق میں شامل نہ کیا جائے تو لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو رزق نہیں دیا اور یہ اس آیت کے خلاف ہے۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرام پر بھی رزق کا اطلاق فرمایا ہے ‘ امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں :
حضرت صفوان بن امیہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں تھے کہ عمرہ بن مرہ آیا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ نے میری تقدیر میں شقاوت لکھ دی ہے اور میرا خیال ہے کہ میرے پاس سوائے اپنے ہاتھ میں دف (ڈھول) بجانے کے کمائی کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے ‘ آپ مجھے اس قسم کے گانے کی اجازت دیں جس میں بےحیائی کے کلمات نہ ہوں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں تجھے اجازت نہیں دوں گا اور نہ تجھے عزت دے کر تیری آنکھیں ٹھنڈی کروں گا ‘ اے خدا کے دشمن، اللہ نے تجھے پاک اور حلال رزق دیا اور تو نے اللہ کے حلال کئے ہوئے رزق کے بدلہ میں اللہ کے رزق میں سے حرام کو اختیار کرلیا۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے عمرو بن مرہ سے فرمایا :
اگر میں تجھے پہلے منع کرچکا ہوتا (اور تو اس کے بعد اجازت طلب کرتا) تو میں تجھے سزا دیتا ‘ میرے پاس سے اٹھ جا اور اللہ تعالیٰ سے توبہ کر اور اگر تو نے اس کے بعد گایا بجایا ‘ تو میں تجھے سخت درد ناک سزا دوں گا ‘ اور تیرا سر مونڈ دوں گا اور تجھ کو مثلہ (ناک ‘ کان یا دیگر اعضا کاٹنا) کروں گا اور تجھے تیرے گھر سے نکال دوں گا ‘ اور تیرے مال ‘ اسباب کو مدینہ کے جوانوں کے لوٹنے کے لیے مباح کر دوں گا ‘ یہ سن کر عمرو وہاں سے اس قدر ذلت اور رسوائی کے ساتھ اٹھا جسے اللہ ہی جانتا ہے ‘ جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا گیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہی لوگ نافرمان ہیں ‘ ان میں سے جو شخص بغیر توبہ کے مرگیا اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن اسی طرح ننگا اور مخنث اٹھائے گا جس طرح دنیا میں وہ لوگوں سے اپنا ستر نہیں چھپاتا تھا ‘ جب بھی کھڑا ہوگا تو مدہوش ہو کر گرپڑے گا۔ (سنن ابن ماجہ ص ١٨٧‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے عبرت کا مقام ہے جو سازوں کے ساتھ گانے میں مشغول رہتے ہیں۔
آیا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے بالخصوص زکوۃ مراد ہے یا عام خرچ کرنا ؟
اس آیت میں جو فرمایا ہے : اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں ‘ یہاں پر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے کیا مراد ہے ؟ امام ابن جریر (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے اموال کی زکوۃ ادا کرتے ہیں ‘ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا : اس سے اپنے اھل و عیال پر خرچ کرنا مراد ہے۔ (جامع البیان ج ١ ص ٨١ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
اولی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس قدر ظاہری اور باطنی نعمتیں دی ہیں ان سب کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا مراد لیا جائے ‘ سو متقین وہ ہیں جو ضرورت مندوں پر مال خرچ کرتے ہیں ‘ اہل و عیال ‘ قرابت داروں اور عام لوگوں کی مدد کرتے ہیں ‘ زبان کو خدا کی راہ میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعہ خرچ کرتے ہیں ‘ ہاتھ پیروں کی طاقت سے کمزوروں کے کام آتے ہیں ‘ خدا کی دی ہوئی عقل سے کم عقلوں کو مشورے دیتے ہیں ‘ تقوی اور پرہیز گاری کے اثر سے ان کو جو روحانیت حاصل ہے اس سے لوگوں کا تزکیہ کرتے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ نے جو علم دیا ہے اسے دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔
علامہ خفاجی (رح) لکھتے ہیں کہ حافظ ابن عساکر (رح) نے اپنی ” تاریخ “ میں اور امام طبرانی (رح) نے ” معجم اوسط “ میں حضرت ابن عمر (رض) سے مرفوعا روایت کیا ہے کہ جس علم کو حاصل کرنے کے بعد اس کو بیان نہ کیا جائے وہ اس خزانے کی طرح ہے جس کو خرچ نہ کیا جائے۔ (عنایۃ القاضی ج ١ ص ٢٣١‘ مطبوعہ دار صادر بیروت ‘ ١٢٨٣ ھ)
راۃ خدا میں کل مال خرچ کرنے کی شرعی حیثیت :
اس آیت میں ” من “ تبعیضیہ ہے ‘ یعنی کل مال سے اللہ کی راہ میں بعض مال کو خرچ کرنا مراد ہے کیونکہ جو شخص تنگی اور فقر پر صبر نہ کرسکے اس کے لیے کل مال کو صدقہ کرنا جائز نہیں ہے اور جو شخص مال نہ ہونے پر صبر کرسکتا ہو اس کے لیے کل مال کا صدقہ کرنا جائز ہے جیسے حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اپنا کل اثاثہ لا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیش کردیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر انکار نہیں فرمایا کیونکہ آپ کو ان کے صبر کا علم تھا اور ان کے دل میں جو ایمان اور توکل علی اللہ کی قوت تھی آپ اس پر مطلع تھے ‘ حسن بن سہل سے کہا گیا : اسراف میں کوئی خیر نہیں ہے تو انہوں نے کہا : خیر میں کوئی اسراف نہیں ہے یعنی خدا کی راہ میں اگر سب کچھ دے دیا جائے تو اسراف نہیں ہے ‘ لیکن یہ مرتبہ اور مقام کے اعتبار سے ہے۔
امام رازی (رح) لکھتے ہیں :
شقیق بن ابراہیم بلخی (رح) بھیس بدل کر عبداللہ بن مبارک (رح) کے پاس گئے پوچھا ‘ کہاں سے آئے ہو ؟ انہوں نے کہا : بلخ سے پوچھا : کیا تم شقیق کو جانتے ہو ‘ کہا : ہاں پوچھا : ان کے اصحاب کا کیا طریقہ ہے ؟ کہا : جب انہیں کچھ نہیں ملتا تو صبر کرتے ہیں ‘ اور مل جاتا ہے تو شکر کرتے ہیں ‘ عبداللہ بن مبارک (رح) نے کہا : ی تو ہمارے کتوں کا طریقہ ہے۔ شقیق نے پوچھا : پھر کاملین کا کیا طریقہ ہونا چاہیے ؟ عبداللہ بن مبارک نے کہا : کاملین وہ ہیں جنہیں کچھ نہ ملے تو شکر ادا کرتے ہیں اور مل جائے تو دوسروں کو دے دیتے ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٥ ص ١٩٩ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یہ لوگ اس (کلام) پر ایمان لاتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا ‘ اور یہی لوگ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ (البقرہ : ٤)
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں متقین کی چوتھی صفت کا بیان ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے ک کہ اس کا عطف متقین پر ہو ‘ یعنی یہ کتاب ان کے لیے ہدایت ہے جنہوں نے اپنے آپ کو شرک سے بچایا اور ان کے لیے بھی ہدایت ہے جو اہل کتاب سے ایمان لائے :
” انزال “ کا معنی اور اس کی کیفیت :
” انزال “ کے معنی ہیں : کسی چیز کو اوپر کی طرف سے نیچے کی طرف منتقل کرنا ‘ ” انزال “ اعیان کا ہوتا ہے اور یہاں وحی کا ” انزال “ مراد ہے جو از قبیل معانی ہے اور معانی کا ” انزال “ ان ذوات کے واسطے سے ہوتا ہے جن ذوات کے ساتھ وہ معانی قائم ہوتے ہیں ‘ وحی چونکہ اللہ کی جانب سے مخلوق کی طرف آتی ہے جو جانب علو میں ہے اس لیے اس کو ” انزال “ کہا گیا ہے، اللہ کا کلام اس کے رسولوں پر نازل ہوتا ہے اور اس کی صفت یہ ہے کہ یا تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے اپنی نورانیت اور تجرد سے قریب ہوتے ہیں اور اللہ کا کلام حاصل کرتے ہیں اور یا لوح محفوظ سے اس کلام کو حاصل کرتے ہیں اور پھر اس کلام کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچاتے ہیں۔
(آیت) ” ماانزل الیک وما انزل من قبلک “ کی تفصیل :
(آیت) ” ماانزل الیک “ سے مراد وہ وحی ہے جس کی تلاوت کی جاتی ہے یعنی قرآن کریم ‘ اور وہ وحی بھی مراد ہے جس کی تلاوت نہیں کی جاتی یعنی سنت ‘ جیسے نماز کی رکعات کی تعداد اور اس کی ہیئت مخصوصہ ‘ زکوۃ ‘ عشر اور قربانی کی مقدار اور کیفیت ‘ روزہ اور حج کے احکام اور جنایات حدود کی تفصیلات ‘ یہ تمام امور صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیان سے ثابت ہیں ‘
قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیھم “۔ (النحل : ٤٤)
ترجمہ : اور ہم نے آپ کی طرف قرآن مجید نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کو بیان کریں جو ان کی طرف نازل کیا گیا ہے۔
غرضیکہ اس سے مراد پوری شریعت پر ایمان لانا ہے۔
(آیت) ” وما انزل من قبلک “ سے تورات ‘ انجیل اور کتب سماویہ مراد ہیں ‘ ان کتابوں پر اجمالی ایمان لانا ضروری ہے ‘ بایں طور کہ یہ کتابیں اللہ کی طرف نازل کی گئی ہیں اور جو کلام آپ پر نازل کیا گیا ہے اس پر اجمالی ایمان لانا فرض عین ہے اور اس پر تفصیلا ایمان لانا فرض کفایہ ہے کیونکہ قرآن اور سنت کے ہر ہر جز پر تفصیلا ایمان لانا اگر ہر شخص پر فرض عین ہو تو لازم آئے گا کہ تمام مسلمان روز گار حیات کی تمام ذمہ داریوں کو ترک کرکے صرف پڑھنے پڑھانے پر لگ جائیں اور اس سے حرج اور فساد معاش لازم آئے گا ‘ اس لیے جو کلام پر نازل کیا گیا ہے اس پر تفصیلا ایمان لانا فرض کفایہ ہے۔
ختم نبوت پر دلیل :
اس آیت میں یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ جو وحی آپ پر نازل ہوئی اس پر ایمان لایا جائے اور جو وحی آپ سے پہلے نازل ہوئی ہے اس پر ایمان لایا جائے ‘ اور اگر آپ کے بعد بھی نزول ممکن ہوتا تو بعد میں آنے والی وحی پر بھی ایمان لانا ضروری قرار دیا جاتا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد نزول وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا اور آپ کے اوپر نبوت ختم ہوگئی آپ کے بعد کوئی نبی اور رسول مبعوث نہیں ہوگا ‘ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان سے قرب قیامت میں نازل ہونا اس کے منافی نہیں ہے کیونکہ وہ مبعوث نہیں ہوں گے بلکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک امتی کی حیثیت سے آئیں گے اور ہمارے رسول سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کی اتباع کریں گے اور ہمارے امام کی اقتداء میں نماز پڑھیں گے۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس وقت تمہاری کیا شان ہوگی جب تم میں ابن مریم نازل ہوں گے اور امام تم میں سے ہوگا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٤٩٠‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
دارآخرت اور یقین کا معنی :
دارآخرت سے مراد ‘ اعمال کا دار الجزاء ہے اور اس پر ایمان لانا حساب ‘ میزان ‘ صراط ‘ جنت اور نار پر ایمان لانے کو مستلزم ہے بلکہ ہر اس چیز پر ایمان لانے کو مستلزم ہے جس کا ذکر قرآن اور سنت میں وارد ہے۔
یقین اس جازم تصدیق کو کہتے ہیں جس میں کوئی شک اور شبہ نہ ہو اور وہ جزم واقعہ کے مطابق ہو اور تشکیک مشکک سے زائل نہ ہو سکے ‘ اس کی تین قسمیں ہیں : علم الیقین ‘ عین الیقین اور حق الیقین ‘ ہمیں جو اللہ ‘ رسول اور آخرت پر یقین ہے وہ علم الیقین ہے ‘ علم الیقین نظر اور استدلال سے حاصل ہوتا ہے ‘ عین الیقین مشاہدہ سے اور حق الیقین تجربہ سے حاصل ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا علم یقین کے ساتھ متصف نہیں ہوتا ‘ کیونکہ اس کا علم استدلال نہیں ہے۔
آخرت پر یقین کا اظہار اعمال کے آثار سے ہوتا ہے ‘ جو شخص جھوٹی گواہی دیتا ہو ‘ شراب پیتا ہو ‘ لوگوں کے حقوق پامال کرتا ہو ‘ نماز اور روزہ کا تارک ہو اس کے آخرت پر یقین کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہے ‘ قرآن مجید میں آخرت اور قیامت پر بہت زور دیا گیا ہے ‘ کیونکہ صالحیت اور نیکی کی بنیاد آخرت اور قیامت پر یقین ہے ‘ جب انسان کو محاسبہ کا خطرہ نہ ہو تو وہ عیش پرستی کا دلدادہ اور ظلم اور سرکشی پر دلیر ہوجاتا ہے ‘ اس لیے قرآن مجید نے انسان کو بار بار یاد دلایا ہے کہ موت کے بعد اس کی دوسری زندگی شروع ہوگی اور اس دارالعمل کے بعد دارالجزاء ہے تاکہ انسان خوف آخرت سے گناہوں سے باز رہے اور نیکیوں کے لیے کوشاں رہے۔
اس آیت میں حصر کے ساتھ فرمایا ہے کہ متقین یا مومنین اہل کتاب ہی آخرت پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ جو اہل کتاب غیر مومن ہیں ان کا آخرت پر صحیح ایمان نہیں ہے ‘ ان کا زعم ہے کہ جنت میں صرف یہودی یا عیسائی ہی داخل ہوں گے ‘ اور ان کا زعم ہے کہ ان کو صرف چندایام کے لیے دوزخ کا عذاب ہوگا ‘ اور ان کا اس میں اختلاف ہے کہ جنت کی نعمتیں دنیا جیسی ہیں اور آیا جنت دائمی ہے یا نہیں لہذا آخرت کے متعلق ان کا اعتقاد صحت سے بہت دور ہے چہ جائیکہ وہ درجہ یقین پر ہو کیونکہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ یقین اس جزم کو کہتے ہیں جو واقع کے مطابق ہو۔