مقدمہ

دین اسلام کامل و اکمل ضابطہ حیات ہے۔ ہمار ے معاشرتی و انفرادی ارتقاء کا مدار قانونِ اسلامی پر عمل میں ہے۔ زندگی کے ہر شعبے سے متعلق رہنما اصول موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیۡکُمْ نِعْمَتِیۡ وَرَضِیۡتُ لَکُمُ الۡاِسْلَامَ دِیۡنًا ؕ

ترجمہ کنز الایمان: ”آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا”۔(المائدۃ :۳)
دین اسلام نے دیگر شعبہ ہائے زندگی کے علاوہ خصوصیت کے ساتھ فرد کی شخصی تعمیر پر زور دیا ہے تاکہ انسان کی نجی ، خاندانی اور تمدنی معاشرت ہر قسم کے سقم سے محفوظ رہے۔ قوانین و احکام شریعت کو نافذ کرنے کیلئے سرکارِ دوجہاں علیہ الطیب التحیۃ و اجمل الثناء کی حیات مقدسہ کااسوہ و نمونہ ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے۔
اسلام نے فرد کا احترام کیا اسے اپنی مرضی سے پروان چڑھنے اور آزادانہ زندگی گزارنے کی اجازت دی مگر کچھ حدود مقرر فرمائیں۔ معاشرتی ارتقاء انفرادی و شخصی تعمیر میں مضمر ہے اور یہ اصول کسی ذی فہم و فراست سے پوشیدہ نہیں کہ فرد ہی سے معاشرہ تکمیل پاتا ہے۔ معاشرے کے افراد باہم متعلق ہوتے ہیں اور ان کے اس تعلق کومختلف

انواع کے اعتبار سے مختلف نام دیئے جاتے ہیں اور اس سلسلے میں اہم ترین تعلق زوجین کا بھی ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے کہ یہی رشتہ قوموں میں باہم تعلق کا سبب بنا اور بن رہا ہے۔
اسلام کا منشاء یہ ہے کہ جو افرادِ معاشرہ باہم ازدواجی رشتہ سے منسلک ہو جائیں ان کے تعلقِ نکاح کو قائم رکھنے کی حتی المقدور کوشش کی جائے اور ان کی باہمی معاشرت ایسی ہو کہ جس سے انسانی معاشرے کا قصرِ رفیع تعمیر ہو۔ اللہ جل مجدہ الکریم فرماتا ہے: ” ہُنَّ لِبَاسٌ لَّکُمْ وَاَنۡتُمْ لِبَاسٌ لَّہُنَّ ؕ ”

ترجمہ کنز الایمان: ” وہ تمہاری لباس ہیں اور تم ان کے لباس”۔(البقرۃ/۱۸۷)
جس طرح لباس پردہ ہے عیوب کو چھپاتا ہے، زینت ہے حسن و جمال کو نکھارتا ہے۔ راحت ہے سردی و گرمی سے بچاتا ہے بعینہ، میاں بیوی ایک دوسرے کیلئے پردہ، زینت اور راحت ہوں اور یوں ملت اسلامیہ کا ہر گھر جنت نظیر بن جائے۔ اسکے برعکس اگر عدم موافقت و مخالفت کی کیفیت پیدا ہو جائے یا باہمی منافرت جنم لے تو ارباب حل و عقد اس اختلاف و عدم اتفاق کی بیخ کنی کی بھرپور سعی کریں۔ اور انہیں ذہنی طور پر یکجا کریں کیونکہ ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے ابتداء عدم موافقت اور پھر باہمی منافرت و تنازعات کی کیفیت ہو جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ پاکیزہ رشتہ قائم رکھنا مشکل بلکہ بعض اوقات ناممکن ہوجاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہے کہ یہ رشتہ ازدواج قائم رہے لیکن جب قوی اندیشہ ہو کہ عدم موافقت کی وجہ سے وہ باہم حدو د اللہ قائم نہ رکھ سکیں گے اور نکاح کے فوائد و ثمرات فوت ہو جائیں گے تو اسلام نے طلاق اور اسکے متعلقات کا

ایک ایسا مربوط نظام عطا فرمایا ہے کہ جس کے اپنے اصول و ضوابط ہیں ، ان میں بھی انسان کی فوز و فلاح پوشیدہ ہے مگر افسوس عوام الناس ، اپنی لا علمی و جہالت کی وجہ سے اس نظام کے چشمہ صافی سے سیراب ہونے سے محروم ہیں۔ طلاق کے ہتھیار کو بے دریغ استعمال کرنے کی وجہ سے معاشرے کا امن و سکون اور اعلی اقدار روبہ زوال ہیں۔ معاشرتی زندگی میں سخت بے چینی واضطراب ہے۔ دلخراش اور جذبات کو لہو لہان کرنے والے بیسیوں واقعات ہمارے سامنے ہیں۔ جنہیں دیکھ کر دل کانپ اٹھتا ہے اور روح پر غم و اندوہ چھا جاتا ہے۔ ضرورت ہے کہ مسائل طلاق کو عام فہم اندا ز میں عوام الناس میں پیش کیا جائے ۔
الحمد للہ ! اس معاشرتی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے رب کائنات عزوجل کے کرم اور محبوب کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے طفیل برادرِ محترم مفتی محمد قاسم قادری صاحب نے، اللہ تعالیٰ ان کے علوم اور فیوض و برکات میں اضافہ فرمائے ،مسلمان بھائیوں کی خیر خواہی کے اس نظام کو متعارف کر وانے کیلئے یہ کتاب تالیف فرمائی جو کہ آسان ،عام فہم اور انتہائی سلیس انداز میں ہونے کے باوجود ربط و روانی، فقہی گہرائی و گھرائی اور جامعیت کو اپنے جلو میں لئے ہوئے ہے۔
ان شاء اللہ عزوجل اس کتاب پر عمل کرنے سے طلاق کے غلط استعمال کی وجہ سے معاشرے میں نفرت و عداوت کا جو رستا ہوا ناسور قلق اور افتراق کے جراثیم پھیلا رہا ہے اس کیلئے مر ہم کا کام دے گی۔
دعاہے کہ اللہ و رسول لواکی بارگاہ بے کس پناہ میں یہ کتاب مقبول ہو اور

مسلمانوں کیلئے مفید ہو۔
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
محمد نعیم العطاری المدنی
۹ جمادی الاوّل ۱۴۲۴؁ھ بمطابق ۸ جولائی ۲۰۰۳؁ء