بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَبَشِّرِ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ‌ؕ ڪُلَّمَا رُزِقُوۡا مِنۡهَا مِنۡ ثَمَرَةٍ رِّزۡقًا ‌ۙ قَالُوۡا هٰذَا الَّذِىۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ وَاُتُوۡا بِهٖ مُتَشَابِهًا ‌ؕ وَلَهُمۡ فِيۡهَآ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ ‌ۙ وَّهُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ
اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ان کو یہ بشارت دے دیجئے کہ ان کے لیے ایسا باغات ہیں جن کے نیچے دریا بہہ رہے ہیں ‘ جب بھی ان کو ان باغات سے کوء ئی پھل کھانے کے لیے دیا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ یہ وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا ‘ اور ان کو صورۃ ملتے جلتے پھل دیئے جائیں گے ‘ اور ان کے لیے ان باغات میں پاکیزہ ازواج ہوں گی اور وہ ان باغات میں ہمیشہ رہیں گے
نجات کا مدار اللہ کے فضل پر ہے نہ کہ اعمال پر :
قرآن مجید کا اسلوب یہ ہے کہ ترھیب کے بعد ترغیب اور ڈرانے کے بعد خوشخبری کا ذکر فرماتا ہے ‘ اس سے پہلے کفار کو دوزخ کے دائمی عذاب سے ڈرایا تھا اور اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو امر فرمایا ہے کہ آپ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو جنت ‘ جنت کے پھلوں ‘ پاکیزہ بیویوں اور ان نعمتوں کے دوام کی خوشخبری دے دیں ‘ ان چار نعمتوں کا خصوصیت کے ساتھ اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ انسان بنیادی طور پر رہائش ‘ طعام اور نکاح کو چاہتا ہے ‘ اس کی رہائش کے لیے جنت کی ‘ طعام کے لیے جنت کے پھلوں کی اور نکاح کے لیے پاکیزہ بیویوں اور ان نعمتوں کے دوام کی خوشخبری دے دیں ‘ ان چار نعمتوں کا خصوصیت کے ساتھ اس لیے ذکر فرمایا ہے کہ انسان بنیادی طور پر رہائش ‘ طعام اور نکاح کو چاہتا ہے ‘ اس کی رہائش کے لیے جنت کی ‘ طعام کے لیے جنت کے پھلوں کی اور نکاح کے لیے پاکیزہ بیویوں یعنی حوروں کی خوشخبری دی اور اگر کسی نعمت کے ساتھ اس کے زوال کا بھی خدشہ اور خطرہ لاحق ہو تو پھر انسان اس نعمت سے پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوسکتا اور حالت عیش میں بھی وہ فکر مند رہتا ہے ‘ اس لیے مومنوں کو یہ بشارت بھی دی کہ یہ نعمتیں دائمی ہیں اور کبھی فنا نہیں ہوں گی ‘ اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس خوشخبری کے سنانے کا حکم دیا ہے اور آپ کے وصال کے بعد ہر زمانہ کے علماء اور مبلغین کا یہ فریضہ ہے کہ وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو یہ خوشخبری سنائیں۔
یہ خوشخبری سنانے کا حکم ان لوگوں کے لیے دیا گیا ہے جو ایمان لائے ہوں اور انہوں نے نیک عمل کیے ہوں ‘ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس بشارت کا استحقاق ان دونوں کا مجموعہ ہے۔ ایمان بنیاد کی طرح ہے اور نیک اعمال اس پر بنی ہوئی عمارت کی طرح ہیں اور جس بنیاد پر عمارت نہ ہو وہ رہائش کے لیے کافی نہیں ہوتی ‘ اسی لیے قرآن مجید میں ان دونوں کا اکثر وبیشتر ساتھ ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ یہ لوگ اپنے ایمان اور اعمال صالحہ کے اعتبار سے ان نعمتوں کے مستحق ہوں گے لیکن یہ استحقاق اس اعتبار سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے نیک عمل کرنے والے مومنوں اور اس پر برقرار رہنے والوں سے ان نعمتوں کا وعدہ کرلیا ہے ‘ یہ وجہ نہیں ہے کہ وہ اپنے اعمال کی وجہ سے ان نعمتوں کے مستحق ہوتے ہیں کیونکہ انسان بالغ ہونے کے بعد نیک عمل شروع کرتا ہے اور اس کے ہر لقمہ بلکہ ہر سانس کے ساتھ اللہ کی غیر متناہی نعمتیں وابستہ ہیں ‘ سو اس کی ساری عمر کی عبادتیں تو ان نعمتوں کے برابر بھی نہیں ہیں جو وہ اس دنیا میں حاصل کرچکا ہے تو اب وہ اخروی نعمتوں کا مطالبہ کون سی عبادتوں کے عوض کرے گا ‘ اس کے لیے تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس سے اپنی پچھلی نعمتوں کا حساب نہ مانگے اس لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : کسی شخص کو بھی اس کا عمل جنت میں ہرگز نہیں داخل کرے گا ‘ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا مجھ کو بھی نہیں ‘ مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو اپنی رحمت سے ڈھانپ لے گا۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٣٧٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
جنت کا معنی ‘ قرآن اور حدیث میں جنت کی ترغیب اور اس کی طلب کا بیان :
علامہ راغب اصفہافی جنت کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں
” جن “ کا اصل میں معنی ہے : کسی چیز کو حواس سے چھپا لینا ‘ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” فلما جن علیہ الیل “۔ (الانعام : ٧٦)
ترجمہ : جب رات نے ان کو چھپالیا۔
جنان ‘ قلب کو کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی حواس سے مستور ہوتا ہے ‘ جنین ‘ پیٹ میں بچہ کو کہتے ہیں وہ بھی مستور ہوتا ہے ‘ مجن اور جنہ ڈھال کو کہتے ہیں ‘ کیونکہ وہ بھی حملہ آور کے حملہ سے چھپاتی ہے اور جن بھی حواس سے مستور ہوتے ہیں ‘ اور جنت میں اس باغ کو کہتے ہیں جس میں بہت زیادہ گھنے درخت ہوں اور درختوں کے گھنے پن اور زیادہ ہونے کی وجہ سے زمین چھپ گئی ہو ‘ اور دارالجزاء کا نام جنت اس لیے ہے کہ اس کو زمین کی جنت (گھنے باغ) کے ساتھ تشبیہہ دی گئی ہے اگرچہ دونوں جنتوں میں بہت فرق ہے ‘ یا اس کو اس وجہ سے جنت کہا گیا ہے کہ اس کی نعمتیں ہم سے مستور ہیں ‘ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” فلاتعلم نفس ما اخفی لہم من قرۃ اعین “۔ (السجدہ : ١٧)
ترجمہ : سو کسی کو معلوم نہیں کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز پوشیدہ رکھی گئی ہے۔
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جمع کے صیغہ سے ” جنات “ اس لیے فرمایا ہے کہ جنتیں سات ہیں : (١) جنت الفردوس (٢) جنت عدن (٣) جنت النعیم (٤) دار الخلد (٥) جنت الماوی۔ (٦) دارالسلام (٧) علیین۔
(المفردات ص ٩٨‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)
بعض صوفیاء اور قرب الہی کے مدعی جنت کم بہت کم درجہ کی اور گھٹیا چیز قرار دیتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ ہم کو جنت نہیں رضائے مولی چاہیے اور یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ اور اس کے رسول نے جس چیز کی تعریف و توصیف کی ہے اور اس کو طلب کرنے کا حکم دیا ہے اس کو کم درجہ اور گھٹیاکہنے سے اللہ کیسے راضی ہوگا ‘ بعض کہتے ہیں کہ ہم کو جنت نہیں مدینہ چاہیے اور جنت کو ادنی اور مدینہ کو اعلی قرار دیتے ہیں حالانکہ مدینہ کی افضلیت اس وجہ سے ہے کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مسکن ہے اور جس جگہ رسول اللہ اب آرام فرما رہے ہیں وہ بھی جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے ‘ اور آخرت میں بھی آپ کی قیام گاہ جنت ہوگی تو اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مسکن ہونا وجہ محبت ہے تو آپ کا مسکن دنیا میں بھی جنت ہے اور آخرت میں بھی جنت ہے تو اول آخر جنت ہی کو محبوب ہونا چاہیے اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں میں جنت کی قدر ومنزلت پیدا فرمائے۔
قرآن مجید میں ہے
(آیت) ” وسارعوا الی مغفرۃ من ربکم وجنۃ عرضھا السموت والارض اعدت للمتقین “ (آل عمران : ١٣٣)
ترجمہ : اپنے رب کی مغفرت اور ایسی جنت کی طرف جلدی کرو جس کی پہنائی آسمان اور زمین ہیں ‘ اس کو متقین کے لیے تیار کیا گیا ہے
امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کی ہیں جن کو کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال آیا ہے اور اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو ”۔ فلاتعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین “۔ سو کسی کو معلوم نہیں کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا چیز پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ “ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤٦٠ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو پہلا گروہ جنت میں داخل ہوگا اس کا چہرہ چودھویں رات کے چاند کی طرح ہوگا ‘ نہ ہو اس میں تھوکیں گے ‘ نہ ناک سے ریزش آئے گئی ‘ نہ فضلہ خارج ہوگا ‘ ان کے برتن جنت میں سونے کے ہوں گے اور کھنگے سونے اور چاندی کے ہوں گے اور اس میں عود کی خوشبو ہوگی ‘ ان کا پسینہ مشک کی طرح خوشبودار ہوگا ‘ ہر جنتی کو دو بیویاں ملیں گی ‘ ان کی پنڈلیوں کا مغز گوشت کے پار سے نظر آئے گا یہ ان کے حسن کی جھلک ہے ‘ ان کے دلوں میں اختلاف اور بغض نہیں ہوگا ‘ سب کے دل ایک طرح کے ہوں گے اور وہ صبح وشام اللہ تعالیٰ کی تسبیح کریں گے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤٦٠ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں چابک جتنی جگہ بھی دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤٦١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے ایک سوار سو سال تک چلتا رہے گا اور اگر تم چاہو تو یہ پڑھو :” وظل ممدود “۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤٦١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
(آیت) ” واصحب الیمین ما اصحب الیمین فی سدر مخضود وطلح منضود وظلم ممدود ومآء مسکوب و فاکھۃ کثیرۃ لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ وفرش مرفوعۃ انا انشانھن انشاء فجعلنھن ابکارا عربا اترابا لاصحب الیمین (الواقعہ : ٣٨۔ ٢٧ )
ترجمہ : اور دائیں طرف والے، کیا ہی خوب ہیں دائیں طرف والے وہ بےکانٹوں کی بیریوں میں رہیں گے اور تہ بہ تہ کیلوں میں اور پھیلی ہوئی لمبی چھاؤں میں اور (ہمیشہ) چھلکتے ہوئے پانی میں اور بہت سے (لذیذ) پھلوں میں جو نہ ختم ہوں گے نہ روکے ہوئے ہوں گے اور اونچے جو نہ ختم ہوں گے نہ روکے ہوئے ہوں گے اور اونچے جو نہ ختم ہوں گے نہ روکے ہوئے ہوں گے اور اونچے بستروں میں بیشک ہم نے (ان حوروں کو) خصوصیت سے بنایا سو ہم نے ان کو کنواریاں بنایا اپنے شوہروں سے محبت کرنے والیاں اور ہم عمر یہ دائیں طرف والوں کے لیے ہوں گی
حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک جنت میں سودرجات ہیں ‘ اور ہر دو درجوں میں آسمان اور زمین جتنا فاصلہ ہے اور فردوس سب سے اعلی درجہ ہے اور ان درجوں کے وسط میں ہے اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور وہیں سے جنت کے دریا جاری ہوتے ہیں پس جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو فردوس کا اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور وہیں سے جنت کے دریا جاری ہوتے ہیں پس جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کرو۔ (جامع ترمذی ص ٣٦٢‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے دریا بہہ رہے ہیں۔ (البقرہ : ٢٥ )
” بحر “ کا معنی ہے : سمندر ” نھر “ کا معنی ہے : دریا اور ” جدول “ نہرکوکہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان باغات کے نیچے سے دریابہتے ہیں ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ دریا کہ دونوں کناروں پر درخت لگے ہوئے ہیں ‘ یہ مطلب نہیں ہے کہ وہاں کوئی لمبی نہر زمین میں کھودی ہوئی ہے، مسروق سے امام ابن جریر (رح) ‘ امام ابن مبارک (رح) اور امام بیہقی (رح) نے اس اثر کو روایت کیا ہے۔ (عنایۃ القاضی ج ٢ ص ٦٦‘ مطبوعہ دار صادر ‘ بیروت ‘ ١٢٨٣ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب بھی ان کو ان باغات سے کھانے کے لیے کوئی پھل دیا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ یہ وہی ہے جو ہم کو پہلے دیا گیا تھا۔ (البقرہ : ٢٥)
حسن (رض) سے روایت ہے کہ جنتی کو ایک پیالہ دیا جائے گا ‘ وہ اس میں سے کھائے گا ‘ پھر اس کو دوسرا اسی طرح کا پیالہ دیا جائے گا تو وہ کہے گا : یہ تو پہلے کی طرح ہے تو فرشتے کہیں گے : تم کھاؤ ان کا رنگ ایک ہے اور ذائقہ مختلف ہے ‘ اور امام ابن جریر (رح) نے موقوفا روایت کیا ہے اور حاکم نے ” مستدرک “ میں حضرت ثوبان (رض) سے مرفوعا روایت کیا ہے کہ اہل جنت میں سے کوئی شخص پھل توڑے گا اور ابھی وہ پھل اس کے منہ تک نہیں پہنچے گا کہ اس درخت پر اس کے بدلہ دوسرا پھل لگ جائے گا تو وہ کہے گا کہ یہ تو اسی طرح ہے ‘ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنت کے پھل شکل و صورت میں دنیا کے پھلوں کی طرح ہوں تاکہ جنتی ان کی طرف راغب ہوں کیونکہ جب انسان کوئی نئی چیز دیکھتا ہے تو اس سے متوحش ہوتا ہے اور اس وقت جنتی کہیں گے : یہ ایسے ہی پھل ہیں جیسے ہم کو دنیا میں دیئے گئے تھے حالانکہ وہ صرف صورت میں دنیا کے پھلوں کی طرح ہوں گے ذائقہ مختلف ہوگا ‘ اور اس میں یہ حکمت ہے کہ ان کو بہت تعجب اور خوشی ہوگی کہ صورۃ مماثل ہونے کے باوجود ان کا ذائقہ کس قدر مختلف ہے۔ اس آیت کا ایک محمل یہ ہے کہ اللہ کے نیک بندوں کو اللہ کی عبادت اور اس کی معرفت سے جو لذت دنیا میں حاصل ہوتی تھی اسی جنس کی لذت جنت میں بھی ذکر الہی اور اس کی معرفت سے حاصل ہوگی لیکن جنت میں یہ لذت بہت زیادہ ہوگی ‘ اس کو پھلوں سے اس لیے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ جس طرح پھلوں سے حواس کو لذت حاصل ہوتی ہے ‘ اسی طرح معرفت الہی سے روح کو لذت حاصل ہوتی ہے۔
(عنایۃ القاضی ج ٢ ص ٧٣‘ مطبوعہ دار صادر ‘ بیروت ‘ ١٢٨٣ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان کے لیے ان باغات میں پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔ (البقرہ : ٢٥)
جنتی عورتوں اور حوروں کی پاکیزگی ‘ حسن و جمال اور ان کے ساتھ نکاح کی کیفیت کا بیان :
امام ابن جریر (رح) اپنی اسانید کے ساتھ روایت کرتے ہیں ‘ حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : وہ نجاست سے پاک ہوں گی ‘ مجاہد (رح) سے روایت ہے کہ وہ بول اور براز اور منی سے پاک ہوں گی اور مجاہد (رح) ہی سے روایت ہے کہ حیض سے ‘ بول اور براز سے ‘ ناک کی ریزش سے ‘ تھوک سے ‘ منی سے اور بچہ جننے سے پاک ہوں گی ‘ قتادہ سے روایت ہے کہ گناہ سے پاک ہوں گی۔ (جامع البیان ج ١ ص ١٣٧‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
حافظ سیوطی (رح) بیان کرتے ہیں :
امام احمد اور امام ترمذی (رح) حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ادنی درجہ کا جنتی شخص وہ ہوگا جس کے اسی ہزار خادم اور بہتر بیویاں ہوں گی۔ (حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ ‘ درمنثور ج ١ س ٣٩‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ‘ ایران) (دو دنیا کی عورتیں ہوں گی اور ستر آخرت کی۔ ابن عساکر)
امام ابن ابی شیبہ ‘ امام احمد (رح) امام نسائی (رح) ‘ امام عبدبن حمید (رح) ‘ امام ابن المنذر (رح) اور امام ابن ابی حاتم (رح) اپنی اپنی اسانید سے روایت کرتے ہیں کہ اہل کتاب میں ہے ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : اے ابوالقاسم ! آپ یہ گمان کرتے ہیں کہ اہل جنت کھائیں گے اور پیں گے ‘ آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! ایک جنتی شخص کو کھانے ‘ پینے ‘ جماع اور شہوت سے سو دنیاوی آدمیوں کی قوت دی جائے گی ‘ اس نے کہا : جو شخص کھاتا پیتا ہے وہ رفع حاجت بھی کرتا ہے اور جنت پاک جگہ ہے وہاں نجاست نہیں ہوتی آپ نے فرمایا : ان کی رفع حاجت ایک پسینہ نکلنے سے ہوگی جس سے مشک کی سی خوش بو آئے گی اور پسینہ آنے کے بعد ان کا پیٹ خالی ہوجائے گا۔ (درمنثور ‘ ج ١ ص ٤٠‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)
امام طبرانی (رح) حضرت زید بن ارقم (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ پیشاب اور جنابت (جماع کے وقت منی کا خروج) ایک پسینہ ہوگا جو ان کے بالوں کے نیچے سے لے کر پیروں تک سے نکلے گا اور اس سے مشک کی خوشبو آئے گی۔ (درمنثور ‘ ج ١ ص ٤٠‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)
حافظ نور الدین الہیثمی (رح) بیان کرتے ہیں :
امام طبرانی (رح) اور امام بزار (رح) نے حضرت سعید بن عامر بن خذیم (رض) سے روایت کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر اہل جنت کی ازواج میں سے کوئی عورت جھانکے تو تمام روئے زمین مشک کی خوشبو سے بھر جائے اور سورج اور چاند کی روشنی ماند پڑجائے۔ (مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٤١٧‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)
امام طبرانی (رح) روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قرآن مجید میں ہے : ” حورعین “ اس کی تفسیر فرمائیے آپ نے فرمایا : وہ گورے رنگ کی بڑی بڑی آنکھوں والی ہوں گی اور ان کی اتنی گھنی پلکیں ہوں گی جیسے گدھ کے پر ‘ میں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : قرآن کی آیت ” کا نھن الیاقوت والمرجان “۔ کی تفسیر فرمائیں آپ نے فرمایا : ان کی صورت حسین اور سیرت جمیل ہوگی میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (آیت) ” کا نھن بض مکنون “ کی تفسیر فرمائیں فرمایا : ان کی کھال اس طرح باریک ہوگی جیسے انڈے کے چھلکے کے اندر لپٹی ہوئی کھال باریک ہوتی ہے ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (آیت) ” عربا اترابا “ کی تفسیر فرمائیں ‘ آپ نے فرمایا : جو عورتیں دنیا میں بوڑھی ہو کر فوت ہوں گی ‘ ان کے بال سفید ہوچکے ہوں گے اور وہ کمزور ہوچکی ہوں گی ‘ اللہ تعالیٰ ان کو بڑھاپے کے بعد دو شیزہ بنا کر اٹھائے گا اور وہ اپنے شوہروں سے محبت کرنے والی ہوں گی اور سب ایک عمر کی ہوں گی ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آیا دنیا کی عورتیں افضل ہوں گی یا حورعین افضل ہوں گی ؟ آپ نے فرمایا : دنیا کی عورتیں ‘ حورعین سے اس طرح افضل ہوں گی جس طرح ظاہر ‘ باطن سے افضل ہوتا ہے ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی وجہ ؟ آپ نے فرمایا : اس کی فضیلت کا سبب ان کے روزے اور ان کی نمازیں ہیں اللہ تعالیٰ ان کے چہروں میں نور پیدا کر دے گا ان کا جسم ریشم کی طرح ہوگا ‘ رنگ گورا ہوگا ‘ کپڑے سبز ہوں گے ‘ سنہرے زیورات ہوں گے ‘ ان کی انگوٹھی موتی کی ہوگی ‘ اور ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی وہ کہیں گی : سنو ! ہم دائمی ہیں ‘ کبھی نہیں مریں گی ‘ سو ! ہم ہمیشہ نعمت میں ہیں کبھی مغموم نہیں ہوں گی ‘ اور ہم قیام کرنے والیاں ہیں کبھی سفر نہیں کریں گی ‘ ہم خوش ہونے والیاں ہیں کبھی ناراض نہیں ہوں گی ‘ اس کو مبارک ہو جس کے لیے ہم ہیں اور وہ ہمارے لیے ہے ‘ میں نے عرض کیا ‘ ہماری بعض عورتیں دنیا میں دو خاوندوں سے (یکے بعد دیگرے) نکاح کرتی ہیں ‘ بعض تین سے اور بعض چار سے ‘ تو وہ عورت جنت میں کس خاوند کے نکاح میں ہوگی ؟ آپ نے فرمایا : اے ام سلمہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) اس عورت کو اختیار دیا جائے گا اور جس خاوند کا اخلاق دنیا میں سب سے اچھا ہوگا وہ اس کو اختیار کرے گی ‘ وہ کہے گی : اے میرے رب ! میرے اس خاوند کا اخلاق سب سے اچھا تھا ‘ میرا اس کے ساتھ نکاح کردے۔ اے ام سلم (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) دنیا اور آخرت کی خیر اچھے اخلاق کے ساتھ وابستہ ہے۔ (المعجم الکبیر ج ٢٣ ص ‘ ٣٦٨۔ ٣٦٧ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
جس عورت نے دنیا میں متعدد نکاح کیے ہوں ‘ وہ آخرت میں کس خاوند کے نکاح میں ہوگی ؟
جس عورت نے متعدد نکاح کیے ہوں تو ایک صورت یہ ہے کہ ہر خاوند نے اس کو طلاق دے دی ہو اور جب وہ فوت ہو تو وہ کسی خاوند کے نکاح میں نہ ہو اس صورت میں اس کو جنت میں اختیار دیا جائے گا کہ جس خاوند کے اخلاق سب سے اچھے ہوں ‘ وہ اس سے نکاح کرے جیسا کہ حضرت ام سلمہ (رض) کی مذکورہ الصدر حدیث میں ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ اس نے متعدد نکاح کیے ہوں اور آخری خاوند نے اس کو طلاق نہ دی ہو اور وہ اس کے نکاح میں فوت ہوئی ہو ‘ اس صورت میں وہ جنت میں آخری خاوند کے نکاح میں ہوگی جیسا کہ حضرت ابوداؤد (علیہ السلام) اور حضرت حذیفہ (رض) کی حدیث میں ہے۔ (فتاوی حدیثیہ ص ٤١‘ مطبوعہ مصطفیٰ البابی واولادہ ‘ مصر ١٣٥٦ ھ)
جن مردوں اور عورتوں کا دنیا میں نکاح نہیں ہوا ان کا جنت میں نکاح ہوجائے گا :
علامہ ابن حجر مکی (رح) لکھتے ہیں :
جو کم سن بچہ حشر میں دنیاوی عمر اور جسامت پر اٹھایا جائے گا ‘ جنت میں دخول کے وقت اس کی جسامت بڑھا دی جائے گئی اور وہ بالغوں کی طرح جنت میں داخل ہوگا اور اس کا دنیاوی عورتوں اور حوروں کے ساتھ نکاح کردیا جائے گا۔ (فتاوی حدیثیہ ص ١٥٦‘ مطبوعہ مصطفیٰ البابی واولادہ ‘ مصر ١٣٥٦ ھ)
اس عبارت کی وضاحت یہ ہے کہ جس طرح بعض کم سن بچے فوت ہوتے ہیں اسی طرح بعض کم سن بچیاں فوت ہوجاتی ہیں اور یہ دونوں بالغوں کی طرح جنت میں داخل ہوں گے اور ان کا ایک دوسرے سے نکاح کردیا جائے گا۔
اسی طرح بعض مردوں کا ساری زندگی نکاح نہیں ہوتا اور وہ تجرد کی زندگی گزارتے ہیں اور بعض عورتیں بھی بغیر نکاح کے بوڑھی ہوجاتی ہیں ان کا بھی جنت میں ایک دوسرے سے نکاح کردیا جائے گا۔
جنت میں ناپاک اور ناجائز خواہشیں نہیں ہوں گی۔
بعض لوگ یہ بےہودہ سوال کرتے ہیں کہ مردوں کو تو حوریں ملیں گی عورتوں کو جنت میں کیا ملے گا ! بعض کہتے ہیں کہ جنت میں ان کو غلام ملیں گے ‘ بعض کہتے ہیں جب مردوں کو کئی حوریں اور بیویاں ملیں گی تو عورتوں کو بھی کئی کئی خاوند ملنے چاہیء ں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس قسم کی بےہودہ اور ناپاک خواہشوں کا منبع شیطان ہے اور چونکہ شیطان جنت میں نہیں ہوگا اس لیے یہ ناپاک خواہشیں بھی جنت میں نہیں ہوں گی، جب کوئی شخص یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ اس کے کئی باپ ہوں تو اس کو یہ بھی نہیں سوچنا چاہیے کہ ایک عورت کے کئی خاوند ہوں۔
قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” ولکم فیھا ما تشتھی انفسکم ولکم فیھا ما تدعون “۔ (حم ٓ السجدۃ : ٣١)
ترجمہ : اور تمہارے لیے جنت میں ہر وہ چیز ہے جس کی تم خواہش کرو اور جس کی تم طلب کرو۔
جنت میں انسان کی ہر خواہش پوری ہوگی لیکن ناپاک اور ناجائز خواہشیں وہاں اس کے دل میں نہیں پیدا ہوں گی۔ فرض کیجیے کوئی شخص یہ خواہش کرے کہ شیطان کو جنت میں داخل کر کے اس کو نبیوں اور رسولوں سے اونچا مقام دے دیا جائے ‘ حالانکہ یہ محال ہے تو اس کا یہی جواب ہے کہ اس قسم کی لغو ‘ ناپاک اور ناجائز خواہشوں کا منبع شیطان ہے اور جب وہ جنت میں نہیں ہوگا تو ایسی لغو اور ناجائز خواہشیں بھی جنت میں نہیں ہوں گی۔
جنت کی عظمت اور کرامت کے متعلق میں نے بہت تفصیل سے گفتگو کی ہے کیونکہ ہمارے زمانہ میں جھوٹے صوفی اور بناوٹی محب رسول ‘ جنت کا بہت حقارت سے ذکر کرتے ہیں اور جنت طلب کرنے والوں کی مذمت کرتے ہیں اور ان کی تضحیک کرتے ہیں۔ اے بارالہ ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے ہم کو جنت الفردوس عطا فرما۔
[Tibyan-ul-Quran 2:25]