بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قَالَ مُوۡسٰى لِقَوۡمِهٖۤ اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تَذۡبَحُوۡا بَقَرَةً ‌ ؕ قَالُوۡآ اَتَتَّخِذُنَا هُزُوًۡا ‌ؕ قَالَ اَعُوۡذُ بِاللّٰهِ اَنۡ اَكُوۡنَ مِنَ الۡجٰـهِلِيۡنَ

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا : بیشک اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے انہوں نے کہا : کیا آپ ہمارے ساتھ مذاق کرتے ہیں ؟ موسیٰ نے کہا : میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں سے ہوجاؤں

بنواسرائیل کے گائے ذبح کرنے کا بیان :
امام ابن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ ابوالعالیہ سے روایت کرتے ہیں :
بنو اسرائیل میں ایک مال دار شخص تھا ‘ (علامہ قرطبی (رح) نے کہا : اس کا نام عامیل تھا) اس کی اولاد نہ تھی ‘ اس کا وارث اس کا ایک رشتہ دار تھا (سدی کی روایت میں ہے : وہ اس کا بھتیجا تھا) اس نے اس مالدار شخص کو قتل کردیا تاکہ اس کا وارث ہو ‘ اور اس کی لاش لوگوں کے راستہ میں ڈال دی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جا کر کہا : میرا رشتہ دار قتل کردیا گیا اور میرے نزدیک آپ کے سوا اور کوئی شخص نہیں جو اس کے قاتل کا نام بتاسکے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے لوگوں میں اعلان کیا کہ جس شخص کو بھی اس کے قاتل کا علم ہو وہ ہمارے پاس آکر بیان کرے ‘ جب کوئی شخص نہ آیا تو وہ قاتل پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آیا اور کہا : آپ اللہ کے نبی ہیں ‘ آپ اللہ سے سوال کریں کہ وہ ہمیں قاتل بتلادے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ایک گائے ذبح کریں ‘ ان کو اس پر تعجب ہوا کہ قاتل بتلانے میں اور گائے کے ذبح کرنے میں کیا مناسبت ہے ‘ اس لیے انہوں نے کہا : آپ ہم سے مذاق کرتے ہیں ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : میں جاہل ہونے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ‘ انہوں نے کہا : آپ اللہ سے معلوم کریں کہ وہ کیسی گائے ہے ؟ فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا ‘ پھر کہا : اللہ سے دعا کریں کہ فرمائے اس کا رنگ کیسا ہو ‘ کہا : اللہ فرماتا ہے : وہ شوخ زرد رنگ کی گائے ہو جو دیکھنے والوں کو اچھی لگتی ہو ‘ انہوں نے پھر کہا : معلوم کریں اس کی صفت کیسی ہو ؟ یہ گائے ہم پر مشتبہ ہوگئی ہے اور انشاء اللہ ہم ہدایت پاجائیں گے۔ فرمایا : وہ گائے محنت کے کام نہ کرتی ہو ‘ نہ ہل چلاتی ہو نہ کھیتوں کو پانی دیتی ہو اور وہ صحیح سالم اور بےداغ ہو ‘ انہوں نے کہا : اب آپ نے پوری بات بتائی ہے ‘ پھر انہوں نے اس گائے کو ذبح کیا اور وہ یہ کام کرنے والے نہ تھے۔
جس وقت ان لوگوں کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا اگر یہ اسی وقت کسی بھی گائے کو ذبح کردیتے تو کافی تھا ‘ لیکن انہوں نے سوالات کرکے گائے میں قیودات لگوائیں تو اللہ نے بھی ان پر سختی کی اور اگر یہ آخر میں انشاء اللہ نہ کہتے تو یہ اس گائے کی طرف کبھی بھی ہدایت نہ پاتے ‘ جس گائے کا انہوں نے تعین کیا تھا وہ صرف ایک بوڑھی عورت کے پاس تھی جس کے یتیم بچے تھے ‘ جب اس کو معلوم ہوا کہ یہ اس گائے کے علاوہ اور کسی گائے کا ذبح نہیں کریں گے تو اس نے اس گائے کی قیمت بہت بڑھا دی (سدی کی روایت میں ہے : اس عورت نے اس کے وزن سے دس گنا زیادہ سونا طلب کیا۔ ( طبری ج ١ ص ٢٦٩) وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس گئے اور کہا : وہ عورت بہت زیادہ قیمت مانگ رہی ہے ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : تم نے خود اپنے اوپر سختی کی ہے ‘ اب اس کی منہ مانگی قیمت دو ‘ انہوں نے وہ قیمت ادا کرکے گائے کو خریدا اور اس کو ذبح کیا ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم دیا کہ اس کی ہڈی لے کر مقتول کے جسم پر مارو ‘ جب مقتول پر گائے کی ہڈی ماری گئی تو وہ زندہ ہوگیا اور اس نے قاتل کا نام بتادیا اور پھر مرگیا اور قاتل وہی شخص تھا جس نے اس کے قاتل کا مطالبہ کیا تھا اس کو اس برے عمل کی پاداش میں قتل کردیا گیا۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٢٦٨۔ ٢٦٧ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
علامہ ابوالحیان اندلسی (رح) لکھتے ہیں :
اس مقتول عامیل تھا ‘ عطاء اور سدی (رح) نے کہا کہ اس کا قاتل اس کا چچا زاد بھائی تھا ایک قول یہ ہے کہ وہ اس کا بھائی تھا اور ایک قول یہ ہے کہ وہ اس کا بھتیجا تھا ‘ نیز عطاء نے کہا ہے کہ عامیل کے عقد میں اس کی چچا زاد تھی اور وہ بنواسرائیل میں سب سے حسین عورت تھی ‘ قاتل نے اس لیے قتل کیا کہ وہ اس عورت سے بعد میں نکاح کرے۔ (البحر المحیط ج ١ ص ‘ ٤٠٣ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤١٢ ھ)
بنواسرائیل کی گائے کا بیان :
بنو اسرائیل نے جس گائے کو ذبح کیا تھا اس کے متعلق حافظ سیوطی (رح) لکھتے ہیں :
امام ابن ابی الدنیا (رح) نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ بنواسرائیل میں ایک نوجوان ایک دکان میں کچھ چیزیں فروخت کرتا تھا ‘ اس کا باپ بوڑھا آدمی تھا ‘ ایک دن ایک اور شہر سے ایک شخص آیا اور اس سے کچھ سودا طلب کیا ‘ اور اس کی قیمت دے دی ‘ وہ اس کے ساتھ دکان کھولنے گیا ‘ تاکہ اس کو وہ چیز دے دے ‘ چابی اس کے والد کے پاس تھی اور وہ دکان کے سائے میں سو رہا تھا ‘ اس شخص نے کا ہ : اس کو جگا دو اس لڑکے نے کہا : وہ سویا ہوا ہے اور میں اس کو بیدار نہیں کروں گا ‘ اس شخص نے اس کو جگانے کے لیے دگنی قیمت پیش کی ‘ اس لڑکے نے انکار کردیا ‘ حتی کہ وہ شخص چلا گیا ‘ اس لڑکے نے جو اپنے باپ کے ساتھ نیکی کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ جزا دی کہ ان کی گائے سے وہ گائے پیدا ہوئی جس کی بنواسرائیل کو تلاش تھی ‘ بنواسرائیل اس گائے کو خریدنا چاہتے تھے اور وہ لڑکا راضی نہ ہوتا تھا ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : اس کو راضی کرکے گائے خریدو ‘ بالآخر اس کی قیمت یہ طے کی گئی کہ اس کے وزن کے برابر سونا دیا جائے (الدرالمنثور ‘ ج اص ٧٦‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)
امام ابن جریر (رح) نے بھی اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔ (جامع البیان ج ا ص ٢٦٩۔ ٢٦٨‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
گائے ذبح کرنے کے واقعہ سے استنباط شدہ مسائل :
(١) بنواسرائیل کو اس حکم میں جو بھی اشکال ہوا اس کے حل کے لیے انہیں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کی درخواست کی ‘ از خود دعا نہیں کی ‘ نہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ فرمایا : تم خود دعا کرلو ‘ اس سے وسیلہ اور مقربین سے دعا کرانے کا ثبوت ہے۔
(٢) مذاق کرنا جاہلوں کا کام ہے ‘ البتہ مزاح اور چیز ہے یعنی کوئی نکتہ افروز بات کرنا ‘ جیسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کوئی بڑھیا جنت میں نہیں جائے گی۔
(٣) اللہ تعالیٰ کے حکم پر بےچون وچرا عمل کرنا چاہیے اور اس میں حیل وحجت نہیں نکالنی چاہیے۔
(٤) اگر کوئی شخص اپنے اوپر سختی کرے تو اللہ تعالیٰ بھی اس پر سختی کرتا ہے بنواسرائیل نے بےجا سوالات کرکے اپنے اوپر سختی کی تو اللہ نے بھی اس میں قیودات لگائیں۔
(٥) جو شخص ماں باپ کا ادب اور ان کی فرماں برداری کرے اللہ اس کو اچھی جزا دیتا ہے۔
(٦) انشاء اللہ کہنے کی برکت سے کام ہوجاتا ہے کیونکہ جب تک انہوں نے انشاء اللہ نہیں کہا گائے کی طرف ہدایت نہیں پائی تھی۔
(٧) انسان کو اپنی چیز کی قیمت مقرر کرنے کا اختیار ہے حتی کہ ایک گائے کی قیمت اس کے ہم وزن سونا بھی ہوسکتی ہے۔
(٨) شوخ زرد رنگ اللہ کا پسندیدہ رنگ ہے۔

[Tibyan-ul-Quran 2:67]