بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهٖ يٰقَوۡمِ اِنَّكُمۡ ظَلَمۡتُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ بِاتِّخَاذِكُمُ الۡعِجۡلَ فَتُوۡبُوۡآ اِلٰى بَارِٮِٕكُمۡ فَاقۡتُلُوۡٓا اَنۡفُسَكُمۡؕ ذٰ لِكُمۡ خَيۡرٌ لَّـكُمۡ عِنۡدَ بَارِٮِٕكُمۡؕ فَتَابَ عَلَيۡكُمۡ‌ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيۡمُ

اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی امت سے کہا : اے میری امت ! بیشک تم نے بچھڑے کو (معبود) بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ‘ پس تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف توبہ کرو ‘ سو تم ایک دوسرے کو قتل کرو، تمہارے خالق کے نزدیک یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے ‘ تو اس نے تمہاری توبہ قبول فرمائی ‘ بیشک وہی بہت توبہ قبول کرنے والا ہے بےحد رحم فرمانے والا ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب موسیٰ نے اپنی امت سے کہا : اے میری امت ! بیشک تم نے بچھڑے کو (معبود) بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا۔ (البقرہ : ٥٤ )
بنواسرائیل کی قبولیت توبہ کا بیان :
اس آیت کے پس منظر اور پیش منظر کو اللہ تعالیٰ نے سورة طہ میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے ‘ اس کا ترجمہ اس طرح ہے : (ہم نے طور پر موسیٰ سے فرمایا) اے موسیٰ ! آپ نے لوگوں کو چھوڑ کر آنے میں کیوں جلدی کی ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : وہ لوگ میرے پیچھے آرہے ہیں ‘ اور اے میرے رب ! میں تجھے راضی کرنے کے لیے تیری بارگاہ میں جلدی حاضر ہوا فرمایا : ہم نے آپ کے بعد آپ کی امت کو آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے انہیں گمراہ کردیا سو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہایت غم وغصہ کی حالت میں واپس ہوئے اور فرمایا : میری امت ! کیا تم سے تمہارے رب نے (تورات عطا کرنے کا) اچھا وعدہ نہیں کیا تھا ‘ پھر کیا تم نے یہ چاہا کہ تم پر تمہارے رب کا غضب نازل ہو کیونکہ تم نے میرے وعدہ کی خلاف ورزی کی ہے ‘ انہوں نے کہا : ہم نے اپنے اختیار سے آپ سے وعدہ خلافی نہیں کی ‘ لیکن ہم پر قوم فرعون کے بھاری زیور کا بوجھ تھا ‘ ہم نے ان زیورات کو آگ میں ڈال دیا اور سامری نے بھی اپنے حصہ کے زیورات کو آگ میں ڈال دیا ‘ پھر اس نے ان کے لیے بچھڑے کا بےجان جسم نکالا جو بیل کی سی آواز نکالتا تھا ‘ لوگوں نے کہا : یہی موسیٰ (علیہ السلام) کا معبود ہے اور تمہارا معبود ہے ‘ موسیٰ (علیہ السلام) تو بھول گئے ‘ کیا یہ لوگ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ وہ بچھڑاتو ان کی کسی بات کا جواب بھی نہیں دے سکتا تھا اور نہ وہ ان کے لیے کسی نفع اور نقصان کا مالک تھا ‘ اور بیشک ہارون نے پہلے ہی ان سے کہہ دیا تھا کہ اے میری قوم ! اس بچھڑے کے ذریعہ تم آزمائش میں ڈالے گئے ہو اور بیشک تمہارا رب رحمن ہے ‘ سو تم میری اتباع کرو اور میرا کہا مانو ‘ انہوں نے کہا : ہم تو اسی کی پوجا پر جمے رہیں گے جب تک کہ موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے پاس لوٹ کر نہ آئیں (موسی (علیہ السلام) نے واپس آکر) کہا : اے ہارون ! جب آپ نے انہیں گمراہ ہوتے ہوئے دیکھا تو آپ کو کیا چیز مانع تھی کہ آپ نے میری اتباع نہ کی ؟ کیا آپ نے میرے حکم کی نافرمانی کی ؟ (ہارون نے) کہا : اے میری ماں کے بیٹے ! میری داڑھی اور میرے سر (کے بالوں) کو نہ پکڑیے ‘ بیشک مجھے یہ ڈر تھا کہ (اگر میں نے ان کو سختی سے روکا) تو آپ کہیں گے کہ تم نے بنو اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی ‘ اور میرے حکم کا انتظار نہ کیا ‘ (موسی (علیہ السلام) نے سامری سے) فرمایا : اے سامری ! تیرا کیا بیان ہے ؟ اس نے کہا : میں نے وہ چیز دیکھی جو دوسروں نے نہ دیکھی تھی (مجھے گھوڑی پر جبرائیل سوار نظر آئے) تو میں نے رسول (جبرائیل (علیہ السلام) کی سواری کے نقش قدم (کی مٹی) سے ایک مٹھی بھرلی ‘ پھر میں نے اس کو (بچھڑے کے مجسمہ میں) ڈال دیا اور میرے دل میں اسی طرح بات آئی تھی فرمایا : تو (اب) دفع ہوجا ‘ بیشک اب زندگی بھر تیری یہ سزا ہے کہ تو کہتا پھرے کہ (خبردار مجھے) نہ چھونا ‘ اور تیرے لیے (عذاب کا) وعدہ ہے جو ہرگز تجھ سے نہیں ٹلے گا ‘ اور اپنے اس معبود کو دیکھ جس کی پوجا میں تو جما بیٹھا تھا ‘ ہم اس کو ضرور جلا کر بھسم کردیں گے، پھر اس (کی راکھ) کو (اڑاکر) دریا میں بہادیں گے ‘ تمہارا معبود صرف اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ‘ جس نے اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کرلیا ‘ اسی طرح ہم آپ کو گزشتہ واقعات کی خبریں بیان فرماتے ہیں اور ہم نے آپ کو اپنے پاس سے ذکر (قرآن) عطا فرمایا ہے (طہ : ٩٩۔ ٨٣)
امام ابن جریر طبریرحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :
سدی نے بیان کیا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس گؤسالہ کے ٹکڑے ٹکڑے کیے اور اس کو جلا کر اس کے ذرات کو سمندر میں بہادیا۔ ١ (بعض مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مجسمہ گوشت پوست اور ہڈیوں میں تبدیل ہوگیا تھا ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو ذبح کر کے جلا دیا ‘ اور بعض نے کہا : وہ اسی طرح سونے اور چاندی کا مجسمہ تھا ‘ اس کو آلات سے ٹکڑے ٹکڑے کرکے ریزہ ریزہ کردیا۔ منہ) پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : اس سمندر سے پانی پیو تو جو اس بچھڑے سے محبت کرتا تھا اس کی مونچھوں پر اس سونے کے ذرات لگ لگئے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے : ان کے کفر کی وجہ سے بچھڑا ان کے دلوں میں پلایا گیا تھا ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے آنے کے بعد جب بنواسرائیل کو اپنی گمراہی کا یقین ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ اگر ہم پر ہمارا رب رحم نہ فرمائے اور ہماری مغفرت نہ فرمائے تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی حال میں بنواسرائیل کی توبہ قبول کرنے سے انکار کردیا ‘ پس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا : اے میری امت ! تم نے بچھڑے کی عبادت کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ‘ تم اپنے خالق کی طرف توبہ کرو اور تم ایک دوسرے کو قتل کرو ‘ پھر انہوں نے دو صفتیں بنائیں۔ ایک صف میں بچھڑے کی عبادت کرنے والے کھڑے ہوئے اور دوسری صفت میں وہ کھڑے ہوئے جنہوں نے بچھڑے کی عبادت نہیں کی تھی اور انہوں نے گؤسالہ پرستوں کو قتل کیا اور ستر ہزار افراد قتل کردیئے گئے۔ ١ (امام ابن جریر (رح) نے لکھا ہے کہ ستر ہزار افراد بلا امتیاز قتل کئے گئے اور علامہ خازن نے لکھا ہے کہ بری نے مجرم کو قتل کیا۔ ) (خازن ج ١ ص ٥٤ منہ) پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) نے دعا کی کہ اے رب ! اس طرح تو سارے بنواسرائیل ہلاک ہوجائیں گے ‘ اے رب ! بقیہ کو معاف فرما دے ‘ تب انہیں ہتھیار پھینکنے کا حکم دیا ‘ جو قتل ہوگئے وہ شہید قرار پائے اور جو بچ گئے ان کا کفارہ ہوچکا تھا۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٢٢٧ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
یہ بنواسرائیل کی توبہ تھی اور ہمارے لیے توبہ یہ ہے کہ گناہوں پر اشک ندامت بہائیں ‘ گناہ کو فورا ترک کردیں اور اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرلیں کہ دوبارہ اس گناہ کو نہیں کریں گے اور اس گناہ کے ذریعہ جو حق ضائع ہوا ہے اس کی تلافی کرلیں۔

[Tibyan-ul-Quran 2:54]