سوال نمبر۲۸:-کیا تین طلاقوں کے بعد خاندان کے بڑے لوگ صلح کرواسکتے ہیں اگر نہیں تو جو لوگ غیر مقلدین سے فتوی لیکر دوبارہ سابقہ بیوی کو گھر میں رکھ لیتے ہیں ان کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے

جواب :-جب تین طلاقوں کے بعد قرآن و حدیث کے فرامین سے عورت کا مرد پر حرام ہونا ثابت ہے تو خاندان کے بڑے یا غیر مقلدین ہرگز اﷲعزّوجل کے حرام کو حلال نہیں کرسکتے ۔ تین طلاقوں کے بعد بغیر حلالے کے بیوی رکھنا حرام ہے اور بے غیرتی ہے۔ اور ایسی عورت سے مرد کا جماع کرنا حرام و زنا ہے ۔اور اس زنا کے گناہ میں مرد و عورت ، خاندان کے صلح کرانے والے لوگ اور غیر مقلدسب شامل ہیں۔ اور اس بے غیرتی میں سب شریک ہیں۔ او ر یہ ایسا زنا ہوگا جو ساری زندگی ہوتا رہےگا ۔ کہ جب وہ مرد و عورت میاں بیوی نہیں تو ان کا جب بھی میاں بیوی والا تعلق ہوگا وہ زنا ہی ہوگا ۔ اور ہر مرتبہ سب افراد گناہ میں شریک ہوں گے ۔لہذا ضروری ہے کہ جب بھی عورت کو طلاق دیں تو ایک طلاق دیں اور پھر چھوڑدیں حتی کہ عدت گزر جائے تاکہ اگر بعد میں صلح کا ارادہ بنے تو بغیر حلالہ کے صلح ہوسکے ۔