بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قُلۡتُمۡ يٰمُوۡسٰى لَنۡ نَّصۡبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُخۡرِجۡ لَنَا مِمَّا تُنۡۢبِتُ الۡاَرۡضُ مِنۡۢ بَقۡلِهَا وَقِثَّـآٮِٕهَا وَفُوۡمِهَا وَعَدَسِهَا وَ بَصَلِهَا‌ؕ قَالَ اَتَسۡتَبۡدِلُوۡنَ الَّذِىۡ هُوَ اَدۡنٰى بِالَّذِىۡ هُوَ خَيۡرٌ‌ؕ اِهۡبِطُوۡا مِصۡرًا فَاِنَّ لَـکُمۡ مَّا سَاَلۡتُمۡ‌ؕ وَضُرِبَتۡ عَلَيۡهِمُ الذِّلَّةُ وَالۡمَسۡکَنَةُ وَبَآءُوۡ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ‌ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَانُوۡا يَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَيَقۡتُلُوۡنَ النَّبِيّٖنَ بِغَيۡرِ الۡحَـقِّ‌ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوا وَّڪَانُوۡا يَعۡتَدُوۡنَ

اور جب تم نے کہا : اے موسیٰ ! ہم ہرگز ایک (قسم کے) کھانے پر صبر نہیں کریں گے ‘ سو آپ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ (من اور سلوی کی بجائے) ہمیں زمین کی اگائی ہوئی چیزیں سبزی ‘ ککڑی ‘ گندم ‘ مسور اور پیاز نکال کر دے ‘ فرمایا : کیا تم اچھی چیز کے بدلہ میں ادنی چیز مانگتے ہو ؟ شہر میں چلے جاؤ ‘ وہاں تم کو وہ چیزیں مل جائیں گی جن کا تم نے سوال کیا اور ان پر ذلت اور بدحالی ڈال دی گئی اور وہ اللہ کے غضب میں آگئے ‘ یہ اس وجہ سے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے ‘ یہ اس لیے (بھی) ہوا کہ وہ نافرمان تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے

[Tibyan-ul-Quran 2:61]