بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقُلۡنَا يٰٓـاٰدَمُ اسۡكُنۡ اَنۡتَ وَزَوۡجُكَ الۡجَـنَّةَ وَكُلَا مِنۡهَا رَغَدًا حَيۡثُ شِئۡتُمَا وَلَا تَقۡرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِيۡنَ

اور ہم نے فرمایا : اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور اس جنت میں سے جہاں سے چاہوکھاؤ اور اس درخت کے قریب نہ جانا ورنہ تم حد سے بڑھنے والوں میں شمار ہوگئے

علامہ ابوجعفر طبری (رح) لکھتے ہیں :
حضرت آدم (علیہ السلام) کے آسمانوں اور جنت میں ٹھہرنے کی مدت دنیاوی سالوں کے اعتبار سے تینتالیس سال ہے اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ یہ مدت پانچ سو سال ہے ‘ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو ہند میں اور حضرت حواء کو جدہ میں اتارا گیا ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) ان کی طلب میں گئے اور میدان عرفات میں دونوں کی ملاقات ہوئی اور حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حواء جنت کی نعمتوں کے چلے جانے پر دو سو سال تک روتے رہے ‘ چالیس دن تک کھانا کھایا نہ پانی پیا اور حضرت آدم (علیہ السلام) ایک سو سال تک حضرت حواء سے مقارب نہیں ہوئے۔ زمین پر آنے کے بعد اولاد آدم اور ابلیس اور اولاد آدم اور سانپ میں اس وقت سے دشمنی چلی آرہی ہے۔ (جامع البیان ج ١ ص ٨٠۔ ٨١‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر آدم نے اپنے سے چند کلمات سیکھ لیے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی ‘ بیشک وہی بہت توبہ قبول فرمانے والا اور بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ (البقرہ : ٣٧)
حضرت آدم (علیہ السلام) کی توبہ کے کلمات اور سیدنا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے توسل :
امام ابن جریر (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا : اے رب ! کیا تو نے مجھے اپنے دست قدرت سے پیدا نہیں کیا ؟ فرمایا : کیوں نہیں ! کہا : کیا تو نے مجھ میں اپنی پسندیدہ روح نہیں پھونکی ؟ فرمایا کیوں نہیں ! کیا تو نے مجھے اپنی جنت میں نہیں رکھا ؟ فرمایا : کہا : کیوں نہیں ! عرض کیا : اے رب ! کیا تیری رحمت غضب پر غالب نہیں ہے ؟ فرمایا : کیوں نہیں ! عرض کیا : یہ بتا کہ اگر میں توبہ کروں اور اصلاح کروں تو کیا مجھے اپنی جنت کی طرف لوٹا دے گا ؟ فرمایا : ہاں ! قتادہ (رض) اور حسن (رض) نے کہا : وہ کلمات یہ ہیں :
(آیت) ” ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخسرین “۔ (الاعراف : ٢٣)
ترجمہ : اے ہمارے رب ! ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ‘ اور اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے۔ (جامع البیان ج ١ ص ١٩٣‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
حافظ ابن کثیر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
مجاہد (رح) نے بیان کیا کہ وہ کلمات یہ ہیں : (ترجمہ) اے اللہ ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں ‘ تیری تسبیح اور حمد کے ساتھ میں کہتا ہوں : اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ‘ سو مجھے بخش دے ‘ تو سب سے اچھا بخشنے والا ہے اے اللہ 249 ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں ‘ تیری تسبیح اور حمد کے ساتھ میں کہتا ہوں : میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ‘ تو مجھ پر رحم فرما ‘ بیشک تو سب سے اچھا رحم فرمانے والا ہے ‘ اے اللہ ! تیری سوا کوئی معبود نہیں ‘ تیری تسبیح اور حمد کے ساتھ کہتا ہوں ‘ اے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ‘ تو میری توبہ قبول فرما ‘ بیشک تو بہت توبہ قبول کرنے والا ہے اور بےحد رحیم ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ١٤٢‘ مطبوعہ ادارہ اندلس ‘ بیروت ‘ ١٣٨٥ ھ)
امام طبرانی (رح) اپنی سند کے روایت کرتے ہیں :
حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب آدم (علیہ السلام) نے (صورۃ) گناہ کرلیا تو انہوں نے سر اٹھا کر عرش کی طرف دیکھا اور عرض کیا : میں محمد کے حق (وسیلہ) سے سوال کرتا ہوں کہ تو میری مغفرت فرما ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی : محمد کون ہیں ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا : تیرا نام برکت والا ہے ‘ جب تو نے مجھے پیدا کیا تو میں نے سر اٹھا کر عرش کی طرف دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا : ” لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ تو میں نے جان لیا کہ تیری نزدیک اس شخص سے زیادہ بلند مرتبہ کوئی شخص نہیں ہوگا جس کا نام تو نے اپنے نام کے ساتھ لکھا ہے ‘ تب اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی کی : اے آدم (علیہ السلام) ! وہ تمہاری اولاد میں سے تمام نبیوں کے آخر ہیں اور ان کی امت تمہاری اولاد کی امتوں میں سے آخری امت ہے اور اگر وہ نہ ہوتے اے آدم ! تو میں تم کو پیدا نہ کرتا۔ (المعجم الصغیر ج ٢ ص ٨٣ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ ‘ مدینہ منورہ ‘ ١٣٨٨ ھ)
اس حدیث کو امام بیہقی (رح) ۔ ١ (امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ ‘ دلائل النبوۃ ج ٥ ص ٤٨٩‘ مطبوعہ دارا الکتب العلمیہ ‘ بیروت “ ) ‘ امام ابن جوزی۔ ٢ (عبدالرحمان جوزی متوفی ٥٩٧ ھ الوفاء ص ٣٣‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ فیصل آباد “ ) اور امام حام۔ ٣ (امام ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥‘ المستدرک ج ٢ ص ٦١٥‘ مطبوعہ دارالباز ‘ مکہ مکرمہ) نے اپن اپنی اسانید کے ساتھ روایت کیا ہے۔ حافظ نورالدین الہیثمی۔ ٤ (حافظ نورالدین علی بن ابی بکر الہیثمی المتوفی ٨٠٧ ھ ‘ مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٥٢‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ ‘) حافظ جلال الدین سیوطی۔ ٥ (حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ ‘ درمنثور ج ١ ص ٥٧‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران) شیخ ابن تیمیہ۔ ٦ (شیخ ابوالعباس تقی الدین احمد بن تیمیہ حنبلی متوفی ٧٢٨ ھ ‘ فتاوی ابن تیمیہ ج ٢ ص ٩٦‘ مطبوعہ السعودیہ العربیہ) نے بھی اسی حدیث کو بیان کیا ہے۔
حافظ ابن کثیر (رح) نے اس حدیث کو حاکم (رح) ‘ بیہقی (رح) اور ابن عساکر (رح) کے حوالے سے لکھا ہے اور اس کے اخیر میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم (علیہ السلام) ! تم نے سچ کہا ‘ یہ مجھے مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہیں اور جب تم نے ان کے وسیلہ سے سوال کیا ہے تو میں نے تم کو بخش دیا اور اگر محمد نہ ہوتے تو میں تم کو پیدا نہ کرتا۔ (البدایہ والنہایہ ج ١ ص ٨١ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٣٩٣ ھ)
” شرح صحیح مسلم “ جلد سابع میں ہم نے اس حدیث کے مزید حوالہ جات بیان کئے ہیں۔
علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں :
ایک جماعت نے کہا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے عرش کے پائے پر ” محمد رسول اللہ “ لکھا ہوا دیکھا تو آپ کے وسیلہ سے دعا کی ‘ اور کلمات سے یہی کلمات مراد ہیں ‘ یعنی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے دعا کرنا۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ٣٢٤ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
خواجہ عبداللہ انصاری لکھتے ہیں :
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے دعا کی اور کہا : اے اللہ : مجھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے معاف فرما ‘ رب العالمین نے فرمایا : تم نے ان کو کیسے پہچانا جو ان کے وسیلہ سے دعا کی ؟ عرض کیا : جب میں نے عرش پر تیرے نام کے ساتھ ان کا نام لکھا ہوا دیکھا تو جان لیا کہ یہ بندہ تجھے بہت محبوب ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے تمہیں بخش دیا۔ (کشف الاسرار وعدۃ الابرار ج ١ ص ١٥٦۔ ١٥٥‘ مطبوعہ سپہر طہران ‘ ١٣٧١ ھ الطبع الخامس)
علامہ ثعالبی۔ ١ (علامہ عبدالرحمان بن محمد بن مخلوف ثعالبی متوفی ٨٧٥ ھ ‘ تفسیر الثعالبی ج ١ ص ٥٣‘ مطبوعہ موسسۃ الاعلمی للمطبوعات ‘ بیروت ‘) علامہ اسماعلی حقی۔ ٢ (علامہ اسماعیل حقی حنفی متوفی ١١٣٧ ھ ‘ روح البیان ج ١ ص ١١٣‘ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ ‘ کوئٹہ) اور علامہ آلوسی۔ ٣ (علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ ‘ روح المعانی ج ١ ص ٢٣٧‘ مطبوع دارا احیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘) نے بھی اس روایت کے حوالہ سے یہ لکھا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے دعا کی۔
حافظ سیوطی لکھتے ہیں :
امام ابن المنذر (رح) ‘ محمد بن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت آدم (علیہ السلام) سے لغزش ہوگئی تو ان کو بہت رنج ہوا ‘ اور شدید ندامت ہوئی تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ کے پاس آئے اور کہا : اے آدم ! کیا میں آپ کو توبہ کا دروازہ بتاؤں جس سے اللہ آپ کی توبہ قبول کرلے ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا : کیوں نہیں ! آپ اللہ تعالیٰ سے مناجات کریں اور اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کریں ‘ آپ نے کہا : اے جبرائیل (علیہ السلام) میں کیا کہوں ؟ انہوں نے کہا : آپ کہئے (ترجمہ) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ اس کا کوئی شریک نہیں ‘ اس کا ملک ہے اور اس کے لیے حمد ہے ‘ وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے ‘ وہ زندہ ہے اور اس کو موت نہیں آئے گی ‘ تمام اچھائیاں اس کی قدرت میں ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ‘ اس کے بعد آپ اپنی خطاء پر توبہ کریں اور کہیں : اے اللہ ! تو سبحان ہے اور تیری حمد ہے ‘ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ‘ اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور برا کام کیا ‘ تو مجھے بخش دے کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہوں کو نہیں بخشے گا۔ اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے بندے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وجاہت کے وسیلہ سے اور ان کی تیرے نزدیک کرامت کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ تو میری خطا کو بخش دے ‘ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اسی طرح دعا کی ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے آدم ! تم کو یہ دعا کس نے تعلیم کی ؟ حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا : اے رب ! جب تو نے مجھ میں روح پھونکی اور میں ہموار بشر کی صورت میں کھڑا ہوا تو میں نے عرش پر یہ لکھا ہوا دیکھا :” بسم اللہ الرحمن لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ محمد رسول اللہ “ اور جب میں نے دیکھا کہ تیرے نام کے ساتھ کسی مقرب فرشتے کا نام لکھا ہے ‘ نہ کسی نبی مرسل کا تو میں نے جان لیا کہ یہ تیرے نزدیک تیری مخلوق میں سب سے مکرم ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم نے سچ کہا اور میں نے تمہاری خطا کو بخش دیا ‘ پھر حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی حمد وثنا کی اور اس کا شکر ادا کیا اور بہت خوش ہو کر لوٹے اور فرشتوں نے فوج در فوج آکر حضرت آدم (علیہ السلام) کو مبارک باد دی۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٦٠‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)
(حضرت آدم (علیہ السلام) نے حضرت جبریل (علیہ السلام) کی تعلیم کے علاوہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام خود بھی عرش پر لکھا ہوا دیکھا تھا اس لیے اسی کا حوالہ دیا)
توبہ کا لغوی اور شرعی معنی :
توبہ کا لغوی معنی ہے : رجوع کرنا ‘ اور بندہ کی توبہ یہ ہے کہ وہ معصیت ‘ سے طاعت کی طرف اور غفلت سے اللہ کو یاد کرنے کی طرف رجوع کرے ‘ اللہ کے توبہ قبول کرنے کا معنی یہ ہے کہ وہ دنیا میں بندہ کے گناہ پر پردہ رکھے بایں طور کہ کوئی شخص اس کے گناہ پر مطلع نہ ہو ‘ اور آخرت میں اس کو سزا نہ دے ‘ خلاصہ یہ ہے کہ وہ عذاب دینے سے مغفرت کی طرف رجوع کرے۔
توبہ کا شرعی معنی یہ ہے کہ گناہ کو برا جان کر فی الفور ترک کر دے ‘ اس سے جو تقصیر ہوئی ہے اس پر نادم ہو ‘ آئندہ اس گناہ کو نہ کرنے کا عزم مصمم کرے ‘ اور جو گناہ اس سے ہوگیا اس کا تدارک اور تلافی کرے (مثلا فوت شدہ نمازوں اور روزوں کو قضا کرے) اور اگر اس گناہ کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو پھر توبہ کے قبول ہونے کی ایک زائد شرط یہ ہے کہ وہ صاحب حق کو اس کا حق واپس کرے یا اس سے معاف کرائے ‘ اور اگر اس کے ذمہ حقوق اللہ ہیں تو وہ نوافل اور فروض کفایہ میں مشغول ہونے کے بجائے ان فوت شدہ فرائض کو ادا کرے ‘ کیونکہ جس شخص کی نمازیں اور روزے قضا ہوں اور وہ نوافل میں مشغول ہو تو وہ نفل ادا کرنے کے حال میں بھی فسق سے خارج نہیں ہوگا۔
قرآن مجید اور سنت میں توبہ کا بیان :
(آیت) ” یایھا الذین امنوا توبوا الی اللہ توبۃ نصوحا “۔ (التحریم : ٨)
ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ کی طرف خالص توبہ (رجوع) کرو۔
(آیت) ” انما التوبۃ علی اللہ للذین یعملون السوء بجھالۃ ثم یتوبون من قریب فاولئک یتوب اللہ علیہم وکان اللہ علیما حکیما۔ ولیست التوبۃ للذین یعملون السیات حتی اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الئن ولا الذین یموتون وھم کفار ‘۔ (النساء : ١٨۔ ١٧)
ترجمہ : اللہ پر توبہ (کاقبول کرنا) صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو (عذاب الہی سے) جہالت کی بناء پر گناہ کر بیٹھیں ‘ پھر جلدی سے توبہ کرلیں ‘ تو یہ وہ لوگ ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرماتا ہے۔ اور اللہ بہت جاننے والا اور بہت حکمت والا ہے۔ اور توبہ (کا قبول ہونا) ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جو (مسلسل) گناہ کرتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آئے تو کہتا ہے : میں نے اب توب کی اور نہ یہ (قبول توبہ) ان لوگن کے لیے ہے جو کفر کی حالت میں مرجاتے ہیں :
امام احمد (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گناہ کی توبہ یہ ہے کہ توبہ کے بعد دوبارہ گناہ نہ کرے۔ (مسند احمد ج ١ ص ٤٤٦‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
امام ابن ماجہ (رح) روایت کرتے ہیں :
حضررت معقل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ندامت توبہ ہے۔ (سنن ابن ماجہ ص ٣١٣‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
اس حدیث کو امام احمد (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ١ ص ‘ ٤٣٣۔ ٤٢٣۔ ٣٧٦ ج ٢ ص ٢٦٤ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
امام ابن ماجہ (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم خطائیں کرو حتی کہ تمہاری خطاؤں سے آسمان بھر جائے تو تم توبہ کرو تو اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول فرمالے گا۔ (سنن ابن ماجہ ص ٣١٣‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص گناہ سے توبہ کرلے وہ اس شخص کی مثل ہے جس نے گناہ نہ کیا ہو۔ (سنن ابن ماجہ ص ٣١٣‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر بنی آدم خطا کار ہے اور خطاکاروں میں سب سے اچھے توبہ کرنے والے ہیں۔
اس حدیث کو امام دارمی۔ ١ (امام عبداللہ بن عبدالرحمان دارمی متوفی ٢٥٥ ھ ‘ سنن دارمی ج ٢ ص ٢١٣‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان “ ) اور امام احمد (رح) ۔ ٢ (امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ٣ ص ١٩٨، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ) نے بھی روایت کیا ہے۔
امام ابن ماجہ (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ غررہ موت (جب سانس اکھڑنے لگتا ہے) سے پہلے پہلے بندہ کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ (سنن ابن ماجہ ص ٣١٤‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
امام ابوداؤد (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوبکر صدیق (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے استغفار کرلیا اس نے اصرار نہیں کیا خواہ وہ ایک دن میں ستر مرتبہ گناہ کرے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٢١٢‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)
اس حدیث کو امام ترمذی (رح) نے بھی روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی سند قوی نہیں ہے۔ (جامع ترمذی ص ٥١٢‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
ستر مرتبہ سے مراد کثرت ہے ‘ یعنی اگر ایک دن میں انسان کئی بار گناہ کرے اور ہر گناہ کے بعد نادم ہو اور صحیح نیت سے توبہ کرے ‘ اور شامت نفس سے پھر گناہ کربیٹھے اور پھر نادم ہوا اور توبہ کرے اور بار بار ایسا ہوتا رہے تو یہ گناہ پر اصرار نہیں ہے ‘ اصرار اس وقت ہوتا ہے جب معصیت پر نادم اور تائب نہ ہو اور بغیر ندامت کے گناہ پر گناہ کرتاچلا جائے ‘ صغیرہ گناہ پر اصرار اس کو کبیرہ بنا دیتا ہے ‘ مجھ سے علماء کی مجلس میں ایک محترم فاضل نے سوال کیا تھا کہ صغیرہ کے بعد دوبارہ صغیرہ کا ارتکاب کرنا اسی کی مثل اور اسی درجہ کی معصیت ہے ‘ یہ کبیرہ کیوں ہوجاتا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جب انسان صغیرہ کے ارتکاب کے بعدتوبہ اور استغفار اور بغیر ندامت کے دوبارہ اسی معصیت کو کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ معصیت کو بہت خفیف اور معمولی جانتا ہے اور کسی بھی معصیت کو ہلکا سمجھنا کبیرہ گناہ ہے۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ صغیرہ گناہ کے بعد اس پر اصرار کرنا یعنی اس پر نادم اور تائب ہوئے بغیر دوبارہ اسی گناہ کا ارتکاب کرنا اس گناہ کو کبیرہ بنا دیتا ہے امام ابن عساکر (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : گناہ کبیرہ استغفار کے بعد کبیرہ نہیں رہتا (یعنی مٹ جاتا ہے) اور صغیرہ پر اصرار کرنے کے بعد وہ گناہ ‘ صغیرہ نہیں رہتا (یعنی کبیرہ ہوجاتا ہے) (مختصر تاریخ دمشق ج ٤ ص ٤٨‘ مطبوعہ دارالفکر دمشق ‘ ١٤٠٤ ھ)
نیزامام ابن عساکر (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے استغفار کرنے کو لازم کرلیا ‘ اللہ تعالیٰ اس کی ہر پریشانی کا حل بنادے گا ‘ اور ہر تنگی سے اس کے لیے کشادگی کر دے گا اور اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں اس کا وہم و گمان نہ ہوگا۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ٣ ص ١٥٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ دمشق ‘ ١٤٠٤ ھ)
اس لیے مسلمان کو چاہیے کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے توبہ اور استغفار کرتا رہے اور یہ پڑھا کرے :
” رب اغفر وارحم وانت خیرالراحمین “ یا یہ پڑھا کرے : ” اللہم اغفرلی وتب علی انک انت التواب الرحیم “۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ہم نے فرمایا : تم سب جنت سے اتر جاؤ ‘ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئی تو جس نے میری ہدایت کی پیروی کی تو انہیں کوئی ڈر ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ (البقرہ : ٣٨)
دوبارہ نیچے اترنے کا حکم دینے کی حکمت :
اس آیت پر یہ سوال وارد ہوتا ہے کہ اس سے پہلی آیت میں بھی یہ فرمایا تھا کہ تم (سب) نیچے اتر جاؤ اور دوبارہ پھر وہی حکم دیا ہے اور یہ تکرار نہیں ہے بلکہ تاکید ہے ‘ اور دونوں آیتوں سے مقصود مختلف ہے ‘ پہلی آیت سے مقصود یہ تھا کہ تم دارالبقاء سے دارالبلاء کی طرف منتقل ہوجاؤ جہاں تم ایک دوسرے سے عداوت رکھو گے اور تمہیں دوام نہیں ہوگا ‘ اور دوسری آیت سے مقصود یہ ہے کہ تم دارالجزاء سے دارالتکلیف کی طرف منتقل ہوجاؤ جہاں تمہیں احکام شرعیہ کا مکلف کیا جائے گا ‘ جو ان پر عمل کرے گا وہ نجات پائے گا اور جو مخالفت کرے گا وہ ہلاک ہوجائے گا۔ ایک قول یہ ہے کہ پہلی آیت سے مقصود ہے جنت سے آسمان دنیا کی طرف اترنا اور دوسری آیت سے مقصود ہے آسمان دنیا سے زمین کی طرف اترنا لیکن اس توجیہ پر یہ اعتراض ہے کہ دوسری آیت میں ” منھا “ کی ضمیر جنت کی طرف راجع ہے ‘ لہذا اس آیت میں بھی جنت سے زمین کی طرف اترنا مراد ہے۔
علامہ ابوالیث سمرقندی (رح) نے لکھا ہے کہ اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ معصیت نعمت کو زائل کردیتی ہے ‘ کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو ان کو (ظاہری) معصیت کی وجہ سے جنت سے زمین پر بھیج دیا گیا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم میں اس وقت تک تغیر نہیں کرتا یعنی ان کو نعمت دے کر واپس نہیں لیتا جب تک کہ وہ خود اپنے اندر تغیر نہ کرلیں یعنی اطاعت اور شکر کے بجائے معصیت اور کفران نعمت کو اختیار نہ کرلیں۔ (تفسیر سمرقندی ج ١ ص ١١٣‘ مطبوعہ مکتبہ دارالباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٣ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئی۔ الخ
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی نبی یا رسول کو بھیجے اور کوئی کتاب یا صحیفہ نازل کرے تو جو لوگ ان کی دی ہوئی ہدایت کی پیروی کریں گے ‘ ان کو اپنے مستقبل (آخرت) کے متعلق کوئی خوف ہوگا نہ وہ اپنے ماضی پر یشیمان اور غمگین ہوں گے ‘ واضح رہے کہ اس آیت میں مطلقا خوف کی نفی نہیں کی ہے ‘ کیونکہ اللہ کے نیک بندوں کو بہرحال خدا کا خوف ہوگا اور جو شخص جتنا زیادہ اللہ تعالیٰ کا مقرب ہے اس کو اتنا زیادہ اللہ تعالیٰ کا خوف ہے ‘ یہاں وہ خوف مراد ہے جو باعث ضرر ہو کیونکہ عربی قواعد کے مطابق ” علی “ ضرر کے لیے آتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا خوف نفع کا باعث ہے۔
پھر اس آیت کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کی تکذیب کی وہی لوگ دوزخی ہیں وہ ہمیشہ اس دوزخ میں رہیں گے۔
عصمت آدم پر حشویہ کے اعتراضات اور ان کے جوابات :
فرقہ حشویہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے قصہ سے یہ استدلال کیا ہے کہ انبیا (علیہم السلام) معصوم نہیں ہوتے ‘ ان کے دلائل اور جوابات حسب ذیل ہیں :
(١) حضرت آدم (علیہ السلام) کو شجر ممنوع کے جانے سے منع کیا تھا ‘ انہوں نے اس درخت سے کھایا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اس نہی کو تنزیہہ پر محمول کیا یا وہ کھاتے وقت اسی نہی کو بھول گئے۔
(٢) حضرت آدم (علیہ السلام) نے خود کہا : ہم نے ظلم کیا ‘ اور ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ انہوں نے تواضعا و انکسار ایسا کہا۔
(٣) اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آدم (علیہ السلام) نے معصیت کی اور وہ بےراہ ہوئے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ظاہری اور صوری معصیت ہے حقیقت میں معصیت نہیں ہے کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) بھول گئے تھے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔
(٤) حضرت آدم (علیہ السلام) کو توبہ کی تلقین کی گئی اور بندہ کی توبہ یہ ہے کہ وہ گناہ پر نادم ہو اور طاعت کی طرف رجوع کرے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اپنی اس غفلت پر نادم تھے جس کے باعث وہ اللہ تعالیٰ کے منع کرنے کو بھول گئے اور اسی غفلت پر روتے رہے اور توبہ کرتے رہے اور یہی انبیاء (علیہم السلام) کی توبہ ہوتی ہے ‘ اور گناہ پر نادم ہونا عام انسانوں کی توبہ ہے۔
(٥) اگر حضرت آدم (علیہ السلام) نے گناہ نہیں کیا تھا تو اس درکت سے کھاتے ہی ان کا لباس کیوں اتر گیا اور انہیں ایک دوسرے کا دشمن بنا کر زمین پر کیوں بھیجا ؟ اس کا جواب یہ ہے یہ کہ یہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی غفلت پر عتاب تھا اور غفلت گناہ نہیں ہے اور عتاب سزا نہیں ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ یہ سبب پر مسبب کا ترتب ہو ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس درخت سے کھانے کو لباس کے اترنے اور زمین پر جانے کا سبب بنایا ہو جیسے کوئی بھولے سے زہر کھالے تو وہ پھر بھی مرجائے گا کیونکہ زہر کھانا موت کا سبب ہے۔
(٦) جب شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو قسمیں کھا کر یقین دلایا کہ اس درخت کے پھل کھانے سے وہ جنت میں ہمیشہ رہنے والے ہوجائیں گے اور اس کے بعد انہوں نے اس درخت سے کھایا تو یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے بھولے سے کھالیا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ شیطان کے اس وسوسہ کے فورا بعد انہوں نے پھل نہیں کھایا لیکن اس کے کہنے سے ان کی طبعیت میں اس پھل کی طرف میلان پیدا ہوگیا ‘ اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو اس پھل کے کھانے سے روکتے رہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی معصیت نہ ہو ‘ پھر ایک بار وہ اس حکم کو بھول گئے اور غلبہ میلان کی وجہ سے اس کو کھالیا یا انہوں نے اپنے اجتہاد سے اس نہی کو تنزیہہ پر محمول کیا یا اس نہی کو معین درخت سے متعلق سمجھا اور اس نوع کے کسی اور درخت سے کھالیا۔
حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حقیقت میں خلیفہ اعظم ہونا :
عالم اجسام اور ظاہر میں حضرت آدم (علیہ السلام) ہی پہلے انسان اور اللہ کے خلیفہ ہیں لیکن حقیقت میں اول خلق اور اللہ کے خلیفہ اعظم سیدنا حضرت محمد رسو اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جیسا کہ حسب ذیل احادیث میں اس کی تصریح ہے۔
امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے لیے نبوت کب ثابت ہوئی ؟ آپ نے فرمایا : اس وقت آدم روح اور جسم کے درمیان تھے ‘ یہ حدیث حسن ‘ صحیح ‘ غریب ہے۔ (جامع ترمذی ص ٥٩١ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
امام محمد بن سعد (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت عبداللہ بن شقیق (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نبی کب بنے تھے ؟ لوگوں نے کہا : چپ کرو ‘ چپ کرو ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو چھوڑ دو جس وقت آدم روح اور جسم کے درمیان تھے میں اس وقت نبی تھا۔ (الطبقات الکبری ج ١ ص ١٤٨‘ مطبوعہ دار صادر ‘ بیروت ١٣٨٨ ھ)
اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (المصنف ج ١٤ ص ٢٩٢ مطبوعہ ادارۃ القرآن ٗکراچی ٗ ١٤٠٦ ھ)
اما ابن جوزی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت میسرۃ الفجر بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کب نبی بنے تھے ؟ فرمایا : جس وقت آدم روح اور جسم کے درمیان تھے۔ (الوفاء ج ١ ص ٢٣‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ فیصل آباد)
اس حدیث کو امام حاکم (رح) نے بھی روایت کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس کو امام بخاری (رح) اور امام مسلم (رح) نے روایت نہیں کیا۔ (المستدرک ج ٢ ص ٤٠٩‘ مطبوعہ دارالباز ‘ مکہ مکرمہ)
امام احمد (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت عبداللہ بن شقیق (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کب نبی بنائے گئے تھے ؟ فرمایا جس وقت آدم روح اور جسم کے درمیان تھے (مسند احمد ج ٤ ص ‘ ٦٦ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
امام احمد (رح) نے عبداللہ بن شقیق (رض) کی روایت کو ایک اور سند سے بھی بیان کیا ہے اور اس حدیث کو حضرت میسرہ کی سند سے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ٥ ص ‘ ٣٧٩‘ ٥٩‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
حافظ الہیثمی (رح) حضرت میسرہ الفجر (رض) کی اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں :
اس حدیث کو امام احمد (رح) اور امام طبرانی (رح) نے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٢٣‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)
حافظ سیوطی (رح) حضرت میسرۃ الفجر (رض) کی اس روایت کے متعلق لکھتے ہیں :
اس حدیث کو امام ابونعیم (رح) نے ” حلیۃ الاولیاء “ میں روایت کیا ہے اور امام طبرانی (رح) نے اس حدیث کو حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے۔ (جامع الاحادیث الکبیر ج ٦ ص ٤٦٣‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ)
امام رازی (رح) لکھتے ہیں کہ فرشتوں کو جو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیشانی میں حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نور تھا۔ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٢٠٣ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
اور علامہ آلوسی (رح) لکھتے ہیں :
اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی حقیقت میں خلیفہ اعظم ہیں اور زمینوں اور آسمانوں کی بلندیوں میں وہی خلیفہ اور پہلے امام ہیں اور اگر وہ نہ ہوتے تو آدم پیدا کیے جاتے اور نہ کوئی چیز پیدا کی جاتی۔ (روح المعانی ج ١ ص ‘ ٢١٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
نیز علامہ آلوسی لکھتے ہیں :
سادات صوفیہ کا مسلک ہے کہ فرشتوں میں سے عالین کو سجدہ کرنے کا حکم نہ تھا اور ان آیات میں جن فرشتوں سے اللہ تعالیٰ نے خطاب فرمایا اور جن کو سجدہ کا حکم دیا اور جنہوں نے سجدہ کی وہ سب عالین کے ماسوا تھے ‘ کیونکہ جو فرشتے عالین ہیں وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی ذات میں مستغرق رہتے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا اور کسی چیز کا شعور نہیں ہوتا ‘ اور اس آیت میں اسی کی طرف اشارہ ہے :
(آیت) ” استکبرت ام کنت من العالین “۔ (ص : ٧٥)
ترجمہ : تو نے تکبر کیا ہے یا تو عالین میں سے تھا ؟۔
اور عالین میں سے ہی ایک فرشتہ ہے جس کا نام روح ‘ قلم اعلی اور عقل اول رکھا گیا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا آئینہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات کا ظہور صرف اس فرشتے میں ہوتا ہے ‘ اور باقی تمام مخلوق میں اللہ تعالیٰ کی صرف صفات کا ظہور ہوتا ہے اور وہ فرشتہ دنیاوی اور اخروی عالم کا قطب ہے اور جنت اور دوزخ والوں کا قطب ہے اور کثیب اور اعراف والوں کا قطب ہے اور تمام مخلوقات کا مدار اس اس فرشتہ پر ہے ‘ اس فرشتہ کو حضرت آدم کی تخلیق اور ان کے مرتبہ کا علم تھا کیونکہ اسی نے لوح میں ماکان ومایکون کو لکھا تھا اور قلم نے جو کچھ لکھا اس کا لوح کو علم ہے اور اس فرشتہ کا اپنے تمام کمالات کے ساتھ حقیقت محمدیہ میں ظہور ہوا جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے :
(آیت) ” وکذلک اوحینا الیک روحا من امرنا “۔ (الشوری : ٥٢)
ترجمہ : اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف اپنے امر سے روح کی وحی ہے۔
اسی وجہ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخلوق میں افضل علی الاطلاق ہیں بلکہ وہی ساتوں آسمانوں میں حقیقت میں خلیفہ۔ (روح المعانی ج ١ ص ٢٢٠‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
اسی سبب سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
وما من نبی یومئذ ادم فمن سواہ الا تحت لوائی۔ آدم ہوں یا ان کے سوا حشر کے دن ہر نبی میرے جھنڈے کے نیچے ہوگا۔
(جامع ترمذی ص ٥٢٠‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
جس دن اللہ کے حضور کسی نبی کو شفاعت کا حوصلہ نہیں ہوگا اور صرف آپ ہی مقام محمود پر فائز ہوں گے ‘ آپ ہی کوثر کے ساقی ہوں گے اور آپ ہی شفاعت کبری فرمائیں گے اور ساری خلقت کا آپ ہی کی طرف رجوع ہوگا اس دن آپ کے خلیفۃ اللہ الاعظم ہونے کا ظہور تام ہوگا۔
بشر اور فرشتے کے درمیان افضیلت کا بیان :
فرشتے اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں ‘ قرآن اور حدیث سے ان کو وجود ثابت ہے “ ” صحیح مسلم “ میں ہے کہ فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے۔ (ج ٢ ص ٤١٣) تاہم ہمیں ان کی حقیقت کا علم نہیں ہے ‘ وہ معصوم ہیں ‘ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں اور اس کی نافرمانی نہیں کرتے ‘ اس میں اختلاف ہے کہ بشر افضل ہے یا فرشتے ‘ بعض علماء نے کہا : فرشتے افضل ہیں کیونکہ قرآن مجید میں ہے : ابلیس نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے کہا : تم اس شجر سے کھالو تو فرشتہ ہوجاؤ گے ‘ اور زلیخا کی مہمان عورتوں نے جب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو دیکھا بےساختہ کہا : یہ بشر نہیں ہے یہ تو کوئی معزز فرشتہ ہے ‘ اور بعض علماء نے کہا کہ نوع بشر نوع ملائکہ سے افضل ہے اور اللہ تعالیٰ نے نوع بشر کے ایک فرد کو تمام فرشتوں سے سجدہ کرایا ‘ فرشتے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں اور ان کا اس اطاعت میں کوئی مزاحم نہیں ہے اور بشر کے اندر اللہ تعالیٰ نے بھوک ‘ پیاس ‘ شہوت اور غضب کو رکھا ہے اور وہ ان کی مزاحمت کے باوجود اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے ‘ بعض علماء نے کہا : فرشتوں کو نور سے بنایا ہے اور بشر کو مٹی سے بنایا ہے اور نور مٹی سے افضل ہے ‘ اس لیے فرشتے جو ہر ذات کے اعتبار سے بشر سے افضل ہیں لیکن اس پر کون سی شرعی دلیل ہے کہ نور مٹی سے افضل ہے ؟ بلکہ ہم کہتے ہیں کہ مٹی نور سے افضل ہے کیونکہ وہ انبیاء (علیہم السلام) کا مبداء خلقت ہے اور بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ خواص بشر (حضرات انبیاء علیہم السلام) خواص ملائکہ اور عام ملائکہ سے افضل ہیں اور خواص ملائکہ (رسل ملائکہ) عوام بشر سے افضل ہیں اور عوام بشر (نیک مسلمان ‘ اس میں کفار اور فساق داخل نہیں ہیں) عوام ملائکہ سے افضل ہیں ‘ بہرحال تفضیل کا یہ مسئلہ ظنی ہے اور اس میں کسی جانب قطعیت نہیں ہے ‘ اس لیے بعض علماء نے اس مسئلہ میں توقف کیا ہے۔
قصہ آدم وابلیس میں حکمتیں اور نصیحتیں :
(١) اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض علوم اور حکمتوں پر کسی کو مطلع نہیں فرمایا حتی کہ فرشتوں کو بھی معلوم نہیں تھا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو خلیفہ بنانے میں کیا حکمت ہے۔
(٢) اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ‘ مٹی جس کو عام لوگ حقیر جانتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس مٹی سے انسان بنایا اور اس کو علوم و معارف سے نوازا اور اس کو اتنی عزت دی کہ سارے فرشتوں نے اس کو سجدہ کیا۔
(٣) انسان اتنی عزت و کرامت کے باوجود ضعیف البنیان ہے ‘ وہ بھول گیا اور شجر ممنوع سے کھالیا۔
(٤) اپنی تقصیر پر نادم ہونا اور اللہ سے توبہ کرنا بلند درجات کے حصول کی دلیل ہے ‘ اپنا قصودر ماننا آدم کا طریقہ ہے اور نہ ماننا اور اکڑنا ابلیس کا طریقہ ہے۔
(٥) معصیت سے نعمت زائل ہوجاتی ہے اور شکر سے نعمت میں زیادتی ہوتی ہے۔
(٦) جنت پیدا کی جا چکی ہے اور وہ جانب علو میں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم سب اس جنت سے نیچے اتر جاؤ۔
(٧) انسان خلوص دل سے تائب ہو تو اس کی توبہ مقبول ہوتی ہے۔
(٨) حضرت آدم (علیہ السلام) نے بھول سے شجر ممنوع سے کھایا اس کے باوجود تو اضعا توبہ کی اور کہا : ہم نے ظلم کیا تو اللہ تعالیٰ نے انکے سر پر تاج خلافت رکھا ‘ شیطان نے عمدا نافرمانی کی اور اللہ تعالیٰ سے کہا : اے رب ! تو مجھے گمراہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے گلے میں لعنت کا طوق ڈال دیا۔
(٩) ابلیس آدم اور اولاد آدم کا دشمن ہے اور ان کو زک دینے کی تاک میں لگا رہتا ہے۔
(١٠) حضرت حوا کے توبہ کرنے کا الگ سے ذکر نہیں فرمایا کیونکہ عورتوں کے احکام مردوں کے احکام کے تابع ہوتے ہیں۔
(١١) جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا وہ نجات یافتہ ہے اور جو اللہ اور اس کے رسول کا کفر اور نافرمانی کرے گا وہ عذاب میں ہلاک ہوگا۔
(١٢) ہدایت ربانی بھیجنے کا سلسلہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع ہوا اور حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ختم ہوگیا۔

[Tibyan-ul-Quran 2:35]