بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَكُمۡ لَا تَسۡفِكُوۡنَ دِمَآءَكُمۡ وَلَا تُخۡرِجُوۡنَ اَنۡفُسَكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ ثُمَّ اَقۡرَرۡتُمۡ وَاَنۡـتُمۡ تَشۡهَدُوۡنَ

اور جب ہم نے تم سے یہ پختہ عہد لیا کہ تم ایک دوسرے کا خون نہ بہانا ‘ اور نہ ایک دوسرے کو اپنے گھروں سے نکالنا ‘ پھر تم نے (اس کا) اقرار کیا ‘ (اور اس عہد پر) تم خود بھی گواہی دیتے ہو

یہود مدینہ کا ایک دوسرے کو قتل کرکے میثاق توڑنے کا بیان :
اللہ تعالیٰ نے تورات میں بنواسرائیل سے یہ پختہ عہد لیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو قتل نہیں کریں گے اور نہ ایک دوسرے کو گھروں سے نکالیں گے ‘ نسل در نسل یہ عہد ومیثاق مدینہ میں آباد یہودیوں میں بھی منتقل ہوا مدینہ میں اوس اور خزرج ‘ مشرکوں کے دو قبیلے تھے جو کسی شریعت کے پیروکار تھے نہ کسی چیز کے حرام اور حلال ہونے کے قائل تھے ‘ یہ دونوں قبیلے ایک دوسرے سے برسرپیکار رہتے تھے۔ مدینہ میں رہنے والے یہود بھی دو حصوں میں بٹ گئے تھے، بنو قینقاع ‘ خزرج کے حلیف تھے اور بنو نضیر اور بنو قریظہ اوس کے حلیف تھے۔ جب اوس اور خزرج میں جنگ ہوتی تو بنو قینقاع خزرج کا ساتھ دیتے اور بنو نضیر اور بنو قریظہ اوس کا ساتھ دیتے اور اس جنگ میں یہود ایک دوسرے کو قتل کرتے اور گھروں سے نکال دیتے اور جب جنگ ختم ہوجاتی تو بنو نضیر اور بنو قریظہ کے جو لوگ خزرج کی قید میں ہوتے ان کو بنو قینقاع فدیہ دے کر چھڑا لیتے اور بنوقینقاع کے جو لوگ اوس کی قید میں ہوتے ان کو بنو قریظہ اور بنو نضیر فدیہ دے کر چھڑا لیتے ‘ اور جس ان سے کہا جاتا کہ تم فریق مخالف کے قیدیوں کو فدیہ دے کر کیوں چھڑا رہے ہو ؟ تو کہتے کہ ہمیں تورات میں یہ حکم دیا گیا کہ قیدیوں کو فدیہ دے کر چھڑائیں ‘ پھر ان سے کہا جاتا کہ تورات میں تو یہ بھی لکھا ہے کہ تم ایک دوسرے کو قتل نہ کرو اور گھروں سے نہ نکالو تو تم اس کی مخالفت کیوں کرتے ہو ؟ تو کہتے کہ ہم اپنے حلیف سے کیے ہوئے عہد کی پاس داری کرتے ہیں ‘ یعنی مشرکوں سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے تھے اور خدا سے کیے ہوئے عہد کو توڑتے تھے۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٢١٤ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 84