بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بَلٰى مَنۡ كَسَبَ سَيِّئَةً وَّاَحَاطَتۡ بِهٖ خَطِيْۤـــَٔتُهٗ فَاُولٰٓٮِٕكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ

کیوں نہیں ! جنہوں نے برا کام کیا اور ان کی برائی نے ان کو (پوری طرح) گھیر لیا وہ جہنمی ہیں ‘ اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

عذاب یہود کے مزعومہ چند دنوں کا بیان :
یہودی کہتے تھے : ان کو صرف چند دن عذاب ہوگا اور ان چند دونوں کے متعلق دو قول ہیں ‘ ایک قول یہ ہے :
امام ابن جریر طبری (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے دشمن یہودیوں نے کہا : اللہ تعالیٰ ہمیں جہنم میں صرف قسم پوری کرنے کے لیے داخل کرے گا اور یہ چالیس دن کی مدت ہے جس میں ہم نے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔
اور دوسرا قول یہ ہے :
مجاہد (رح) نے بیان کیا کہ یہودیہ کہتے تھے کہ دنیا کی مدت ہزار سال ہے اور ہمیں ہر ہزار کے مقابلہ میں ایک سال عذاب دیا جائے گا یعنی کل سات سال عذاب دیا جائے گا۔ (جامع البیان ج ١ ص ٣٠٣۔ ٣٠٢‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جنہوں نے برا کام کیا اور ان کی برائی نین ان کو (پوری طرح) گھیر لیا وہ جہنمی ہیں۔ (البقرہ : ٨١)
بلاتوبہ مرتکب کبیرہ مرنے والے کے دائمی عذاب پر معتزلہ کا استدلال اور اس کا جواب :
معتزلہ اور خوراج نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ جس مسلمان نے گناہ کبیرہ کیا اور بغیر توبہ کے مرگیا وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا لیکن ان کا یہ استدلال دو وجہوں سے باطل ہے :
اول تو اس وجہ سے کہ امام ابن جریر (رح) نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ اس آیت میں ” سیۂ “ (برائی) سے مراد کفر ہے اور ابو وائل ‘ مجاہدرحمۃ اللہ علیہ اور قتادہ (رض) سے مروی ہے کہ ” سئیہ “ سے مراد اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔ (جامع البیان ج ١ ص ٣٠٥۔ ٣٠٤‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
اور جو شخص مشرک ہو ‘ وہ ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا ‘ دوسری وجہ یہ ہے یہ کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ وہ برائی اس کا احاطہ کرلے اور احاطہ اس وقت ہوگا جب اس کے دل سے بھی تصدیق نکل جائے گا اور اس میں ایمان اور خیر مطلقا نہ رہے اور ایسا شخص کافر ہے اور وہ جہنم میں ہمیشہ رہے گا۔
اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ اگر گناہ کبیرہ کا مرتکب مسلمان بغیر توبہ کے مرگیا تو اس کی بخشش ہوسکتی ہے اور ان کی دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے :
(آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشآء (النساء : ٤٨ )
ترجمہ : بیشک اللہ اپنے ساتھ شرک کئے جانے کو نہیں بخشے گا اور جو (گناہ) اس سے کم ہو اس کو جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جس مسلمان نے شرک نہیں کیا خواہ اس نے کوئی گناہ کیا ہو ‘ توبہ کی ہو یا نہ کی ہو ‘ اللہ چاہے گا تو اس کو بخش دے گا۔

[Tibyan-ul-Quran 2:81]