بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ فَرَقۡنَا بِكُمُ الۡبَحۡرَ فَاَنۡجَيۡنٰکُمۡ وَاَغۡرَقۡنَآ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ وَاَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ‏

اور جب ہم نے تمہارے لیے سمندر کو چیر دیا ‘ پھر ہم نے تم کو نجات دی اور ہم نے آل فرعون (فرعون اور اس کے متبعین) کو غرق کردیا اور تم دیکھ رہے تھے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ہم نے تمہارے سمندر کو چیر دیا پھر ہم نے تم کو نجات دی۔ (البقرہ : ٥٠)
بنواسرائیل کے لیے سمندر چیرنے کا بیان :
امام ابن جریر طبری (رح) لکھتے ہیں :
عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں : جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنواسرائیل کو لے کر مصر جانے لگے تو فرعون کو اس کی خبر پہنچ گئی اس نے کہا : ابھی رہنے دو ‘ صبح مرغ کی اذان کے ساتھ ان کا پیچھا کریں گے ‘ اس رات مرگ نے اذان نہیں دی ‘ جب صبح ہوئی تو فرعون نے ایک بکری ذبح کرائی اور کہا : جب میں اس کی کلیجی کھانے سے فارغ ہوں تو یہاں چھ لاکھ قبطی جمع ہوجائیں ‘ پھر چھ لاکھ قبطیوں کے ساتھ فرعون نے بنو اسرائیل کا پیچھا کیا ‘ ادھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جب سمندر کے کنارے پہنچے تو ان کے اصحاب میں سے یوشع بن نون نے کہا : اے موسیٰ (علیہ السلام) آپ کے رب نے کس طرف سے نکلنے کا حکم دیا تھا ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے سامنے سمندر کی طرف اشارہ کیا۔ یوشع نے اپنا گھوڑا سمندر میں ڈال دیا حتی کہ جب وہ سمندر کی گہرائی میں پہنچا تو پھر لوٹ آئے اور پھر پوچھا کہ آپ کے رب نے کہاں سے نکلنے کا حکم دیا تھا ؟ تین اس طرح ہوا ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف یہ وحی کی کہ اپنے عصا کو سمندر پر ماریں ‘ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے سمندر پر عصا مارا تو وہ بارہ حصوں میں منقسم ہو کر پھٹ گیا حتی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنواسرائیل کے بارہ گروہوں کے ساتھ اس سے پار گزر گئے۔ بعد میں جب فرعون اور اس کے ساتھ قبطی اس سے گزرنے لگے تو سمندر آپس میں مل گیا اور فرعون اور قبطی غرق ہوگئے۔ یہ سمندر بحر قلزم تھا ‘ قتادہ نے کہا ہے کہ بنواسرائیل چھ لاکھ تھے اور قبطی بارہ لاکھ تھے۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٢١٩۔ ١١٨ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

[Tibyan-ul-Quran 2:50]