بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَمَا هُمۡ بِمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۘ‏
اور لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان لے آئے ‘ حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں
 
اللہ تعالیٰ نے اس سورت کو قرآن مجید کے بیان سے شروع کیا اور یہ فرمایا : یہ کتاب متقین کے لیے ہدایت ہے ‘ پھر تین آیتوں میں متقین کی پانچ صفات بیان کیں ‘ اس کے بعد دو آیتوں میں کفار کا بیان کیا جو متقین کی ظاہرا اور باطنا ضد ہیں ‘ پھر اس کے اب تیرہ آیتوں میں منافقین کا بیان فرمایا ہے جو کفر اور ایمان کے درمیان تذبذب تھے ‘ یہ زبان سے ایمان لائے اور دل سے ایمان نہیں لائے ‘ یہ کفر کی بدترین قسم ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب مبغوض ہے ‘ کیونکہ انہوں نے کفر پر ایمان کا ملمع چڑھایا ‘ دھوکہ اور فریب سے کام لیا اور درپردوہ مسلمانوں کے ساتھ استہزاء کیا ‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے خبث جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں رہیں گے۔
(آیت) ” ومن الناس “ میں جن لوگوں کا ذکر فرمایا ہے یہ منافقین کی وہ جماعت ہے جو نزول قرآن کے زمانہ میں تھی ‘ ان میں بڑا منافق عبداللہ بن ابی بن سلول تھا ‘ ان میں اکثر یہودی تھے جو مطلب برآری کے لیے وقتی طور پر بہ ظاہر مسلمان ہوگئے تھے۔
(آیت) ” الیوم الاخر “ سے مراد حشر سے لے کر غیر متناہی مدت ہے یا روز حشر سے لے کر جنتیوں کے جنت میں اور دوزخیوں کے دوزخ میں جانے کا زمانہ مراد ہے۔
منافقین نے خصوصیت سے یہ کہا کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور آخرت پر ایمان لائے ‘ کیونکہ یہودیوں کا درحقیقت اللہ پر ایمان تھا نہ آخرت پر ‘ اللہ پر ایمان اس لیے نہیں تھا کہ وہ کہتے تھے کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے ‘ اس لیے وہ مشرک تھے اور آخرت پر اس لیے ایمان نہیں تھا کہ ان کا اعتقاد تھا کہ جنت میں یہودیوں کے سوا اور کوئی داخل نہیں ہوگا ‘ اس لیے انہوں نے ملمع کاری کے لیے اللہ اور آخرت پر ایمان کا ذکر کیا تاکہ مسلمان یہ سمجھیں کہ وہ یہودیت سے تائب ہو کر خالص مسلمان ہوگئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا ‘ وہ مومن نہیں ہیں، یعنی وہ ان سچے اور مخلص مسلمانوں میں داخل نہیں ہیں ‘ جن کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی خلوت اور جلوت پر مطلع ہے ‘ کیونکہ منافقین بعض ظاہری عبادات کرلیتے تھے ‘ اور یہ زعم کرتے تھے کہ ان سے ان کا رب راضی ہوجائے گا ‘ اس کے بعد حرص ‘ طمع ‘ شر اور فساد اور مسلمانوں کے ساتھ خیانت اور دسیسہ کاری میں مشغول رہتے تھے ‘ جیسا کہ اس کے بعد کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ان کے فتنہ اور فساد کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔
منافقین کے اللہ اور مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے سلسلہ میں اعتراضات کے جوابات :
” یخادعون “ کا لفظ ” خدع “ سے بنا ہے ” خدع “ کا معنی ہے : کسی شخص کے ساتھ کئے ہوئے مکرو فریب یا سازش کو مخفی رکھ کر اس سے خیر خواہی اور ہمدردی کا اظہار کرنا ‘ جس کا خلاصہ ہے : اس کو دھوکہ دینا اور ” یخادعون “ چونکہ باب ” مفاعلہ “ سے ہے ‘ اس لیے اس کا معنی ہے : ہر فریق کا دوسرے فریق کو دھوکہ دینا۔
منافقوں کا مسلمانوں کو دھوکہ دینا یہ تھا کہ وہ مسلمانوں پر یہ ظاہر کرتے تھے کہ وہ مومن ہیں اور اپنے کفر کو مخفی رکھتے تاکہ مسلمانوں کے خفیہ منصوبوں پر مطلع ہوں اور پھر اس کی خبر مسلمانوں کے دشمنوں یہودیوں اور مشرکوں تک پہنچا دیں۔
اس آیت میں یہ فرمایا کہ منافقین اللہ اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں ‘ مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں ‘ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی تو وضاحت ہوگئی اب سوال یہ ہے کہ اللہ کو دھوکہ دینا کس طرح صحیح ہوگا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز مخفی نہیں ہوتی اور نہ وہ خود اللہ کو دھوکہ دینے کا قصد کرتے تھے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں لفظ اللہ سے پہلے لفظ رسول بہ طور مضاف محذوف ہے اور یہ مجاز بالحذف ہے اور معنی یہ ہے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دھوکہ دیتے تھے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے نائب اور خلیفہ ہیں ‘ اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جو معاملہ کیا جائے وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے ‘ اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دھوکہ دینا اللہ کو دھوکہ دینا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اس کو واضح فرمایا ہے :
(آیت) ” من یطع الرسول فقد اطاع اللہ “۔ (النساء : ٨٠)
ترجمہ : جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیعت عقبہ ثانیہ میں ستر انصار سے ان کی جانوں اور مالوں کو جنت کے بدلہ میں خریدا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
(آیت) ” ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسہم واموالہم بان لھم الجنۃ “۔ (التوبہ : ١١١)
ترجمہ : بیشک اللہ نے مسلمانوں سے ان کی جانوں اور مالوں کو جنت کے بدلہ میں خرید لیا۔
(آیت) ” ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ “۔ (الفتح : ١٠)
ترجمہ : بیشک جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں۔
سو جس طرح آپ کی اطاعت کرنا ‘ اللہ کی اطاعت کرنا ‘ آپ کا خریدنا ‘ اللہ کا خریدنا ہے اور آپ سے بیعت کرنا اللہ سے بیعت کرنا ہے اسی طرح آپ کو دھوکہ دینا اللہ کو دھوکہ دینا ہے اور یہ ” مجاز فی النسبۃ الا یقاعیہ “ ہے۔
دوسرا سوال یہاں پر یہ ہے کہ ” یخادعون “ باب ” مفاعلہ “ سے ہے اور اب اس باب کے اعتبار سے اس کا معنی ہے : ہر ایک کا دوسرے کو دھوکہ دینا ‘ منافقین تو اللہ تعالیٰ کو اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ کے حق میں یہ کہنا کس طرح درست ہوگا کہ وہ منافقین کو دھوکہ دیتا ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں استعارہ تمثلیہ۔ ١ (ایک مرکب سے جو حالت یا کیفیت منتزع ہوتی ہے اس کو اس حالت یا کیفیت سے تشبیہ دینا جو دوسرے مرکب سے منتزع ہو رہی ہو۔ ) ہے یعنی منافقین کی اللہ کے سامنے ایمان کو ظاہر کرنے اور کفر کو مخفی رکھنے کی کارروائی اور اس کی سزا میں اللہ کی منافقوں پر مسلمانوں کے احکام جاری کرنے کی کارروائی (حالانکہ وہ اس کے نزدیک بدترین کافر ہیں) کی مثال ایسے ہے جیسے دو شخص ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کی کارروائی کرتے ہیں ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ ” یخادعون “ ” یخدعون “ کے معنی میں ہے اور اس کو مبالغۃ ” یخادعون “ کے ساتھ تعبیر فرمایا ہے۔
شعور کا معنی :
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ صرف اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ اس کا شعور نہیں رکھتے ‘ عقل سے جو ادراک کیا جائے اس کو علم کہتے ہیں اور حواس سے جو ادراک کیا جائے اس کو شعور کہتے ہیں۔ (البقرہ : ٩)
مرض کی تعریف اور منافقین کے مرض کا بیان :
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے ان کو بیماری کو زیادہ کردیا۔ (البقرہ : ١٠)
انسان کے بدن کو ایسی چیزیں عارض ہوں جن سے اس کے مزاج اور اعتدال میں فرق واقع ہو اور اس کی کارکردگی متاثر ہوجائے ‘ اس کو مرض کہتے ہیں ‘ عوارض جسمانیہ میں مرض حقیقت ہے اور عوارض نفسانیہ مثلا حسد ‘ بغض ‘ برائی سے محبت وغیرہ میں مرض مجاز ہے ‘ منافقین کا مرض نفسانی تھا ‘ کیونکہ جب سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائین تھے مدینہ میں یہودیوں کی ریاست جاتی رہی تھی ‘ اس غم میں ان کا دل جلتا رہتا تھا اور یہی جلنا اور حسد کرنا ان کا مرض تھا ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اقتدار دن بدن بڑھ رہا تھا ‘ اس سے ان کا مرض بڑھ رہا تھا ‘ یا بار بار وحی نازل ہونے اور ان کو دن بہ دن زیادہ احکام کا مکلف کرنے سے ان کا مرض بڑھ رہا تھا۔
جھوٹ کی تعریف ‘ اس کا شرعی حکم اور منافقین کے جھوٹ کا بیان :
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے کیونکہ وہ جھوٹ بولتے تھے (البقرہ : ١٠)
منافقین کا جھوٹ یہ تھا کہ ان کے دل میں کفر تھا اور زبان سے ” امنا “ (ہم ایمان لائے) کہہ کر جھوٹ بولتے تھے ‘ جو خبر واقع کے مطابق نہ ہو وہ جھوٹ ہے ‘ جھوٹ بولنا حرام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹ بولنے پر درد ناک عذاب کی وعید سنائی ہے۔
جھوٹ بولنے کی ممانعت اور اس کے عذاب کے متعلق احادیث :
امام ابو داؤد (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے آپ کو جھوٹ سے بچاؤ ‘ کیونکہ جھوٹ فجور (گناہ) تک پہنچاتا ہے اور فجور دوزخ تک پہنچاتا ہے ‘ ایک شخص جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹ کے مواقع تلاش کرتا ہے ‘ حتی کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کو کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ٣٢٥‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)
امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت حفص بن عاصم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات کو بیان کر دے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٨‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آخر زمانہ میں ایسے دجال اور کذاب ہوں گے جو تم سے ایسی احادیث بیان کریں گے جو تم نے سنی ہوں گی نہ تمہارے باپ دادا نے ‘ تم ان سے دور رہو وہ تم سے دور رہیں ‘ کہیں وہ تم گمراہ نہ کردیں اور فتنے میں مبتلا نہ کردیں۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ١٠ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
امام احمد (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس وقت تک بندہ کا ایمان مکمل نہیں ہوگا ‘ جب تک کہ وہ جھوٹ کر ترک نہ کردے حتی کہ مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولے اور ریا کو ترک کردے خواہ وہ اس میں صادق ہو۔ (مسند احمد ج ٢ ص ٣٦٤۔ ٣٥٢‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت سمرہ بن جندب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک صبح کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمایا : میں نے رات کو خواب میں دیکھا ہے کہ جبرائیل (علیہ السلام) اور میکائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے ارض مقدسہ میں لے گئے میں نے دیکھا وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا اور دوسرا آدمی اس کے پاس کھڑا ہوا تھا جس کے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا تھا ‘ اس نے وہ آنکڑا اس کی باچھ میں داخل کیا اور آنکڑے سے اس کی باچھ کو کھینچ کر گدی تک پہنچا دیا ‘ پھر وہ آنکڑا دوسری باچھ میں داخل کیا اور اس باچھ کو گدی تک پہنچا دیا ‘ اتنے میں پہلی باچھ مل گئی اور اس نے پھر اس میں آنکڑا ڈال دیا ‘(الی قولہ) جبرئیل (علیہ السلام) نے کہا : جس شخص کی باچھ پھاڑ کر گدی تک پہنچائی جارہی تھی یہ وہ شخص ہے جو جھوٹ بولتا تھا ‘ پھر اس سے وہ جھوٹ نقل ہو کے ساری دنیا میں پھیل جاتا تھا ‘ اس کو قیامت تک اسی طرح عذاب دیا جاتا رہے گا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٨٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
جھوٹ بولنے کی رخصت کے مواقع :
جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا ہے کہ کذب حرام ہے لیکن حلال اور حرام کرنے کے احکام شارع کے اختیار میں ہیں ‘ اللہ تعالیٰ جس چیز کو چاہے حلال کر دے اور جس چیز کو چاہے حرام کر دے ‘ اللہ اور اس کے رسول نے کذب کو حرام قرار دیا ہے لیکن بعض مواقع پر اللہ اور اس کے رسول نے کذب کی اجازت دی ہے۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہروایت کرتے ہیں :
عن اسماء بنت یزید قالت قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لایحل الکذب الا فی ثلاث یحدث الرجل امرء تہ یرضیھا والکذب فی الحرب والکذب لیصلح بین الناس۔ (جامع ترمذی ص ٢٨٧‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
حضرت اسماء بنت یزید (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین صورتوں کے سوا جھوٹ بولنا جائز ہے ہے : (١) ایک شخص اپنی بیوی کو راضی کرنے کے لیے جھوٹ بولے (٢) جنگ میں جھوٹ بولنا (٣) لوگوں میں صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا۔
جان ‘ مال اور عزت بچانے کے لیے جھوٹ بولنے کی اجازت :
علامہ شامی ” احیاء العلوم “ کے حوالے سے لکھتے ہیں :
ہر وہ نیک مقصد جس کو صدق اور کذب دونوں سے حاصل کیا جاسکتا ہو اس میں جھوٹ بولنا حرام ہے اور اگر کسی نیک مقصد کو صرف جھوٹ بولنے سے حاصل کیا جاسکتا ہو اور وہ مقصد مباح ہو تو اس کے لیے جھوٹ بولنا مباح ہے اور اگر کسی نیک مقصد کو صرف جھوٹ بولنے سے حاصل کیا جاسکتا ہو اور وہ مقصد واجب ہو تو اس کے لیے جھوٹ بولنا واجب ہے ‘ مثلا کسی شخص نے دیکھا کہ ایک ظالم کسی بےگناہ مسلمان کو قتل کر رہا ہے یا ایذاء پہنچا رہا ہے اور وہ جھوٹ بول کر اس کو بچا سکتا ہے تو اس صورت میں جھوٹ بولنا واجب ہے ‘ اسی طرح اگر ظالم اس سے کسی مسلمان کی امانت چھیننا چاہتا ہے تو اس کے لیے جھوٹ بولنا واجب ہے ‘ اسی طرح لڑائی میں صلح کرانے کے لیے اور کسی مظلوم کی دلجوئی کے لیے جھوٹ بولنا جائز ہے، اسی طرح اگر کسی شخص نے چھپ کر زنا کیا یا شراب پی یا حاکم اس کے متعلق سوال کرے تو اس کے لیے یہ کہنا جائز ہے کہ یہ کام میں نے نہیں کیا کیونکہ یہ کام ہرچند کہ بےحیائی ہے لیکن اس کا اظہار کرنا ایک اور بےحیائی ہے ‘ اسی طرح اس کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کا راز بتانے سے انکار کرے ‘ اور یہ دیکھنا چاہیے کہ جھوٹ بولنے پر جو خرابی مترتب ہورہی ہے آیا وہ سچ پر مترتب ہونے والی خرابی سے زیادہ ہے یا نہیں ‘ اگر جھوٹ بولنے سے زیادہ خرابی مترتب ہو تو جھوٹ نہ بولے ورنہ جھوٹ بول سکتا ہے۔ اگر جھوٹ بولنے سے انسان کا اپنا حق ضائع ہوتا ہے تو عزیمت یہ ہے کہ جھوٹ نہ بولے ‘ اگر دوسرے مسلمان کا حق ضائع ہوتا ہے تو پھر اس پر واجب ہے کہ وہ جھوٹ بولے اور دوسرے مسلمان کے حق کی حفاظت کرے۔ ١ (علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی متوفی ١٢٥٢ ھ ‘ رد المختار ج ٥، ٣٧٧‘ مطبوعہ مطبعہ عثمانیہ استنبول ‘ ١٣٢٧ ھ) خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان کا اپنی جان ‘ مال اور عزت بچانے کے لیے جھوٹ بولنا جائز ہے اور دوسرے مسلمان کی جان ‘ مال اور عزت بچانے کے لیے جھوٹ بولنا واجب ہے۔
شعر اور مبالغہ میں جھوٹ کا جواز :
کسی بات میں مبالغہ کرنا جھوٹ نہیں ہے جیسا کہ کوئی شخص کہے : میں تمہارے پاس ہزار بار گیا ہوں ‘ یعنی بار بار گیا ہوں مبالغہ کے جواز پر اس حدیث صحیح پر دلیل ہے : ” اما ابوجھم فلا یضع عصاہ عن عاتقہ “۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٤٨٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی)
لیکن ابوجہم تو اپنے کندھے سے لاٹھی اتارتاہی نہیں “ یعنی وہ بیوی کو بہت مارتا ہے ‘ اسی طرح شعر میں بھی جھوٹ جائز ہے جبکہ اس کو مبالغہ پر نہ محمول کیا جاسکے ‘ جیسا کہ یہ شعر ہے :
انا ادعوک لیلا ونھارا ولا اخلی مجلسا عن شکرک :
” میں دن رات تمہارے لیے دعا کرتا ہوں ‘ اور ہر مجلس میں تمہارا شکر ادا کرتا ہوں “۔
علامہ رافعی اور علامہ نووی نے ان دونوں صورتوں کو جائز لکھا ہے۔ (الدرالمختار علی رد المختار ج ٥ ص ‘ ٣٧٧‘ مطبوعہ مطبعہ عثمانیہ ‘ استنبول ١٣٢٧ ھ)
ہر چند کہ علامہ شامی (رح) نے علامہ رافعی (رح) اور علامہ نووی کے حوالے سے شعر میں بغیر مبالغہ کے بھی جھوٹ بولنا جائز لکھا ہے لیکن ہمارے نزدیک اگر مبالغہ نہ ہو تو پھر شعر میں جھوٹ بولنا جائز نہیں ہے ‘ کیونکہ مبالغہ کے لیے تو حضرت ابوجہم (رض) کی حدیث اصل ہے اور شعر میں جھوٹ کے جواز پر کوئی دلیل نہیں ہے۔
تعریض اور توریہ میں جھوٹ بولنے کا جواز :
جمہور فقہاء اسلام نے تعریض اور توریہ کے طور پر جھوٹ بولنا جائز لکھا ہے بلکہ بعض فقہاء نے یہ لکھا ہے کہ تعریض اور توریہ میں اس قدر وسعت ہے کہ اگر تعریض اور توریہ سے کام لیا جائے تو پھر حقیقۃ جھوٹ بولنے کی کبھی ضرورت نہیں ہوگی ‘ اس پر دلائل دینے سے پہلے ہم چاہتے ہیں کہ تعریض اور توریہ کی تعریفات ذکر کردیں تاکہ عام قارئین اس بحث سے مستفید ہو سکیں۔
تعریض کا لغوی معنی ہے : دوسرے پر ڈھال کر بات کرنا۔ (المنجد)
علامہ ابن منظور افریقی لکھتے ہیں تعریض ‘ تصریح نہ کرنے کو کہتے ہیں اور معارض کا معنی ایک چیز کا دوسری چیز سے توریہ (کنایہ) کرنا ہے ‘ حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : معاریض میں جھوٹ سے بچنے کی گنجائش ہے ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : معاریض مسلمان کو جھوٹ سے مستغنی کردیتی ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : مجھے معاریض سرخ اونٹوں سے زیادہ پسند ہیں۔ اگر کسی عورت کو اس کی عدت میں نکاح کا پیغام دینا ہو تو اس کی تصریح نہ کرے اور تعریضا کہے : تم بہت خوبصورت ہو ‘ یا کہے : مجھے نکاح کی ضرورت ہے۔ حدیث میں ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عدی بن حاتم (رض) سے فرمایا : ” ان وسادک لعریض “ تمہارا تکیہ بہت چوڑا ہے “ اور تکیہ سے ان کی نیند کا ارادہ کیا یعنی تم بہت سوتے ہو ‘ حدیث میں ہے :
” من عرض عرضنا لہ ومن مشی علی الکلا القیناہ فی النھر “۔
جو شخص تعریض کرے گا تو ہم بھی اس کے ساتھ تعریض کریں گے اور جو شخص دریا کے کنارے چلے گا وہ اس کو دریا میں ڈال دیں گے۔
اس کی تفسیر یہ ہے کہ جو شخص کسی مسلمان پر تعریضا تہمت لگائے گا تو ہم اس کو تعریضا سزا دیں گے یعنی ایسی سزا دیں گے جو حد سے کم ہوگی اور جو شخص کسی پر صراحۃ تہمت لگائے گا اور تہمت کی کشتی پر سوار ہو کر دریا میں چلے گا ہم اس پر حد جاری کریں گے اور اس کو ” حد “ کے دریا میں ڈبو دیں گے۔ (لسان العرب ج ٧ ص ١٨٤۔ ١٨٣ مطبوعہ نشر ادب الحوذۃ ‘ قم ‘ ایران ١٤٠٥ ھ)
علامہ تفتازانی تعریض کی تعریف میں لکھتے ہیں : کلام کو ایک ایسی جانب پھیرنا جو مقصود پر دلالت کرے ‘ تعریض ہے ‘ یعنی جب اشارہ ایک جانب کیا جائے اور مراد دوسری جانب ہو تو یہ تعریض ہے۔ (مختصر المعانی ص ٤٤١۔ ٤٤٠‘ مطبوعہ میر محمد کتب خانہ ‘ کراچی)
خلاصہ یہ ہے کہ جب کلام میں صراحۃ ایک شخص کی طرف کسی فعل کا اسناد ہو اور اشارہ اور مراد کوئی دوسرا شخص ہو تو یہ تعریض ہے مثلا کوئی بڑا افسر دیر سے دفتر میں آتا ہو جس سے لوگوں کے کاموں میں دشواری ہوتی ہو اور اس کو صراحۃ تنبیہ کرنا اس کے وقار اور مرتبہ کے خلاف ہو تو کوئی شخص اس سے کہے کہ دفتر کا سٹاف یا کلرک وغیردیر سے دفتر آتے ہیں اور اس سے بڑا حرج ہوتا ہے۔
توریہ کا معنی چھپانا اور کنایہ کرنا ہے۔ علامہ زبیدی لکھتے ہیں : ” وری الخبر توریہ “ کا معنی ہے : اصل خبر کو چھپا کر کچھ اور ظاہر کیا ‘ حدیث میں ہے کہ جب آپ سفر کا ارادہ کرتے تو سفر کو چھپا کر یہ وہم ڈالتے کہ آپ کسی اور چیز کا ارادہ کر رہے ہیں : (تاج العروس ج ١٠ ص ٣٨٩‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)
علامہ تفتازانی توریہ کی تعریف میں لکھتے ہیں کہ توریہ کو ابہام بھی کہتے ہیں اور اس کی تعریف یہ ہے کہ ایک لفظ کے دو معنی ہوں : قریب اور بعید ‘ اور بولنے والا کسی خفی قرینہ کی بناء پر اس لفظ کا بعید معنی مراد لے اور مخاطب اس سے قریب سمجھے۔ (مختصر المعانی ص ٤٥٧، مطبوعہ میر محمد کتب خانہ ‘ کراچی)
امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرات ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے صرف تین (ظاہری) جھوٹ بولے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤٧٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
اس حدیث میں توریہ پر جھوٹ کا اطلاق کیا گیا ہے کیونکہ وہ ظاہرا اور صورۃ جھوٹ ہوتا ہے حقیقتہ جھوٹ نہیں ہوتا۔ قرآن اور حدیث میں تعریض اور توریہ کی بہ کثرت مثالیں ہیں : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” فقال انی سقیم (الصفت : ٨٩)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : میں بیمار ہوں
سقیم کا قریب معنی ہے : جسمانی بیمار اور بعید معنی ہے : روحانی بیمار ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جسمانی بیمار نہ تھے ‘ انہوں نے اس لفظ سے توریہ کرکے روحانی بیماری مراد لی ‘ یعنی قوم کی بت پرستی کی وجہ سے ان کی روح بیمار تھی یا مستقبل میں بیمار ہونا مراد لیا۔
(آیت) ” قالوا ءانت فعلت ھذا بالھتنا یابرھیم قال بل فعلہ کبیرھم ھذا فسئلوھم ان کانوا ینطقون (الانبیاء : ٦٣۔ ٦٢)
ترجمہ : انہوں نے کہا : اے ابراہیم ! کیا آپ نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کام کیا ہے ؟ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : بلکہ ان کے اس بڑے (بت) نے یہ کام کیا ہے ‘ اگر یہ بولتے ہیں تو تم ان سے پوچھ لو
اس آیت میں ” کبیرھم ھذا “ کا قریب معنی ہے : اس بڑے بت نے ‘ اور اس کا بعید معنی ہے : قوم کے اس بڑے شخص نے ‘ لوگوں نے یہی سمجھا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ اس بڑے بت نے باقی بتوں کو توڑا ہے ‘ حالانکہ آپ کی مراد یہ تھی کہ قوم کے اس بڑے شخص یعنی خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان بتوں کو بتوں کو توڑا ہے اور آپ نے اس بڑے بت کی طرف اسناد کا ابہام اس لیے کیا ہے کہ ان کی قوم خود کہے کہ یہ بت تو ہل جل بھی نہیں سکتے ‘ بتوں کو کس طرح توڑ سکتے ہیں اور ان کے خلاف حجت قائم ہوجائے۔
امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت سارہ ایک ظالم بادشاہ کے ملک میں گئے ‘ اس بادشاہ کو بتایا گیا کہ اس ملک میں ایک شخص آیا ہے ‘ اس کے ساتھ ایک عورت ہے جو تمام لوگوں سے زیادہ خوبصورت ہے بادشاہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بلوایا اور پوچھا کہ یہ عورت کون ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : یہ میری بہن ہے۔
” اخت “ کے دو معنی ہیں ‘ قریب معنی ہے : نسبی بہن اور بعید معنی ہے : دینی بہن ‘ بادشاہ نے اس لفظ سے نسبی بہن سمجھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دینی بہن کا ارادہ کیا اور یہ توریہ ہے۔
نیز امام بخاری روایت کرتے ہیں :
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آکر ایک شخص نے سواری طلب کی ‘ آپ نے فرمایا : میں تم کو اونٹ کے بچہ پر سوال کروں گا ‘ اس شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! میں اونٹ کے بچے کا کیا کروں گا ‘ آپ نے فرمایا : جو اونٹ پیدا ہوتا ہے وہ اونٹ کا بچہ ہی ہوتا۔ (الادب المفروص ٧٧‘ مطبوعہ مکتبہ اثریہ ‘ سانگلہ ہل)
اس حدیث کو امام ابوداؤد (رح) ۔ ١ (امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ ‘ سنن ابوداؤد ج ٢ ص ٣٣٦‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٦ ھ) اور امام ترمذی (رح) نے بھی روایت کیا۔ ٢ (امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ ‘ جامع ترمذی ص ٢٩٢‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت انس (رض) بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوطلحہ (رض) کا بیٹا فوت ہوگیا ‘ انہوں نے (بیوی سے) کہا : لڑکے کی طبیعت کیسی ہے ؟ حضرت ام سلیم نے جو کہا کہ ” بیٹا پر سکون ہے اور مجھے امید ہے کہ اس کو راحت مل گئی “ اس کا قریب معنی یہ تھا کہ اس کو بیماری سے شفا مل گئی ہے اور بعید معنی یہ تھا کہ وہ فوت ہوگیا اور اس کو ابدی راحت مل گئی ہے ‘ حضرت ام سلیم (رض) نے اس معنی کا ارادہ کیا تھا کیونکہ حضرت ابوطلحہ (رض) اسی وقت سفر سے آئے تھے اور وہ ان کو آتے ہی کوئی تکلیف دہ بات سنانا نہیں چاہتی تھیں ‘ اس لیے انہوں نے صراحۃ یہ نہیں کہا کہ وہ فوت ہوگیا اور توریہ سے کلام کیا۔
امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ ہم سے خوش طبعی کرتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا : میں حق کے سوا اور کچھ نہیں کہتا۔ (جامع ترمذی ص ٢٩٣۔ ١٩٢‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
اس حدیث کو امام بخاری (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (الادب المفروص ٧٧‘ مطبوعہ مکتبہ اثریہ ‘ سانگلہ ہل)
توریہ کے سلسلے میں فقہاء کی رائے :
علامہ شامی لکھتے ہیں : غرض صحیح کے لیے توریہ اور تعریض جائز ہے مثلا مزاح میں ‘ جیسا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں کوئی بڑھیا نہیں جائے گی (یعنی بڑھیا بہ حیثیت بڑھیا نہیں جائے گی بلکہ جوان ہو کر جائے گی) ‘ نیز فرمایا : تیرے شوہر کی آنکھ میں سفیدی ہے ‘ نیز فرمایا : ہم تم کو اونٹ کے بچہ پر سوار کریں گے (کیونکہ ہر اونٹ کسی اونٹ کا بچہ ہوتا ہے) (ردالمختار ج ٥ ص ٣٧٨‘ مطبوعہ مطبع عثمانیہ ‘ استنبول ‘ ١٣٢٧ ھ)
خلاصہ بحث :
قرآن مجید کی آیات ‘ احادیث ‘ آثار صحابہ اور فقہاء کی تصریحات سے یہ واضح ہوگیا کہ جس جگہ کسی مصلحت سے جھوٹ بولنا پڑے تو صراحۃ جھوٹ بولنے بجائے توریہ اور تعریض سے کام لینا چاہیے تاہم بعض مواقع پر صراحۃ جھوٹ بولنے کی بھی گنجائش ہے جیسا کہ ہم نے امام غزالی اور علامہ شامی کے حوالہ سے ذکر کیا ہے کہ مسلمان کے لیے اپنی جان ‘ مال اور عزت بچانے کیلیے جھوٹ بولنا جائز ہے لیکن یہ رخصت ہے اور عزیمت اس کے برعکس ہے اور دوسرے مسلمان کی جان ‘ مال اور عزت بچانے کے لیے جھوٹ بولنا واجب ہے اور ان مواقع پر بھی توریہ مستحسن ہے۔
فقہاء کرام نے اپنی جان اور دوسرے مسلمان کی جان بچانے کے سلسلے میں جو جواز اور وجوب کا فرق کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اپنے معاملہ میں تو رخصت کو چھوڑ کر عزیمت پر عمل کرسکتا ہے لیکن دوسرے شخص کے معاملہ میں اس کو یہ اختیار نہیں ہے۔