بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَكُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَكُمُ الطُّوۡرَؕ خُذُوۡا مَآ اٰتَيۡنٰكُمۡ بِقُوَّةٍ وَّ اذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ

اور یاد کرو جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا اور ہم نے (پہاڑ) طور کو تم پر اٹھا لیا کہ ہم نے جو کچھ تم کو دیا ہے اس کو مضبوطی سے لو اور جو کچھ اس میں ہے اس کو اس امید سے یاد کرو کہ تم پرہیز گار بن جاؤ

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یاد کرو جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا۔ (البقرہ : ٦٣)
عہد اور میثاق کا معنی :
عہد کا معنی ہے : کسی شے کی حفاظت کرنا اور ہرحال میں اس کی رعایت کرنا ‘ جس عقد کی رعایت لازم ہو اس کو بھی عہد کہتے ہیں ‘ ہماری عقلوں میں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا اقرار ہے اس کو بھی عہد کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں کتاب اور سنت کے ذریعے احکام دیے ہیں اور ہم نے ان کی اطاعت کا اقرار کیا ہے ‘ اس کو بھی عہد کہتے ہیں اور جس چیز کو شریعت نے لازم نہیں کیا تھا لیکن ہم نے از خود نذر مان کر اس کو لازم کرلیا اس کو بھی عہد کہتے ہیں ‘ جو کفار مسلمانوں کے عہد میں داخل ہوں ان کو ذوعہد اور معاھد کہتے ہیں۔ عاقدین کے درمیان جس عقد کو حفاظت کے لیے لکھا جاتا ہے اس کو عہدہ اور وثیقہ کہتے ہیں۔ (المفردات ص ‘ ٣٥٠ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)
وثاقت کے معنی ہیں : کسی چیز کو مضبوط کرنا ‘ رسی سے باندھنا ‘ میثاق اس عقد کو کہتے ہیں جس کو قسم اور اقرار کے ذریعہ موکد کیا گیا ہو۔ (المفردات ص ‘ ٥١٢۔ ٥١١ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے (پہاڑ) طور کو تم پر اٹھالیا۔ الخ۔ (البقرہ : ٦٣)
کتابوں کو نازل کرنے سے مقصود عمل ہے :
اس آیت میں جو طور کا لفظ ہے اس کے مصداق میں اختلاف ہے ‘ حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس سے مراد وہ پہاڑ ہے ‘ جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا تھا ‘ مجاہد (رح) اور قتادہ (رض) نے کہا : اس سے غیر معین پہاڑ مراد ہے ‘ مجاہد (رح) نے کہا : سریانی زبان میں طور پہاڑ کو کہتے ہیں۔
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنواسرائیل کے پاس تورات کی الواح لے کر آئے اور فرمایا : ان کو لو اور ان کی اطاعت کا اقرار کرو ‘ تو انہوں نے کہا : جب تک اللہ تعالیٰ آپ کی طرح ہم سے کلام نہیں کرے گا ہم یہ اقرار نہیں کریں گے ‘ پھر وہ بجلی کی ایک کڑک کے ذریعہ ہلاک کیے گئے ‘ اور پھر زندہ کئے گئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے پھر تورات کے قبول کرنے کے لیے فرمایا ‘ انہوں نے پھر انکار کیا ‘ تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ فلسطین کے پہاڑوں میں سے ایک فرسخ لمبے پہاڑ کو اکھاڑ کر سائبان کی طرح ان پر معلق کردیں ‘ ان کے پیچھے سمندر تھا اور ان کے سامنے آگ آرہی تھی ‘ ان سے کہا گیا کہ قسم کھا کر اقرار کرو کہ تم تورات کے احکام پر عمل کرو گے ورنہ یہ پہاڑ تم پر گرجائے گا ‘ تب انہوں نے تورات پر عمل کرنے کا پختہ عہد کیا اور توبہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ میں گرگئے ‘ انہوں نے کروٹ کے بل سجدہ کیا تھا اور مارے خوف کے پہاڑ کی طرف دیکھ رہے تھے ‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا تو انہوں نے کہا : اس سجدہ سے افضل کوئی سجدہ نہیں ہے ‘ جس کو اللہ تعالیٰ نے قبول کیا اور جس کی وجہ سے اپنے بندوں پر رحم فرمایا : پھر انہیں یہ حکم دیا گیا کہ وہ کروٹ کے بل یعنی ایک شق پر سجدہ کیا کریں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کو خوب کوشش سے لو ‘ اور جو کچھ اس میں ہے ‘ اس کو یاد کرو ‘ یعنی اس میں تدبر اور غور و فکر کرو اور اس کے احکام کو ضائع نہ کرو ‘ کیونکہ کتابوں کو نازل کرنے سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ ان کے متقضی پر عمل کیا جائے یہ نہیں کہ ان کے معنی پر غور و فکر کیے بغیر ان کی صرف تلاوت کرلی جائے، امام نسائی (رح) نے حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے کہ لوگوں میں سب سے بدتر فاسق وہ ہے جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کے کسی حکم کی طرف رجوع نہیں کرتا ‘ اس حدیث میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بتلا دیا ہے کہ قرآن مجید پڑھنے سے مقصود عمل ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ص ٤٣٧۔ ٤٣٦ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)
کیا بنو اسرائیل کے سروں پر پہاڑ کو معلق کرکے ان سے توریت کو قبول کرانا ‘ ان کے اختیار کے منافی نہیں تھا ؟
اس مقام پر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ جب پہاڑ ان کے سروں پر معلق کردیا گیا تو پھر ان کا تورات کو قبول کرنا جبر سے ہوا ‘ اور جبر کے ساتھ کسی کا ایمان لانا مقبول نہیں ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ جبر نہیں ہے ‘ وہ ہوتا ہے جس میں انسان کا اختیار نہ ہو ‘ اور اس میں ان کا اختیار تھا ‘ وہ چاہتے تو پہاڑ کے نیچے رہنا قبول کرلیتے اور چاہتے تو تورات کو قبول کرلیتے ‘ سو انہوں نے جان بچانے کے لیے تورات کو قبول کرلیا ‘ البتہ یہ اکراہ ہے ‘ اکراہ وہ ہوتا ہے جس میں جان سے مارنے دھمکی دے کر کوئی کام کرایا جائے اور ہوسکتا ہے کہ ان کی شریعت میں اکراہ کے ساتھ ایمان جائز ہو۔ ہماری شریعت میں بھی ابتداء دین میں اکراہ ممنوع تھا ‘ بعد میں جب کفار اور مشرکین کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا اور جب کافروں سے یہ کہا گیا کہ یا وہ اسلام قبول کرلیں ‘ یا جزیہ دیں ورنہ ان کو قتل کردیا جائے گا تو پھر دین میں اکراہ کی ممانعت منسوخ ہوگئی (عنایۃ القاضی ج ٢ ص ١٧٤۔ ١٧٣‘ مطبوعہ دار صادر بیروت ‘ ١٢٨٣ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک تم ان لوگوں کو جانتے ہو جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن حد سے تجاوز کیا تھا ‘ پس ہم نے ان سے کہا : تم دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ۔ (البقرہ : ٦٥)
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ یہ قوم حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں ” ایلہ “ میں آباد تھی ‘ یہ شہر مدینہ اور شام کے درمیان ساحل سمندر پر واقع تھا ‘ اس جگہ کے سمندر میں سال کے ایک مہینہ میں اتنی کثرت سے مچھلیاں آتی تھیں کہ پانی دکھائی نہیں دیتا تھا اور باقی مہینوں میں ہفتہ کے دن اس میں بہت مچھلیاں آتی تھیں ‘ ان لوگوں نے مختلف جگہ حوض کھودے اور سمندر سے نالیاں نکال کر ان حوضوں سے ملادیا ‘ ہفتہ کے دن ان حوضوں میں مچھلیاں چلی جاتیں اور وہ اتوار کے دن ان کا شکار کرلیتے۔ بنواسرائیل کا ہفتہ کے دن مچھلیوں کو حوضوں میں مقید کرلینا ‘ یہی ان کا حد سے تجاوز کرنا تھا ‘ وہ ایک بڑے لمبے عرصے تک اس نافرمانی میں مشغول رہے ‘ نسل در نسل ان کی اولاد بھی اس میں ملوث رہی ‘ خدا کا خوف رکھنے والے کچھ لوگ منع کرتے تھے ‘ کچھ اس کو برا جانتے تھے اور اس خیال سے منع نہیں کرتے تھے کہ یہ باز آنے والے نہیں ہیں ‘ نافرمان لوگ کہتے تھے کہ ہم اتنے بڑے عرصہ سے یہ کام کررہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان مچھلیوں میں اضافہ فرما رہا ہے ‘ مانعین کہتے تھے کہ تم دھوکے میں نہ آؤ ‘ ہوسکتا ہے تم پر عذاب نازل ہوجائے۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص ٣٧٢ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
اس شہر میں رہنے والے ستر ہزار نفوس تھے اور ان کو منع کرنے والے بارہ ہزار تھے ‘ جب مجرموں نے انکی نصیحت قبول کرنے سے انکار کردیا ‘ تو مانعین نے کہا : بہ خدا ! ہم ایک علاقہ میں نہیں رہیں گے ‘ انہوں نے شہر کے درمیان ایک دیوار کھینچ دی اور ان سے الگ رہنے لگے اور کئی سال اسی طرح گزر گئے پھر معصیت پر ان کے مسلسل اصرار کی وجہ سے حضرت داؤد (علیہ السلام) نے ان پر لعنت کی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا غضب نازل فرمایا ‘ ایک دن منع کرنے والے اپنے دروازے سے نکلے تو دیکھا کہ مجرمین میں سے کوئی نکلا ‘ جب کافی دیر ہوگئی تو وہ دیوار پھاند کر گئے ‘ دیکھا تو وہ تمام لوگ بندر بن چکے تھے ‘ ایک قول یہ ہے کہ جوان بندر بن گئے تھے اور بوڑھے خنزیر بن گئے تھے ‘ وہ دوسروں کو پہچان رہے تھے اور دوسرے ان کو نہیں پہچان رہے تھے ‘ وہ تین دن اس حال میں روتے رہے ‘ پھر سب ہلاک ہوگئے اور کوئی مسخ شدہ شخص تین دن سے زیادہ نہیں رہا اور نہ ان کی نسل چلی۔ (تفسیر خازن ج ١ ص ٦٠‘ مطبوعہ دارالکتب العربیہ پشاور)
اس واقعہ کے بیان میں ہمارے نبی سیدنا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معجزہ کا اظہار ہے ‘ کیونکہ آپ امی تھی آپ نے اعلان نبوت سے پہلے نہ کسی چیز کو پڑھا تھا نہ لکھا تھا اور نہ علماء اہل کتاب کی مجلس میں رہے تھے ‘ اس کے باوجود آپ نے اس واقعہ کو بیان فرمایا جو ان کے علماء کے درمیان معروف تھا اور ان کی کتابوں میں لکھا ہوا تھا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ آپ نے جو کچھ بیان فرمایا وہ وحی الہی ہے۔
اگر یہ سوال کیا جائے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ہفتہ کے دن شکار کرنے سے منع کردیا تھا تو پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ سمندر میں ہفتہ ہی کے دن بہ کثرت مچھلیاں آتی تھیں ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش تھی اور بنو اسرائیل کا امتحان تھا کہ وہ مچھلیوں کی بہتات دیکھ کر پھسل جاتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے پر جمے رہتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔
(آیت) ” احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وھم لا یفتنون۔ (العنکبوت : ٢)
ترجمہ : کیا لوگوں نے یہ گمان کررکھا ہے کہ وہ (محض) اس کہنے پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ ہم ایمان لے آئے اور ان کی آزمائش نہیں کی جائے گی ؟۔
اس امتحان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ فرمانبرداروں اور نافرمانوں کو متمیز کردیتا ہے۔
موجودہ بندروں کے مسخ شدہ اسرائیلی ہونے یا نہ ہونے کی تحقیق :
ایک بحث یہ ہے کہ موجودہ بندر اور خنزیر آیا انہی بنو اسرائیل کی نسل سے ہیں جن کو مسخ کردیا تھا یا وہی بندر اور خنزیر ہیں جو شروع سے نسل در نسل چلا آرہے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تمام مسخ شدہ بنو اسرائیل تین دن بعد مرگئے تھے۔ امام ابن جریر (رح) نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) کی ایک طویل روایت ذکر کی ہے ‘ اس میں ہے :
جن لوگوں نے ہفتہ کے دن مچھلی کا شکار کیا تھا ‘ ان کی معصیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مسخ کر کے بندر بنادیا ‘ وہ زمین میں صرف تین دن زندہ رہے ‘ انہوں نے کچھ کھایا ‘ نہ پیا ‘ نہ ان کی نسل چلی ‘ اور اللہ تعالیٰ نے بندروں ‘ خنزیروں اور باقی تمام مخلوق کو چھ دنوں میں پیدا کیا تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو بندروں کی صورت میں مسخ کردیا اور وہ جس کے ساتھ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ (جامع البیان ج ١ ص ٢٦١‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
تقریبا تمام علماء اسلام ‘ محدثین ‘ مفسرین اور متکلمین کا اس پر اتفاق ہے، البتہ علامہ ابن العربی مالکی (رح) نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے ‘ وہ لکھتے ہیں :
ہمارے علماء نے کہا : اس میں اختلاف ہے کہ جن کو مسخ کیا گیا تھا ان کی ان کے بعد نسل چلی یا نہیں۔ بعض نے یہ کہا : ان کی نسل نہیں چلی اور بعض نے کہا : ان کی نسل چلی ہے اور اس کی دو دلیلیں ہیں ‘ پہلی دلیل یہ ہے کہ حدیث صحیح میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گوہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ایک امت مسخ کی گئی تھی اور مجھے خدشہ ہے کہ گوہ اسی امت سے ہے۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ‘ ٢٣٢ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ)
اس حدیث کو امام مسلم (رح) نے حضرت جابر بن عبداللہ اور حضرت ابوسعید (رض) سے روایت کیا ہے۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ١٥١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
امام ابو داؤد (رح) نے اس حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے :
حضرت ثابت بن ودیعہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک لشکر میں تھے ‘ ہم نے بہت سی گوہ شکار کیں میں نے ان میں سے ایک گوہ بھون کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے رکھ دی ‘ آپ ایک لکڑی سے اپنی انگلیاں گنتے رہے ‘ پھر آپ نے فرمایا : بنواسرئیل کے ایک گروہ کو مسخ کرکے زمین میں چلنے والا جانور بنادیا تھا ‘ میں نہیں جانتا وہ کون سا جانور تھا ‘ پھر آپ نے گوہ نہیں کھائی اور نہ اس سے منع فرمایا : (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ‘ ١٧٦ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)
امام نسائی (رح) نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ (سنن نسائی ج ٢ ص ١٩٨۔ ١٩٧‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
امام ماجہ (رح) نے اس حدیث کو ثابت بن زید انصاری (رض) سے روایت کیا ہے ‘ اس میں مذکور ہے : آپ نے گوہ کے متعلق فرمایا :: بنواسرائیل کے ایک گروہ کو مسخ کرکے زمین میں چلنے والا جانور بنادیا تھا ‘ میں (از خود) جانتا شاید کہ وہ یہی جانور ہو۔ (سنن ابن ماجہ ص ‘ ٢٣٣ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
اس حدیث کو امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ٣ ص ‘ ٦٦۔ ١٩۔ ٥‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
حافظ الہیثمی بیان کرتے ہیں :
حضرت عبدالرحمان بن حسنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے ‘ ہم ایسی جگہ ٹھہرے جہاں گوہ بہت تھیں ‘ ہم نے ان کو ذبح کیا اور جس وقت ہم پتیلیوں میں ان کا پکار رہے تھے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : اسرائیل کا ایک گروہ گم ہوگیا تھا اور مجھے ڈر ہے کہ وہ یہی گوہ ہیں۔ ان دیگچیوں کو الٹ دو ‘ تو ہم نے بھوکے ہونے کے باوجود دیگچیوں کو الٹ دیا ‘ اس حدیث کو امام احمد (رح) ‘ امام طبرانی (رح) ؛ (نے معجم کبیر میں) امام ابویعلی (رح) نے اور امام بزار (رح) نے روایت کیا ہے اور ان تمام ائمہ کی اسانید صحیح ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٤ ص ‘ ٣٧ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چوہوں کے متعلق بھی اسی قسم کے خدشہ کا اظہار فرمایا ہے ‘ امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں بنو اسرائیل کا ایک گروہ گم ہوگیا تھا یہ معلوم نہیں ہوا کہ وہ کہاں ہے اور میرا گمان ہے کہ وہ (مسخ شدہ) چوہے ہیں ‘ کیا تم نہیں دیکھتے کہ جب چوہوں کے سامنے اونٹ کا دودھ رکھا جائے تو وہ اس کو نہیں پیتے اور جب ان کے سامنے بکری کا دودھ رکھا جائے تو وہ اس کو پی لیتے ہیں ‘ دوسری روایت میں ہے : چوہا مسخ شدہ ہے۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ٤١٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
اس حدیث کو امام عبدالرزاق۔ ١ (امام عبدالرزاق بن ہمام متوفی ٢١١ ھ ‘ المصنف ج ٤ ص ٤٤٧‘ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ) امام احمد۔ ٢ (امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ٢ ص ٤١١، مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ) اور امام طبرانی۔ ٣ (امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ ‘ معجم صغیر ج ٢ ص ٤٤‘ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ مدینہ منورہ ‘ ١٣٨٨ ھ) نے بھی روایت کیا ہے
یہ دو حدیثیں جو بہ کثرت اسانید صحیحہ کے ساتھ مروی ہیں اس پر دلالت کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غلبہ حال کی وجہ سے اندیشہ تھا کہ گوہ اور چوہے بنواسرائیل کی مسخ شدہ نسل ہیں ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اندیشہ اس وقت تھا جب آپ کو وحی کے ذریعہ یہ قطعی طور پر معلوم نہیں ہوا تھا کہ جن لوگوں کو مسخ کردیا جائے لیکن بعد میں آپ کو وحی کے ذریعہ قطعی طور پر بتادیا گیا کہ دجال کا ظہور قرب قیامت میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نزول کے زمانہ میں ہوگا ‘ پھر آپ کا اندیشہ زائل ہوگیا۔ مسخ شدہ لوگوں کے فورا ہلاک ہونے اور ان کی نسل نہ چلنے کے متعلق یہ صریح حدیث ہے ‘ امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا بندر اور خنزیر مسخ شدہ لوگ ہیں ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل نے کسی قوم کو ہلاک کرکے یا کسی قوم کو عذاب دے کر اس کی نسل نہیں چلائی اور بندر اور خنزیر تو ان سے پہلے بھی ہوتے تھے۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ٣٣٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
اس حدیث کو امام ابو یعلی (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند ابویعلی ج ٥ ص ١٤٢‘ مطبوعہ دارالمامون تراث ‘ بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ)
یہ حدیث زیر بحث مسئلہ میں صاف تصریح ہے کہ موجودہ بندر اور خنزیر مسخ شدہ بنواسرائیل نہیں ہیں۔
علامہ ابن العربی نے اپنے نظریہ پر جو دوسری دلیل قائم کی ہے وہ یہ ہے :
امام بخاری (رح) نے عمرو بن میمون سے روایت کیا ہے ‘ وہ کہتے ہیں کہ میں زمانہ جاہلیت میں دیکھا کہ بندر ایک بندریا کو رجم کر رہے تھے حدیث کی عبارت یہ ہے کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں دیکھا کہ ایک بندریا نے زنا کیا تھا ‘ اس کے گرد دوسرے بندر جمع ہوگئے جنہوں نے اس کو سنگسار کیا ‘ میں نے بھی اس کو سنگسار کیا ‘ یہ حدیث ” صحیح بخاری “ کے بعض نسخوں میں ہے اور بعض میں نہیں ہے۔
علامہ ابن العربی (رح) نے کہا : اگر یہ سوال کیا جائے کہ کیا جانوروں میں بھی بنو اسرائیل کی شریعت کے احکام معروف تھے حتی کہ وہ نسل در نسل ان احکام کے وارث چلے آرہے تھے ؟ تو ہم کہیں گے کہ ہاں ! اسی طرح حتی کہ جب یہود نے رجم کے حکم کو تبدیل کردیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ ظاہر کیا کہ مسخ شدہ اسرائیلیوں (بندروں) میں بھی رجم موجود ہے تاکہ ان کے انکار کے خلاف یہ قوی حجت ہو کہ رجم کا حکم ان کی کتابوں میں ہے ‘ ان کے علماء میں معروف ہے اور حتی کہ یہ حکم مسخ شدہ اسرائیلوں میں بھی موجود ہے۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ‘ ٢٣٢ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ)
علامہ قرطبی (رح) ‘ علامہ ابن العربی (رح) کی دلیل کے جواب میں لکھتے ہیں :
امام حمیدی (رح) نے کہا : ہم نے اس حدیث کو ” صحیح بخاری “ کے نسخوں میں تلاش کیا تو یہ بخاری کے تمام نسخوں میں نہیں ہے یہ حدیث ” صحیح بخاری “ کے بعض نسخوں میں ہے ‘ فربری کی روایت سے یہ حدیث نہیں ہے ‘ ہوسکتا ہے کہ بعد میں کسی نے اس حدیث کو ” صحیح بخاری “ میں ملا دیا ہو اور یہ حدیث الحاقی ہو ‘ امام بخاری نے ” تاریخ کبیر “ میں اپنی سند کے ساتھ عمرو بن میمون سے روایت کیا ہے کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں دیکھا ‘ ایک بندریا کے گرد بہت سے بندر جمع ہو کر اس کو پتھر مار رہے تھے ‘ سو میں نے بھی انکے ساتھ اس کو پتھر مارے ‘ اس میں یہ لفظ نہیں ہے کہ اس نے زنا کیا تھا ‘ تو اگر یہ روایت صحیح ہو تو اس سے امام بخاری (رح) کا مقصود صرف اتنا ہے کہ عمرو بن میمون نے جاہلیت کا زمانہ پایا ہے اور ان کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ انہوں نے زمانہ جاہلیت میں کیا گمان کیا تھا۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١ ص ٤٤٢۔ ٤٤١ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران)
ہمارے پاس جو ” صحیح بخاری “ کے معروف نسخے ہیں ‘ ان سب میں یہ حدیث موجود ہے ‘ امام بخاری (رح) نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے :
عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ میں نے زمانہ جاہلیت میں میں نے ایک بندریا دیکھی جس نے زنا کیا تھا ‘ اس کے گرد دوسرے بندر جمع تھے جو اس کو سنگسار کر رہے تھے ‘ میں نے بھی ان کے ساتھ مل کر اس کو سنگسار کیا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٥٤٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
حافظ ابن حجر عسقلانی (رح) لکھتے ہیں :
اسماعیلی نے اس حدیث کو تفصیل سے روایت کیا ہے ‘ انہوں نے اپنی سند کے ساتھ بیان کیا کہ عمرو بن میمون نے کہا کہ میں یمن میں اپنی بکریاں چرا رہا تھا ‘ میں نے ایک بلند جگہ سے دیکھا کہ ایک بندر ‘ بندریا کے ساتھ آیا اور اس کے ہاتھ کے اوپر سر رکھ کر سو گیا ‘ پھر ایک اور بندر آیا اور اس نے بندریا کو اشارہ کیا ‘ بندریا نے چپکے سے بندر کے نیچے سے اپنا ہاتھ نکالا اور اس بندر کے ساتھ چلی گئی اور اس بندر نے اس کے ساتھ جنسی عمل کیا ‘ بندریا پھر جا کر چپکے سے اسی بندر کے ساتھ لیٹ گئی جب وہ بندر بیدار ہوا تو اس نے اس بندریا کو سونگھا اور غضب ناک ہو کر چیخا ‘ پھر بہت جلد بہت سے بندر جمع ہوگئے۔ بندر نے اس بندریا کی طرف اشارہ کیا ‘ بندروں نے دائیں بائیں دیکھا اور اس بندر کو پکڑ لائے اور ان دونوں کو سنگسار کردیا۔ اس وقت میں نے پہلی بار غیر بنو آدم میں رجم کو دیکھا۔ علامہ ابن التین نے کہا کہ شاید یہ بندر ان لوگوں کی نسل سے تھے جن کو مسخ کردیا گیا تھا ‘ اور ان میں یہ حکم باقی تھا ‘ پھر انہوں نے کہا کہ ممسوخ کی نسل نہیں چلتی ” صحیح مسلم “ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس قوم کو ہلاک کیا یا عذاب دیا اس کی نسل نہیں چلائی اور ان بندروں کے رجم کرنے کا یہ جواب ہے کہ جب بنواسرائیل کو مسخ کرکے بندر بنایا تھا تو ہوسکتا ہے کہ اصلی بندر بھی ان کے ساتھ آکر رہنے لگے ہوں ‘ اور انہوں نے بنو اسرائیل کے بعض افعال دیکھ کر یاد کرلیے ہوں ‘ باقی جانوروں کی بنسبت بندر بہت ذہین جانور ہے اور اس میں شدید غیرت ہوں ہے اور ایک بندر اپنی بندریا کے قریب دوسرے بندر کو نہیں جانے دیتا۔
علامہ ابن عبدالبر نے عمروبن میمون کی اس روایت کو بہت عجیب و غریب قرار دیا ہے اور کہا : اس میں غیر مکلف کے فعل کو زنا کہا ہے اور جانوروں پر حد کا ذکر ہے اور یہ اھل علم کے نزدیک ناقابل یقین ہے اور اگر بالفرض یہ روایت صحیح ہے تو اس کی توجیہ یہ ہے کہ بندروں کی صورت میں یہ جن تھے اور جن مکلف ہیں ‘ تاہم یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ فعل صورۃ زنا تھا اسی طرح یہ صورۃ رجم تھا حقیقۃ یہ زنا اور رجم نہیں تھا۔
امام حمیدی (رح) نے ” الجمع بین الصحیحین “ میں نہایت عجیب بات کہی اور انہوں نے یہ زعم کیا کہ یہ حدیث ” صحیح بخاری “ کے بعض نسخوں میں ہے ‘ صرف ابومسعود (رح) نے اس کا اطراف میں ذکر کیا ہے ‘ اور یہ ” صحیح بخاری “ کے نسخوں میں اصلا نہیں ہے اور یہ امام بخاری (رح) کی کتاب میں الحاقی حدیث ہے ‘ ان کا یہ قول مردو ہے کیونکہ یہ حدیث بخاری کے ان تمام معظم اصول میں موجود ہے جس سے ہم واقف ہیں ‘ اور حافظ ابوذر کا اس حدیث کو تین اماموں کی روایت کے ساتھ فربری سے نقل کرنا کافی ہے ‘ اسی طرح اسماعیلی اور ابو نعیم نے بھی اس کو اپنی اپنی مستخرج میں ذکر کیا ہے اور ابو مسعود نے اطراف میں البتہ نسفی کی روایت میں یہ حدیث نہیں ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ فربری کی روایت میں نہ ہو ‘ کیونکہ فربری کی روایت سے نسفی کی روایت کی بہ نسبت بہت احادیث زیادہ ہیں ‘ اور یہ کہنا کہ ” صحیح بخاری “ میں کوئی الحاقی حدیث ہے علماء کے اجماع کے خلاف ہے ‘ کیونکہ علماء کا اس پر اجماع ہے کہ اس کتاب میں درج تمام احادیث صحیح ہیں ‘ اور جب کسی ایک حدیث میں یہ مان لیا جائے کہ وہ الحاقی ہوسکتی ہے تو ہر حدیث میں یہ احتمال قائم ہوگا ‘ پھر یہ کتاب قابل اعتماد نہیں رہے گی۔ (فتح الباری ج ٧ ص ١٦١۔ ١٦٠‘ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)
حافظ ابن حجر عسقلانی (رح) نے ” الاصابہ “ میں بھی اس حدیث کو درج کیا ہے اور علامہ ابن عبدالبر کا یہ جواب نقل کیا ہے کہ وہ بندر جن تھے اور امام حمیدی نے جو اس حدیث کو الحاقی قرار دیا ہے اس پر رد کیا ہے۔ (الاصابہ ج ٣ ص ١١٨ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٣٩٠ ھ)
تناسخ اور تماسخ کا بیان :
کفار کے بعض فرقے مثلا آریہ ‘ قیامت اور مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کے منکر ہیں ‘ وہ کہتے ہیں کہ انسان کی روحیں اپنے اعمال کی جزا اور سزا پانے کے لیے ہمیشہ سے آواگون کے چکر میں ہیں اور ہر شخص موت کے بعد اپنے اعمال کے مطابق دوسرا جنم لیتا ہے ‘ اچھا انسان مرنے کے بعد اچھا اور برا انسان مرنے کے بعد برا جنم لیتا ہے ‘ بنو اسرائیل کو جو مسخ کرکے بندر بنادیا گیا تھا اس سے بھی وہ آواگون پر استدلال کرتے ہیں ‘ ہمارے شیخ حضرت علامہ سید احمد کا ظمی قدس سرہ العزیز نے اپنے زمانہ تعلیم میں پنڈت رام چند سے مناظرہ کیا ‘ اس نے اس آتی سے تناسخ پر استدلال کیا ‘ آپ نے فرمایا : تناسخ میں مرنے کے بعد روح دوسرے جسم میں منتقل ہوتی ہے اور یہاں بنو اسرائیل مرے نہیں تھے زندگی میں ہی ان کی شکلیں مسخ کردی گئی تھیں ‘ سو یہ تناسخ نہیں ہے تماسخ ہے ‘ اس نے کہا : اب تو میں جارہا ہوں آئندہ سال اسی جگہ پھر ملوں گا ‘ آپ نے فرمایا : زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ‘ یہ بتاؤ کہ اگر تم مرگئے تو کس جون میں آکر مجھ سے ملاقات کرو گے ؟ وہ اس جواب سے بہت خوش ہوا اور انعام میں آپ کو اپنی گھڑی دے گیا۔
حیلہ کی تحقیق :
علامہ آلوسی لکھتے ہیں :
بعض علماء نے اس آیت سے یہ استنباط کیا ہے کہ ناجائز کاموں کو کسی حیلہ سے جائز کرنا باطل ہے ‘ امام مالک کا یہی مذہب ہے ‘ ان کے نزدیک کسی صورت میں بھی حیلہ کرنا جائز نہیں ہے۔ علامہ کو اشی نے کہا : اکثر علماء کے نزدیک حیلہ کرنا جائز ہے بہ شرطی کہ اس کی وجہ سے کسی باطل چیز کو حاصل نہ کیا جائے اور نہ کسی کا حق باطل کیا جائے ‘ اور یہود نے ہفتہ کے دن مچھلیوں کے شکار کا حیلہ نہیں کیا تھا بلکہ جب انہوں نے ہفتہ کے دن مچھلیوں کو حوضوں میں قید کرلیا تو ان کا مچھلیوں کو قید کرنا ہی ان کا شکار کرنا تھا تو انہوں نے بعینہ حرام کا ارتکاب کیا تھا اور اس کے لیے کوئی حیلہ نہیں کیا تھا۔ (روح المعانی ج ١ ص ٢٨٣‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)
اسی طرح جب یہود پر چربی کو حرام کیا گیا تو انہوں نے اس کو پگھلا کر فروخت کرنا شروع کردیا ‘ یہ بھی حیلہ نہیں تھا بلکہ بعینہ حرام کا ارتکاب تھا ‘ اسی لیے آپ نے ان کے اس فعل پر لعنت کی۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤٩١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
قرآن اور سنت میں حیلہ کا ثبوت :
حیلہ کی اصل قرآن مجید کی اس آیت میں ہے :
(آیت) ” وخذ بیدک ضغثا فاضرب بہ ولا تحنث “۔ (ص : ٤٤)
ترجمہ : اور (اے ایوب ! آپ) اپنے ہاتھ میں تنکوں کی ایک جھاڑو لے لیں ‘ پھر اس سے ماریں اور اپنی قسم نہ توڑیں۔
حضرت ایوب (علیہ السلام) کسی وجہ سے بیوی سے ناراض ہوگئے اور یہ قسم کھالی کہ وہ صحت یاب ہونے کے بعد اپنی بیوی کو سو کوڑے ماریں گے ‘ صحت یاب ہونے کے بعد ان کو یہ پریشانی ہوئی کہ اگر میں قسم پوری کرتا ہوں تو میری خدمت گزار بیوی کو اذیت پہنچے گی اور اگر نہیں مارتا تو قسم ٹوٹ جائے گی ‘ تب اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ حیلہ بتایا کہ وہ سو تنکوں کی ایک جھاڑو لے کر ان کو ماریں ‘ اس طرح آپ کی قسم بھی پوری ہوجائے گی اور آپ کی بیوی بھی اذیت پہنچنے سے محفوظ رہے گی۔
حیلہ کے جواز کی دوسری دلیل یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے تو ان کے شاہی کارندے نے شاہی پیمانہ بینامین کے سامن میں رکھ دیا اور اس ملک کا قانون یہ تھا کہ جس شخص کے پاس سے مال مسروقہ برآمد ہو تو بہ طور سزا اس شخص کو مالک کے حوالہ کردیا جاتا تھا ‘ سو جب بنیامین کے سامان سے وہ شاہی پیمانہ برآمد ہوا تو ان کو حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حوالہ کردیا دیا گیا ‘ قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” کذلک کدنا لیوسف ماکان لیاخذاخاہ فی دین الملک الا ان یشآء اللہ : (یوسف : ٧٦)
ترجمہ : اسی طرح ہم نے یوسف کو تدبیر بتائی ‘ وہ اپنے بھائی کو شاہی قانون کی وجہ سے نہیں لے سکتے تھے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔
احادیث میں بھی حیلہ کا ثبوت ہے ‘ امام ابوداؤد (رح) روایت کرتے ہیں :
انصار میں سے ایک شخص بیمار ہوگیا حتی کہ وہ بہت کمزور ہوگیا اور اس کی کھال ہڈیوں سے چپک گئی ‘ اس کے پاس انصار کی ایک باندی آئی جس پر وہ فریفتہ ہوگیا اور ہشاش بشاش ہوگیا اور اس نے جنسی عمل کرلیا ‘ پھر جب اس کے قبیلہ کے لوگ اس کے پاس عیادت کے لیے آئے تو اس نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میرے متعلق حکم معلوم کرو کیونکہ میں نے اس باندی سے جماع کرلیا ہے صحابہ کرام (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس واقعہ کا ذکر کیا اور کہا : ہم نے اس جتنا بیمار شخص اور کوئی نہیں دیکھا ‘ اگر ہم اس کو اٹھا کر آپ کے پاس لائیں تو اس کی ہڈیاں ٹوٹ جائیں گی ‘ اس کی ہڈیوں پر کھال لپٹی ہوئی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ ایک گچھا لے آؤ اور اس پر اس کی ایک ضرب مارو۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ٢٥٨‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)
امام ابن ماجہ (رح) نے بھی اس حدیث کو حضرت سعد بن عبادہ (رض) سے روایت کیا ہے ‘ اس میں ہے کہ پتلی پتلی سو شاخوں کا ایک گچھا لے آؤ اور اس پر اس کی ایک ضرب مارو۔ (سنن ابن ماجہ ص ١٨٥‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
امام احمد۔ ١ (امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ٥ ص، ٢٢٢ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ) نے بھی اس حدیث کو حضرت سعد بن عبادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے امام ابن عساکر (رح) ۔ ٢ (امام ابوالقاسم حسن بن علی الشافعی ابن عساکر متوفی ٥٧١ ھ ‘ مختصر تاریخ دمشق ج ٤ ص ‘ ٢٢٨ مطبوعہ دارالفکر دمشق ‘ ١٤٠٤ ھ) نے بھی اس حدیث کو حضرت سعد بن عبادہ سے روایت کیا ہے ‘ اور امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں۔
حضرت ابو سعید خدری (رض) اور حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو خیبر کا عامل مقرر کیا ‘ وہ آپ کے پاس عمدہ کھجوریں لے آیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا خیبر کی ساری کھجوریں اسی طرح ہیں ؟ اس نے کہا : نہیں ‘ بہ خدا ! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم دو صاع (ایک صاع تقریبا چار کلو گرام کا پیمانہ ہے) کھجوریں دے کر یہ ایک صاع لیتے ہیں یا تین صاع کھجوریں دے کردو صاع یہ کھجوریں لیتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا اس طرح نہ کرو ‘ سب کھجوروں کو دراہم کے بدلہ میں بیچو اور عمدہ کھجوروں کو دراہم کے بدلہ میں خرید لو۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٩٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
اس حدیث میں آپ نے سود سے بچنے کا حیلہ بیان فرمایا ہے :
حیلہ کی تعریف اور اس کی اقسام :
حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :
کسی خفیہ طریقہ سے مقصود کے حاصل کرنے کو حیلہ کہتے ہیں ‘ علماء کے نزدیک اس کی کئی اقسام ہیں :
(١) اگر جائز طریقہ سے کسی حق (خواہ اللہ کا حق ہو جیسے زکوۃ یا بندہ کا حق ہو) باطل کیا جائے یا کسی باطل (مثلا سود ‘ رشوت اور پگڑی وغیرہ) کو حاصل کیا جائے تو یہ حیلہ حرام ہے۔
(٢) اگر جائز طریقہ سے کسی حق کو حاصل کیا جائے یا کسی باطل یا ظلم کو دفع کیا جائے تو یہ حیلہ مستحب یا واجب ہے۔
(٣) اگر جائز طریقہ سے کسی ضرر سے محفوظ رہا جائے تو یہ حیلہ مستحب یا مباح ہے۔
(٤) اگر جائز طریقہ سے کسی مستحب کو ترک کرنے کا حیلہ کیا جائے تو یہ مکروہ ہے۔ (فتح الباری ج ١٢ ص ٢٢٦ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)
فقہاء کے بیان کئے ہوئے بعض حیلے :
علامہ سرخسی (رح) لکھتے ہیں :
حضرت عمر (رض) کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : میں نے قسم کھائی ہے کہ اگر میں نے اپنے بھائی سے بات کی تو میری بیوی کو تین طلاقیں ہوں ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اپنی بیوی کو ایک طلاق بائن دے دو اور اپنے بھائی سے کلام کرلو اور بیوی سے پھر دوبارہ نکاح کرلو (المبسوط ج ٣٠ ص ٢٠٩ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)
زکوۃ میں تملیک شرط ہے ‘ اگر کوئی شخص کسی کا مثلا ہزار روپے کا مقروض ہے اور اس نے ہزار روپے زکوۃ میں نکالنے ہیں تو وہ اپنا قرض کس طرح وصول کرے ؟ علامہ محمد حصکفی لکھتے ہیں :
جواز کا حیلہ یہ ہے کہ وہ اپنے مقروض کو جو صاحب نصاب نہ ہو اپنی زکوۃ دے اور اس کو مالک بنا دے ‘ پھر اس مقروض سے اپنا قرض وصول کرے اور اگر نہ دے تو اس سے چھین لے کیونکہ وہ اپنا بعینہ قرض حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے اور اگر زکوۃ کی رقم سے کسی غریب آدمی کا کفن بنانا ہو تو کسی غریب کو کفن کی رقم زکوۃ میں دے دے پھر وہ شخص اس کو کفن پہنا دے۔ اس میں دونوں کو ثواب ملے گا ‘ مسجد کی تعمیر میں بھی زکوۃ کی رقم اسی طرح لگائی جاسکتی ہے۔ (رد المختار ج ٢ ص ١٢ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)
نیز علامہ حصکفی لکھتے ہیں :
زکوۃ کی رقم کو مسجد ‘ سرائے ‘ سبیل وغیرہ پر خرچ کرنا جائز نہیں ہے اور اس کا حیلہ یہ ہے کہ یہ رقم کسی غریب آدمی کو دے دے ‘ پھر اس کو کہے کہ وہ رقم ان نیک کاموں میں اپنی طرف سے خرچ کرے۔ (رد المختار ج ٢ ص ٦٣ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)
علامہ شامی لکھتے ہیں :
زکوۃ ادا کرنے والے کو زکوۃ کا ثواب مل جائے گا اور اس غریب شخص کو ان عبادات میں رقم خرچ کرنے کا ثواب مل جائے گا۔ (رد المختار ج ٢ ص ١٢ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)
نیز علامہ شامی لکھتے ہیں :
حافظ سیوطی (رح) نے ” جامع صغیر “ میں یہ حدیث بیان کی ہے کہ اگر صدقہ سو ہاتھوں سے منتقل ہوتا ہوا کسی شخص کو ملے تو ہر شخص کو اتنا ثواب ہوگا جتنا پہلے شخص کو ثواب ملے گا اور کسی کے ثواب میں کمی نہیں ہوگی۔ (فیض القدیر شرح جامع صغیر ج ٥ ص ٣٣٢‘ مطبوعہ دالمعرفۃ بیروت ‘ ١٣٩١ ھ)
علامہ مناوی (رح) نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو خطیب بغدادی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے ‘ اس کی سند میں بشیر بلخی ضعیف راوی ہے۔
اسی اصل پر فقہاء نے حیلہ اسقاط کو جائز کہا ہے۔
حیلہ اسقاط کی تحقیق :
علامہ شرنبلالی لکھتے ہیں :
نماز ‘ روزہ دیگر کفارات اور جنایات کو میت سے ساقط کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان تمام حقوق مالیہ کا ایک اندازہ کرلیا جائے اور اس کے تہائی مال سے اس رقم کو صدقہ کردیا جائے بہ شرطی کہ اس نے وصیت کی ہو ‘ اگر اس نے وصیت نہ کی ہو اور کوئی وارث یا کوئی اور شخص اپنی طرف سے بہ طور احسان میت کی طرف سے صدقہ کر دے تو جائز ہے اور اگر اتنی رقم نہ ہوسکی ہو مثلا کل رقم ایک لاکھ ہے اور وارث کے پاس ہزار روپے ہیں تو سو آدمی بیٹھ جائیں اور وہ ایک شخص کو ہزار روپے میت کا ذمہ ساقط کرنے کی نیت سے دے ‘ وہ دوسرے شخص کو اسی نیت سے ہزار روپے دے حتی کہ جو ننانوے واں شخص ہے وہ سوویں شخص کو اسی نیت سے ہزار روپے دے دے یا وارث اور فقیر ایک دوسرے کو سو بار دیں تو میت کی طرف سے ایک لاکھ روپے کے حقوق ساقط ہو گے اور ان سو آدمیوں میں سے ہر شخص کو ایک ہزار روپے صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا۔ (مراقی الفلاح ص ‘ ٣٦٢۔ ٣٦١‘ ملخصا وموضحا مطبوعہ مطبع مصطفے البابی و اولا دہ ‘ مصر ١٣٥٦ ھ)
علامہ محمد حصکفی حنفی لکھتے ہیں :
اگر کوئی شخص فوت ہوگیا اور اس کی کئی فوت شدہ نمازیں ہیں تو وہ ان کے کفارہ کی وصیت کرے ‘ اور ہر نماز کے لیے نصف صاع (دو کلوگرام) گندم کفارہ دے ‘ اسی طرح وتر اور ہر روزہ کا کفارہ ہے ‘ یہ کفارہ اس کے تہائی مال سے دیا جائے گا ‘ اگر اس نے مال نہیں چھوڑا تو اسکا وارث مثلا نصف صاع گندم (یا اس کی قیمت) قرض لے لے ‘ وہ یہ گندم ایک فقیر کو میت کی طرف سے نماز کے فدیہ میں صدقہ کرے ‘ وہ فقیر دوبارہ اس وارث کو یہ گندم صدقہ کر دے اور اسی طرح بار بار یہ دور کرتے رہیں حتی کہ میت کی تمام نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا ہوجائے۔ (درمختار ج ١ ص ٤٩٢۔ علی ھامش رد المختار مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)
علامہ شامی لکھتے ہیں :
اقرب یہ ہے کہ میت کی نمازوں کا اندازہ کرکے اس کے حساب سے قرض لے ‘ مرد پر بارہ سال اور عورت پر نو سال کی عمر میں نماز فرض ہوجاتی ہے تو ان کی عمر کی قضا نمازوں کا اندازہ کرے اور چھ ماہ یا ایک سال کی نمازوں کے فدیہ کی رقم ادھار لے ‘ پھر وہ رقم فقیر کو صدقہ کرے اور فقیر پھر وارث کو یہ رقم صدقہ کر دے یا کسی اور فقیر کو صدقہ کر دے (اور اگر ایک سال کے فدیہ کی رقم قرض لی تھی اور نمازیں دس سال کی ہیں تو وارث اور فقیر ایک دوسرے کو دس بار دیں یا دس فقیروں میں اس رقم کو بار بار دیں اور بعد میں یہ رقم قرض خواہ کو واپس کردیں) ۔ اسی طرح سے میت کے روزوں اور اس کے دوسرے مالی حقوق کی طرف سے بھی فدیہ دیا جائے۔ (رد المختار ج ١ ص ‘ ٤٩٣۔ ٤٩٢ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)
ہمارے دیہاتوں میں یہ رواج ہے کہ میت کی فوت شدہ نمازوں اور دیگر حقوق مالیہ کا حساب کیے بغیر چند آدمی بیٹھ کر ایک قرآن مجید اور چند روپوں کا آپس میں دور کرتے ہیں ‘ اس سے تمام نمازوں اور دیگر مالی حقوق کا فدیہ ادا نہیں ہوتا ‘ بلکہ قرآن مجید کی قیمت اور دوسرے روپوں کا جتنی بار دور کیا جاتا ہے اس کے حساب سے فقط اتنی نمازوں کا فدیہ ادا ہوگا۔

[Tibyan-ul-Quran 2:63]