بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰبَنِىۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ اذۡكُرُوۡا نِعۡمَتِىَ الَّتِىۡٓ اَنۡعَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ وَاَنِّىۡ فَضَّلۡتُكُمۡ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ

اے بنو اسرائیل ! میری اس نعمت کو یاد کرو جو میں نے تم کو عطا کی تھی اور یہ کہ میں نے تم کو (اس زمانہ کے) لوگوں پر فضیلت دی تھی

اس آیت کو دوبارہ ذکر کیا ہے تاکہ بنو اسرائیل کو نعمتیں یاد دلانے کی تاکید ہو اور اس میں یہ تنبیہہ ہے کہ بنواسرائیل اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا حق ادا کرنے سے غافل ہیں ‘ اس آیت میں فرمایا ہے کہ میں نے تم کو تمام عالمین پر فضیلت دی تھی ‘ اس پر یہ سوال ہے کہ تمام عالمین میں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کی امت بھی داخل ہے حالانکہ یہود ان سے افضل نہیں ہیں ‘ اس کا جواب یہ ہے عالمین سے مراد ان کے زمانہ کے لوگ ہیں قیامت تک کے لوگ مراد نہیں ہیں۔ اس تاویل کی اس لیے ضرورت ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کو خیر امت قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
(آیت) ” کنتم خیرا امۃ اخرجت للناس “۔ (آل عمران : ١١٠)
ترجمہ : تم ان امتوں میں سب سے بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ہیں۔
ہر چند کے اس آیت کے مخاطب سیدنا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کے بنو اسرائیل ہیں مگر اس سے مراد ان کے آباء و اجداد ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں ان کے بعد تھے ‘ جنہوں نے اپنے دین میں کوئی تغیر اور تبدل کیا تھا اور نہ تورات میں کوئی تحریف کی تھی ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو بہت نعمتیں عطا فرمائی تھیں اللہ تعالیٰ ارشاد ہے :
(آیت) ” واذ قال موسیٰ لقومہ یقوم اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اذ جعل فیکم انبیآء وجعلکم ملوکا واتکم ما لم یؤت احدا من العلمین۔ (المائدہ : ٢٠)
ترجمہ : اور یاد کیجئے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی امت سے کہا : اے میری امت ! اللہ کی وہ نعمتیں یاد کرو جو اس نے تم کو عطا کیں ‘ جب اس نے تم میں انبیاء بنائے اور تم کو بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ دیا جو (اس زمانہ میں) سارے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیا تھا۔
یہ نعمتیں ان مخاطبین کے حق میں اس لیے نعمتیں ہیں کہ آباء و اجداد کی فضیلتیں اولاد کے حق میں بھی موجب شرف ہوتی ہیں۔
پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان یہودیوں کو اپنی نعمتیں یاد دلا کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن پر ایمان لانے کی دعوت دی اور دوسری آیت میں اللہ تعالیٰ ان کو عذاب آخرت سے ڈرا کر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے۔ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے بنو اسرائیل ! اگر تم نے اللہ کی نعمتوں اور اس کی دی ہوئی فضیلتوں کے تقاضوں کو پورا نہ کیا اور حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان نہ لائے تو تم اللہ کے عذاب سے کسی طرح بچ نہیں سکو گے ‘ سزا سے بچنے کی چار صورتیں ہیں ‘ ایک صورت یہ ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ مجرم کے بدلہ میں اس شخص کو سزادی جائے ‘ دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص مجرم کی سفارش کر دے ‘ تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص مجرم کی طرف سے تاوان یافدیہ ادا کرے اور چوتھی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص دباؤ اور زور ڈال کر مجرم کی مدد کرے اور اس کو عذاب سے چھڑا لے ‘ ان چاروں صورتوں میں سے کسی صورت سے بھی مجرم کو اللہ کے عذاب سے چھڑایا نہیں جاسکتا۔
شفاعت کی تحقیق :
اس آیت سے بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ مجرموں کی شفاعت جائز نہیں ہے ‘ خوارج اور معتزلہ کا یہی مذہب ہے ‘ شیخ ابن تیمیہ اور شیخ محمد بن عبد الوہاب نجدی کا بھی یہی نظریہ ہے، شیخ اسماعیل دہلوی کا بھی یہی مذہب ہے اور ان کے متبعین کا بھی یہی نظریہ ہے اور اہل سنت کا مسلک یہ ہے کہ اللہ کے اذن سے انبیاء (علیہم السلام) ‘ ملائکہ ‘ اولیاء کرام ‘ علماء ‘ حفاظ قرآن اور صالح مومینن گنہ گاروں کی شفاعت کریں گے ‘ یہ شفاعت گناہ کبیرہ کرنے والوں کی مغفرت اور تخفیف عذاب کے لیے ہوگی اور صالحین کیلیے ترقی درجات کی شفاعت ہوگی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعض کفار کے بھی تخفیف عذاب کی شفاعت کریں گے ‘ شفاعت کبری اور شفاعت کی بعض دیگر اقسام ہمارے سیدنا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خصائص میں سے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کو شفاعت بالوجاہت بھی عطا فرمائی ہے۔
ہم نے ” شرح صحیح مسلم “ جلد ثانی میں مسئلہ شفاعت پر تفصیل بحث کی ہے ‘ شفاعت کا معنی ‘ منکرین شفاعت کے مذاہب ‘ ان کے دلائل اور ان کے جوابات بیان کیے ہیں اور شفاعت کے ثبوت میں قرآن مجید کی پچاس سے زیادہ آیات اور چالیس احادیث ذکر کی ہیں اور مسئلہ شفاعت پر اعتراضات کے جوابات دیئے ہیں اور شفاعت کی ٤٩ اقسام ذکر کی ہیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص اقسام کا بیان کیا ہے ‘ اس مسئلہ کو تفصیل سے جاننے کے لیے اس مقام کا مطالعہ کرنا چاہیے۔
اس جگہ ہم شفاعت کے ثبوت میں قرآن مجید کی چند آیات اور بعض احادیث ذکر کریں گے۔ فنقول وباللہ التوفیق وبہ الاستعانۃ یلیق۔
شفاعت پر قرآن کریم سے دلائل :
انبیاء (علیہم السلام) کی شفاعت :
حضرت نوح (علیہ السلام)
(١) (آیت) ” رب اغفرلی ولوالدی ولمن دخل بیتی مؤمنا “۔ (نوح : ٢٨)
ترجمہ : اے میرے رب ! میری ‘ میرے والدین کی اور جو مومن میرے گھر میں داخل ہوں ان کی مغفرت فرما۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام)
(٢) (آیت) ” ربنا اغفرلی والوالدی ولمؤمنین یوم یقوم الحساب “۔۔ (ابراہیم : ٤١)
ترجمہ : اے ہمارے رب ! روز حشر میری ‘ میرے والدین کی اور تمام مومنوں کی مغفرت فرما۔
(٣) (آیت) ” ساستغفرلک ربی ‘ انہ کان بی حفیا “۔۔ (مریم : ٤٨)
ترجمہ : میں عنقریب اپنے رب سے تیری شفاعت کروں گا ‘ وہ مجھ پر مہربان ہے۔
(٤) (آیت) ” الا قول ابراھیم لابیہ لاستغفرلک “۔ (الممتحنہ : ٤)
ترجمہ : مگر ابراہیم (علیہ السلام) کا قول اپنے باپ کے لیے کہ میں تیری شفاعت کروں گا۔
(٥) (آیت) ” فمن تبعنی فانہ منی ‘ ومن عصانی فانک غفور رحیم “۔۔ (ابراہیم : ٢٤)
ترجمہ : جو میرا پیروکار ہے ‘ وہ میرا ہے اور جس نے میرے کہنے پر عمل نہیں کیا تو اس کے لیے تو بخشنے والا اور مہربان ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام)
(٦) (آیت) ” رب اغفرلی ولاخی وادخلنا فی رحمتک “۔ (الاعراف : ١٥١)
ترجمہ : اے میرے رب ! مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرما اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر دے۔
حضرت یعقوب (علیہ السلام)
(٧) (آیت) ” سوف استغفرلکم ربی، انہ ھو الغفور الرحیم۔۔ (یوسف : ٩٨)
ترجمہ : میں عنقریب اپنے رب سے تمہاری شفاعت کروں گا لاریب وہ بخشنے والا مہربان ہے۔
حضرت یوسف (علیہ السلام)
(٨) (آیت) ” لاتثریب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم (یوسف : ٩٢)
ترجمہ : آج تم پر کوئی ملامت نہیں ‘ اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت فرمائے :
حضرت عسیٰ (علیہ السلام)
(٩) (آیت) ” ان تعذبہم فانہم عبادک ‘ وان تغفرلہم فانک انت العزیز الحکیم۔ (المائدہ : ١١٨)
ترجمہ : اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کو بخش دے تو تو غالب اور حکمت والا ہے۔
حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے طلب شفاعت :
(١٠) (آیت) ” ولو انہم اذ ظلموا انفسہم جآءوک فاستغفروا اللہ واستغفرلہم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما۔ (النساء : ٦٤)
اگر یہ لوگ گناہ کرکے اپنی جانوں پر ظلم کربیٹھیں تو آپ کی بارگاہ میں حاضری دیں ‘ اپنے گناہوں پر اللہ تعالیٰ سے توبہ کریں اور آپ ان کی شفاعت کردیں تو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔
(١١) (آیت) ” واستغفر لذنبک وللمؤمنین ولمؤمنت “۔ (محمد : ١٩)
ترجمہ : اور اپنے (بہ ظاہر) خلاف اولی کاموں اور مسلمانوں مردوں اور مسلمان عورتوں کے لیے مغفرت طلب کیجئے۔
(١٢) (آیت) ” فاعف عنھم واستغفرلھم “۔ (آل عمران : ١٥٩)
ترجمہ : ان کو معاف کردیجیے اور ان کیلیے شفاعت کیجئے۔
صالحین کی شفاعت مومنین کے لیے :
(١٣) ربنا اغفرلنا ولا خواننا الذین سبقونا بالایمان “۔ (الحشر : ١٠)
ترجمہ : اے ہمارے رب ! ہماری مغفرت فرما اور ہم سے پہلے گزرے ہوئے ہمارے مسلمانوں بھائیوں کی۔
فرشتوں کی شفاعت :
(١٤) (آیت) ” الذین یحملون العرش ومن حولہ یسبحون بحمد ربہم ویؤمنون بہ ویستغفرون للذین امنوا “۔ (المومن : ٧)
ترجمہ : وہ فرشتے جو عرش الہی کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے ارد گرد ہیں وہ اپنے رب کی حمد اور تسبیح کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں اور مسلمانوں کے لیے بخشش طلب کرتے ہیں۔
(١٥) (آیت) ” یوم یقوم الروح والمآئکۃ صفا لا یتکلمون الا من اذن لہ الرحمن وقال صوابا “۔ (النبا : ٣٨)
ترجمہ : جس جبرئیل اور عام فرشتے صف باندھے کھڑے ہوں گے اس دن اللہ تعالیٰ کے حضور وہی بات کرسکے گا جس کو رحمن اجازت دے گا اور وہ صحیح بات کرے گا۔۔
(١٦) (آیت) ” ولا یشفعون الا لمن ارتضی “۔ (الانبیا : ٢٨)
ترجمہ : اور فرشتے اسی کی شفاعت کریں گے جس کی شفاعت پر اللہ تعالیٰ راضی ہوگا۔
(١٧) فاغفر للذین تابوا واتبعوا سبیلک وقہم عذاب الجحیم “۔ (المؤمن : ٧)
اے اللہ ! ان لوگوں کو معاف کر جنہوں نے توبہ کی اور تیری راہ پر چلے اور ان کو جہنم کے عذاب سے بچا۔
(١٨) (آیت) ” ربنا وادخلہم جنت عدن التی وعدتہم ومن صلح من ابآۂم وازواجھم وذریتھم انک انت العزیز الحکیم۔ (المؤمن : ٨)
ترجمہ : اے ہمارے رب ! مسلمانوں کو دائمی جنت میں داخل فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے اور جو ان کے آباء ازواج اور اولاد میں سے صالح ہوں ‘ ان کو بھی جنت میں داخل فرما ‘ لاریب تو غالب اور حکمت والا ہے۔
(١٩) (آیت) ” وقہم السیات ومن تق السیات یوئذ فقد رحمتہ وذلک ھو الفوز العظیم۔ (المؤمن : ٩)
ترجمہ : اے اللہ ! ان لوگوں کو گناہوں کے عذاب سے بچا لیا اس پر تو نے رحم کیا ‘ اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔۔
کفار کا شفاعت سے محروم ہونا ‘ شفاعت کا ان کے لیے نفع آور نہ ہونا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہونا اور اس محرومی پر ان کی حسرت (اگر مسلمانوں کو بھی کسی کی نصرت اور شفاعت حاصل نہ ہو تو کفار کے لیے یہ محرومی باعث حسرت نہ ہوگی کیونکہ وہ دیکھیں گے کہ مسلمان بھی اس محرومی میں ان کے ساتھ ہیں)
(٢٠) (آیت) ” فما تنفعھم شفاعۃ الشفعین۔ (المدثر : ٤٨)
ترجمہ : کفار کو شفاعت کرنے والوں کی شفاعت نفع نہ دے گی۔
(٢١) (آیت) ” فھل لنا من شفعآء فیشفعوالنا، (الاعراف : ٥٣)
ترجمہ : تو کیا ہماری شفاعت کرنے والے کوئی ہیں ؟
(٢٢) (آیت) ” فمالنا من شافعین۔ (الشعرا : ١٠٠)
ترجمہ : جو ہماری شفاعت کریں۔۔
(٢٣) (آیت) ” لیس لھم من دونہ ولی ولا شفیع “۔ (الانعام : ٥١)
ترجمہ : اللہ سے ہٹ کر کفار کا کوئی مددگار ہے نہ کوئی شفاعت کرنے والا۔
(٢٤) (آیت) ” مالظلمین من حمیم ولا شفیع یطاع۔۔ (المؤمن : ١٨)
ترجمہ : کفار کے لیے کوئی ایسا مددگار اور شفاعت کرنے والا نہ ہوگا جس کی بات مانی جائے۔
شفاعت پر احادیث سے دلائل :
امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز دیکھوں گا۔ اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا مجھے سجدہ میں رکھے گا ‘ پھر مجھ سے کہا جائے گا : اپنا سر اٹھاؤ ‘ مانگو ملے گا ‘ شفاعت کرو قبول ہوگی ‘ پھر میں اپنے رب کی وہ حمد کروں گا جو اللہ تعالیٰ مجھے اس وقت تعلیم کرے گا ‘ پھر میں شفاعت کروں گا ‘ پھر میرے لیے ایک حد مقرر کی جائے گی ‘ پھر میں گنہگاروں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کردوں گا ‘ پھر میں دوبارہ سجدہ کروں گا اور پھر شفاعت کروں گا (تین یا چار بار) حتی کہ جہنم میں صرف وہ لوگ رہ جائیں گے جن کو قرآن نے روک لیا ہے۔ قتادہ (رض) کہتے تھے جن پر جہنم کا دوام واجب ہوچکا ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٠ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن میری شفاعت حاصل کرنے میں سب سے زیادہ کامیاب شخص وہ ہوگا جس نے خلوص دل سے کلمہ پڑھا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٠‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئیں ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ ایک ماہ کی مسافت کے رعب سے میری مدد کی گئی ‘ تمام روئے زمین کو میرے لیے مسجد اور آلہ تیمم بنادیا ‘ لہذا میری امت سے جو شخص نماز کا وقت پائے نماز پڑھ لے اور میرے لیے مال غنیمت حلال کردیا گیا تو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھا ‘ مجھے شفاعت عطا کی گئی ‘ پہلے نبی ایک خاص قوم کی طرف معبوث ہوتے تھے اور مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ١١٢ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں لوگوں میں سب سے پہلے جنت کی شفاعت کروں گا۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١١٢‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر نبی کی ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے اور ہر ایک نے اس دعا کو دنیا میں خرچ کرلیا اور میں اس دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے بچا کر رکھا ہے اور یہ انشاء اللہ میری امت کے ہر اس فرد کو حاصل ہوگی جو شرک سے پاک رہے گا۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ١١٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن کریم میں ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ قول تلاوت فرمایا : ” رب انھن اضللن “ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا یہ قول تلاوت فرمایا : اے اللہ ! اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو ‘ تو غالب اور حکیم ہے ‘ پھر آپ نے ہاتھ بلند کیے اور عرض کیا : اے اللہ ! میری امت ‘ میری امت ‘ پھر آپ پر گریہ طاری ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے جبرائیل ! محمد کے پاس جاؤ اور پوچھو (حالانکہ وہ خوب جانتا ہے) ” کیوں روتے ہو ؟ “ پھر جبرائیل آپ کے پاس آئے اور آپ سے دریافت کیا ‘ رسول اللہ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں خبر دی ‘ پھر جبرائیل (علیہ السلام) نے جا کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کیا حالانکہ وہ خوب جانتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا اور فرمایا : جا کر کہو : ہم تم کو تمہاری امت کے بارے میں راضی کردیں گے اور رنجیدہ نہیں ہونے دیں گے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ١١٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آپ کے چچا ابو طالب کا ذکر کیا گیا ‘ آپ نے فرمایا کہ قیامت کے دن میری شفاعت سے اس کو فائدہ پہنچے گا (عذاب میں تخفیف ہوگی) (جامع ترمذی ص ٣١٥‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اپنی امت کے گناہ کبیرہ کرنے والوں کی شفاعت کروں گا۔
حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میری امت میں سے ایک شخص (اویس قرنی یا عثمان) کی شفاعت کے سبب سے بنو تمیم کے افراد سے زیادہ جنت میں داخل ہوں گے۔
حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میری امت میں سے کچھ لوگ ایک گروہ کی شفاعت کریں گے ‘ کچھ ایک قبیلہ کی ‘ کچھ ایک جماعت کی اور کچھ ایک شخص کی حتی کہ وہ سب جنت میں داخل ہوجائیں گے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٣٥١ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
حضرت عوف بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے پاس اللہ کا پیغام آیا اور مجھے اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا کہ اللہ میری آدھی امت کو جنت میں داخل کردے ‘ یا میں شفاعت کروں۔ میں نے شفاعت کو اختیار کرلیا اور یہ شفاعت ہر اس مسلمان کو حاصل ہوگی جو شرک پر نہیں مرے گا۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٣٥١ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت میں سے جس شخص کے دو پیش رو (فوت شدہ کم سن بچے) ہوں وہ اس شخص کو جنت میں لے جائیں گے۔ حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا : آپ کی امت میں سے جس شخص کا ایک پیش رو ہو ؟ فرمایا : اے صاحبہ خیرات ! اس کو وہ ایک پیش رو ہی لے جائے گا۔ عرض کیا : جس کا کوئی پیش رو نہ ہو ؟ فرمایا : ” جس کا کوئی نہیں ہوگا اس کا ” میں “ ہوں گا کیونکہ میری امت کو میری جدائی سے بڑھ کر کسی کی جدائی سے تکلیف نہیں پہنچی۔ (جامع ترمذی ص ‘ ١٧٢ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم موذن سے اذان سنو تو وہ کلمات دہراؤ ‘ پھر مجھ پر درود شریف پڑھو ‘ کیونکہ جو مجھ پر ایک صلوۃ بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس صلوات نازل فرماتا ہے ‘ پھر میرے لیے وسیلہ (مقام رفیع) کی دعا کرو ‘ کیونکہ وہ جنت میں ایک مرتبہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے صرف ایک بندہ کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہوں گا ‘ جس شخص نے میرے لیے وسیلہ کی دعا کی اس پر میری شفاعت واجب ہوگئی۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١٦٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
امام دارقطنی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے میری قبر کی زیارت کی اس کے حق میں میری شفاعت واجب ہوگئی۔ (سنن دارقطنی ج ٢ ص ٢٧٨‘ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

[Tibyan-ul-Quran 2:47]