بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَاِذَا لَقُوۡا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡاۤ اٰمَنَّا ۖۚ وَاِذَا خَلَوۡا اِلٰى شَيٰطِيۡنِهِمۡۙ قَالُوۡاۤ اِنَّا مَعَكُمۡۙ اِنَّمَا نَحۡنُ مُسۡتَهۡزِءُوۡنَ
اور جب یہ ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں : ہم ایمان لے آئے اور جب یہ اپنے شیطانوں کے ساتھ تنہائی میں ہوتے ہیں تو کہتے ہیں : یقیناً ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو ان کے ساتھ مذاق کرتے ہیں
ان شیاطین کا بیان جن سے منافق خلوت میں ملتے تھے :
امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ بعض یہودی (یعنی منافق) جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب سے ملاقات کرتے تو کہتے : ہم تمہارے دین پر ہیں ‘ اور جب اپنے اصحاب سے ملتے جو کافروں کے سردار تھے ‘ تو کہتے یقیناً ہم تمہارے ساتھ ہیں ‘ ہم تو صرف مذاق کرتے ہیں۔ (جامع البیان ج ١ ص ١٠١ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
علامہ خازن اس آیت کے شان نزول میں لکھتے ہیں :
روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں نے دیکھا کہ سامنے سے صحابہ کرام (رض) ان کی طرف آرہے ہیں ‘ اس نے اپنی قوم سے کہا : دیکھو میں ان بیوقوفوں کو کس طرح تم سے واپس کرتا ہوں ‘ اس نے حضرت ابوبکر (رض) کا ہاتھ پکڑ کر کہا : مرحبا ! اے بنو تیم کے سردار ! شیخ الاسلام ‘ غار میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رفیق ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اپنی جان اور مال کو خرچ کرنے والے ‘ پھر حضرت عمر (رض) کا ہاتھ پکڑ کر کہا : مرحبا ! اے بنو عدی کے سردار ! فاروق ‘ دین میں قومی ‘ اپنی جان اور مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ‘ پھر حضرت علی کا ہاتھ پکڑ کر کہا : مرحبا ! اے رسول اللہ کے عم زاد ! آپ کے داماد ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا تمام بنو ہاشم کے سردار حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے ابی ! اللہ سے ڈر ‘ نفاق نہ کر ‘ منافق اللہ کی بدترین مخلوق ہیں ‘ عبداللہ بن ابی نے کہا : اے ابوالحسن ! ذرا ٹھہرئیے ‘ خدا کی قسم ! میں نے یہ باتیں از راہ نفاق نہیں کہیں ‘ ہمارا ایمان آپ ہی کی طرح ہے ‘ پھر صحابہ کرام (رض) کے جانے کے بعد عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا : تم نے دیکھا میں نے ان کو کیسے بیوقوف بنایا ! (معاذ اللہ) صحابہ کرام (رض) نے واپس آکر یہ واقعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سنایا تو یہ آیت نازل ہوئی۔ (تفسیر خازن ج ١ ص ٣٠۔ ٢٩‘ مطبوعہ دارالکتب العربیہ ‘ پشاور)
علامہ خفاجی نے اس روایت پر حسب ذیل تبصرہ کیا ہے :
اس حدیث کو واحدی نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے ‘ حافظ ابن حجر نے اس حدیث کی سند بیان کر کے کہا کہ یہ حدیث منکر ہے اور کہا : یہ سلسلۃ الذھب نہیں ہے بلکہ سلسلۃ الکذب ہے (یعنی جھوٹی سند ہے) اور اس حدیث کے موضوع ہونے آثار ظاہر ہیں ‘ کیونکہ محدثین کی تصحیح کے مطابق نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ آتے ہی شروع میں سورة بقرہ نازل ہوئی تھی اور ہجرت کے دوسرے سال میں حضرت علی (رض) کی حضرت سیدہ فاطمہ (رض) سے شادی ہوئی تھی ‘ اور اس حدیث میں ہے کہ عبداللہ بن ابی نے حضرت علی (رض) کو رسول اللہ کا داماد کہا : (عنایۃ القاضی ج ١ ص ٣٣٩‘ مطبوعہ دار صادر ‘’ بیروت ‘ ١٣٨٣ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب یہ اپنے شیاطین سے خلوت میں ملتے ہیں۔ (البقرہ : ١٤)
علامہ ابو اللیث سمرقندی نے لکھا ہے کہ شیاطین سے مراد یہود کے پانچ قبیلے ہیں : کعب بن اشرف مدینہ میں ‘ ابوبردہ اسلمی بنو اسلم میں ‘ ابوالسوداء شام میں ‘ عبد الدار جہینہ میں سے اور عوف بن مالک بنواسد سے ‘ ابوعبیدہ نے کہا : ہر وہ شخص جو گمراہ اور سرکش ہو وہ شیطان ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ ان کے ساتھ استہزاء فرماتا ہے۔ (البقرہ : ١٥)
اللہ تعالیٰ کے استہزاء کی توجیہ :
علامہ راغب اصفہانی نے کہا ہے کہ قصدا مذاق کرنے کو استہزاء کہتے ہیں اور استہزاء کی اللہ تعالیٰ کی طرف نسبت ہو تو اس کا معنی استہزاء کی جزا دینا ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ ان کو ایک مدت تک مہلت دیتا ہے ‘ پھر اچانک ان کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے ‘ اس کو استہزاء اس لیے فرمایا ہے کہ منافقین اس دھوکے میں تھے کہ وہ مسلمانوں کو بیوقوف بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں کیونکہ ان کے نفاق اور سرکشی کے باوجود ان پر مسلمانوں کو بیوقوف بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں کیونکہ ان کے نفاق اور سرکشی کے باوجود ان پر مسلمانوں کے احکام جاری کئے گئے اور ان سے مواخذہ نہیں کیا گیا لیکن حقیقت میں اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے نفاق کا علم تھا اور آخرت میں ان کے ساتھ استہزاء کیا جائے گا۔
حافظ جلال الدین سیوطی (رح) لکھتے ہیں :
امام ابن المنذر (رح) نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا ہے کہ دوزخ میں دوزخیوں سے کہا جائے گا کہ دوزخ سے نکلو اور دوزخ کے دروازے کھول دیئے جائیں گے ‘ جب وہ درزخ کے کھلے ہوئے دروازے دیکھیں گے تو وہ دوزخ سے نکلنے کے لیے بھاگیں گے اور مومن جنت میں اپنے تختوں پر بیٹھے ہوئے یہ منظر دیکھ رہے ہوں گے اور جب کفار دروازوں کے قریب پہنچیں گے تو وہ دروازے بند ہوجائیں گے اور مومن ان پر ہنسیں گے۔ ١ (حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ ‘ درمنثور ج ١ ص ٣١‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران) جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” فالیوم الذین امنوا من الکفار یضحکون علی الارآئک ینظرون ھل ثوب الکفار ما کانوا یفعلون (المطففین : ٣٦۔ ٣٤)
ترجمہ : تو آج (قیامت کے دن) ایمان والے کافروں پر ہنستے ہیں وہ (عالی شان) تختوں پر بیٹھے ہوئے دیکھتے ہیں کہ کافروں کو ان کے کیے ہوئے کاموں کا کیا بدلہ ملا ہے
اللہ تعالیٰ نے منافقین کے استہزاء کی جزاء (سزا) کو استہزاء صورۃ فرمایا ہے حقیقت میں یہ استہزاء نہیں ہے ‘ اس کی نظیر یہ آیت ہے :
(آیت) ” وجزؤا سیءۃ مثلھا “ (الشوری : ٤٠)
ترجمہ : اور برائی کا بدلہ اسی کی مثل برائی ہے۔
حالانکہ برائی کا بدلہ حقیقت میں عدل و انصاف ہوتا ہے برائی نہیں ہوتی لیکن کسی چیز کا بدلہ صورۃ اسی کی مثل ہوتا ہے اس لیے اس کو برائی فرمایا ‘ اسی طرح منافقین کے استہزاء کا بدلہ حقیقۃ استہزاء نہیں صورۃ مماثل ہونے کی وجہ سے اس کو استہزاء فرمایا :۔
[Tibyan-ul-Quran 2:14]