بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَمَّا جَآءَهُمۡ كِتٰبٌ مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمۡۙ وَكَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ يَسۡتَفۡتِحُوۡنَ عَلَى الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا  ‌ۖۚ فَلَمَّا جَآءَهُمۡ مَّا عَرَفُوۡا کَفَرُوۡا بِهٖ‌ فَلَعۡنَةُ اللّٰهِ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ

اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ کتاب آئی جو اس آسمانی کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے جو ان کے پاس ہے اور وہ اس سے پہلے (اس نبی کے وسیلہ سے) کفار کے خلاف فتح کی دعا کرتے تھے اور جب ان کے پاس وہ آگئے جن کو وہ جان اور پہچان چکے تھے تو انہوں نے ان کے ساتھ کفر کیا ‘ سو کافروں پر اللہ کی لعنت ہو

ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے دعا کا قبول ہونا :
امام ابن جریر (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ یہود ‘ اوس اور خزرج کے خلاف جنگ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے آپ کے وسیلہ سے فتح طلب کرنے کی دعا کرتے تھے ‘ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو عرب میں مبعوث کردیا تو جو کچھ وہ آپ کے متعلق کہتے تھے اس کا انہوں نے انکار کردیا ‘ ایک دن حضرت معاذ بن جبل (رض) اور حضرت بشر بن البراء بن معرور (رض) نے ان سے کہا : اے یہودیو ! اللہ سے ڈرو اور اسلام لے آؤ ‘ جب ہم مشرک تھے تو تم ہمارے خلاف سیدنا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے فتح کی دعا کرتے تھے ‘ تم ہم کو یہ خبر دیتے تھے کہ وہ نبی مبعوث ہونے والے ہیں اور تم اس نبی کی وہی صفات بیان کرتے تھے جو آپ میں موجود ہیں ‘ اس کے جواب میں بنو نضیر کے سلام بن مشکم نے کہا : وہ کوئی ایسی چیز لے کر نہیں آئے جس کو ہم پہچانتے ہوں اور یہ وہ نبی نہیں ہیں جن کا ہم تم سے ذکر کیا کرتے تھے۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٢٢٥ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
حافظ سیوطی لکھتے ہیں :
امام ابو نعیم (رح) نے ” دلائل النبوۃ “ میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے بنو قریظہ اور بنو نضیر کے یہود کفار کے خلاف جنگ میں اللہ تعالیٰ سے یوں فتح کی دعا کرتے تھے : اے اللہ ! ہم نبی امی کے وسیلہ سے تجھ سے نصرت طلب کرتے ہیں ‘ تو ہماری مدد فرما ‘ تو ان کی مدد کی جاتی اور جب وہ نبی آگئے جن کو وہ پہچانتے تھے تو انہوں نے ان کا کفر کیا۔ امام ابونعیم نے ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس کی روایت میں اس طرح دعا کا ذکر کیا ہے۔
اے اللہ اپنے اس نبی کے وسیلہ سے ہماری مدد فرما اور اس کتاب کے وسیلہ سے جو تو ان پر نازل کرے گا ‘ تو نے وعدہ کیا ہے کہ تو ان کو آخر زمانہ میں مبعوث فرمائے گا۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٨٨ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)
خلاصہ آیات اور استنباط مسائل :
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں جو یہودی تھے وہ یہ جانتے تھے کہ تورات میں حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مبعوث ہونے کی ہی بشارت دی گئی ہے لیکن وہ حسد اور سرکشی کی وجہ سے ایمان نہیں لائے اور ان کو یہ ڈر تھا کہ اگر وہ آپ پر ایمان لے آئے تو ان کو جو نذرانے ملتے تھے اور وہ مجرموں سے جو رشوتیں وصول کرتے تھے وہ بند ہوجائیں گی اور عام یہودیوں پر جو علماء یہود کی ریاست تھی وہ ختم ہوجائے گی اور وہ اس کو ناپسند کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اس پر وحی نازل کردے ‘ ان کی خواہش تھی کہ بنو اسرائیل ہی میں سے وہ نبی مبعوث ہو ‘ انہوں نے پہلے نبیوں کا بھی انکار کیا اور اب ہمارے نبی کو نہ مان کر نیا انکار کیا ‘ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کو ذلت کی زندگی دی اور آخرت میں ان کو ذلیل کرنے والے ہمارے نبی کو کو نہ مان کر نیا انکار کیا ‘ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کو ذلت کی زندگی دی اور آخرت میں ان کو ذلیل کرنے والے عذاب کا مستحق قرار دیا۔ ان آیات میں مقربین کے وسیلہ سے دعا کا ثبوت ہے اور بالخصوص ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے دعا کرنے کا ثبوت ہے اور یہ کہ آپ کے وسیلہ سے دعا قبول ہوتی ہے ‘ اور یہ کہ آپ کہ بعثت سے پہلے ہی آپ کی آمد کا شہرہ تھا اور آپ کے نام کے وسیلہ سے حاجت روائی ہوتی تھی ‘ بنواسرائیل اور سرکشی کی وجہ سے آپ پر ایمان نہ لائے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ حسد اور سرکشی حرام ہے ‘ اور حسد کی وجہ سے انسان اللہ کی نعمتوں سے محروم ہوجاتا ہے ‘ کیونکہ حسد کرنے کی وجہ سے بنواسرائیل دولت ایمان سے محروم رہے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ ذلت اور اھانت والا عذاب کفار کے ساتھ خاص ہے ‘ اگر بعض گنہ گاروں کو عذاب ہوا تو وہ ذلت اور اھانت عذاب نہیں ہوگا بلکہ وہ ان کی طہارت اور پاکیزگی کا سبب ہوگا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 89