بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ لَقَدۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ وَقَفَّيۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهٖ بِالرُّسُلِ‌ وَاٰتَيۡنَا عِيۡسَى ابۡنَ مَرۡيَمَ الۡبَيِّنٰتِ وَاَيَّدۡنٰهُ بِرُوۡحِ الۡقُدُسِ‌ؕ اَفَكُلَّمَا جَآءَكُمۡ رَسُوۡلٌۢ بِمَا لَا تَهۡوٰٓى اَنۡفُسُكُمُ اسۡتَكۡبَرۡتُمۡ‌ۚ فَفَرِيۡقًا كَذَّبۡتُمۡ وَفَرِيۡقًا تَقۡتُلُوۡنَ

اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب دی ‘ اور ان کے بعد لگاتار رسول بھیجے اور ہم نے عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کو واضح دلیلیں دیں ‘ اور ہم نے روح القدس (جبریل) سے ان کی تائید کی ‘ تو ہر بار (ایسا نہیں ہوا) کہ جب بھی رسول تمہارے پاس ایسا پیغام لے کر آیا جو تمہاری مرضی کا نہ تھا تو تم نے تکبر کیا (رسولوں کے) ایک گروہ کی تم تکذیب کرتے تھے اور ایک گروہ کو تم قتل کرتے تھے

عیسیٰ ‘ مریم اور روح القدس کے معنی :
عیسی اور یسوع عبرانی زبان کے الفاظ ہیں ‘ ان کا معنی ہے : سید یابرکت والا ‘ مریم بھی عبرانی زبان کا لفظ ہے ‘ اس کا معنی ہے : خادم ‘ کیونکہ ان کی ماں نے یہ نذر مانی تھی کہ ان کو بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کردیں گی ‘ بینات سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات ہیں ‘ مثلا مردوں کو زندہ کرنا ‘ پیدائشی نابینا کو بینا کرنا ‘ برص زدہ لوگوں کو ٹھیک کرنا ‘ روح القدس سے مراد ہے پاکیزہ روح ‘ حضرت جبریل کو روح القدس کہتے ہیں ‘ قدس سے مراد اللہ تعالیٰ ہے اور روح کی اضافت تشریف کے لیے ہے یعنی اللہ کی پسندیدہ روح ‘ قرآن مجید میں حضرت جبریل (علیہ السلام) کو روح القدس بھی بھی فرمایا ہے اور الروح الامین بھی فرمایا ہے۔
(آیت) ” قل نزلہ روح القدس من ربک بالحق “۔ (النحل : ١٠٢)
ترجمہ : آپ کہئے کہ اس قرآن کو حق کے ساتھ روح القدس نے آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا ہے۔
(آیت) ” نزل بہ الروح الامین۔ علی قلبک لتکون من المنذرین۔ (الشعراء : ١٩٣)
ترجمہ : اس (قرآن) کو الروح الامین (جبریل) نے نازل کیا ہے۔ آپ کے قلب پر تاکہ آپ ڈرانے والوں میں سے ہوجائیں۔
” غلف “ کے معنی ہیں : ڈھانپنے والی چیز پردے۔
انبیاء کرام سے یہود کے عناد رکھنے کا بیان :
ان آیات میں یہودیوں کے دل کی سختی بیان فرمائی ہے ‘ اور یہ کہ وہ مادہ پرست اور نفسانی خواہشوں پر چلنے والے تھے ‘ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان میں بار بار رسول بھیجے ‘ امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت تک یکے دیگرے مسلسل رسول آتے رہے ‘ علامہ ابوالحیان اندلسی نے لکھا ہے کہ جب تک حضرت یوشع کو نبی نہیں بنادیا گیا اس وقت تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فوت نہیں ہوئے ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت یوشع (علیہ السلام) ‘ حضرت شمول (علیہ السلام) ‘ حضرت ثمعون (علیہ السلام) ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) ‘ حضرت سلمان (علیہ السلام) ‘ حضرت شعیا (علیہ السلام) ‘ حضرت ارمیا (علیہ السلام) ‘ حضرت عزیز (علیہ السلام) ‘ حضرت حزقیل (علیہ السلام) ‘ حضرت الیاس (علیہ السلام) ‘ حضرت الیسع (علیہ السلام) ‘ حضرت یونس (علیہ السلام) ‘ حضرت زکریا (علیہ السلام) ‘ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) ‘ اور بہت سے رسول آئے۔ امام ابن جریر طبری (رح) نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک جو رسول بھی مبعوث ہوا وہ بنواسرائیل کو تورات پر ایمان لانے اور اس کے احکام پر عمل کرنے کا حکم دیتا تھا ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” وقفینا “ یعنی ایک رسول کے بعد دوسرا رسول اسی منہاج اور اسی شریعت پر بھیجا ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت بعض احکام میں تورات سے مختلف تھی ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزات عطا فرمائے ‘ وہ مردوں کو زندہ کرتے ‘ مٹی سے پرندے کی شکل کا ایک جانور بنا دیتے ‘ اس میں پھونک مارتے تو وہ اللہ کے اذن سے پرندہ بن جاتا ‘ بیماروں کو تندرست کردیتے ‘ غیب کی خبریں دیتے ‘ ان کے صدق کی تائید میں حضرت جبریل (علیہ السلام) ان کے ساتھ رہتے تھے۔ بنواسرائیل ان سے بہت حسد اور بغض رکھتے تھے کیونکہ ان کے بعض احکام تورات کے خلاف تھے ‘ قرآن مجید میں ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنواسرائیل سے فرمایا :
(آیت) ” ولاحل لکم بعض الذی حرم علیکم “ (آل عمران : ٥٠)
ترجمہ : اور (میں اس لیے آیا ہوں) کہ تمہارے لیے بعض ان چیزوں کو حلال کر دوں جو تم پر حرام کی گئی تھیں۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب بھی کوئی رسول ایسی شریعت لے کر آتا تو ان کی خواہش کے خلاف ہوتی تو وہ اس کا کفر کرتے اور اس کے خلاف مہم چلاتے اور بغاوت کرتے ‘ ان میں سے بعض رسولوں کی تو انہوں نے تکذیب کی جیسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور بعض رسولوں کو انہوں نے قتل کردیا جیسے حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور حضرت زکریا (علیہ السلام) اور ان آیات میں ہمارے نبی حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تسلی دی جارہی ہے کہ اگر بنواسرائیل نے آپ کی تکذیب کی ‘ اور آپ پر ایمان نہیں لائے تو اس میں کسی تعجب اور غم اور افسوس کی بات نہیں ہے کیونکہ نبیوں سے عناد رکھنا اور ان کی تکذیب کرنا ان کی سرشت اور عادت ہے ‘ ان آیات میں تمام یہودیوں سے خطاب کیا گیا ہے حالانکہ اس زمانہ کے یہودیوں نے انبیاء سابقین کی تکذیب یا ان کو قتل نہیں کیا تھا بلکہ یہ کام ان کے اسلاف اور آباء و اجداد نے کیا تھا ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس زمانہ کے یہودی اپنے پہلوں کے ان کاموں پر راضی تھے اور ان سے براءت کا اظہار نہیں کرتے تھے۔
یہود کی قبیح اقوال میں سے ایک قبیح قول یہ تھا کہ انہوں نے ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہا کہ ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں ‘ اس لیے آپ کی بات ہمارے دلوں میں نہیں اترتی اور نہ ہم اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا : یہ بات نہیں ہے ‘ تمہارے دلوں میں بھی غور وفکر کرنے اور حق بات کو قبول کرنے کی استعداد رکھی گئی تھی ‘ لیکن تم نے جو انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ بغض اور عناد رکھا ‘ ان کی تکذیب کی اور ان کو قتل کیا اس سبب سے بہ طور سزا اللہ تعالیٰ نے تم کو اپنی رحمت سے دور کردیا اور یہ تم پر اللہ تعالیٰ کا ظلم نہیں ہے بلکہ تم نے خود ایسے قبیح کام کیے جس کے نتیجے میں تم اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور لعنت کے مستحق ہوئے اسی وجہ سے یہود میں سے بہت کم لوگ ایمان لانے والے ہیں۔
آیات مذکورہ سے مسائل کا استنباط :
ان آیات سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ کے احکام سے اعراض کرے یا ان کا انکار کرے یا تکبر کی وجہ سے ان کو قبول نہ کرے وہ اللہ کی رحمت سے دور کردیا جاتا ہے اور لعنت اور عذاب کا مستحق ہوجاتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کا بنو اسرائیل میں لگا تار انبیاء اور رسل کو مبعوث فرمانا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کی اصلاح اور ہدایت کی متقاضی تھی ‘ لیکن انہوں نے خود ہدایت کے بجائے گمراہی کا راستہ اختیار کرلیا ‘ ہمارے نبی سیدنا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اللہ تعالیٰ نے نبوت کو ختم کردیا ہے ‘ اس لیے اب اصلاح اور ہدایت کے لیے کوئی نبی مبعوث نہیں ہوسکتا ‘ البتہ ہر دور میں علماء ربانیین ‘ مجتہدین اور مجددین پیدا ہوتے رہتے ہیں جو بگڑے ہوئے معاشرہ کی اصلاح کرتے ہیں ‘ اور بدلتے ہوئے حالات اور عصری تقاضوں اور نت نئے مسائل کے لیے قرآن اور سنت سے حل پیش کرتے ہیں اور مسلمانوں کی راہنمائی کرتے ہیں اور ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا ‘ بنواسرائیل کو جو رحمت سے دور کیا گیا اس کا سبب ان کا کفر تھا ‘ یہود اپنی جن برائیوں کو تورات میں چھپاتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی سیدنا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی اطلاع دے دی ‘ اس میں آپ کے علم غیب کا ثبوت ہے اور آپ کی نبوت کے صدق پر دلالت ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 87