بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اِنۡ كَانَتۡ لَـکُمُ الدَّارُ الۡاٰخِرَةُ عِنۡدَ اللّٰهِ خَالِصَةً مِّنۡ دُوۡنِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الۡمَوۡتَ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ

آپ کہیے کہ اگر دار آخرت اللہ کے نزدیک اور لوگوں کے بجائے خصوصیت سے تمہارے لیے ہے تو اگر تم سچے ہو تو موت کی تمنا کرو

یہودیوں کے اس دعوی کا رد کہ جنت کے صرف وہی مستحق ہیں :
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، کے حق میں اور یہود اور ان کے علماء کے خلاف حجت قائم کی ہے کہ اگر تم اس دعوی میں سچے ہو کہ تمہارا دین برحق ہے اور آخرت میں صرف تم ہی جنت کے مستحق ہو تو تم دنیا کی مشقتوں اور تکلیفوں سے نجات حاصل کرنے اور آخرت میں جنت اور اس کی نعمتوں کو پانے کے لیے موت کی تمنا کرو تاکہ معلوم ہوجائے کہ کس کا دین سچا ہے ‘ لیکن انہوں نے موت کی تمنا نہیں کی کیونکہ آخرت کی تو ویسے ہی انکو امید نہ تھی کہیں دنیا بھی ہاتھ سے جاتی نہ رہے ‘ مشرکین جو مرنے کے بعد دوسری زندگی پر یقین نہیں رکھتے ‘ اصل میں ان کو دنیا میں لمبی عمر کی تمنا ہونی چاہیے کیونکہ ان کے لیے جو کچھ ہے یہی دنیا ہے لیکن یہ یہودی جو دنیا کے بعد آخرت اور جنت کے دعوی دار تھے ان مشرکوں سے بھی زیادہ لمبی عمر کی خواہش رکھتے تھے حتی کہ ان میں سے کوئی کوئی ہزار سال کی زندگی کی تمنا کرتا تھا ‘ اور موت کی تمنا کرنے کے بجائے لمبی زندگی کی خواہش کرنا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دخول جنت کے متعلق انکا دعوی جھوٹا ہے ‘ قرآن مجید میں فرما دیا کہ وہ ہرگز موت کی تمنا نہیں کریں گے۔ امام ابن جریر (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اگر وہ ایک دن بھی موت کی تمنا کرتے تو روئے زمین پر کوئی یہودی زندہ نہ رہتا اور صفحہ ہستی سے یہودیت مت جاتی۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٢٣٧۔ ٢٣٦ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
قرآن مجید کی صداقت اور ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی دلیل :
اس آیت میں قرآن مجید کی حقانیت اور ہمارے نبی سیدنا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دلیل ہے کیونکہ قرآن مجید نے یہ پیش گوئی کی کہ یہودی مت کی تمنا ہرگز نہیں کریں گے ‘ اگر یہودی سچے تھے تو وہ موت کی تمنا کرتے اور رسول اللہ سے آکر کہتے : لو ہم نے موت کی تمنا کرلی ہے ‘ اور یوں قرآن جھوٹا ہوجاتا اور آپ کی نبوت باطل ہوجاتی۔ یہ بڑی نازل اور خطرناک پیش گوئی تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مخالفوں اور دشمنوں کے متعلق پیش گوئی کی کہ وہ موت کی تمنا نہیں کرسکتے ‘ کبھی نہیں کریں گے ‘ ان کے لیے بڑا آسان تھا کہ آپ کے دعوی نبوت کو باطل کرنے کے لیے کی تمنا کرلیتے لیکن ایسا نہ ہوسکا اور آپ کی نبوت کا صدق اور قرآن مجید کی حقانیت ظاہر ہوگئی۔ جھوٹا نبی کبھی ایسی پیش گوئی کی جرات نہیں کرسکتا جس کو باطل کرنا مخالف کے اختیار میں ہو اور اس کے تمنا کرنے پر موقوف ہو۔ جھوٹے نبی کی کوئی پیش گوئی پوری نہیں ہوتی ‘ مرزا غلام احمد نے محمدی بیگم سے نکاح کی پیش گوئی کہ لیکن اس کا نکاح مرزا سلطان محمد سے ہوگیا ‘ پھر اس نے پیش گوئی کی کہ سلطان محمد ڈھائی سال بعد مرجائے گا اور محمدی بیگم اس کے نکاح میں آجائے گی لیکن غلام احمد مرگیا اور مرزا سلطان محمد اس کے بعد تا دیر زندہ رہا ‘ اس طرح اس نے ایک بیمار عیسائی پادری آتھم کے متعلق پیش گوئی کہ وہ ٥ ستمبر ١٨٩٤ ء کو مرجائے گا لیکن وہ اس تاریخ کو نہیں مرا بلکہ تندرست ہوگیا۔
حصول شہادت کے لیے موت کا استحباب اور مصیبت سے گھبرا کر موت کی تمنا کی ممانعت :
اگر یہ سوال کیا جائے کہ اگر یہودی مسلمانوں سے یہ کہیں کہ اگر تم اسلام کے دین حق ہونے اور دخول جنت کے مدعی ہو تو تم موت کی تمنا کرو ‘ حالانکہ تم موت کی تمنا نہیں کرتے بلکہ تمہارے نبی نے تمنا کرنے سے منع کیا ہے ؟
امام فخر الدین محمد بن عمر رازی شافعی (رح) متوفی ٦٠٦ ھ اس اعتراض کے جواب میں لکھتے ہیں :
ہم کہتے ہیں کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور یہودیوں کے درمیان فرق ہے ‘ کیونکہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ کہہ سکتے ہیں کہ مجھے احکام شرعیہ کی تبلیغ کے لیے مبعوث کیا گیا ہے اور مقصود ابھی تک حاصل نہیں ہوا اس لیے میں قتل کیے جانے پر راضی نہیں ہوں ‘ اور تمہارا معاملہ اس طرح نہیں ہے۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص ٦٠٧ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤١٥ ھ)
امام رازی کا یہ جواب صحیح نہیں ہے کیونکہ اس طرح یہودی بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے ابھی تورات کی تعلیمات کو پوری دنیا میں پھیلانا ہے اور یہ مقصد ابھی تک حاصل نہیں ہوا ‘ اس لیے ہم قتل کیے جانے پر راضی نہیں ہیں۔
اور میں اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی تائید سے اس کے جواب میں یہ کہتا ہوں :
اس کا جواب یہ ہے کہ اول ہمارا یہ دعوی نہیں ہے کہ صرف ہمارے نبی کے پیروکار جنت میں جائیں گے بلکہ ہر نبی کے سچے پیروکار جنت میں جائیں گے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دنیا کی مشکلات اور مصائب سے گھبرا کر موت کی تمنا کرنے سے منع کیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات ‘ جنت اور شہادت کے حصول کے لیے موت کی تمنا کی ہے۔
امام بخاری (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں ‘ پھر زندہ کیا جاؤں ‘ پھر قتل کیا جاؤں ‘ پھر زندہ کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں ‘ پھر زندہ کیا جاؤں ‘ پھر قتل کیا جاؤں۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٣٩٢ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
حضرت عمر (رض) نے دعا کی : اے اللہ مجھے اپنی راہ میں شہادت عطا فرما اور اپنے رسول کے شہر میں میری موت واقع کر۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٥٤ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو بھی مرنے کے بعد ثواب مل جائے وہ دنیا میں واپس جانا نہیں چاہتا سوا شہید کے ‘ کیونکہ شہادت کی فضیلت دیکھنے کے بعد وہ دبارہ دنیا میں جاکر خدا کی راہ میں مرنا چاہتا ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٣٩٢‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
امام مسلم (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت عبادہ بن صامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اللہ کے ساتھ ملاقات سے محبت رکھتا ہے اللہ بھی اس کے ساتھ ملاقات سے محبت رکھتا ہے اور جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٣٤٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
ان احادیث میں اس چیز کی تصریح ہے کہ اللہ سے ملاقات ‘ جنت اور شہادت کے لیے موت کی تمنا صحیح ہے ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود اور صحابہ نے یہ تمنا کی ہے، البتہ دنیا کی مشکلات اور مصائب سے گھبرا کر موت کی تمنا کرنا ممنوع ہے۔
امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں ؛
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص کسی مصیبت آنے کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے اور اگر اس نے ضرور تمنا کرنی ہو تو یوں کہے : اے اللہ ! جب تک میرے لیے زندگی بہتر ہے مجھے زندہ رکھ اور جب میرے لیے موت بہتر ہو تو مجھے وفات دے دے ؛۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ٣٤٢‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 94