بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قَالَ رَبُّكَ لِلۡمَلٰٓٮِٕكَةِ اِنِّىۡ جَاعِلٌ فِى الۡاَرۡضِ خَلِيۡفَةً ؕ قَالُوۡٓا اَتَجۡعَلُ فِيۡهَا مَنۡ يُّفۡسِدُ فِيۡهَا وَيَسۡفِكُ الدِّمَآءَۚ وَنَحۡنُ نُسَبِّحُ بِحَمۡدِكَ وَنُقَدِّسُ لَـكَ‌ؕ قَالَ اِنِّىۡٓ اَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ

اور یاد کیجئے جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا : میں زمین میں ایک خلیفہ (نائب) بنانے والا ہوں ‘ فرشتوں نے کہا : کیا آپ ایسے شخص کو نائب بنائیں گے جو زمین میں فساد اور خونریزی کرے گا ؟ حالانکہ ہم آپ کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں آپ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں فرمایا : بیشک میں ان چیزوں کو جانتا ہوں جن کو تم نہیں جانتے

ربط آیات :
جس طرح اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا ذکر فرمایا تھا تاکہ انسان ان نعمتوں کا اعتراف کرے اور کفر اور معصیت سے باز آئے اللہ پر ایمان لائے اور اس کی اطاعت کرے ‘ اسی طرح ان آیات میں یہ بتایا ہے کہ انسان کے مورث اعلی حضرت آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے کن نعمتوں سے نواز ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے اپنا خلیفہ اور نائب بنایا ‘ ان کو اپنی صورت پر پیدا کیا ‘ ان کو کائنات کی تمام اشیاء کے اسماء کا علم عطا فرمایا اور ان کو مسجود ملائک بنایا ‘ ان کو پہلے جنت میں رکھا پھر ان کو خلافت جاری کرنے کے لیے زمین پر بھیجا اور یہ حضرت آدم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمتیں ہیں ‘ ان کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی اولاد اپنے مورث اعلی پر کی گئی ان نعمتوں کا شکر بجا لائے اچھی طرح سے اس کی اطاعت کرے اور کفر اور معصیت سے دور رہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یاد کیجئے جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا : میں زمین میں ایک خلیفہ (نائب) بنانے والا ہوں۔ (البقرہ : ٣٠)
ملائکہ کی حقیقت ‘ ان کی خصوصیت اور ان کے فرائض منصبی کا بیان :
علامہ بیضاوی (رح) لکھتے ہیں :
” ملائکۃ “ کا لفظ ” ملاک “ کی جمع ہے ‘ یہ ” الوکۃ “ سے بنا ہے ‘ جس کا معنی رسالت (پیغام پہنچانا) ہے کیونکہ ملائکہ اللہ تعالیٰ اور لوگوں کے درمیان واسطہ ہیں ‘ ان میں سے بعض حقیقۃ رسول ہیں ‘ مثلا جو فرشتے خود ان کے لیے رسول ہیں ‘ ان کی حقیقت میں عقلاء کا اختلاف ہے اور اس پر سب کا اتفاق ہے کہ یہ جوہر ہیں جو قائم بذاتہ ہے ‘ اکثر مسلمانوں کا یہ نظریہ ہے کہ یہ اجسام لطیفہ ہیں جو مختلف شکلوں میں متشکل ہونے پر قادر ہیں ‘ کیونکہ انبیاء کرام (علیہ السلام) ان کو اسی طرح دیکھتے تھے ‘ ان کی دو قسمیں ہیں : ایک وہ ہیں جو ہر وقت اللہ تعالیٰ کی معرفت میں مستغرق رہتے ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” یسبحون الیل ولنھار لا یفترون (الانبیاء : ٢٠)
ترجمہ : وہ رات اور دن اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تھکتے نہیں ہیں
ان فرشتوں کو علیین اور ملائکہ مقربین کہا جاتا ہے ‘ اور دوسری قسم وہ ہے جو آسمانوں اور زمینوں میں اللہ تعالیٰ کے تکوینی نظام کی تدبیر کرتے ہیں اور اس میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی سرمو مخالفت یا نافرمانی نہیں کرتے ‘ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” لایعصون اللہ ما امرھم ویفعلون مایؤمرون “ (التحریم : ٦)
ترجمہ : وہ اللہ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے
ان فرشتوں کو ” المدبرات امرا “ کہا جاتا ہے ‘ ان میں سے بعض فرشتے آسمانوں کے تکوینی نظام کی تدبیر کرتے ہیں اور بعض زمین کے تکوینی نظام کی تدبیر کرتے ہیں۔ (انوار التنزیل (درسی) ص ٥٩‘ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز کراچی)
محمد رشید رضا لکھتے ہیں :
سلف صالحین نے فرشتوں کے متعلق یہ کہا ہے کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے وجود کی اور ان کے بعض کاموں کی خبر دی ہے جس پر ہمیں ایمان لانا واجب ہے اور یہ ایمان لانا ان کی حقیقت کے جاننے پر موقوف نہیں ہے ‘ اس لیے ہم ان کی حقیقت کا علم اللہ کے حوالے کرتے ہیں۔ جب شریعت میں یہ وارد ہے کہ فرشتوں کے پر ہیں تو ہم اس پر ایمان لاتے ہیں لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ ہمیں ان پروں کی کیفیت کا علم نہیں ہے ‘ اور جب شریعت میں یہ وارد ہے کہ فرشتے سمندروں اور سبزہ زاروں پر مقرر کیے گئے ہیں تو ہم اس سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ اس کائنات میں اس عالم محسوس سے زیادہ لطیف ایک اور عالم ہے اور اس عالم میں فرشتے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور عقل کے نزدیک یہ جائز ہے اور وحی اس کی تصدیق کرتی ہے۔ (المنارج ١ ص ٢٥٤‘ مطبوعہ دارالمعرفۃ ‘ بیروت)
فرشتے جو محیرالعقول کارنامے انجام دیتے ہیں اور ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں آسمان زمین پہنچ جاتے ہیں اور آسمانوں کی خبریں زمین تک پہنچاتے ہیں سائنس کی ترقی اور کمپیوٹر کے اس دور میں اس کا سمجھنا آسان ہوگیا ‘ جب خلائی سیاروں اور برقی لہروں کے ذریعہ ایک برا اعظم سے دوسرے بعید براعظم تک ایک آن میں آواز اور تصویر پہنچ سکتی ہے اور چاند سے زمین پر ٹیلی فون سے گفتگو ہوسکتی ہے تو فرشتوں کے تصرفات اور نظام عالم میں ان کی تدبیروں کا واقع ہونا اب بعید از فہم نہیں رہا۔
علامہ آلوسی لکھتے ہیں :
کبھی فرشتے ایسے فرشتے ایسے بدنوں میں ظاہر ہوتے ہیں جن کو ہر خاص اور عام دیکھ لیتا ہے درآں حالیکہ وہ اپنی اصل صورت پر بھی قائم رہتے ہیں ‘ حتی کہ کہا گیا ہے کہ جب حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حضرت دحیہ کلبی (رض) کی صورت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تو اسی وقت سدرۃ المنتہی میں بھی موجود ہوتے تھے اور کامل ولی اللہ بھی اسی طرح بیک وقت کئی جگہ موجود ہوتا ہے اور ہرچند کہ یہ چیز بہ ظاہر عقل سے بعید ہے ‘ لیکن میرا اس پر ایمان ہے۔ (روح المعانی ج ١ ص ‘ ٢١٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
حسب ذیل آیات میں فرشتوں کی بعض خصوصیات اور افعال کو بیان کیا گیا ہے۔
(آیت) ”۔ اللہ یصطفی من الملئکۃ رسلاومن الناس۔ (الحج : ٧٥)
ترجمہ : اللہ ہی فرشتوں اور انسانوں میں سے رسولوں کو چن لیتا ہے۔
(آیت) ” والنزعت غرقا والنشطت نشطا والسبحت سبحا فالسبقت سبقا فالمدبرت امرا (النازعات : ٥۔ ١)
ترجمہ : ان فرشتوں کی قسم جو نہایت سختی سے (کافر کی جان) کھینچتے ہیں اور جو بہت نرمی سے (مومن کی جان کی گرہ) کھولتے ہیں اور جو (زمین و آسمان میں) سرعت سے تیرتے پھرتے ہیں اور جو (احکام الہیہ کی اطاعت میں) پوری قوت سے آگے بڑھتے ہیں اور جو (امور تکوینیہ اور نظام عالم کی) تدبیر کرتے ہیں
(آیت) ” فالمقسمت امرا “۔ (الذاریات : ٤)
ترجمہ : اور قسم ہے ان فرشتوں کی جو کام تقسیم کرنے والے ہیں
(آیت) ” ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنزل علیہم الملئکۃ الا تخافوا ولا تحزنوا وابشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون (حم ٓ السجدۃ : ٣٠)
بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے ‘ پھر وہ اس پر مضبوطی سے قائم رہے ‘ ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ خوف اور غم نہ کرو ‘ اور اس جنت کے ساتھ خوش ہوجاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا
(آیت) ” ورسلنا لدیہم یکتبون (الزخرف : ٨٠)
ترجمہ : اور ہمارے فرشتے ان کے پاس لکھ رہے ہیں :
(آیت) ” وان علیکم لحفظین کراما کاتبین یعلمون ما تفعلون (الانفطار ؛ ١٢۔ ١٠)
ترجمہ اور بیشک ضرور تم پر نگہبان (مقرر) ہیں معزز فرشتے لکھنے والے وہ جانتے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو
خلیفہ کی تعریف اور اس کی اقسام :
خلیفہ نائب یا قائم مقام کو کہتے ہیں ‘ جب اصل شخص خود کار حکومت انجام نہ دے سکے تو اس کا خلیفہ مقرر کیا جاتا ہے ‘ مثلا اصل شخص کہیں چلا جائے تو عارضی طور پر اس کی جگہ کام کرنے کے لیے خلیفہ مقرر کرتے ہیں یا اصل شخص فوت ہوجائے تو اس کی جگہ خلیفہ مقرر کیا جاتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کہیں جانے یا فوت ہونے سے پاک ہے تو پھر اس کو خلیفہ کی کیا ضرورت تھی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو خلیفہ کی ضرورت نہ تھی بلکہ بندوں کو ضرورت تھی کیونکہ انسان اپنی مادی کثافت اور عدم قرب کے حجابات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے براہ راست فیض حاصل نہیں کرسکتا تھا اور اس سے احکام وصول نہیں کرسکتا تھا ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے اور انسانوں کے درمیان ایک خلیفہ بنایا اور اس کا نام نبی اور رسول رکھا ‘ اور انبیاء (علیہم السلام) کو ایسی صلاحیت اور استعدادا عطا فرمائی کہ وہ فرشتوں کے واسطے سے یا بلاواسطہ اللہ تعالیٰ سے احکام حاصل کرسکیں۔ عام انبیاء اور مرسلین کی طرف فرشتے بھیجے جاتے ہیں اور مقربین سے اللہ تعالیٰ خود بھی کلام فرماتا ہے ‘ جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اللہ تعالیٰ نے میقات میں کلام فرمایا اور ہمارے نبی حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شب معراج کلام فرمایا۔
خلفیہ کا ایک معنی یہ ہے : جو اللہ تعالیٰ کا نائب ہو اور اس کا خلیفہ ہو اور اللہ سے احکام حاصل کرکے بندوں تک پہنچائے یہ معنی نبی اور رسول کے مترادف ہے ‘ خلیفہ کا دوسرا معنی یہ ہے کہ جو نبی اور رسول کا نائب اور اس کا خلیفہ ہو اور نبی کی بیان کی ہوئی شریعت کو لوگوں پر نافذ کرے اور منہاج نبوت پر حکومت چلائے ‘ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” وعدہ اللہ الذین امنوا منکم وعملوالصلحت لیستخلفنہم فی الارض کما استخلف الذین من قبلہم، (النور : ٥٥)
ترجمہ : تم میں سے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کیے ‘ ان سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمالیا ہے کہ وہ ان کو ضرور بہ ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا ‘ جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا تھا۔
اس آیت میں خلیفہ کا یہی دوسرا معنی مراد ہے ‘ اس معنی میں خلیفہ کے تقرر میں اہل سنت اور اہل تشیع کا اختلاف ہے ‘ شیعہ علماء کے نزدیک خلیفہ کے تقرر کے لیے نبی اور رسول کی نص صریح ضروری ہے ‘ جب کہ اہل سنت کے نزدیک نص ‘ اہل اجتہاد کے اجماع اور ارباب حل وعقد کے انتخاب سے خلیفہ کا تقرر کرنا جائز ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ خلیفۃ اللہ صرف اللہ کا نبی ہوتا ہے اور خلیفۃ رسول لوگوں کے مقرر کرنے سے مقرر ہوتا ہے۔
آیت مذکورہ میں خلیفہ کے مصداق کا بیان :
اس آیت میں خلیفہ سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں ‘ یا حضرت آدم اور ان کی اولاد مراد ہیں ‘ کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) اللہ کے خلیفہ تھے اور ان کے بعد آنے والی ان کی اولاد لغوی معنی کے اعتبار سے ان کی خلیفہ تھی یعنی بعد میں آنے والے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نائب کے لیے چار الفاظ استعمال فرمائے ہیں ‘ اس آیت میں خلیفہ فرمایا اور اس کے بعد اسی آیت میں اس کو آدم فرمایا :
(آیت) ” و علم ادم الاسمآء کلھا “۔ (البقرہ : ٣٠)
ترجمہ : اور اللہ نے آدم کو سب چیزوں کے نام سکھادیئے۔
اس کو بشر سے تعبیر فرمایا :
(آیت) ” انی خالق بشرا من طین “ (ص : ٧١)
ترجمہ : (جب آپ کے رب نے فرشتوں سے فرمایا :) میں مٹی سے بشر بنانے والا ہوں
اس کو انسان بھی فرمایا :
(آیت) ” ولقد خلقنا الانسان من صلصال من حما مسنون “۔ (الحجر : ٢٦)
ترجمہ : اور بیشک ہم نے انسان کو بجنے والی سیاہ مٹی سے پیدا کیا۔
اللہ کے نائب ہونے کے اعتبار سے آپ کو خلیفہ فرمایا ‘ گندمی رنگ کی وجہ سے آدم فرمایا ‘ جسم کی ظاہری وضع ‘ چہرے مہرے اور کھال کی ساخت کے اعتبار سے بشر فرمایا اور حقیقت اور ماہیت کے اعتبار سے انسان فرمایا۔
اللہ تعالیٰ کی طرف مشورہ کی نسبت کا شرعی حکم :
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے جو فرمایا تھا : میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں ‘ یہ فرشتوں سے مشورہ نہیں تھا ‘ کیونکہ مشورہ کا معنی ہے : کسی شخص کا دوسرے شخص کی طرف رجوع کرکے ایک رائے کو حاصل کرنا۔ (علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی، متوفی ٥٠٢ ھ ‘ المفردات ص ٢٧٠‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)
اور اللہ تعالیٰ اپنے کام میں کسی کی رائے حاصل کرنے سے پاک اور بری ہے ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اپنی تخلیق کی پیشگی خبر دی تھی تاکہ فرشتے اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں اور اللہ تعالیٰ ان کی رائے کے متعلق اپنا حکم اور اپنی نعمتوں کو بیان فرمائے ‘ اس لیے علامہ بیضاوی کا اس آیت کو مشورہ کی تعلیم پر محمول کرنا صحیح نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فرشتوں نے کہا : کیا آپ ایسے شخص کو نائب بنائیں گے جو زمین میں فساد اور خون ریزی کرے گا ؟ حالانکہ ہم آپ کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور آپ کی پاکیزگی بیان کرتے ہیں، فرمایا : بیشک میں ان چیزوں کو جانتا ہوں جن کو تم نہیں جانتے۔ (البقرہ : ٣٠)
حضرت آدم (علیہ السلام) کے خلیفہ بنانے پر فرشتوں کے سوال کرنے کا محمل :
اگر حضرت آدم (علیہ السلام) کے متعلق فرشتوں نے یہ کہا تھا کہ وہ فساد اور خون ریزی کریں گے تو اس کی تاویل یہ ہے کہ چونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) اپنی اولاد کی اصل اور منشاء ہیں اور اولاد آدم میں سے بعض لوگ فتنہ ‘ فساد اور خون ریزی کریں گے اس لیے فرشتوں نے ان کی طرف ان کاموں کا اسناد کردیا اور اگر فرشتوں نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد کے متعلق یہ کہا تھا تو پھر تو کسی تاویل کی ضرورت نہیں ‘ کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے بعض فساق نے بہرحال یہ کام کئے۔
فرشتوں کا یہ قول اللہ تعالیٰ کی اس خبر یا اطلاع پر اعتراض یا انکار اور بنو آدم کی غیبت نہیں ہے کیونکہ فرشتے معصوم ہیں بلکہ یہ اس پر اظہار تعجب ہے کہ زمین کی آبادکاری اور اصلاح کے لیے فسادیوں اور خون ریزوں کو خلیفہ بنایا جائے گا یا فرشتوں جیسے اطاعت گزاروں کو چھوڑ کر نافرمانوں کو خلیفہ بنایا جائے گا ! یا فرشتے اس سوال کے ذریعہ اس حکمت کو جاننا چاہتے تھے جس کی بناء پر ان مفسدوں کے فساد سے صرف نظر کرکے ان کو خلیفہ بنایاجائے گا ‘ جیسے استاذ کی تقریر پر متعلم کو کوئی شبہ پیدا ہو تو وہ اس شبہ کے ازالہ کے لیے استاذ سے سوال کرتا ہے ‘ اس لیے فرشتوں کا یہ سوال اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر انکار ہے نہ بنو آدم کی غیبت اور عیب جوئی ہے ‘ فرشتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
(آیت) ” بل عباد مکرمون لا یسبقونہ بالقول وھم بامرہ یعملون “ (الانبیاء : ٢٧۔ ٢٦)
ترجمہ : بلکہ وہ (فرشتے) عزت والے بندے ہیں کسی بات میں اس سے سبقت نہیں کرتے اور وہ اسی کے حکم کے مطابق عمل کرتے ہیں
باقی رہا یہ کہ فرشتوں کو کیسے علم ہوا کہ بعض بنو آدم فساد اور خون ریزی کریں گے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس سے مطلع فرمایا تھا ‘ یا انہوں نے لوح محفوظ میں صرف اتنا مطالعہ کرلیا تھا کہ بنو آدم فساد کریں گے اور بنو آدم کے شرف اور فضیلت کے مطالعہ سے ان کو روک دیا گیا تھا ‘ کیونکہ وہ اس کا بھی مطالعہ کرلیتے تو پھر ان کو کوئی شبہ نہ رہتا ‘ یا ان کی عقول میں یہ مرتکز تھا کہ معصوم ہونا صرف ان کا خاصہ ہے ‘ اس لیے انہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ ان کے سوا باقی مخلوق گناہ کرے گی یا اس لیے کہ اس سے پہلے زمین پر جن فساد کرچکے تھے تو انہوں نے انسان کو بھی جنوں پر قیاس کیا۔
حضرت آدم (علیہ السلام) کو خلیفہ بنانے کی وجہ اور فرشتوں کے شبہ کا ازالہ :
فرشتوں نے جو کہا : ہم تیری تسبیح ‘ حمد اور تقدیس کرتے ہیں اس سے خود ستائی ‘ خود نمائی ‘ عجب اور تفاخر مقصود نہیں تھا بلکہ وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ جس کو خلیفہ بنایا گیا ہے اس میں تین قوتیں ہیں ‘ قوت شہوانیہ ‘ قوت غضبیہ اور قوت عقلیہ ‘ پہلی دو قوتوں کے لحاظ سے وہ فتنہ اور فساد کرے گا اور ان دو قوتوں کے اعتبار سے تو اس کو پیدا ہی نہیں کرنا چاہیے چہ جائیکہ اس کو خلیفہ بنایا جائے اور رہی قوت عقلیہ تو وہ فرشتوں کو بھی حاصل ہے اور ان کو اس لیے ترجیح ہے کہ ان میں شہوت اور غضب نہیں ہے جو فتنہ اور فساد کی موجب ہو تو پھر راجح کو چھوڑ کر مرجوع کو خلیفہ بنانے کی کیا حکمت ہے ؟ اور اس میں حکمت یہ تھی کہ شہوت کو جب اعتدال میں رکھا جائے تو وہ قابل تعریف صفت ہے جس کو عفت کہتے ہیں اور غضب کو جب اعتدال میں رکھا جائے تو وہ بھی قابل ستائش وصف ہے اور اس کو شجاعت کہتے ہیں اور جب ان دو قابل تعریف وصفوں کے ساتھ قوت عقلیہ بھی ہو تو ان قوتوں کا حامل اس سے یقیناً افضل ہے جو صرف قوت عقلیہ حامل ہو ‘ اور اسی کی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے قول میں اجمالی اشارہ فرمایا : بیشک میں ان چیزوں کو جانتا ہوں جن کو تم نہیں جانتے ‘ اور اگر یہ سوال ہو کہ بنو آدم میں نیک اور صالح افراد کم ہیں اور شریری اور فاسق زیادہ ہیں ‘ اس وجہ سے بنو آدم کو پید انہیں کرنا چاہیے تھا ‘ تو اس کا جواب یہ ہے کہ نیک اور صالح افراد میں خیر کثیر ہے۔ اور فاسق اور فاجر افراد اگرچہ زیادہ ہیں لیکن نیک اور صالح افراد کی خیر کی عظمت اور شرف کے مقابلہ میں ان کا شر قلیل ہے اور شر قلیل کی وجہ سے خیر کثیر کو ترک نہیں کیا جاتا ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ جن میں خیر غالب ہے ان کو پیدا کیا جائے پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر حضرت آدم (علیہ السلام) کی فضیلت علمی بیان کی اور یہ ظاہر فرمایا کہ خلیفہ بننے کے اہل حضرت آدم ہی ہیں نہ کہ فرشتے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو سب چیزوں کے نام سکھادیئے پھر ان چیزوں کو فرشتوں پر پیش کر کے فرمایا : اگر تم سچے ہو تو مجھے ان چیزوں کے نام بتاؤ (البقرہ : ٣١)
آدم کی لفظی تحقیق اور حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے مراحل :
محی الدین دروایش لکھتے ہیں :
آدم اسم علم ہے اور عجمی ہے جیسے آذر ‘ عاجبر اور عاذ رہے ‘ اور یہ علمت اور عجمہ کی وجہ سے غیر منصرف ہے ‘ اور جن لوگوں نے یہ کہا کہ یہ ” ادمۃ “ (گندم گوں رنگ) سے مشتق ہے یا ” ادیم الارض “ (زمین کی سطح) سے مشتق ہے ‘ ان کا قول صحیح نہیں ہے۔ کیونک اشتقاق عربی زبان کا خاصہ ہے ‘ عجمی لفظ کا مادہ اشتقاق عربی الفاظ کیسے ہوسکتے ہیں۔ (اعراب القرآن وبیانہ ‘ ج ١ ص ٨٠‘ مطبوعہ دارابن کثیر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)
حافظ جلال الدین سیوطی (رح) لکھتے ہیں :
امام فریابی (رح) ‘ امام ابن سعد ‘ امام ابن جریر (رح) ‘ امام ابن ابی حاتم (رح) ‘ امام حاکم (رح) ‘ اور امام بیہقی (رح) ‘ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو آدم اس لیے کہا گیا ہے، کہ ان کو ادیم ارض (زمین کی سطح) سے بنایا گیا ہے ‘ سرخ ‘ سفید اور سیاہ مٹی سے ‘ اسی طرح لوگوں کے رنگ مختلف ہیں ‘ سرخ ‘ سفید ‘ اور سیاہ ‘ پاک اور نجس۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٢٩‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)
امام عبدبن حمید (رح) نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو ادیم ارض سے پیدا کیا ‘ سرخ ‘ سفید اور سیاہ مٹی سے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٤٩‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)
امام ابن سعد (رح) ‘ امام ابو یعلی (رح) ‘ امام ابن مردویہ (رح) ‘ اور امام بیہقی (رح) نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا ‘ پھر اس کو کیچڑ (گیلی مٹی) کردیا ‘ پھر اس کو چھوڑ دیا ‘ حتی کہ سیاہ گارا ہوگئی ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس سے آدم کا پتلا بنایا اور ان کی صورت بنائی ‘ پھر اس کو چھوڑ دیا ‘ حتی کہ وہ خشک ہو کر بجنے والی مٹی کی طرح ہوگیا ‘ ابلیس اس پتلے کے پاس سے گزر کر کہتا تھا کہ یہ کسی امر عظیم کے لیے بنایا گیا ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس پتلے میں اپنی پسندیدہ روح پھونک دی ‘ اس روح کا اثر سب سے پہلے ان کی آنکھوں اور نتھنوں میں ظاہر ہوا ‘ ان کو چھینک آئی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو الحمد للہ کہنے کا القاء کیا ‘ انہوں نے الحمد للہ کہا اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یرحمک اللہ ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم ! اس جماعت کے پاس جاؤ اور ان سے بات کرو ‘ دیکھو یہ کیا کہتے ہیں ‘ حضرت آدم ان (فرشتوں) کے پاس گئے اور کہا : السلام علیکم ‘ انہوں نے کہا : وعلیک السلام ورحمۃ اللہ “ پھر حضرت آدم (علیہ السلام) اللہ کے پاس گئے اللہ نے فرمایا : انہوں نے کیا کہا ؟ حالانکہ اللہ تعالیٰ کو خوب علم ہے ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا : اے رب ! میں نے ان کو سلام کیا ‘ انہوں نے کہا : وعلیک السلام ورحمۃ اللہ ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم ! یہ تمہارا اور تمہاری اولاد کے سلام کرنے کا طریقہ ہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٤٨‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)
امام احمد (رح) ‘ امام بخاری (رح) ‘ اور امام مسلم (رح) ‘ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جب آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا تو ان کا طول ساٹھ ذراع (تیس انگریزی گز) تھا اور فرمایا : جاؤ فرشتوں کی اس جماعت کو سلام کرو ‘ اور سنو وہ کیا جواب دیتے ہیں اور یہی تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) نے جا کر کہا : السلام علیکم ‘ فرشتوں نے کہا : السلام علیکم ورحمۃ اللہ انہوں نے رحمۃ اللہ کا لفظ زیادہ کہا ‘ سو جو شخص بھی آدم کی صورت پر جنت میں داخل ہوگا اس کا طول ساٹھ ذراع ہوگا ‘ پھر یہ طول بہ تدریج کم ہوتا رہا حتی کا اب اتنا طول رہ گیا۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٤٨‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)
حضرت آدم (علیہ السلام) کو تمام اسماء کی تعلیم کا بیان :
اگر یہ سوال کیا جائے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے ان چیزوں کے نام اللہ تعالیٰ کی تعلیم دینے کی وجہ سے بتائے اگر فرشتوں کو ان چیزوں کے نام بتا دئیے جاتے تو وہ بھی ان چیزوں کے نام بتا دیتے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا خمیر مختلف اجزاء اور متضاد قوتوں کو ملا کر بنایا تھا اس وجہ سے وہ معقولات ‘ محسوسات ‘ متخیلات اور موہومات کے ادراک کی صلاحیت رکھتے تھے اور فرشتوں میں یہ صلاحیت نہیں تھی ‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو اشیاء کے حقائق ‘ خواص ‘ اسماء ‘ علوم کے قواعد اور مختلف صنعتوں کے قوانین تعلیم فرمائے ‘ پھر فرشتوں کو عاجز کرنے اور اہلیت خلافت سے ان کے عجز کو ظاہر کرنے کے لیے ان کو حکم دیا کہ ان چیزوں کے نام بتاؤ ‘ اگر تم اس دعوی میں سچے ہو کہ معصوم ہونے کی وجہ سے صرف تم خلافت کے اہل ہو ‘ ہرچند کہ فرشتوں نے صراحۃ یہ دعوی نہیں کیا تھا لیکن ان کے کلام سے یہ دعوی مترشح ہوتا تھا۔

[Tibyan-ul-Quran 2:30]