بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَ بَنِىۡٓ اِسۡرَآءِيۡلَ لَا تَعۡبُدُوۡنَ اِلَّا اللّٰهَ وَبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰکِيۡنِ وَقُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسۡنًا وَّاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰتُوا الزَّکٰوةَ ؕ ثُمَّ تَوَلَّيۡتُمۡ اِلَّا قَلِيۡلًا مِّنۡکُمۡ وَاَنۡـتُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ

اور یاد کرو جب ہم نے بنو اسرائیل سے یہ پختہ عہد لیا کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ ‘ رشتہ داروں ‘ یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیکی کرنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کرنا ‘ اور نماز قائم کرنا اور زکوۃ ادا کرنا ‘ پھر تم میں سے چند لوگوں کے علاوہ تم سب (اس عہد سے) منحرف ہوگئے اور تم (ہو ہی) منہ موڑنے والے

ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا تھا کہ بنواسرائیل نے برے کام کیے اور برے کاموں نے ان کا احاطہ کرلیا ‘ اب اللہ تعالیٰ اس کی تفصیل بیان فرما رہا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے پختہ عہد کیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے اور ماں باپ ‘ رشتہ داروں ‘ یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کریں گے ‘ لوگوں سے اچھی باتیں کریں گے ‘ نماز قائم کریں گے اور زکوۃ دیں گے ‘ پھر چند اشخاص کے سوا باقی سب نے اس عہد کی خلاف ورزی کی۔
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ کی عبادت کرنا ‘ نماز قائم کرنا ‘ اور زکوۃ ادا کرنا ‘ ماں باپ ‘ رشتہ داروں ‘ یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کرنا ‘ یہ اس قسم کی عبادات ہیں جو ہر نبی کے دور میں مشترک رہی ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کو اہمیت کے ساتھ بیان کیا ہے اور اس کا اپنی عبادت کے ساتھ متصلا ذکر کیا ہے اس لیے ہم یہاں اس کی کچھ تفصیل ذکر کررہے ہیں اور اس کے بعد رشتہ داروں ‘ یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کا بھی بیان کریں گے ‘ ان شاء اللہ۔
والدین کی اطاعت پر ‘ ثواب کے متعلق احادیث :
حافظ منذری (رح) بیان کرتے ہیں :
(١) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : اللہ کو سب سے زیادہ کون ساعمل پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا : نماز کو وقت پر پڑھنا میں نے پوچھا : پھر کون سا عمل ؟ فرمایا : ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا۔ (بخاری ‘ مسلم)
(٢) حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص نے آکر جہاد کی اجازت طلب کی ‘ آپ نے فرمایا : کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں ؟ اس نے کہا : ہاں ! فرمایا ان کی خدمت میں جہاد کرو۔ (بخاری ‘ مسلم ‘ ابوداؤد ‘ نسائی)
(٣) معاویہ بن جاھمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت جاھمہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے جہاد کا ارادہ کیا ہے ‘ میں آپ کے پاس مشورہ کے لیے آیا ہوں ‘ آپ نے فرمایا : کیا تمہاری ماں (زندہ) ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ! آپ نے فرمایا : اس کے ساتھ چمٹے رہو کیونکہ جنت اس کے پیر کے پاس ہے۔ (ابن ماجہ ‘ نسائی ‘ حاکم ‘ حاکم نے کہا : اس کی سند صحیح ہے)
اس حدیث کو سند جید کے ساتھ طبرانی (رح) نے روایت کیا ہے کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور آپ سے جہاد کے متعلق مشورہ کیا ‘ آپ نے فرمایا : تمہارے ماں باپ ہیں ؟ میں نے کہا : ہاں ! آپ نے فرمایا : ان کے پیروں کے ساتھ چمٹے رہو۔ جنت ان کے پیروں کے نیچے ہے۔
(٤) حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا : میں جہاد کی خواہش رکھتا ہوں اور مجھے اس قدرت نہیں ہے ‘ آپ نے فرمایا : کیا تمہارے والدین میں سے کوئی ایک ہے ؟ اس نے کہا : میری ماں ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کے ساتھ نیکی کرنے کی زیادہ کوشش کرو ‘ جب تم یہ کرلو گے تو تم حج کرنے والے ‘ عمرہ کرنے والے اور جہاد کرنے والے ہو گے۔ اس حدیث کو ابویعلی اور طبرانی (رح) نے روایت کیا ہے اور دونوں کی سند عمدہ ہے۔
(٥) حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا تھا اور حضرت عمر (رض) اس کو ناپسند کرتے تھے ‘ انہوں نے مجھ سے کہا : اس کو طلاق دے دو ‘ میں نے انکار کیا ‘ حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کو طلاق دے دو ۔ (ابوداؤد ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ ‘ ابن حبان)
(٦) حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کرے اس کے لیے طوبی (جنت کا ایک سایا دار درخت) ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں زیادتی کرتا ہے۔ (ابویعلی ‘ طبرانی ‘ حاکم ‘ اصبہانی ‘ حاکم نے کہا : اس کی سندصحیح ہے)
(٧) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کی ناک خاک آلودہ ہو ‘ اس کی ناک خاک آلودہ ہو ‘ اس کی ناک خاک آلودہ ہو ‘ پوچھا : کس کی ؟ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا : جس نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کا بڑھاپا پایا ‘ اس کے باوجود وہ جنت میں داخل نہیں ہوا۔ (مسلم)
(٨) حضرت جابر بن سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منبر پر چڑھتے ہوئے فرمایا : آمین ‘ آمین ‘ آمین ‘ آپ نے فرمایا : میرے پاس جبریل (علیہ السلام) آئے اور کہا : اے محمد ! جس نے اپنے ماں باپ کو یا ان میں سے ایک کو پایا اور ان کے ساتھ نیکی کیے بغیر مرگیا ‘ وہ دوزخ میں جائے گا اور اللہ اس کو (اپنی رحمت سے) دور کر دے ‘ کہئے آمین تو میں نے کہا : آمین ‘ پھر کہا : یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور مرگیا اور اس کی مغفرت نہیں ہوئی (یعنی اس نے روزے نہیں رکھے) وہ دوزخ میں داخل کیا جائے گا اور اللہ اس کو (اپنی رحمت سے) دور کر دے ‘ کہئے آمین ‘ تو میں نے کہا : آمین ‘ اور جس کے سامنے آپ کا ذکر کیا جائے اور وہ آپ پر درود نہ پڑھے وہ دوزخ میں جائے اور اللہ اس کو (اپنی رحمت سے) دور کردے “ کہئے آمین ‘ تو میں نے کہا : آمین ‘ (اس حدیث کو امام طبرانی (رح) نے دو سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے جن میں سے ایک سند حسن ہے ‘ امام ابن حبان (رح) نے اس کو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور اس کو امام حاکم نے بھی روایت کیا ہے) ۔
(٩) حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین آدمی سفر کر رہے تھے۔ ان کو بارش نے آلیا ‘ انہوں نے پہاڑ کے اندر ایک غار میں پناہ لی ‘ غار کے منہ پر پہاڑ سے ایک چٹان ٹوٹ کر آگری اور غار کا منہ بند ہوگیا ‘ پھر انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : تم نے جو نیک عمل اللہ کے لیے کیے ہوں ان کے وسیلہ سے اللہ سے دعا کرو ‘ شاید اللہ غار کا منہ کھول دے ‘ ان میں سے ایک نے کہا : اے اللہ ! میرے ماں باپ بوڑھے تھے اور میری ایک چھوٹی بچی تھی ‘ میں جب شام کو آتا تو بکری کا دودھ ‘ دوھ کر پہلے اپنے ماں باپ کو پلاتا ٗ پھر اپنی بچی کو پلاتا ایک دن مجھے دیر ہوگئی ‘ میں حسب معمول دودھ لے کر ماں باپ کے پاس گیا ‘ وہ سو چکے تھے ‘ میں نے ان کو جگانا ناپسند کیا اور ان کے دودھ ‘ دینے سے پہلے اپنی بچی کو دودھ دینا ناپسند کیا ‘ بچی رات بھر بھوک سے میرے قدموں میں روتی رہی اور میں صبح تک دودھ لے کر ماں باپ کے سرہانے کھڑا رہا۔ اے اللہ ! تجھے خوب علم ہے کہ میں نے یہ فعل صرف تیری رضا کے لیے کیا تھا ‘ تو ہمارے لیے اتنی کشادگی کردے کہ ہم آسمان کو دیکھ لیں ‘ اللہ عزوجل نے ان کے لیے کشادگی کردی حتی کہ انہوں نے آسمان کو دیکھ لیا۔ (بخاری ‘ مسلم ‘ ابن حبان)
(١٠) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ کون مستحق ہے ؟ فرمایا : تمہاری ماں ‘ اس نے پوچھا : پھر کون ؟ فرمایا : تمہاری ماں ‘ اس نے پوچھا پھر کون ؟ فرمایا تمہاری ماں ‘ اس نے پوچھا پھر کون ؟ فرمایا تمہارا باپ۔ (بخاری و مسلم)
(١١) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی رضا والد کی رضا میں ہے اور اللہ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں ہے۔ (ترمذی ‘ ابن حبان ‘ حاکم ‘ طبرانی)
(١٢) حضرت ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا اور کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے بہت بڑا گناہ کرلیا ہے : کیا اس کی کوئی توبہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : کیا تمہاری ماں ہے ؟ اس نے کہا : نہیں ‘ فرمایا : کیا تمہاری خالہ ہے ؟ اس نے کہا : ہاں ! فرمایا : اس کے ساتھ نیکی کرو۔ (ترمذی ابن حبان ‘ حاکم)
(١٣) حضرت ابواسید مالک بن ربیعہ ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ بنو سلمہ کا ایک شخص آیا ‘ کہنے لگا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا میں ماں باپ کی موت کے بعد ان کے ساتھ نیکی کرسکتا ہوں ؟ فرمایا ہاں ! ان کی نماز جنازہ پڑھو ‘ ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو ‘ کسی کے ساتھ ان کے کیے ہوئے وعدہ کو پورا کرو ‘ ان کے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرو ‘ ان کے دوستوں کی عزت کرو۔ (ابوداؤد ابن ماجہ ‘ ابن حبان) (الترغیب والترھیب ج ٣ ص۔ ٣٢٣۔ ٣١٤‘ ملتقطا ‘ مطبوعہ دارالحدیث القاہرہ ‘ ١٤٠٧ ھ)
ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ ماں باپ کے ساتھ نیکی کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب عمل ہے ‘ اس کا ثواب جہاد کے برابر بلکہ اس سے بڑھ کر ہے اور اس کا اجر حج اور عمرہ کے مساوی ہے ‘ ماں باپ کے قدموں میں رہنا جنت کی طرف پہنچاتا ہے ‘ اس سے عمر زیادہ ہوتی ہے ‘ دعا قبول ہوتی ہے ‘ دوزخ سے نجات ملتی ہے ‘ مغفرت ہوتی ہے ‘ اور ان کو راضی کرنے سے اللہ راضی ہوتا ہے۔
ماں باپ کی نافرمانی پر عذاب کے متعلق احادیث :
حافظ منذری بیان کرتے ہیں :
(١) حضرت ابوبکر (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار فرمایا : کیا میں تم کو سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں ؟ ہم نے کہا : کیوں نہیں ! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا : اللہ کے ساتھ شریک کرنا ‘ ماں باپ کی نافرمانی کرنا ‘ آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر بیٹھ گئے اور فرمایا : سنو اور جھوٹ اور جھوٹی گواہی ‘ آپ بار بار یہ فرماتے رہے حتی کہ ہم نے کہا : کاش آپ سکوت فرماتے۔ (بخاری ‘ مسلم ‘ ترمذی)
(٢) حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین شخصوں کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر (رحمت) نہیں فرمائے گا ‘ ماں باپ کا نافرمان ‘ عادی شرابی ‘ کوئی چیزدے کر احسان جتلانے والا ‘ اور تین آدمی جنت میں داخل نہیں ہوں گے ‘ ماں باپ کا نافرمان ‘ دیوث (اپنی بیوی کی بدکاری پر علم کے باوجود خاموش رہنے والا) اور جو عورت مردوں کی مشابہت کرے۔ (نسائی ‘ بزار ‘ ان دونوں کی سند حسن ہے حاکم نے کہا : اس کی سند صحیح ہے اور ابن حبان نے اپنی صحیح میں اس کا پہلا حصہ روایت کیا ہے)
(٣) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پانچ سو میل کی مسافت سے جنت کی خوشبو آئے گی ‘ اپنے کام کا احسان جتانے والے کو ماں باپ کے نافرمان کو اور عادی شرابی کو یہ خوشبو نصیب نہیں ہوگی۔ (طبرانی)
(٤) حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین آدمیوں کا اللہ تعالیٰ کوئی فرض قبول کرے گا نہ نفل ‘ ماں باپ کا نافرمان ‘ احسان جتانے والا اور تقدیر کو جھٹلانے والا۔ (کتاب السنۃ)
(٥) حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے والدین پر لعنت کرے ‘ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی شخص اپنے والدین پر کیسے لعنت کرے گا ؟ فرمایا : وہ کسی شخص کے باپ کو گالی دے گا تو وہ اس کے باپ کو گالی دے گا ‘ وہ کسی کی ماں کو گالی دے گا تو وہ اس کی ماں کو گالی دے گا۔ (بخاری ‘ مسلم ‘ ابوداؤد ‘ ترمذی)
(٦) حضرت عمرو (رض) مرہ جہنی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں اور پانچ نمازیں پڑھتا ہوں ‘ اپنے مال کی زکوۃ دیتا ہوں رمضان کے روزے رکھتا ہوں ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اس عمل پر فوت ہوگیا ‘ وہ قیامت کے دن نبیوں ‘ صدیقوں اور شہداء کے ساتھ ہوگا ‘ پھر آپ نے دونوں انگلیاں کھڑی کر کے فرمایا : بہ شرطی کہ اس نے ماں باپ کی نافرمانی نہ کی ہو۔ (احمد ‘ طبرانی ‘ ان دونوں نے دو سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے اور ان میں سے ایک سند صحیح ہے ‘ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اس کو اپنی صحیح میں اختصار کے روایت کیا ہے)
(٧) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سات آسمانوں کے اوپر سے لعنت بھیجتا ہے ‘ اور ان میں سے ہر ایک پر تین بار لعنت بھیجتا ہے ‘ اور ہر ایک کو ایسی لعنت بھیجتا ہے جو اس کو کافی ہے ‘ قوم لوط کا عمل کرنے والا ملعون ہے ‘ قوم لوط کا عمل کرنے والا ملعون ہے ‘ قوم لوط کا عمل کرنے والا ملعون ہے ‘ غیر اللہ کے لیے ذبح کرنے والا ملعون ہے ‘ ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا ملعون ہے۔ (طبرانی حاکم نے کہا : اس کی سند صحیح ہے)
(٨) حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے کہا : ایک جوان آدمی قریب المرگ ہے اس سے کہا گیا کہ لا الہ الا اللہ پڑھو تو وہ نہیں پڑھ سکا ‘ آپ نے فرمایا : وہ نماز پڑھتا تھا ؟ اس نے کہا : ہاں ! پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ اٹھے ‘ آپ اس جوان کے پاس گئے اور فرمایا : کہو لا الہ الا اللہ “ اس نے کہا : مجھ سے نہیں پڑھا جارہا ‘ آپ نے اس کے متعلق پوچھا ‘ کسی نے کہا : یہ اپنی والدہ کی نافرمانی کرتا تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اس کی والدہ زندہ ہے ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ! آپ نے فرمایا : اس کو بلاؤ ‘ وہ آئی آپ نے پوچھا : یہ تمہارا بیٹھا ہے ‘ اس نے کہا ہاں ! آپ نے فرمایا : یہ بتاؤ اگر آگ جلائی جائے اور تم سے یہ کہا جائے کہ اگر تم شفاعت کرو تو اس کو چھوڑ دیتے ہیں ورنہ اس کو آگ میں ڈال دیتے ہیں تو کیا تم اس کی شفاعت کرو گی ؟ اس نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت میں اس کی شفاعت کروں گی ‘ آپ نے فرمایا تب تم اللہ کو گواہ کرو ‘ اور مجھ کو گواہ کر کے کہو کہ تم اس سے راضی ہوگئی ہو ‘ اس عورت نے کہا : اے اللہ ! میں تجھ کو گواہ کرتی ہوں اور تیرے رسول کو گواہ کرتی ہوں کہ میں اپنے بیٹے سے راضی ہوں ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لڑکے ! اب کہو : ” لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ “ تو اس لڑکے نے کلمہ پڑھا پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کا شکر ہے جس نے اس کی میری وجہ سے آگ سے نجات دی۔ (طبرانی واحمد) (الترغیب والترھیب ج ٣ ص۔ ٣٣٣۔ ٤٢٣‘ ملتقطا ‘ مطبوعہ دارالحدیث القاہرہ ‘ ١٤٠٧ ھ)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ ماں باپ کی نافرمانی گناہ کبیر ہے ‘ اس کی وجہ سے انسان جہنم میں جا گرتا ہے ‘ محشر میں جنت کی خوشبو سے محروم رہتا ہے ‘ کہ ماں باپ کی نافرمانی گناہ کبیرہ ہے ‘ اس کی وجہ سے انسان جہنم میں جا گرتا ہے محشر میں جنت کی خوشبو سے محروم رہتا ہے ‘ ماں باپ کے نافرمان کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا ‘ موت سے پہلے اس کو دنیا میں فقر اور ذلت اور مہلک بیماریوں کی سزا ملتی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اور فرشتوں کی لعنت ہے ‘ ماں باپ کے نافرمان کا خاتمہ خراب ہوتا ہے ‘ اس کی بصیرت سلب ہوجاتی ہے اور ایمان جاتا رہتا ہے اور وہ مرتے وقت کلمہ شہادت نہیں پڑھ سکتا۔ اے اللہ ! ہم پر ہمارے والدین کو راضی رکھ اور ان کو ہماری طرف سے بہترین جزاء عطا فرما !
رشتہ داروں ‘ یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کے متعلق احادیث :
حافظ منذری بیان کرتے ہیں :
حضرت انس (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی کی جائے اور اس کی عمر میں زیادتی کی جائے وہ رشتہ داروں سے تعلق جوڑے۔ (بخاری و مسلم) (الترغیب والترھیب ج ٣ ص۔ ٣٢٤ ملتقطا ‘ مطبوعہ دارالحدیث القاہرہ)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر جمعرات کو جمعہ کی شب بنوآدم کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں ‘ جو شخص رشتہ داروں سے تعلق توڑنے والا ہو اس کا عمل قبول نہیں ہوتا ‘ اس حدیث کا امام احمد (رح) نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ (الترغیب والترھیب ج ٣ ص۔ ٣٤٣۔ ‘ ملتقطا ‘ مطبوعہ دارالحدیث القاہرہ)
حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے ‘ آپ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کو ملا کر اشارہ کیا۔ (بخاری ابوداؤد و ترمذی) (الترغیب والترھیب ج ٣ ص۔ ٣٤٦ ملتقطا ‘ مطبوعہ دارالحدیث القاہرہ)
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ گھر وہ ہے جس میں یتیم عزت کے ساتھ رہتا ہو، (طبرانی واصبہانی) (الترغیب والترھیب ج ٣ ص۔ ٣٤٨‘ ملتقطا ‘ مطبوعہ دارالحدیث القاہرہ)
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیوہ اور مسکین کی پرورش کے لیے جدوجہد کرنے والا ‘ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثل ہے اور میرا گمان ہے آپ نے فرمایا : اس شخص کی مثل ہے جو اکتائے بغیر قیام کرے اور مسلسل روزے رکھے۔ (بخاری، مسلم، ابن ماجہ) (الترغیب والترھیب ج ٣ ص ٣٥١ ملتقطا ‘ مطبوعہ دارالحدیث القاہرہ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 83