بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاٰمِنُوۡا بِمَآ اَنۡزَلۡتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمۡ وَلَا تَكُوۡنُوۡآ اَوَّلَ كَافِرٍۢ بِهٖ‌ وَلَا تَشۡتَرُوۡا بِاٰيٰتِىۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا وَّاِيَّاىَ فَاتَّقُوۡنِ

اور اس (قرآن) پر ایمان لاؤ جس کو میں نے نازل کیا ہے جو اس (کتاب) کی تصدیق کرنے والا ہے جو تمہارے پاس ہے اور تم سب سے پہلے اس کے منکر نہ بنو اور تھوڑی قیمت کے بدلہ میں میری آیتوں کو فروخت نہ کرو اور مجھ ہی ہی سے ڈرو

بقیہ پچھلی آیت میں
خواتین کی امامت کے متعلق فقہاء مالکیہ کا نظریہ :
علامہ قرطبی مالکی (رح) لکھتے ہیں :
امام بخاری (رح) نے حضرت ابوبکر (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر پہنچی کہ اہل فارس نے کسری کی بیٹی کو بادشاہ بنالیا ہے تو آپ نے فرمایا : وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پائے جس نے اپنے معاملات کا والی عورت کو بنادیا ‘ اور امام ابوداؤد (رح) نے عبدالرحمان خلاد سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ام ورقہ۔ کی زیارت کے لیے ان کے گھر جاتے تھے ‘ اور آپ نے ان کے لیے ایک موذن مقرر کیا تھا ‘ جو ان کے لیے اذان دیتا تھا ‘ اور آپ نے حضرت ام ورقہ (رض) کو حکم دیا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کو نماز پڑھائیں ‘ عبدالرحمان کہتے ہیں کہ میں نے ان کے موذن کو دیکھا ‘ وہ ایک بوڑھا شخص تھا ‘ امام شافعی (رح) نے کہا : جو مرد عورت کے پیچھے نماز پڑھے وہ اپنے نماز دہرائے۔
میں کہتا ہوں کہ ہمارے علماء نے کہا ہے کہ عورت کی امامت مطلقا صحیح نہیں ہے مردوں کے لیے نہ عورتوں کے لیے ‘ امام مالک نے کہا : عورت کسی صورت میں امام نہ بنے اور اکثر فقہاء کا یہی قول ہے (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ٣٥٦۔ ٣٥٥ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران)
علامہ عبدری مالکی (رح) لکھتے ہیں :
ہمارے نزدیک عورت کی امامت صحیح نہیں ہے اور جو شخص بھی عورت کی اقتداء میں نماز دہرائے خواہ وقت نکل جائے۔ (التاج والا کلیل ج ٢ ص ٩٢‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
خواتین کی امامت کے متعلق فقہاء احناف کا نظریہ :
علامہ المرغینانی الحنفی لکھتے ہیں :
تنہا عورتوں کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا مکروہ (تحریمی) ہے کیونکہ یہ فعل حرام کے ارتکاب سے خالی نہیں ہے ‘ اور وہ امام کا صف کے درمیان میں کھڑا ہونا ہے جیسے برہنہ لوگ کھڑے ہوتے ہیں اس لیے یہ فعل مکروہ ہے اور اگر انہوں نے ایسا کیا تو جو عورت امام بنے وہ صف کے درمیان میں کھڑی ہو ‘ کیونکہ حضرت عائشہ (رض) نے اسی طرح کیا تھا ‘ اور حضرت عائشہ (رض) کا عورتوں کو جماعت کے ساتھ نماز پڑھانا ابتداء اسلام پر محمول ہے۔ (ہدایہ اولین ص ١٢٣‘ مطبوعہ مکتبہ شرکت علمیہ ‘ ملتان)
علامہ ابن ھمام حنفی (رح) لکھتے ہیں :
” مبسوط “ میں اسی طرح لکھا ہے ‘ علامہ سروجی (رح) نے اس پر اعتراض کیا ہے کہ یہ توجیہ بعید ہے ‘ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اعلان نبوت کے بعد مکہ میں تیرہ سال رہے ‘ جیسا کہ امام بخاری (رح) اور امام مسلم (رح) نے روایت کیا ہے ‘ پھر آپ نے حضرت عائشہ (رض) سے نکاح کیا اور ہجرت کے ایک سال بعد مدینہ منورہ میں حضرت عائشہ (رض) کی رخصتی ہوئی ‘ اس وقت ان کی عمر نو سال تھی ‘ اور وہ نوسال آپ کے پاس رہیں ‘ اور نماز میں امامت انہوں نے بلوغت کے بعد ہی کی ہوگی ‘ تو یہ ابتداء اسلام کب ہے ؟ لیکن یہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ جب عورتوں نے مسجد میں جا کر آپ کی اقتداء میں نماز پڑھنا شروع کردیا تو یہ فعل منسوخ ہوگیا ‘ لیکن ” مستدرک “ میں یہ روایت ہے کہ حضرت عائشہ (رض) اذان دیتی تھیں، اقامت کہتی تھیں اور عورتوں کی امامت کرتی تھیں اور عورتوں کے درمیان کھڑی ہوتی تھیں ‘ اور امام محمد نے ” کتاب الآثار “ میں امام ابوحنفیہ (رح) کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ حضرت عائشہ (رض) رمضان کے مہینہ میں امامت کرتی تھیں ‘ اور عورتوں کے وسط میں کھڑی ہوتی تھیں۔ (کتاب الآثار ص ٤٤‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن ‘ کراچی)
اور یہ بات معلوم ہے کہ تراویح کی جماعت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد مروج ہوئی ہے ‘ اور ” سنن ابوداؤد “ میں ہے کہ حضرت ام ورقہ انصاریہ (رض) کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم دیا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کو نماز پڑھائیں ‘ اور ان کے لیے ایک موذن مقرر کیا تھا ‘ حضرت عمر (رض) کے عہد خلافت میں حضرت ام ورقہ (رض) کو ان کے ایک غلام اور باندی نے چادر سے ان کا گلا گھونٹ کر ہلاک کردیا تھا اور وہ زبان رسالت کی پیشگوئی کے مطابق شہیدہ ہوگئیں ‘ عبدالرحمان نے کہا : میں نے ان کے موذن کو دیکھا تھا ‘ وہ بوڑھا شخص تھا ‘ یہ تمام روایت دعوی نسخ کی نفی کرتی ہیں ‘ ” سنن ابوداؤد “ کی روایت کی سند میں ولید بن جمیع اور عبدالرحمان بن خالد انصاری پر ابن القطان نے یہ اعتراض کیا ہے کہ ان دونوں کا حال معلوم نہیں لیکن امام ابن حبان نے ان کا ثقات میں ذکر کیا ہے۔
ان حدیثوں کے جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ام ورقہ (رض) کو جو نماز پڑھانے کی اجازت دی تھی اس سے اس اجازت کا دوام اور استمرار لازم نہیں آتا اس لیے ہوسکتا ہے کہ بعد میں یہ اجازت منسوخ ہوگئی ہو ‘ اور حضرت عائشہ (رض) جو رمضان میں امامت کرتی تھیں تو اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ وہ تراویح کی امامت کرتی تھیں ‘ اور ” مصنف عبدالرزاق “ میں حضرت ابن عباس (رض) کا یہ قول روایت کیا گیا ہے کہ عورت عورتوں کی امامت کرے اور ان کے وسط میں کھڑی ہو۔ (المصنف ج ٣ ص ١٤٠) اس کا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) کو ناسخ کا علم نہ ہوا ہو ‘ لیکن اس کے باوجود یہ سوال قائم رہے گا کہ وہ کون سا ناسخ ہے جس نے ان احادیث کو منسوخ کردیا ؟ بعض علماء نے یہ ذکر کیا ہے کہ ” سنن ابوداؤد “ اور ” صحیح ابن خزیمہ “ وغیرھما میں یہ حدیث ہے کہ عورت کا اپنی کوٹھڑی میں نماز پڑھنا حجرہ میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے ‘ اور کوٹھڑی میں نماز پڑھنا کوٹھڑی میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے ‘ اور یہ بات معلوم ہے کہ بالکل اندرونی کوٹھڑی جماعت کی گنجائش نہی رکھتی ‘ اس حدیث کو بعض علماء نے حضرت عائشہ (رض) ‘ حضرت ام ورقہ (رض) ‘ اور حضرت ابن عباس (رض) کی احادیث کا ناسخ قرار دیا ہے ‘ لیکن اس حدیث کا ناسخ ہونا واضح نہیں ہے ‘ اور اگر اس کو ناسخ مان بھی لیا جائے تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ عورت کا امامت کرنا اب مسنون نہیں ہے اور یہ کراہت تحریم کو مستلزم نہیں ہے ‘ بلکہ اس سے زیادہ سے زیادہ اس فعل کا مکروہ تنزیہی یا خلاف اولی ہونا لازم آئے گا اور ہم پر یہ لازم نہیں ہے کہ ہم اس کو مکروہ تحریمی ثابت کریں ‘ ہمارا مقصود تو حق کی اتباع کرنا ہے خواہ وہ کسی جگہ ہو۔ (فتح القدیر ج ١ ص ٣٠٧۔ ٣٠٦‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر)
علامہ ابن ھمام نے اس عبارت سے یہ اشارہ کیا ہے کہ اس مسئلہ میں امام احمد (رح) اور امام شافعی (رح) قول صحیح ہے ‘ کیونکہ وہ احادیث کے موافق ہے اور امام مالک (رح) نے حضرت ابوبکرۃ کی جس حدیث سے استدلال کیا ہے وہ نظام مملکت کی ولایت سے متعلق ہے ‘ نماز کی امامت سے نہیں ہے ‘ نیز احادیث صحیحہ سے عورت کا عورتوں کی نماز میں امامت کرنا ثابت ہے ‘ اور اس کا ناسخ متعین اور متحقق نہیں ہے اور احادیث رسول اقوال فقہاء پر مقدم ہیں۔
سمجھ دار نابالغ لڑکے کی امامت :
نابالغ اور سمجھ دار لڑکے کی امامت میں ائمہ کا اختلاف ہے ‘ امام ابوحنفیہ (رح) کے نزدیک اس کی امامت مطلقا جائز نہیں ہے فرائض میں نہ نوافل میں ‘ البتہ مشائخ احناف کا اس میں اختلاف ہے۔ بلخ کے مشائخ نابالغ حافظ قرآن کی تراویح میں امامت کو جائز کہتے ہیں۔ (فتح القدیر ج ١ ص ٣١١۔ ٣٠٩) علامہ کا سانی حنفی نے لکھا ہے جو بچہ سمجھ دار ہو وہ تراویح میں بچوں کی امامت کی صلاحیت رکھتا ہے ‘ اور بالغوں کے متعلق اس کی امامت میں مشائخ کا اختلاف ہے اور جو بچہ ناسمجھ ہو وہ امامت کا بالکل اہل نہیں ہے کیونکہ وہ نماز کے لائق نہیں ہے۔ (بدائع الصنائع ج ١ ص ١٥٧ )
امام مالک کے نزدیک بھی نابالغ کا بالغوں کو نماز پڑھانا جائز نہیں ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن للقرطبی ج ١ ص ٣٥٣) اور امام احمد (رح) کے نزدیک فرائض میں نابالغ کی امامت جائز نہیں ہے اور نوافل میں ان کے دو قول ہیں (المغنی ج ٢ ص ٣٢۔ ٣١) اور امام شافعی (رح) کے نزدیک نابالغ سمجھدار لڑکے کی امامت مطلقا جائز ہے ‘ خواہ فرض ہو یا نفل۔ (شرح المہذب ج ٤ ص ٢٤٩)
مانعین کی دلیل یہ ہے کہ بالغ کی نماز فرض ہے اور نابالغ کی نماز نفل ہے اور مقفل کی اقتداء میں مفترض کی نماز نہیں ہوتی ‘ کیونکہ امام ترمذی (رح) نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : امام ضامن ہے (جامع ترمذی ص ٥٧) یعنی امام کی نماز مقتدی کی نماز کو متضمن اور شامل ہوتی ہے اور فرض نفل کو شامل ہوتا ہے ‘ نفل فرض کو شامل نہیں ہوتا اور مجوزین کی دلیل یہ ہے کہ احادیث سے نابالغ کا بالغوں کو نماز پڑھانا ثابت ہے ‘ خاص طور سے جب کہ نابالغ کو بالغوں سے زیادہ قرآن یاد ہو وہ حافظ قرآن ہو اور اچھا قاری ہو کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو امام بنانے پر زور دیا ہے جس کو قرآن زیادہ یاد ہو۔
امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابومسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو لوگوں میں سب سے زیادہ قرآن یاد ہو اس کو امام بناؤ ‘ اگر قراءت میں سب برابر ہوں تو جس نے پہلے ہجرت کی ہو اور اگر ہجرت میں سب برابر ہوں تو جو عمر میں بڑا ہو اور کوئی شخص کسی کی ولایت اور اس کے گھر میں نماز نہ پڑھائے اور نہ اس کی معزز نشست پر بیٹھے سوا اس کے کہ وہ اس کو اجازت دے دے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٢٣٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
امام نسائی (رح) کی روایت میں ہے کہ اگر سب ہجرت میں برابر ہوں تو جو سنت کا زیادہ عالم ہو اس کو امام بناؤ۔ (سنن نسائی ج ١ ص ١٢٦ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی ١٣٧٥ ھ)
حافظ الہیثمی (رح) بیان کرتے ہیں :
امام بزار (رح) نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب تم سفر کرو تو جس شخص کو تم میں سب سے زیادہ قرآن یاد ہو اس کا امام بناؤ خواہ وہ تم میں سب سے چھوٹا ہو اور جو شخص تمہارا امام ہوگا وہی تمہارا امیر ہوگا۔ (مجمع الزوائد ج ٢ ص ٦٤‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)
امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت عمرو بن سلمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگوں کی گزر گاہ میں رہتے تھے ‘ ہمارے پاس سے سوار گزرتے رہتے تھے ‘ ہم ان سے پوچھتے رہتے تھے کہ لوگوں کو کیا ہوا ہے ؟ لوگوں کو کیا ہوا ہے ؟ اور یہ شخص کون ہے ؟ لوگ بتاتے کہ وہ شخص یہ کہتے ہیں کہ ان کو اللہ نے بھیجا ہے اور ان کی طرف یہ یہ وحی کی ہے ‘ میں ان سے اس کلام کو سن کر یاد کرتارہتا ‘ گویا کہ وہ کلام میرے دل میں راسخ ہوگیا ‘ اور عرب اسلام قبول کرنے کے سلسلے میں فتح مکہ کا انتظار کر رہے تھے وہ کہتے تھے کہ اس شخص کو اس کی قوم کے ساتھ چھوڑدو ‘ اگر وہ ان پر غالب آگیا تو پھر وہ سچا نبی ہوگا ‘ جب مکہ فتح ہوگیا تو سب لوگوں نے اسلام قبول کرنے میں سبقت کی اور میرے والد اپنی قوم میں سب سے پہلے اسلام لے آئے ‘ جب وہ آئے تو انہوں نے کہا کہ بہ خدا ! میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے آیا ہوں وہ برحق ہیں ‘ آپ نے فرمایا : فلاں فلاں وقت میں نماز پڑھا کرو ‘ اور جب نماز کا وقت آئے تو تم میں سے ایک شخص اذان دے اور جس کو تم میں سب سے زیادہ قرآن یاد ہو وہ امامت کرے ‘ جب انہوں نے تلاش کیا تو مجھ سے زیادہ کسی کو قرآن یاد نہیں تھا ‘ کیونکہ میں سواروں سے سن کر قرآن یاد کرتا تھا تو انہوں نے مجھے امام بنادیا ‘ اس وقت میری عمر چھ یا سات سال کی تھی ‘ میں نے ایک چھوٹی سی چادر کا تہبند باندھا ہوا تھا ‘ جب میں سجدہ میں جاتا تو وہ سمٹ کر اوپر آجاتا ‘ قبیلہ کی ایک عورت نے کہا : تم اپنے قاری کی شرم گاہ ہم سے کیوں نہیں چھپاتے ! تب لوگوں نے مجھے ایک قمیض خرید کردی ‘ مجھے اس قمیض سے اس وقت سب سے زیادہ خوشی ہوئی۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٦١٦۔ ٦١٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
اس حدیث کو امام نسائی۔ ١ (امام احمد شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ ‘ سنن نسائی ج ١ ص ١٢٥ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی) اور امام احمد (رح) ۔ ٢ (امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ٥ ص ٧١‘ ٣٠، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ) نے بھی روایت کیا ہے۔
امام ابوحنیفہ (رح) ‘ امام مالک (رح) ‘ اور امام احمد کا مذہب قیاس کے زیادہ قریب ہے اور امام شافعی (رح) کا مذہب احادیث کے زیادہ قریب ہے ‘ ہمارے زمانے میں بچے جلد قرآن مجید حفظ کرلیتے ہیں ‘ اگر وہ تراویح میں قرآن مجید نہ سنائیں یا نہ سنیں تو قرآن مجید بھول جائے گا ‘ اس لیے اگر بلخ کے مشائخ احناف کے قول پر عمل کرتے ہوئے نابالغ حافظ کو تراویح میں امام بنادیا جائے تو قرآن مجید کی حفاظت اور ان احادیث کے پیش نظر مناسب ہوگا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ‘ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو ! کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟۔۔ (البقرہ : ٤٤)
یہود کی بےعملی کا بیان :
بھولنے سے مراد یہاں چھوڑ دینا ہے ‘ کیونکہ کوئی شخص اپنے آپ کو نہیں بھولتا ‘ یعنی تم خود نیکی پر عمل نہیں کرتے اور دوسروں کو نیکی کا حکم دیتے ہو ‘ یہاں نیکی کے حکم میں کئی اقوال ہیں۔
امام ابن جریر طبری (رح) اپنی سند کے ساتھ بیان کرتے ہیں :
سعید بن جبیر (رح) نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ تم لوگوں کو تورات کے عہد اور نبوت کے ساتھ کفر کرنے سے روکتے ہو اور خود تم تورات میں کیے ہوئے عہد سے کفر کرتے ہو ‘ میرے رسولوں کی تصدیق نہیں کرتے ‘ مجھ سے کیے ہوئے عہد کو توڑتے ہو اور میری کتاب میں مذکور احکام کا انکار کرتے ہو۔
ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ تم لوگوں کو (سیدناحضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دین میں داخل ہونے کا اور نماز پڑھنے کا حکم دیتے ہو اور خود اس پر عمل نہیں کرتے۔
سدی (رح) سے روایت ہے کہ تم لوگوں کو اللہ سے ڈرنے اور اس کی اطاعت کا حکم دیتے ہو اور خود اس کو معصیت کرتے ہو۔ (جامع البیان ج ١ ص ٢٠٤‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
بے عمل علماء کے عذاب کا بیان :
حافظ سیوطی (رح) بیان کرتے ہیں :
امام ابن شیبہ (رح) نے شعبی سے روایت کیا ہے کہ جنت میں سے کچھ لوگ دوزخیوں کو دیکھ کر کہیں گے : تم کیسے دوزخ میں ہو ‘ حالانکہ ہم تمہاری تعلیم پر عمل کرکے جنت میں پہنچ گئے ؟ وہ کہیں گے کہ ہم کہتے تھے اور عمل نہیں کرتے تھے۔
اس حدیث کو طبرانی ‘ خطیب اور ابن عساکر (رح) نے سند ضعیف سے مرفوعا روایت کیا ہے۔
امام طبرانی (رح) ‘ خطیب اور اصبہانی نے حضرت جندب بن عبداللہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس عالم کی مثال جو لوگوں کو خیر کی تعلیم دے اور اس پر عمل نہ کرے اس چراغ کی طرح ہے جو لوگوں کو روشنی دیتا ہے اور خود کو جلاتا رہتا ہے۔ امام اصفہانی (رح) نے ” ترغیب “ میں سند ضعیف سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابو امامہ (رض) نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عالم سوء کو قیامت کے دن لایا جائے گا اور اس کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اور جس طرح گدھا چکی کے ساتھ گردش کرتا ہے اس طرح اس کی انتڑیاں دوزخ میں گردش کر رہی ہوں گی۔
امام احمد بن حنبل (رح) نے ” کتاب الزھد “ میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ جو آدمی نہیں جانتا اس لیے ایک عذاب ہے اور اگر اللہ چاہتا تو اس کو علم دے دیتا ‘ اور اس شخص کے لیے سات عذاب ہیں جو جانتا ہے اور پھر اس پر عمل نہیں کرتا۔ (درمنثور ‘ ج ١ ص ٦٥‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)
آیا نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لیے خود نیک ہونا ضروری ہے ؟
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے علماء نے تین شرطیں ذکر کی ہیں ‘ اول مکلف ہونا ‘ ثانی ایمان ‘ ثالث عدل یعنی اس کا نیک ہونا ‘ بعض علماء نے چوتھی شرط بھی ذکر کی ہے کہ امام کی طرف سے اس کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اجازت ہو ‘ لیکن امام غزالی اور دیگر محققین نے اس شرط کو مسترد کردیا ہے ‘ باقی رہی تیسری شرط یعنی نیکی کا حکم دینے کے لیے خود نیک ہونے کی شرط تو اس کے متعلق بھی علماء نے کافی بحث کی ہے۔
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہلکھتے ہیں :
بعض علماء نے امر بالمعروف کے لیے عدالت کو شرط قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ فاسق کا کسی کو نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا جائز نہیں ہے انہوں نے قرآن مجید کی ان آیات سے استدلال کیا ہے :
(آیت) ” اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم “۔ (البقر : ٤٤ )
ترجمہ : کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ؟
(آیت) ” یایھا الذین امنوا لم تقولون مالاتفعلون۔ کبر مقتاعند اللہ ان تقولوا مالاتفعلون “۔۔ (الصف : ٣۔ ٢)
ترجمہ : اے ایمان والو ! وہ بات کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے ہو ؟۔ اللہ کو سخت ناراض کرنے والی بات یہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو خود نہیں کرتے ،۔
عدالت کی شرط پر ان احادیث سے بھی استدلال کیا گیا ہے :
امام احمد ‘ (رح) امام ابویعلی (رح) امام طبرانی (رح) اور ابونعیم (رح) نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : معراج کی شب میں ایک قوم کے پاس سے گزرا جن کے ہونٹوں کو آگ کی قینچیوں سے کاٹا جارہا تھا ‘ میں نے پوچھا : تم لوگ کون ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور خود نیکی نہیں کرتے تھے اور لوگوں کو برائی سے روکتے تھے اور خود برے کام کرتے تھے ‘ اور امام ابو نعیم نے ” حلیہ “ میں مالک بن دینار سے روایت کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف اللہ نے وحی کی : اپنے آپ کو نصیحت کرو ‘ اگر تم نے خود نصیحت پر عمل کرلیا تو پھر لوگوں کو نصیحت کرو ورنہ مجھ سے حیا کرو۔
عدالت کی شرط پر قیاس سے بھی استدلال کی گیا ہے کیونکہ غیر کا ہدایت حاصل کرنا خود ہدایت یافتہ ہونے کی فرع ہے اور غیر کو مستقیم کرنا خود مستقیم ہونے کی فرع ہے اور غیر کی اصلاح خود صالح ہونے کی فرع ہے تو جو شخص خود نیک نہ ہو دوسرے کو کب نیک کرسکتا ہے۔
یہ مذکورہ دلائل بہ اعتبار ظاہر ہیں اور تحقیق یہ ہے کہ فاسق بھی امر بالمعروف کرسکتا ہے ‘ کیونکہ ہم یہ پوچھتے ہیں کہ کیا امر بالمعروف کے لیے تمام گناہوں سے معصوم ہوناضروی ہے ؟ اگر یہ شرط لگائی جائے تو ایک تو یہ اجماع کے خلاف ہے ‘ دوسری بات یہ ہے کہ حضرات صحابہ کرام (رض) بھی معصوم نہیں تھے چہ جائیکہ بعد کے لوگ ! اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انبیا علیہم اسلام کے علاوہ کوئی شخص تبلیغ کرسکتا ہے نہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرسکتا ہے حالانکہ قرآن مجید اور احادیث میں امت مسلمہ کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا مکلف کیا گیا ہے اور اگر وہ یہ کہیں کہ امر بالمعروف کے لیے کبیرہ گناہوں سے پاک ہونا ضروری ہے اور مرتکب کبیرہ کے لیے یہ جائز نہیں ہے حتی کہ جو شخص ریشم کا لباس پہنے ہوئے ہو اس کے لیے زنا اور شراب نوشی سے روکنا جائز نہیں ہے ‘ تو ہم پوچھتے ہیں کہ آیا ریشم پہننے والے کے لیے کفار کے خلاف جہاد کرنا اور ان کو کفر سے روکنا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر وہ کہیں کہ نہیں تو یہ اجماع کے خلاف ہے ‘ کیونکہ اسلام کے ہر دور میں نیک اور بد لوگ لشکر اسلام میں شامل ہو کر کفار کے خلاف جہاد کرتے رہے ہیں ‘ اگر وہ کہیں کہ ہاں یہ جائز ہے تو پھر ثابت ہوگیا کہ مرتکب کبیرہ کے لیے تبلیغ اسلام کرنا اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا جائز ہے۔
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اگر مرتکب کبیرہ کے لیے تبلیغ جائز ہو تو لازم آئے گا کہ ایک شخص کسی ایسی عورت سے زنا بالجبر کر رہا ہو جس نے اپنا منہ چھپایا ہوا ہو ‘ دوران زنا وہ عورت خود اپنا منہ کھول دے اور وہ شخص اس سے کہے : تو نے غیر محرم کے سامنے چہر کیوں کھولا ؟ زنا کرانے میں تو تو مجبور تھی چہرہ دکھانے میں تو مجبور نہیں تھی ! تو یہ ایسی تبلیغ ہے جس کو ہر عقل مند براس مجھے گا اور اس سے نفرت کرے گا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بعض اوقات حق بالطبع برا لگتا ہے اور باطل بالطبع اچھا لگتا ہے اور اتباع دلیل کی ‘ کی جاتی ہے وہمی اور خیالی نفرت کی نہیں کی جاتی ‘ اس حال میں اس عورت کو منہ چھپانے کا حکم دینا کیا حرام ہے ؟ ظاہر ہے کہ یہ حرام نہیں ہے کیونکہ نامحرم کے سامنے منہ کھولنا معصیت ہے اور معصیت سے روکنا حق ہے ‘ باقی رہا یہ کہ طبیعت ان کاموں سے متنفر ہوتی ہے ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ شخص زیادہ اہم چیز (زنا سے اجتناب) کو ترک کر کے کم درجہ کی اہم چیز میں مشغول ہوگیا ‘ جیسے طبیعت ان کاموں سے منتفر ہوتی ہے کہ ایک آدمی ہمیشہ سود کھاتا ہو اور کسی غصب شدہ چیز کو کھانے سے احتراز کرے ‘ یا جو شخص جھوٹی گواہی دیتا ہو اور وہ غیبت سے احتراز کرے اور اس طبعی تنفر سے یہ لازم نہیں آتا کہ غصب شدہ طعام کھانا حرام نہ ہو یا غیبت کو ترک کرنا واجب نہ ہو (احیاء علوم الدین علی ہامش اتحاف السادۃ المتقین ج ٧ ص ١٧۔ ١٤‘ ملخصا ‘ مطبوعہ مصر ١٣١١ ھ)
امام رازی اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
مکلف کو دو چیزوں کا حکم دیا گیا ہے ‘ ایک معصیت کو ترک کرنا ‘ دوسرا غیر کو معصیت سے منع کرنا ‘ اور ایک حکم پر عمل نہ کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ دوسرے حکم پر بھی عمل نہ کرے ‘ اور اللہ تعالیٰ کا جو یہ ارشاد ہے کہ ” تم دوسروں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو “ اس آیت کے دو محمل ہیں ‘ ایک یہ کہ مطلقا اپنے آپ کو بھلانے یعنی خود عمل نہ کرنے سے منع کیا ہے ‘ دوسرا محمل یہ ہے کہ جس وقت وہ خود عمل نہ کر رہا ہو اس وقت دوسروں کو اس کا حکم دینے سے منع کیا ہے۔ ہمارے نزدیک اس آیت کا پہلا محمل مراد ہے نہ کہ دوسرا۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص ٢٢٦ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
ہمارے نزدیک ان آیات اور احادیث کا منشاء یہ ہے کہ انسان کا نیکی پر عمل نہ کرنا اور برائی سے اجتناب نہ کرنا عقلا برا ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب کا موجب ہے لیکن اس وقت زیادہ برا ہے اور زیادہ غضب اور عذاب کا موجب ہے۔ جب وہ دوسروں کو نیکی کا حکم دے رہا ہو اور ان کو برائی سے روک رہا ہو تو جو چیز قبیح ہے اور غضب اور عذاب کا موجب ہے وہ خود عمل نہ کرنا ہے نہ کہ دوسروں کو عمل کی تبلیغ کرنا ‘ کسی دنیاوی طمع کی بناء پر برائی سے نہ روکنا مداہنت ہے اور کسی دینی منفعت کی وجہ سے خاموش رہنا مدارات ہے اور کفار سے موالات (دوستی رکھنا) حرام ہے اور ان سے صرف معاملات مثلا بیع وشراء کرنا جائز ہے۔
بے علم کے وعظ ‘ تقریر اور اس کے مرید کرنے کا شرعی حکم :
تقریر اور وعظ کرنے کے لیے علم دین کا حاصل کرنا شرعا واجب ہے ‘ اور بےعلم آدمی کا تقریر اور وعظ کرنا مکروہ تحریمی ہے اور اس پر اصرار کرنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے ‘ عالم کا معیار یہ ہے کہ وہ قرآن مجید کی آیات کا ترجمہ کرسکے ‘ احادیث کی عربی عبارات صحیح صحیح پڑھ سکے اور سمجھ سکے ‘ علم کلام اور علم فقہ کی عبارات کو پڑھ اور سمجھ سکے ‘ محض اردو کی کتابوں کو پڑھ کر وعظ کرنا اور لوگوں کو مسائل بتلانا شرعا حرام ہے ‘ البتہ اگر علماء اور منتہی طلباء کسی محقق عالم دین (مثلا اعلی حضرت امام احمد رضا قادری ‘ صدر الشریعہ مولانا امجد علی ‘ صدر الافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین اور غزالی زمان علامہ سید احمد سعید کا ظمی رحمہم اللہ) کی اردو تصانیف سے مطالعہ اور استفادہ کرکے بیان کریں تو یہ جائز ہے ‘ لیکن جو شخص علوم عربیہ سے بالکل جاہل ہو اس کے لیے اردو کی کتابیں پڑھ کر وعظ کرنا قطعا حرام ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
(آیت) ” وتلک الامثال نضربھا للناس وما یعقلھا الا العلمون “۔۔ (العنکبوت : ٤٣)
ترجمہ : اور ہم ان مثالوں کو لوگوں کے بیان کرتے ہیں ‘ اور ان کو صرف عالم ہی سمجھ سکتے ہیں۔
اس آیت سے یہ معلوم ہوگیا کہ جو شخص قرآن مجید کی آیات کا از خود ترجمہ نہ کرسکے اور اس کے لطائف اور دقائق کو نہ سمجھ سکے وہ عالم نہیں ہے۔ امام رازی (رح) عالم کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
نظری اور دقیق مسائل کو عالم ہی سمجھتا ہے ‘ جب اس کے سامنے کوئی ظاہر امر پیش کیا جائے تو وہ اس کی کنہ کا ادراک کرلیتا ہے جو چیز دقیق ہو اس کو جاننے کے لیے عالم ہونا ضروری ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے جو مثالیں بیان کی ہیں ان کی حقیقت اور ان کے تمام فوائد کو صرف علماء سمجھ سکتے ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٤٩٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
علامہ خفاجی حنفی (رح) لکھتے ہیں :
اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص صفت علم میں کامل ہو۔ (عنایۃ القاضی ج ٧ ص ١٠٤‘ مطبوعہ دار صادر ‘ بیروت ١٢٨٣ ھ)
علامہ مراغی لکھتے ہیں :
ان مثالوں کے مغزکو اور ان کی تاثیر کی معرفت کو صرف ماہر علماء ہی جان سکتے ہیں اور ان مثالوں سے کثیر فوائد کو علماء ہی مستنبط کرسکتے ہیں جو غور وفکر کرتے رہتے ہیں۔ (تفسیر المراغی ج ٢٠ ص ١٤٤‘ مطبوعہ دار صادر ‘ بیروت)
ڈاکٹر وھبہ زحیلی نے لکھا ہے کہ قرآن مجید کی مثالوں کو وہی سمجھ سکتے ہیں جن کو علم سے وافر حصہ ملا ہو اور وہ قضایا اور مسائل میں منہمک رہتے ہوں۔ (التفسیر المنیر ج ٢٠‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١١ ھ)
اس آیت اور اس کی تفسیر سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ عالم اس شخص کو کہتے ہیں جو قرآن مجید کا ترجمہ کرسکے ‘ اس کے معانی کے دقائق کو سمجھ سکے اور اس کے فوائد کو مستنبط کرسکے۔
امام ابوداؤد (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت جندب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کتاب اللہ میں اپنی رائے سے کہا اس نے خطا کی اگرچہ اس نے صحیح کہا ہو۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٥٨‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)
امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے بغیر علم کے قرآن سے کچھ بیان کیا وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے ‘ امام ترمذی (رح) نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (جامع ترمذی ص ٤١٩‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
ملاعلی قاری اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
قرآن مجید کی تفسیر کے لیے پندرہ علوم ضروری ہیں : لغت ‘ نحو ‘ تصریف ‘ اشتقاق ‘ معانی ‘ بیان ‘ بدیع ‘ قرات ‘ اسباب نزول والقصص ‘ ناسخ اور منسوخ ‘ فقہ ‘ احادیث ‘ اصول حدیث اور اصول فقہ ‘ اصول تفسیر۔ (مرقات ج ١ ص ٢٩٢‘ مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ‘ ملتان ‘ ١٣٩٠ ھ)
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تفسیر لکھنے کے لیے یہ علوم ضروری ہیں بلکہ یہ اصول عام ہے ‘ وہ زبانی کسی آیت کی تشریح کرے یا اس کو لکھے اس کے لیے ان علوم کا جاننا ضروری ہے الا یہ کہ وہ کسی معتبر تفسیر سے پڑھ کر سنائے (خواہ وہ کسی زبان میں ہو) یا اس کو ضبط کرکے اس کے حوالے سے بیان کرے۔ اس وضاحت سے یہ معلوم ہوگیا کہ غیر عالم کے لیے وعظ اور تقریر کرنا جائز نہیں ہے۔
امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب علم کو اٹھائے گا تو اس کو لوگوں کے سینوں سے نہیں نکالے گا ‘ لیکن علماء کو اٹھانے کے ذریعہ سے علم کو اٹھالے گا حتی کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنالیں گے ‘ ان سے سوال کیا جائے گا اور وہ بغیر علم کے فتوی (جواب) دیں گے ‘ سو وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٢٠ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
اس حدیث کو امام ابن عساکر (رح) نے بھی حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت کیا ہے۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ٣ ص ١٥٧۔ ١٢‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ دمشق ‘ ١٤٠٤ ھ)
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : سیادت (منصب) حاصل کرنے سے پہلے علم حاصل کرو۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٧‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
امام دارمی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جس شخص کو اس کی قوم نے فقہ کی وجہ سے امیر بنایا اس میں اس کی بھی حیات ہے اور اس کی قوم کی بھی ‘ اور جس شخص کو اس کی قوم نے بغیر فقہ کے امیر بنایا اس میں اس کی بھی ہلاکت ہے اور اسکی قوم کی بھی۔ (سنن دارمی ج ١ ص ٦٩‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)
علامہ قرطبی لکھتے ہیں :
ابوالبختری روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص وعظ کرکے لوگوں کو ڈرا رہا تھا ‘ آپ نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ شخص لوگوں کو وعظ کررہا ہے ‘ آپ نے فرمایا : یہ شخص لوگوں کو وعظ نہیں کر رہا لیکن یہ دراصل یہ کہہ رہا ہے کہ میں فلاں بن فلاں ہوں مجھ کو پہچان لو (یعنی وعظ سے اس کا مقصد خود نمائی ہے) آپ نے اس کو بلا کر دریافت کیا : کیا تم قرآن مجید میں ناسخ اور منسوخ کو جانتے ہو ؟ اس نے کہا : نہیں ! آپ نے فرمایا : ہماری مسجد سے نکل جاؤ اور اس میں وعظ نہ کرو ایک روایت میں ہے آپ نے پوچھا : تم ناسخ اور منسوخ کو جانتے ہو ؟ اس نے کہا : نہیں ‘ آپ نے فرمایا : تم ہلاک ہوگئے ‘ تم ہلاک ہوگئے ‘ حضرت ابن عباس (رض) سے بھی اس روایت کی مثل منقول ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٢ ٦ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
ان احادیث اور آثار سے یہ واضح ہوگیا کہ بےعلم شخص کا وعظ کرنا جائز نہیں ہے۔ اس مسئلہ کو مزید منفح کرنے کے لیے ہم امام احمد رضا قادری (رح) کا حوالہ پیش کر رہے ہیں ‘ ان سے سوال کیا گیا :
کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ اس زمانہ بہت لوگ اس قسم کے ہیں کہ تفسیر و حدیث بےخواندہ و بےاجازت اساتذہ بر سر بازار ومسجد بطور وعظ ونصائح کے بیان کرتے ہیں حالانکہ معنی ومطلب میں کچھ مس نہیں فقط اردو کتابیں دیکھ کر کہتے ہیں ‘ ان کا کہنا اور بیان کرنا ان لوگوں کے لیے شرعا جائز ہے یا نہیں ؟ بینوا تو جروا
الجواب : حرام ہے اور ایسا وعظ سننا بھی حرام ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ ” من قال فی القران بغیر علم فلیتبوا مقعدہ من النار “ (جو شخص بغیر علم کے قرآن سے کچھ بیان کرے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنالے) والعیاذ باللہ (ترمذی) (فتوی رضویہ ج ١٠ ص ٢١٤‘ مطبوعہ ادارہ تصنیفات امام احمد رضا ‘ کراچی ‘ ١٩٨٨ ء ‘ مکتبہ رضویہ ج ١ رضویہ ج ١۔ ١٠ ص ١٨٨)
علماء اور مرشدین کے لیے جس قدر علم ضروری ہے اس کے متعلق امام بیہقی (رح) لکھتے ہیں :
امام شافعی (رح) نے فرمایا : عوام کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ تمام فرائض ‘ واجبات ‘ سنن اور آداب اور تمام محرمات اور مکروہات کا علم حاصل کریں اور خواص کے لیے ضروری ہے کہ وہ احکام شریعہ کی تمام فروعات ‘ قرآن مجید کی صریح عبارات ‘ دلالت ‘ اشارات اور اقتضاء نصوص کا علم حاصل کریں ‘ قیاس اور اس کی شرائط کا علم حاصل کریں اور ایسی مہارت حاصل کریں کہ ہر پیش آمدہ مسئلہ کا حل کتاب اور سنت سے بتایا جاسکے ‘ ہر شخص کے لیے اتنی مہارت حاصل کرنا ضروری نہیں لیکن مسلمانوں میں سے چند افراد کے لیے اتنا علم حاصل کرنا ضروری ہے ‘ ورنہ سب گنہ گار ہوں گے۔ (شعب الایمان ج ٢ ص ٢٥٣‘ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠١ ھ)
امام احمد رضا قادری (رح) نے شیخ طریقت کی چار شرطیں لکھی ہیں ‘ ان کے بغیر اس کا بیعت لینا جائز نہیں ہے۔
(١) مسلمان ہو اور اس کا عقیدہ صحیح ہو۔
(٢) عقائد کے دلائل اور تمام احکام شرعیہ کا عالم ہو ‘ حتی کہ ہر پیش آمدہ مسئلہ کا حل بیان کرسکتا ہو۔
(٣) علم کے مطابق عمل کرتاہو فرائض ‘ واجبات اور سنن اور مستحبات پر دائمی عمل کرتا ہو اور تمام محرمات اور مکروہات سے بچتا ہو۔
(٤) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک اس کی نسبت متصل ہو اور اس کے مشائض کا سلسلہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچتا ہو۔
ہمارے زمانہ میں بےعلم لوگ وعظ کرتے ہیں اور لوگوں سے بیعت لیتے ہیں یہ لوگ اپنی بےعلمی کا عیب چھپانے کے لیے علماء کی تنقیص کرتے ہیں ‘ ان کو منافق اور بےعمل کہتے ہیں اور سادہ وح عوام علماء کو چھوڑ کر بےعلم واعظین اور بےعلم مرشدین کے حلقہ ارادت میں کثرت سے شامل ہو رہے ہیں ہم اس جہالت اور تعصب سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔ (فتاوی افریقیہ ص ١٤٧۔ ١٤٦‘ ملخصا ‘ مطبوعہ مدینہ پبلیشنگ کمپنی ‘ کراچی)
بے علم کا اپنے آپ کو مولوی اور عالم کہنا ‘ وعظ کرنا اور مرید کرنا ‘ اس کے متعلق امام احمد رضا قادری (رح) لکھتے ہیں :
یونہی اپنے آپ کو بےضرورت شرعی مولوی صاحب لکھنا بھی گناہ و مخالف حکم قرآن عظیم ہے ‘ قال اللہ تعالیٰ (آیت) ” ھو اعلم بکم اذ انشاکم من الارض واذا انتم اجنۃ فی بطون امھتکم فلاتزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقی “ (النجم : ٣٢)
ترجمہ : اللہ تعالیٰ تمہیں خوب جانتا ہے کہ جب اوس نے تمہیں زمین سے اوٹھان دی اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں چھپے تھے تو اپنی جانوں کو آپ اچھا نہ کہو ‘ خدا خوب جانتا ہے جو پرہیز گار ہے ‘ اور فرماتا ہے :
(آیت) ” الم ترالی الذین یزکون انفسہم بل اللہ یزکی من یشآء “ (النساء : ٤٩)
ترجمہ : کیا تو نے دیکھا ان لوگوں کو جو اپنی جان کو ستھرا بتاتے ہیں بلکہ خدا ستھرا کرتا ہے جسے چاہے ‘ حدیث میں ہے ‘۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : ” من قال انا عالم فھو جاھل “ جو اپنے آپ کو عالم کہے وہ جاہل ہے۔ ” رواہ الطبرانی فی الاوسط عن ابن عمر (رض) بسند حسن “ ہاں ! اگر کوئی شخص حقیقت میں عالم دین ہو اور لوگ اس کے فضل سے ناواقف اور یہ اس سچی نیت سے کہ وہ آگاہ ہو کر فیض لیں ‘ اپنا عالم ہونا ظاہر کرے تو مضائقہ نہیں جیسے سیدنا یوسف علی نبینا الکریم وعلیہ الصلوۃ والتسلیم نے فرمایا تھا : ’‘(آیت) ” انی حفیظ علیم “ پھر یہ بھی سچے عالموں کے لیے ہے۔ زید جاہل کا اپنے آپ کو مولوی صاحب کہنا دونا گناہ ہے کہ اس کے ساتھ جھوٹ اور جھوٹی تعریف کا پسند کرنا بھی شامل ہوا قال اللہ تعالیٰ عزوجل
(آیت) ” لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا ویحبون ان یحمدوا بما لم یفعلوا فلاتحسبنھم بمفازۃ من العذاب ‘ ولھم عذاب الیم “۔ (آل عمران : ١٨٨)
ترجمہ : ہرگز نہ جانیو تو انہیں جو اتراتے ہیں اپنے کام پر اور دوست رکھتے ہیں اسے کہ تعریف کیے جائیں اس بات سے جو انہوں نے نہ کی تو ہرگز نہ جانیوا نہیں عذاب سے پناہ کی جگہ میں اور ان کے لیے دکھ کی مار ہے۔ ” معالم شریف “ میں عکرمہ تابعی شاگرد عبداللہ بن عباس (رض) سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ” یفرحون باضلالھم الناس وبنستہ الناس ایاھم الی العلم ولیسوا باھل العلم “۔ خوش ہوتے ہیں لوگوں کو بہکانے پر اور اس پر کہ لوگ انہیں مولوی کہیں حالانکہ مولوی نہیں “ جاہل کی وعظ گوئی بھی گناہ ہے ‘ وعظ میں قرآن مجید کی تفسیر ہوگی یا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث یا شریعت کا مسئلہ اور جاہل کو ان میں کسی چیز کا بیان جائز نہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ” من قال فی القران بغیر علم فلیتبوا مقعدہ من النار “ جو بےعلم قرآن کی تفسیر بیان کرے وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے “ رواہ الترمذی وصححہ عن ابن عباس (رض) ۔ احادیث میں اسے صحیح وغلط وثابت و موضوع کی تمیز نہ ہوگی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں “ من یقل علی مالم اقل فلیتبوا مقعدہ من النا “ (جو مجھ پر وہ بات کہے جو میں نے نہ فرمائی وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنالے) رواہ البخاری فی صحیحہ عن سلمۃ بن الاکوع (رض) اور فرماتے ہیں ‘ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : ” افتوابغیر علم فضلوا واضلوا، بےعلم مسئلہ بیان کیا سو آپ بھی گمراہ ہوئے اور لوگوں کو بھی گمراہ کیا “ رواہ الائمۃ احمد والشیخان والترمذی وابن ماجۃ عن عبداللہ بن عمر ورضی اللہ تعالیٰ عنہ “۔ دوسری حدیث میں آیا ‘ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السماء والارض “ ، جو بےعلم فتوی دے اسے آسمان و زمین کے فرشتے لعنت کریں “ رواہ ابن عساکر عن امیر المومنین علی کرم اللہ وجھہ۔ جاہل کا پیر بننا ‘ لوگوں کو مرید کرنا ‘ چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانا ‘ چھوٹا منہ بڑی بات ہے ‘ پیر ہادی ہوتا ہے اور جاہل کی نسبت ابھی حدیثوں سے گزرا کہ ہدایت نہیں کرسکتا ‘ نہ قرآن سے نہ حدیث سے نہ فقہ سے۔
کہ بےعلم نتواں خدرارشناخت :
(امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ ‘ فتاوی رضویہ ج ١۔ ١٠ ص ٩٦۔ ٩٥ مطبوعہ مکتبہ رضویہ ‘ کراچی)
امام احمد رضا قادری (رح) سے سوال کیا گیا۔
مسئلہ : از اجمیر مقدس محلہ لاکھی کوٹھڑی اوپری گلی نزد پیرزادگان مسؤلہ کمال الدین ٨ شوال ٢٩ ھ )
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک اپنے کو عوام پر مولوی ظاہر کرے جس نے نہ تو کسی مدرسہ میں تعلیم باقاعدہ حاصل کی ہو اور نہ جس نے کوئی سند منشی عالم فاضل کی حاصل کی اور خود ساختہ استفتاء پر خود ہی جواب تحریر کردے اور طلباء ومدرسین سے دستخظ کرائے اور جس سے اپنی ذات کا متمتع ہونا مقصود ہو اور جو جید عام ومولوی صاحبان وقاضی صاحب شہرت حاصل کرنے اور زر حاصل کرنے کی غرض سے جابجا حملہ کرے اور جو مدت تک قاضی صاحب کے پیچھے نماز ادا کرتا رہا اور چند روز سے قاضی صاحب کے پیچھے نماز ادا نہیں کرتا ہے اور صدہا علماء قاضی صاحب کے پیچھے نماز ادا کرتے رہے ہیں۔ یبنوا توجروا۔
الجواب : سند حاصل کرنا تو کچھ ضرور نہیں ہاں باقاعدہ تعلیم پانا ضرور ہے ‘ مدرسہ میں ہو یا کسی عالم کے مکان پر اور جس نے بےقاعدہ تعلیم پائی وہ جاہل محض سے بدتر نیم ملاخطرہ ایمان ہوگا ‘ ایسے شخص کو فتوی نویسی پر جرات حرام ہے ‘ حدیث میں ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : ” من افتی بغیر علم لعنتہ ملائکۃ السماء والارض، جو بےعلم فتوی دے اس پر آسمان و زمین کے فرشتوں کی لعنت ہے “ اور اگر فتوی سے اگرچہ صحیح ہو وجہ اللہ مقصود نہیں بلکہ اپنا کوئی دنیاوی نفع منظور ہے تو یہ دوسرا سبب لعنت ہے کہ آیات اللہ کے عوض ثمن قلیل حاصل کرنے پر فرمایا :
(آیت) ” اولئک لا خلاق لھم فی الاخرۃ ولا یکلمھم اللہ ولا ینظر الیہم یوم القیمۃ ولا یزکیھم ولہم عذاب الیہم “۔ (آل عمران : ٧٧)
ترجمہ : ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ ان سے کلام نہ فرمائے گا اور نہ قیامت کے دن ان کی طرف نظر رحمت کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ “
اور علمائے دین کی توہین کرنے والا منافق ہے ‘ حدیث میں ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ” ثلثۃ لا یستخف بحقھم الامنافق بین النفاق ذوالعلم وذوالشیبۃ فی الاسلام و امام مقسط “۔ تین شخصوں کا حق ہلکا نہ جانے گا مگر جو منافق کھلا منافق ہو ‘ (١) عالم ‘(٢) اور وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیا اور (٣) سلطان اسلام عادل۔ تحصیل زر کے لیے علماء ومسلمین پر بےجا حملہ کرنے والا ظالم ہے اور ظلم قیامت کے دن ظلمات۔ قاضی مذکور جیسے امام کے پیچھے بلاوجہ شرعی نماز ترک کرنا تفریق جماعت یا ترک جماعت ہے اور دونوں حرام و ناجائز۔ واللہ تعالیٰ اعلم (فتوی رضویہ ج ٢۔ ١٠ ص ٣٠٨‘ مطبوعہ مکتبہ رضویہ ‘ کراچی)
اعلی حضرت (رح) کے اس جواب سے یہ ظاہر ہوگیا کہ بےعلم کا وعظ کرنا اور لوگوں کو بیعت کرنا جائز نہیں ہے اور علماء دین کی توہین کرنا نفاق ہے جیسا کہ جاہل پیروں کا عام وطیرہ ہے ‘ وہ علماء دین کی تخفیف کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور صبر اور نماز (کے ذریعہ) سے مدد حاصل کرو۔ (البقرہ : ٤٥)
اللہ تعالیٰ نے ان کو گمراہ رہنے اور گمراہ کرنے سے منع فرمایا ‘ اور یہ ان کے لیے دشوار امر تھا ‘ کیونکہ گمراہی ان کی طبیعت میں رچ اور بس چکی تھی ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے مرض کا علاج بتلا دیا کہ وہ صبر کریں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ روزے رکھیں۔
صبر کے معانی :
صبر کا معنی ہے : کسی چیز کو تنگی میں روکنا ‘ نیز کہتے ہیں کہ نفس کو عقل اور شریعت کے تقاضوں کے مطابق روکنا صبر ہے۔ مختلف مواقع اور محل استعمال کے اعتبار سے صبر کے مختلف معانی ہیں ‘ مصیبت کے وقت نفس کے ضبط کرنے کو صبر کہتے ہیں ‘ اس کے مقابلہ میں جزع اور بےقراری ہے ‘ اور جنگ میں نفس کے ثابت قدم رہنے کو بھی صبر کہتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں بزدلی ہے ‘ حرام کاموں کی تحریک کے وقت حرام کاموں سے رکنے کو بھی صبر کہتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں فسق ہے ‘ عبادت میں مشقت جھیلنے کو بھی صبر کہتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں معصیت ہے ‘ قلیل روزی پر قناعت کو بھی صبر اور اس کے مقابلہ میں حرص ہے ‘ دوسروں کی ایذارسانی برداشت کرنے کو بھی صبر کہتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں انتقام ہے۔
صبر کے متعلق احادیث :
حافظ سیوطی (رح) بیان کرتے ہیں :
امام ابن ابی حاتم (رح) نے حضرت عمر بن الخطاب (رض) سے روایت کیا ہے کہ صبر کی دو قسمیں ہیں ‘ مصیبت کے وقت صبر اچھا ہے ‘ اور اس سے بھی اچھا صبر ہے اللہ کے محارم سے صبر کرنا (یعنی نفس کو حرام کاموں سے روکنا )
امام ابن ابی الدنیا ‘ ابو الشیخ اور دیلمی (رح) نے حضرت علی (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صبر کی تین قسمیں ہیں ‘ مصیبت پر صبر کرنا ‘ اطاعت پر صبر کرنا ‘ اور معصیت سے صبر کرنا۔
امام احمد (رح) ‘ امام عبد بن حمید (رح) ‘ امام ترمذی (رح) ‘ امام ابن مردویہ (رح) ‘ اور امام بیہقی (رح) نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ میں سواری پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا ‘ آپ نے فرمایا : اے بیٹے ! کیا میں تم کو ایسے کلمات نہ سکھاؤں جن سے اللہ تمہیں نفع دے ‘ میں نے کہا : کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا : اللہ کو یاد رکھو ‘ اللہ تمہیں یاد رکھے گا ‘ اللہ کو یاد رکھو تم اس کو اپنے سامنے پاؤ گے اللہ تعالیٰ کو آسانی میں یادرکھو وہ تم کو مشکل میں یاد رکھے گا ‘ اور جان لو کہ جو مصیبت تمہیں پہنچی ہے اور تم سے ٹلنے والی نہیں تھی اور جو مصیبت تم سے ٹل گئی ہے وہ تمہیں پہنچنے والی نہیں تھی اور اللہ نے تمہیں جس چیز کے دینے کا ارادہ نہیں کیا تمام مخلوق بھی جمع ہو کو تمہیں وہ چیز نہیں دے سکتی اور جو چیز اللہ تمہیں دنیا چاہے تو سب مل کر اس کو روک نہیں سکتے ‘ قیامت تک کی تمام باتیں لکھ کر قلم خشک ہوگیا ہے ‘ جب تم سوال کرو تو اللہ سے کرو اور جب تم مدد چاہو تو اللہ سے چاہو اور جب تم کسی کا دامن پکڑو تو اللہ کا دامن پکڑو ‘ اور شکر کرتے ہوئے اللہ کے لیے عمل کرو اور جان لو کہ ناگوار چیز پر صبر کرنے میں خیر کثیر ہے اور صبر کے ساتھ نصرت ہے اور تکلیف کے ساتھ کشادگی ہے اور مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ امام بیہقی (رح) نے حضرت ابو الحویرث سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے لیے خوشی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے بہ قدر حاجت رزق دیا اور اس نے اس پر صبر کیا۔
امام بخاری (رح) نے ” الادب المفرد “ میں اور امام ترمذی اور امام ابن ماجہ (رح) نے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو مسلمان لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے اور ان کی ایذاء پر صبر کرتا ہے وہ اس مسلمان سے بہتر ہے جو لوگوں سے مل جل کر نہیں رہتا اور ان کی ایذاء پر صبر نہیں کرتا۔
امام بیہقی (رح) نے ” شعب الایمان “ میں حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ایمان کے دو حصے ہیں ‘ نصف صبر ہے اور نصف شکر ہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٦٧۔ ٦٥‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)
نماز سے مدد حاصل کرنے کا بیان :
جب وہ روزہ رکھ کر اپنے نفس کو صاف کرلیں گے تو ان کو دعاؤں کا قبول ہونا زیادہ متوقع ہوگا اور نماز سے مدد حاصل کرنے کی بھی یہی صورت ہے کیونکہ نماز کی صورت میں متعدد عبادات حاصل ہوجاتی ہیں ‘ مثلا اعتکاف ‘ قرآن مجید کا پڑھنا ‘ تسبیح اور استغفار وغیرہ اور نماز میں اللہ تعالیٰ سے مناجات ہے اور نماز سے بندہ کے گناہ دھل جاتے ہیں اور انسان دن میں پانچ مرتبہ نماز پڑھتا ہے تو جب وہ گناہوں سے پاک صاف ہو کر تسبیح اور استغفار کے بعد دن میں پانچ مرتبہ اللہ تعالیٰ سے مناجات کرے گا تو اس کی دعا کا قبول ہونا زیادہ متوقع ہے۔
حافظ سیوطی (رح) بیان کرتے ہیں :
امام احمد (رح) امام ابن جریر (رح) اور امام ابوداؤد (رح) نے حضرت (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی چیز سے خوف یا دہشت لاحق ہوتی تو آپ نماز پڑھتے۔
امام ابن ابی الدنیا (رح) اور امام ابن عساکر (رح) نے حضرت ابودرداء (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب کسی رات کو آندھی آتی تو آندھی رکنے تک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں پناہ لیتے اور جب سورج گرہن لگتا یا چاند گرہن لگتا تو نماز پڑھتے۔
امام سعید بن منصور (رح) ‘ امام ابن المنذر (رح) ‘ امام حاکم (رح) ‘ اور امام بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ایک سفر میں ان کو ان کے بیٹے کی موت کی خبر دی گئی ‘ وہ سواری سے اترے ‘ دو رکعت نماز پڑھی اور ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھا اور کہا : ہم نے اللہ کے حکم پر عمل کیا ہے کہ ” صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو “۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٦٧‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک نماز ضرور دشوار ہے ‘ سوا ان لوگوں کے جو (اللہ کے لیے) خشوع کرنے والے ہیں۔۔ (البقرہ : ٤٥)
خشوع کا معنی :
علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں :
نفس کی وہ حالت جس کا اثر ظاہری اعضاء میں سکون اور تواضع سے ظاہر ہوتا ہے اس کو خشوع کہتے ہیں ‘ قتادہ (رض) نے کہا : دل میں خوف اور نماز میں نماز میں نظر نیچی رکھنے کو خشوع کہتے ہیں ‘ زجاج نے کہا : جس پر ؟ ذلت کے آثار دکھائی دیں وہ خشوع کرنے والا ہے ‘ ابراہیم نخعی (رح) نے کہا : سوکھی روٹی کھانے ‘ سخت اور موٹے کپڑے پہننے اور سر جھکانے سے خشوع نہیں ہوتا ‘ خشوع یہ ہے کہ حق بات میں تمہارے نزدیک معزز اور حقیر برابر ہوں ‘ اور اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی تم پر فرض کی ہے اس کی اطاعت میں جھک جاؤ حضرت عمر بن الخطاب نے ایک شخص کو سرجھکائے دیکھا تو فرمایا : سراٹھاؤ ‘ خشوع صرف تمہارے دل میں ہے ‘ حضرت علی بن ابی طالب نے فرمایا : خشوع دل میں ہوتا ہے اور یہ کہ مسلمانوں کے لیے تمہارے ہاتھ ملائم ہوں ‘ اور نماز میں ادھر ادھر التفات نہ کرو ‘ جس نے اپنے دل سے زیادہ خشوع کو ظاہر کیا اس نے نفاق کو ظاہر کیا۔ سہل بن عبداللہ نے کہا : خشوع اس وقت ہوگا جب خوف خدا سے تمہارے بدن کا ہر رونکٹا کھڑا ہوجائے ‘ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” تقشعر منہ جلود الذین یخشون ربہم “۔ (الزمر : ٣٣)
ترجمہ : (قرآن سننے سے) ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔
سلف صالحین اپنے خشوع کے اثرات کو چھپانے کی کوشش کرتے تھے۔ ایسا خشوع محمود ہے اور خشوع مذموم یہ ہے جیسے جاہل لوگ تکلف سے روتے ہیں اور سرجھکاتے ہیں تاکہ لوگ ان کو نیک اور بزرگ جانیں ‘ یہ نفس کا فریب اور شیطان کا گمراہ کرنا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ٣٧٥۔ ٣٧٤‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ مشرکین اور جو لوگ فسق وفجور میں ڈوبے ہوئے اور آخرت کے منکر ہیں ان پر نماز کا پڑھنا دشوار ہے اور جو مخلص مومنین ہیں اور اطاعت گزار ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور اس کے دیدار کے مشتاق ہیں ان پر نماز آسان ہے اس کسوٹی پر اپنے آپ کو پرکھ کر دیکھنا چاہیے اور اگر ہمیں نماز پڑھنا گراں اور دشوار معلوم ہو تو ہمیں اپنے ایمان اور آخرت پر یقین کا جائزہ لینا چاہیے۔

[Tibyan-ul-Quran 2:41]