بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا قِيۡلَ لَهُمۡ اٰمِنُوۡا بِمَآ اَنۡزَلَ اللّٰهُ قَالُوۡا نُؤۡمِنُ بِمَآ اُنۡزِلَ عَلَيۡنَا وَيَكۡفُرُوۡنَ بِمَا وَرَآءَهٗ وَهُوَ الۡحَـقُّ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمۡ‌ؕ قُلۡ فَلِمَ تَقۡتُلُوۡنَ اَنۡـــۢبِيَآءَ اللّٰهِ مِنۡ قَبۡلُ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ان تمام کتابوں پر ایمان لاؤ جن کو اللہ نے نازل کیا تو کہتے ہیں : ہم اس پر ایمان لائیں گے جو ہم پر نازل کیا گیا ہے ‘ اور اس کے ماسوا کا کفر کرتے ہیں حالانکہ وہ حق ہے اور جو (اصل) کتاب ان کے پاس ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہے ‘ آپ کہیے : اگر تم (تورات پر) ایمان لانے والے ہو تو اس سے پہلے انبیاء کو کیوں قتل کرتے تھے ؟

تورات پر یہود کے دعوی ایمان کا رد اور ابطال :
جب مدینہ کے یہودیوں سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی نازل کی ہوئی تمام کتابوں پر ایمان لاؤ تو انہوں نے کہا : ہم صرف تورات پر ایمان لائیں گے جو ہم پر نازل کی گئی ہے اور قرآن پر ایمان لانے سے انکار کردیا اللہ تعالیٰ ان کا رد فرماتا ہے کہ قرآن حق ہے اور اس (اصل) تورات کی تصدیق کرنے والا ہے جو تمہارے پاس ہے اور دونوں اللہ کے کلام ہیں تو جب تمہارا تورات پر ایمان ہے تو قرآن کا کیوں انکار کرتے ہو حالانکہ وہ بھی تورات کی طرح اللہ کی کتاب ہے اور تمہاری کتاب کا مصدق بھی ہے۔
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی تمام کتابوں پر ایمان لایا جائے پھر اللہ تعالیٰ ان پر دوسری حجت قائم فرماتا ہے کہ اگر تم تورایت پر ایمان لانے والے ہو تو انبیا (علیہم السلام) کو قتل کیوں کرتے تھے ؟ اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کے یہودیوں کی طرف قتل کی نسبت کی ہے حالانکہ قتل ان سے پہلے کے یہودیوں نے کیا تھا ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے اس فعل پر راضی تھے اور اس کو اللہ کے حکم کی مخالفت اور معصیت نہیں کہتے تھے اور نہ اس سے انہوں نے براءت کا اظہار کیا تھا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک تمہارے پاس موسیٰ (علیہ السلام) آیات بینات لے کر آئے پھر تم نے اس کے بعد بچھڑے کو (معبود) بنا لیا اور تم ظالم تھے۔۔ (البقرہ : ٩٢)
ان آیات بینات سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو نزول تورات کی میعاد سے پہلے نازل ہوئی تھیں قرآن مجید میں ہے :
(آیت) ” ولقد اتنیا موسیٰ تسع ایت بینت “۔ (بنی اسرائیل : ١٠١)
ترجمہ : اور بیشک ہم نے موسیٰ کو نو روشن نشانیاں دیں۔
وہ نو نشانیاں یہ تھیں : عصا موسیٰ (علیہ السلام) ‘ یدبیضاء ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان کی لکنت کو دور کرنا ‘ بنواسرائیل کے لیے سمندر کو چیرنا ‘ ٹڈی دل کی صورت میں عذاب ‘ بدن کے کپڑوں میں جوؤں کا پیدا کرنا ‘ مینڈکوں کا عذا ب کہ ہر کھانے کی چیز میں مینڈک آجاتے تھے اور خون کا عذاب کہ ہر برتن میں خون آجاتا تھا ‘ لیکن ان نشانیوں کے باوجود ان کے شرک اور بت پرستی میں کوئی کمی نہیں ہوئی اور انہوں نے اللہ کی تعالیٰ نعمتوں پر شکر کرنے کے بجائے بچھڑے کی پرستش کرنی شروع کردی ‘ اسی کو اللہ تعالیٰ نے ظالم فرمایا ہے ‘ کیونکہ کسی مستحق شخص کا حق دوسرے کو دیدینا ظلم ہے اور اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کا حق دوسرے کو دے دیا جائے اور عبادت کا مستحق اللہ تعالیٰ ہے اور جب اللہ کو چھوڑ کر بچھڑے کی عبادت کی جائے تو یہ کتنا بڑا ظلم ہے اور اس میں یہود پر تیسرا رد ہے کہ اگر تم تورات پر ایمان لانے والے تھے تو تم بچھڑے کی عبادت کیوں کرتے تھے ؟
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا اور (پہاڑ) طور کو تم پر اٹھایا۔ (البقرہ : ٩٣)
اس میں یہود پر چوتھا رد ہے کہ اگر تمہارا تورات پر ایمان تھا تو تورات کے احکام منوانے کے لیے تم پر پہاڑ طور کیوں اٹھایا گیا ؟ اور جب تم سے کہا گیا کہ تورات کے احکام قبول کرو ‘ اور سنو تو تم نے یہ کیوں کہا تھا کہ ہم نے سنا اور نافرمانی کی ‘ کیا تورات پر ایمان لانے کے یہی تقاضے ہیں یہ سب پہلے یہودیوں کے کرتوت تھے لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ کے یہودیوں کو ان کا اس لیے مخاطب قرار دیا ہے کہ انہوں نے اپنے پہلوں کے ان کاموں سے نفرت اور براءت ظاہر نہیں کی تھی۔
قرآن مجید کے احکام پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ :
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی کتاب پر ایمان انے کا مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کے تمام احکام اور تمام تقاضوں پر عمل کیا جائے اور ان آیات میں بار بار یہی فرمایا گیا ہے کہ اگر تمہارا تورات پر ایمان تھا تو تم اس کے احکام کی خلاف ورزی کیوں کرتے تھے ؟ آج ہم بھی قرآن مجید پر ایمان لانے کے دعوی دار ہیں لیکن قرآن مجید پر عمل نہیں کرتے تو جو بات یہود سے کہی گئی ہے وہی ہم پر صادق آرہی ہے۔ قرآن نے ہمیں نماز پڑھنے ‘ روزے رکھنے اور زکوۃ دینے کا حکم دیا ہے اور ہماری بھاری اکثریت اس پر عمل نہیں کرتی ‘ قرآن مجید نے ہمیں ناجائز طریقہ سے مسلمانوں کا مال کھانے سے منع کیا اور ہم رشوت اسمگلنگ ‘ ملاوٹ ‘ مصنوعی اشیاء بلیک مارکیٹنگ ‘ چور بازاری ‘ لوٹ مار اور ڈاکوں سے دوسرے مسلمانوں کا مال کھا رہے ہیں، قرآن نے ہمیں قتل ناحق سے منع کیا اور ہم مسلمانوں کا خون بہانے سے باز نہیں آتے ‘ قرآن نے ہماری عورتوں کو گھروں میں رہنے کا حکم دیا ‘ اور بوقت ضرورت پردے کے ساتھ نکلنے کا حکم دیا لیکن ہمارا معاشرہ کے ہر طبقہ میں عورت بےپردہ بناؤ سنگھار کرکے اجبنی مردون کے سامنے رہتی ہے اور بےحیائی کی راہیں کھلتی ہیں ‘ یہود کے متعلق بار بار فرمایا کہ ان پر اللہ کا غضب بالائے غضب ہے اور وہ جہاں بھی ہوں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور آج ان یہودیوں کو اللہ نے مسلمانوں پر مسلط کردیا اور یہودیوں نے مسلمانوں کے علاقے چھین لیے اور بار بار مسلمان یہودیوں سے شکت کھا رہے ہیں تو سوچنا چاہیے کہ جو قوم اس لعنتی اور مغضوب قوم سے پہیم شکست کھا رہی ہے وہ خود کس قدر اللہ کے غضب میں ڈوبی ہوئی اور رحمت سے دور ہوگی۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 91