بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
 
اُولٰٓٮِٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنۡ رَّبِّهِمۡ‌ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏
 
وہی (کامل متقی) اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں ‘ اور وہی فلاح پانے والے ہیں
 
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہی (کامل متقی) اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں ‘ اور وہی فلاح پانے والے ہیں (البقرہ : ٥)
یہ متقین کی پانچویں صفت ہے۔
اس آیت میں دونوں جگہ ” اولئک “ سے متقین کی طرف اشارہ کیا ہے جن کی پانچ صفات بیان کی ہیں ‘ یعنی جو متقین غیب پر ایمان لاتے ہیں ‘ نماز قائم رکھتے ہیں ‘ راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں ‘ قرآن مجید اور اس سے پہلی کتب سماویہ پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں وہی اپنے رب کی طرف سے ہدایت یافتہ ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ ان کی ہدایت یافتہ ہونے اور فلاح پانے کا سبب یہ مذکورہ اوصاف ہیں اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان مذکورہ اوصاف کا نتیجہ فلاح کا مل ہے۔
فلاح کا معنی کسی چیز کو پھاڑنا اور کاٹنا ہے ‘ کسان کو اس لیے فلاح کہتے ہیں کہ وہ ہل چلا کر زمین کو پھاڑتا ہے ‘ اور جو شخص محنت اور جدوجہد کرنے کے بعد کسی مطلوب کو حاصل کرلیتا ہے اس کو بھی مفلح کہتے ہیں گویا کہ اس پر غور وفکر کی راہیں کھل گئیں اور بند نہیں ہوئیں۔
معتزلہ اور خوارج نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ فلاح ‘ کامل متقی کے لیے بیان کی گئی ‘ اس سے لازم آیا ہے کہ فاسق ہمیشہ جہنم میں رہے گا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ کامل فلاح متقی کے لیے ہے اور نفس فاسق مومن کو بھی حاصل ہوگی کیونکہ وہ بھی مال کار جنت میں چلا جائے گا۔