بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَوۡ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِيۡهِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعۡدٌ وَّبَرۡقٌ‌ ۚ يَجۡعَلُوۡنَ اَصَابِعَهُمۡ فِىۡۤ اٰذَانِهِمۡ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الۡمَوۡتِ‌ؕ وَاللّٰهُ مُحِيۡطٌ‌ۢ بِالۡكٰفِرِيۡنَ
یا ان کی مثال ان لوگوں کی طرح ہے جو آسمان سے برسنے والی بارش میں (گھرے ہوئے) ہوں اس بارش میں تاریکیاں ‘ کڑک اور چمک ہو ‘ وہ کڑک (سن کر) جان کے خوف سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے
منافقین کے احوال کی دوسری مثال :
امام ابن جریر طبری (رح) اس آیت کے شان نزول میں اپنی اسانید کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) ‘ حضرت ابن مسعود (رض) وغیرھما سے روایت کرتے ہیں۔
اہل مدینہ سے دو منافق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے مشرکین کی طرف بھاگے تو ان کو اس بارش نے آلیا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے ‘ اس میں شور گرج اور کڑک تھی اور بجلی چمک رہی تھی اور جب بھی بجلی زور سے کڑکتی تو وہ موت کے ڈر سے کانوں میں اپنی انگلیاں ٹھونس لیتے اور جب بجلی چمکتی تو وہ اس کی روشنی میں چلتے اور جب اندھیرا چھا جاتا تو کھڑے رہ جاتے ‘ وہ کہنے لگے کہ کاش صبح ہوجائے تو ہم پھر (سیدنا حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس چلے جائیں ‘ پھر جب صبح ہوئی تو وہ آپ کے پاس آئے اور خلوص دل سے اسلام لے آئے اور انہوں نے نیکی کے ساتھ اسلام کے احکام پر عمل کیا اللہ تعالیٰ نے مدینہ کے منافقوں کی مثال ان دو منافقوں کے ساتھ دی ہے جو مدینہ سے نکلے تھے۔
منافق جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں حاضر ہوتے تو وہ اس خوف سے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے کہ مبادا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کے متعلق کوئی کلام نازل ہوا ہو یا ان کی کوئی بات پکڑی گئی ہو اور ان کو قتل کرنے کا حکم دیا جائے ‘ جس طرح بارش میں گھرے ہوئے ان دو منافقوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لی تھیں اور جب فتوحات اسلام کی وج سے ان کو بہت زیادہ مال غنیمت ملا اور ان کے ہاں اولاد ہوئی تو وہ اسلام پر کچھ قائم ہوئے اور کہنے لگے کہ (سیدنا حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دین حق ہے ‘ جس طرح وہ دو منافق بجلی کی روشنی میں چل پڑتے تھے ‘ اور جب کسی مصیبت کی وجہ سے ان کا مال اور اولاد ہلاک ہوجاتے ‘ پھر کفر کی طرف لوٹ جاتے اور کہتے کہ یہ دین (سیدنا حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجہ سے ہے، جس طرح بجلی چمکتی اور اندھیرا چھا جاتا تو وہ دو منافق کھڑے رہ جاتے تھے۔ (جامع البیان ج ١ ص ١١٩‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
دونوں مثالوں کا تجزیہ :
پہلی مثال ان لوگوں کی ہے جو دل میں قطعی منکر تھے اور کسی دنیاوی غرض اور مصلحت کی وجہ سے مسلمان بن گئے تھے اور یہ دوسری مثال ان منافقین کی ہے جو شک اور تذبذب میں مبتلا تھے ‘ زکوۃ اور مال غنیمت کو تو دلی رغبت سے قبول کرتے لیکن اسلام کی خاطر جہاد کی آزمائشوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔
آیا عہد رسالت کے بعد منافقوں کا وجود ہے یا نہیں ؟
منافقوں کا وجود صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حیات ظاہری ہی میں ممکن تھا ‘ یہ آپ ہی کا منصب تھا کہ آپ وحی الہی سے یہ بتائیں کہ فلاں شخص منافق ہے ‘ اور اب جب کہ وحی منقطع ہوچکی ہے تو اب کسی شخص کے متعلق یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ وہ منافق ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کوئی شخص قطعی طور پر کسی کے دل کے حال پر مطلع نہیں ہوسکتا ‘ لہذا جو شخص اسلام کو ظاہر کرے گا وہ مسلمان ہے ‘ اور جو کفر کو ظاہر کرے گا وہ کافر ہے اور جو اسلام سے کفر کی طرف لوٹ جائے گا اور مرتد ہے اور جو شخص اپنے کفریہ عقائد پر اسلام کا ملمع چڑھائے گا وہ زندیق ہے ‘ اور حقیقی منافق کوئی نہیں ہے ‘ البتہ جو شخص بےعمل ہو اس کو عمل کے اعتبار سے منافق کہا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یقیناً اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے (البقرہ : ٢٠)
شے کے معنی میں اہل سنت اور معتزلہ کا اختلاف ہے ‘ معتزلہ کے نزدیک شے کا معنی ہے، جس کا موجود ہونا صحیح ہو ‘ یہ معنی واجب اور ممکن دونوں کا شامل ہے ‘ معتزلہ کے نزدیک شے کی دوسری تعریف یہ ہے کہ جس چیز کا معلوم ہونا صحیح ہو یا جس چیز کی خبر دینا صحیح ہو اور یہ معنی واجب ‘ ممکن ‘ اور ممتنع تینوں کو شامل ہے اور جب کہ واجب اور ممتنع تحت قدرت نہیں ہیں ‘ اس لیے ہر تقدیر پر معتزلہ کو شے کے ساتھ ممکن کی قید لگانی پڑے گی یعنی اللہ ہر شے ممکن پر قادر ہے ‘ اہل سنت کے نزدیک شے موجود کے ساتھ خاص ہے ‘ کیونکہ شے مصدر ہے ‘ اگر یہ بہ معنی اسم فاعل ہے۔ یعنی ” شاء “ تو اس وقت یہ واجب کو بھی شامل ہوگا جیسا کہ اس آیت میں ہے :
(آیت) ” قل ای شیء اکبر شھادۃ قل اللہ “۔ (الانعام : ١٩)
ترجمہ : آپ کہیے : سب سے بڑی گواہی کس کی ہے ؟ آپ کہیے : اللہ۔
شے کا دوسرا معنی ہے :” مشییء وجودہ “ جس کا وجود چاہا گیا ہو ‘ یہ اس وقت بہ معنی مفعول ہے ‘ اس کا معنی ہے : جو موجود ہو خواہ حال میں خواہ استقبال میں ‘” ان اللہ خالق کل شیء “۔ اللہ تعالیٰ ہر شے کا خالق ہے “ اور ” ان اللہ علی کل شیء قدیر “ میں سے یہ معنی موجود ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر موجود پر قادر ہے خواہ وہ اب موجود ہو یا مستقبل میں : (انوار التنزیل ص ٣٨ ‘(درسی) مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز ‘ کراچی)
اللہ تعالیٰ تعالیٰ کے کلام میں کذب کا محال ہونا :
بعض لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام میں کذب کے امکان کے قائل ہیں ‘ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے اور کذب بھی ایک شے ہے لہذا اللہ تعالیٰ کذب پر بھی قادر ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ شے کا معنی موجود ہے خواہ حال میں یا استقبال میں ‘ اگر تم اس آیت سے اللہ تعالیٰ کے کذب پر استدلال کرتے ہو تو صرف کذب کا امکان لازم نہیں آئے گا بلکہ یہ لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ حال یا استقبال میں بالفعل کاذب ہو (معاذ اللہ) اس کا کوئی بھی قائل نہیں ہے۔
مخالفین کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ زید کو اپنے کذب پر قدرت ہے ‘ اب اگر خدا کو اپنے کذب پر قدرت نہ ہو تو زید کی قدرت خدا کی قدرت سے بڑھ جائے گی، اس کا جواب (بہ طور نقض اجمالی) یہ ہے کہ اس طرح تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ زید کو اپنے عدم پر قدرت ہے مثلا وہ خود کشی کرلے ‘ اب اگر خدا کو اپنے عدم پر قدرت نہ ہو تو زید کی قدرت خدا سے بڑھ جائے گی تو خدا کو معدوم ہونا بھی ممکن ہوگیا ‘ اور جس عدم ممکن ہو ‘ وہ ممکن ہوتا ہے واجب نہیں ہوتا ‘ اور اس کا دوسرا جواب (بہ طور نقض تفصیلی) یہ ہے کہ زید کی قدرت کا خدا کی قدرت سے بڑھنا تب لازم آئے گا کہ جس پر زید کو قدرت ہے بعینہ اسی چیز پر خدا کو قدرت نہ ہو ‘ اور یہاں اس طرح لازم نہیں آتا کیونکہ زید کو اس پر قدرت ہے کہ زید سے جھوٹا کلام صادر کرائے بلکہ اصل میں خدا ہی کی قدرت ہے کہ زید کی قدرت تو مجازا ہے ‘ اور جس پر خدا کو قدرت نہیں ہے کہ خدا سے جھوٹ صادر ہو اس پر زید کو کب قدرت ہے ! مغالطہ کی وجہ یہ ہے کہ معترض نے دونوں جگہ اپنے اپنے کے لفظ کو دیکھا ‘ زید کو اپنے کذب پر قدرت اور خدا کو اپنے کذب پر قدرت اور یہ نہیں غور کیا کہ زید کو اپنے کذب پر قدرت کا معنی ہے ‘ زید سے کذب کا صدور ہو ‘ اور خدا کو اپنے کذب پر قدرت کا معنی ہے : خدا سے کذب کا صدور ہو !
اللہ تعالیٰ کی قدرت کے معنی کی تحقیق اور اس کے کذب کے محال ہونے پر دلائل :
علامہ تفتازانی لکھتے ہیں :
قادر وہ شخص ہے جو اگر چاہے تو کوئی کام کرے اور اگر چاہے تو وہ ترک کردے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ اس کو فعل اور ترک فعل کا اختیار ہو اور یہ اس کے لیے ممکن ہو یعنی اگر اس کے لیے ترک کا باعث اور محرک ہو تو اس کے لیے ترک کرنا ممکن ہو۔ (شرح المقاصد ج ٤ ص ٨٩‘ مطبوعہ منشورات الشریف الرضی ‘ ایران ‘ ١٤٠٩ ھ)
علامہ میر سید شریف لکھتے ہیں :
قدرت وہ صفت ہے جس کی وجہ سے کسی زندہ شخص کے لیے اپنے ارادہ سے کسی فعل کا کرنا یا اس کا ترک کرنا ممکن ہوتا ہے۔ (التعریفات ص ٧٤‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)
عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ اشکال ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کذب ‘ ظلم ‘ جہل اور دیگر برائیوں پر قادر نہ ہو تو یہ اس کے علی الاطلاق قادر ہونے کے منافی ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اشکال اس وقت لازم آتا ہے جب اللہ تعالیٰ کذب ‘ ظلم اور جہل وغیرہ کا ارادہ کرتا اور ان کو وجود میں نہ لاسکتا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کذب اور ظلم وغیرہ کا ارادہ نہیں کرتا کیونکہ اللہ تعالیٰ سبحان ہے ‘ اور اس کے سبحان اور قدوس ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے لیے برائی کا ارادہ کرنا محال ہو ‘ اس لیے کذب پر قادر نہ ہونے سے اس کا عجز لازم نہیں آتا ‘ عجز اس وقت ہوتا جب وہ کذب اور ظلم کا ارادہ کرتا اور ان کو وجود میں نہ لاسکتا ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ عجز اس وقت ہوتا جب کسی فعل کا ہونا ممکن ہوتا اور پھر اس فعل کو وجود میں نہ لایا جاسکتا ‘ سو جس طرح دوسرے خدا کو پیدا کرنا ممکن نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے ولد کا ہونا ممکن نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی زوجہ کا ہونا ممکن نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی زوجہ کا ہونا ممکن نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا پیدا ہونا یا اس کا مرنا ممکن نہیں ہے ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا جھوٹ بولنا اور اس کا ظلم کرنا ممکن نہیں ہے اور چونکہ یہ تمام امور ممکن نہیں ہیں ‘ اس لیے ان پر اللہ تعالیٰ کے قادر نہ ہونے سے اس کا عجز لازم نہیں آتا۔
رہا یہ کہ اللہ تعالیٰ کا کذب کیوں ممکن نہیں ‘ اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت قدیم ہے کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کی کوئی صفت حادث ہو تو وہ محل حوادث ہوگا اور محل حوادث خود حادث ہوتا ہے اور جب کذب قدیم ہوگا تو پھر اللہ تعالیٰ صدق سے متصف نہیں ہوسکتا ‘ کیونکہ صدق تو کذب کی نقیص ہے ‘ لہذا اگر صفت کذب کے ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ صدق سے متصف ہے ‘ کیونکہ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” ومن اصدق من اللہ حدیثا “ (النساء : ٨٧)
ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کون سا صادق ہے
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صادق ہے اور اس کا صدق قدیم ہے اور کذب ‘ صدق کے زوال کا نام ہے ‘ اور اس کا صدق زائل نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ قدیم ہے اس لیے اللہ تعالیٰ کاذب ہو نہیں سکتا ‘ صدق جا نہیں سکتا اور کذب آ نہیں سکتا۔
نیز ہم اس سے پہلے علامہ بیضاوی کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں کہ ” ان اللہ علی کل شیء قدیر “ کا معنی ہے ‘ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے جس کو وہ موجود کرنے کا ارادہ فرمائے اور اللہ تعالیٰ اس چیز کا ارادہ فرمائے گا جو اس کے سبحان اور قدوس ہونے کے خلاف نہ ہو ‘ کذب اور ظلم میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے تحت آسکیں اس لیے وہ اس کی قدرت کے تحت نہیں ہے۔
[Tibyan-ul-Quran 2:19]