بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ مَنۡ كَانَ عَدُوًّا لِّجِبۡرِيۡلَ فَاِنَّهٗ نَزَّلَهٗ عَلٰى قَلۡبِكَ بِاِذۡنِ اللّٰهِ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَهُدًى وَّبُشۡرٰى لِلۡمُؤۡمِنِيۡنَ‏

آپ کہیے کہ جو شخص جبریل کا دشمن ہے (تو ہوا کرے) پس بیشک اسی جبریل نے اللہ کے حکم سے آپ کے دل پر (قرآن) نازل کیا ‘ جو ان (آسمانی کتابوں) کی تصدیق کرنے والا ہے جو اس (کے نزول) سے پہلے موجود ہیں ‘ اور وہ مؤمنین کے لیے ہدایت اور بشارت ہے

یہود کا جبریل کو اپنا دشمن کہنا :
تمام اہل علم کا اس پر اجماع ہے کہ یہ آیتیں بنواسرائیل کے اس قول کے جواب میں نازل ہوئیں کہ جبریل ہمارا دشمن ہے اور میکائیل ہمارا دوست ہے ‘ امام ابوجعفر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ یہودیوں کی ایک جماعت نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : ہم آپ سے چار ایسی چیزوں کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ جس کا جواب نبی کے سوا اور کوئی نہیں دے سکتا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم جو چاہو سوال کرو لیکن اس کی ضمانت دو کہ اگر تم ان جوابات کا صدق پہچان لو تو پھر تم اسلام کو قبول کراوگے۔ انہوں نے اس کا وعدہ کرلیا ‘ انہوں نے سوال کیا کہ تورات نازل ہونے سے پہلے حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کون سے طعام کو اپنے اوپر حرام کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا : میں تم کو اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے تورات نازل کیا ہے ! کیا تم کو معلوم ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) سخت بیمار ہوگئے اور جب ان کی بیماری طول پکڑ گئی تو انہوں نے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس بیماری سے صحت دے دی تو میں اپنا پسندیدہ طعام اور مشروب اپنے اوپر حرام کرلوں گا ‘ اور ان کا پسندیدہ طعام اونٹ کا گوشت تھا (ابو جعفر نے کہا : میرا گمان ہے کہ ان پسندیدہ مشروب اونٹنیوں کا دودھ تھا) انہوں نے کہا : ہاں ! ان کا دوسرا سوال تھا کہ مرد کا پانی کیسا ہے اور عورت کا پانی کیسا ہے ؟ اور مذکر اور مونث کیسے بنتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور جس نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل کی ! کیا تم کو معلوم ہے کہ مرد کا پانی سفید اور گاڑھا ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتا اور زرد ہوتا ہے اور جس کا پانی غالب ہو بچہ اسی (جنس) کا ہوتا ہے اور اللہ کے اذن سے اس کی مشابہت ہوتی ہے ‘ انہوں نے کہا : ہاں ! آپ نے فرمایا : اے اللہ ! تو گواہ ہوجا ان کا تیسرا سوال تھا : اس نبی امی کی نیند کیسی ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم کو اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ پر تورات نازل کی ! کیا تم کو معلوم ہے کہ اس نبی امی کی آنکھیں سوتی ہیں اور اس کا دل نہیں سوتا ؟ آپ کا دوست کون ہے ؟ اور آپ کے دین قبول کرنے یا نہ کرنے کا مدار اس سوال کے جواب پر ہے ‘ آپ نے فرمایا : میرا دوست جبریل ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو بھی بھیجا اس کے وہی دوست تھے ‘ انہوں نے کہا : اب ہم آپ کو چھوڑتے ہیں ‘ اگر کوئی اور فرشتہ آپ کا دوست ہوتا تو ہم آپ کی اتباع کرلیتے اور آپ پر ایمان لے آتے ‘ آپ نے فرمایا : تم جبریل کی تصدیق کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے کہا : وہ ہمارا دشمن ہے ‘ پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٣٤٢۔ ٣٤١ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
اس حدیث کو امام احمد۔ ١ (امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ١ ص، ٢٧٨۔ ٢٧٤ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ) اور امام طبرانی (رح) ۔ ٢ (امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ ‘ معجم کبیر ج ١٢ ص ١٩١۔ ١٩٠‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت) نے بھی روایت کیا ہے اور حافظ سیوطی (رح) نے اس کا امام طیالسی ‘ ابو نعیم بیہقی (رح) اور ابن ابی حاتم کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔ (درمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٩٠۔ ٨٩ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)
نیز امام ابن جریر (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
قتادہ (رح) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن حضرت عمر بن الخطاب یہود کے پاس گئے ‘ جب انہوں نے حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا تو ان کو خوش آمدید کہا ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں کوئی تم سے محبت یا تمہاری طرف رغبت کی وجہ سے نہیں آیا ہوں ‘ لیکن میں تمہاری باتیں سننے کے لیے آیا ہوں ‘ پھر دونوں نے ایک دوسرے سے سوالات کیے اور بحث کی ‘ یہودیوں نے پوچھا : آپ کے نبی کا دوست کون ہے ؟ حضرت عمر (رض) نے کہا : جبریل ‘ انہوں نے کہا : وہ تو ہمارا دشمن ہے وہ آسمان سے آکر (سیدنا حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہمارے راز بتادیتا ہے وہ جب بھی آتا ہے جنگ اور قحط سالی لے کر آتا ہے البتہ ہمارے نبی کا دوست میکائیل ہے ‘ وہ جب بھی آتا ہے صلح ‘ خوشحالی اور غلہ کی فراوانی کے ساتھ آتا ہے ‘ حضرت عمر نے کہا : تو تم جبریل کو پہچانتے ہو اور (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انکار کرتے ہو ‘ پھر حضرت عمر (رض) سے اٹھ گئے اور پھر یہ آیت نازل ہوئی : کہئے : جو شخص جبریل کا دشمن ہے (تو ہوا کرے) ۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٣٤٤ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
امام نسائی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو عبداللہ بن سلام (یہودی عالم) آپ کے پاس آئے اور کہا : میں آپ سے تین چیزوں کے متعلق سوال کرتا ہوں جن کو نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا ‘ قیامت کی پہلی علامت کیا ہے ؟ جنتی سب سے پہلے کیا چیز کھائیں گے ؟ بچہ ماں یا باپ میں سے کس پر ہوتا ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے ابھی جبریل نے ان چیزوں کی خبر دی ہے ‘ عبداللہ نے کہا : فرشتوں میں جبریل یہود کا دشمن ہے (صحیح بخاری میں ہے : تب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی : ” قل من کان عدوالجبریل “ الایہ) آپ نے فرمایا : قیامت کی سب سے پہلی علامت یہ ہے کہ ایک آگ ظاہر ہوگی جو لوگوں کو مشرق سے لے کر مغرب کی طرف جمع کرے گی ‘ اور جس چیز کو جنتی سب سے پہلے کھائیں گے وہ مچھلی کی کلیجی ہوگی ‘ اور بچہ کا معاملہ یہ ہے کہ جب مرد کا پانی غالب ہو تو وہ بچے کو کھینچ لیتا ہے اور جب عورت کا پانی غالب ہو تو وہ بچہ کو کھیچ لیتا ہے ‘ عبداللہ بن سلام نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ‘ یہود بہتان لگانے والے ہیں، اگر میرے متعلق پوچھنے سے پہلے آپ نے ان کو میرے مسلمان ہونے کے متعلق بتادیا تو مجھ پر بہتان باندھیں گے۔ جب یہود آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے پوچھا : تمہارے نزدیک عبداللہ بن سلام کیسا شخص ہے ؟ انہوں نے کہا : وہ ہم سب سے اچھا ہے اور اس کا باپ بھی سب سے اچھا تھا ‘ آپ نے فرمایا : یہ بتاؤ اگر عبداللہ بن سلام اسلام لے آئے ؟ انہوں نے کہا : اللہ اس کو اسلام سے اپنی پناہ میں رکھے ‘ تب حضرت عبداللہ بن سلام نے آکر کہا : اشھدان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمدا رسول اللہ ‘ وہ کہنے گے : یہ ہم میں سب سے برا آدمی ہے اور اس کا باپ بھی سب سے برا تھا ‘ اور ان کی مذمت کی ‘ حضرت عبداللہ نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اسی بات کا خوف تھا۔ (سنن کبری ج ٦ ص ٢٨٧۔ ٢٨٦‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ)
اس حدیث کو امام بخاری (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٦٤٣ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
جبریل کو دشمن کہنے کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب :
ان آیتوں کی تفسیر یہ ہے کہ اے نبی ! ان سے کہیے کہ جو شخص جبریل کا دشمن ہوگا وہ اللہ کی وحی کا دشمن ہوگا کیونکہ تورایت اور قرآن دونوں وحی کے ذریعہ نازل ہوئے ہیں اور قرآن مجید ‘ تورات ‘ زبور اور انجیل کا مصدق ہے اور یہ تمام آسمانی کتابیں اللہ کی توحید ‘ عبادات اور اخلاق حسنہ کی دعوت دیتی ہیں اور یہی گمراہی سے ہدایت دیتی ہیں اور ان پر عمل کرنے والوں کو جنت کی بشارت دیتی ہیں ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تا کی کے لیے فرمایا : جو شخص جبریل کا دشمن ہوگا وہ اللہ کا دشمن ہوگا کیونکہ جبریل کو اللہ تعالیٰ بھیجنے والا ہے اور جو جبریل کا دشمن ہوگا وہ سارے فرشتوں کا دشمن ہوگا کیونکہ سارے فرشتے جبریل کے موافق ہیں ‘ اور جو جبریل کا دشمن ہوگا وہ سب رسولوں کا دشمن ہوگا کیونکہ جبریل تمام رسولوں کا ولی اور موید ہے اور جو جبریل کا دشمن ہوگا وہ میکائیل کا بھی دوست نہیں ہوسکتا کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے موافق ہیں ‘ دونوں رسل ملائکہ میں سے ہیں اور دونوں مقرب فرشتے ہیں اور جو ان کا دشمن ہے وہ سن لے کہ اللہ کافروں کا دشمن ہے۔
اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جو شخص اللہ کا اس کے فرشتوں کا ‘ اس کے رسولوں کا ‘ اور جبریل اور میکائیل کا دشمن ہے تو اللہ تعالیٰ کافروں کا دشمن ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک (اے رسول) ہم نے آپ کی طرف واضح آیتیں نازل کی ہیں ‘ اور ان آیتوں کا صرف فاسق ہی انکار کرتے ہیں۔۔ (البقرہ : ٩٩)
ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دلیل :
امام ابن جریر (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ (ایک یہودی عالم) ابن صوریا القطیونی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے محمد ! آپ ایسی کوئی چیز لے کر نہیں آئے جس کو ہم جانتے پہچانتے ہوں ‘ اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی آیت بینہ (واضحہ) نازل نہیں فرمائی تاکہ ہم آپ کی اتباع کریں ‘ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ بیشک ہم نے آپ کی طرف واضح آیتیں نازل کی ہیں۔ الایۃ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٣٥٠ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر واضح آیات نازل فرمائیں جن سے وہ تمام علوم اور اسرار ظاہر ہوگئے جن کو علماء یہود چھپایا کرتے تھے اور جس شخص نے تورات کا مطالعہ نہ کیا ہو وہ ان پر مطلع نہیں ہوسکتا تھا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بتادیا کہ تورات کے اصل احکام کیا تھا اور علماء یہود نے ان میں تحریف کردی سو جو شخص حسد اور بغض کا شکار ہو کر اپنی فطرت سلیمہ کو نہ کھو چکا ہو اس کے لیے آپ کی نبوت کا صدق بالکل واضح تھا کیونکہ جس شخص نے نہ کسی کتاب کو پڑھا ہو نہ کسی عالم کی مجلس میں بیٹھا ہو ‘ وہ بغیر اللہ کی وحی کے ان مخفی چیزوں کو کیسے جان سکتا ہے اور کیسے بیان کرسکتا ہے !
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جب بھی یہ کوئی عہد کرتے ہیں تو ان کا ایک گروہ اس عہد کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔ (البقرہ : ١٠٠)
یہودیوں کا آپ پر ایمان لانے کے عہد کو توڑنا :
امام ابن جریر (رح) اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسو اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے اور آپ نے یہ بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں سے کیا کیا عہد ومیثاق لیے ہیں تو ایک یہودی عالم مالک بن صیف نے کہا : خدا کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق ہم سے کوئی عہد نہیں لیا اور نہ ہم سے کوئی میثاق لیا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ جب بھی یہ کوئی عہد کرتے ہیں تو ان کا ایک گروہ اس عہد کو پس پشت ڈال دیتا ہے بلکہ ان میں سے اکثر ایمان نہیں لاتے (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٣٥١ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)
اللہ تعالیٰ نے یہودیوں سے بار بار یہ عہد لیا تھا کہ تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا ‘ لیکن انہوں نے اس عہد اور میثاق کا انکار اور کفر کیا ‘ اور اللہ تعالیٰ نے تورات میں آپ کی صفات کو بیان کیا تھا جس کو انہوں نے چھپایا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے وہ عظیم رسول آئے جو اس (آسمانی کتاب) کی تصدیق کرنے والے ہیں جو ان کے پاس ہے تو اہل کتاب کے ایک گروہ نے الہ کی کتاب کو اس طرح پس پشت پھینک دیا گویا انہیں کچھ علم ہی نہیں۔۔ (البقرہ : ١٠١)
جب ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے اور آپ دین عام اصولوں اور عقائد میں تورات کی تصدیق کرتے تھے ‘ مثلا اللہ تعالیٰ کی توحید ‘ قیامت ‘ جزا وسزا ‘ رسولوں کی تصدیق اور تقدیر پر ایمان وغیرہ تو وہ قرآن پر ایمان نہ لائے اور قرآن پر ایمان نہ لانا اس کو مستلزم ہے کہ ان کا مکمل تورات پر ایمان نہ ہوا اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انہوں نے اللہ کی کتاب (تورات) کو پس پشت ڈال دیا ‘ انہوں نے مکمل تورات کو ترک نہیں کیا تھا بلکہ تورات کے صرف اس حصہ کو ترک کیا تھا جس میں یہ بشارت دی گئی تھی کہ اولاد اسماعیل سے ایک نبی آنے والا ہے اور یہ بشارت ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ اور کسی پر منطبق نہیں ہوتی تھی۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 97