❄ *خصوصی اشاعت، گلستانِ ادب* ❄

•–•❀❀•–•🌹•–•❀❀•–•

*ناموسِ رسالت اور ہمارا کردار*

فرمانِ نبوی ﷺ کا مفہوم ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اسکی جان، اولاد، بھائی، بہن، ماں، باپ، مال اور ہر چیز سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ یہ حدیث ایک پیمانہ ہے،،،،، ایک ایسا پیمانہ جس میں ہم اپنے ایمان کو تول سکتے ہیں۔

10 نومبر کو ہماری جان سے زیادہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاکوں کی نمائش ہو رہی ہے۔ مقابلہ کروایا جا رہا ہے۔ جیتنے والے کو انعامات سے نوازا جائے گا۔ اور ہم مسلمانوں کے دل خون کے آنسو رو رہے ہیں۔ ہم سب اپنی اپنی حیثیت کے مطابق احتجاج کر رہے ہیں۔ کوئی سڑکوں پر نکل کے احتجاج کر رہا ہے۔ کوئی سوشل میڈیا کا سہارا لے رہا ہے۔ کوئی ممبر و محراب پر کھڑا دوہائی دے رہا ہے۔ غرض جس کے پاس جو سہولت میسر ہے وہ اسکو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے ایمان کو بچانے کی کوشش میں لگا ہے کیونکہ کوئی شخص اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اسکی جان، اولاد، بھائی، بہن، ماں، باپ، مال اور ہر چیز سے زیادہ محبوب نہ ہو جائیں۔

الحمدللہ حرارتِ ایمانی اور محبتِ رسول ﷺ کی یہ کیفیت ہر مسلمان میں موجود ہے۔

آئیے اس حدیث کی روشنی میں ہم اپنے اندر کا جائزہ لیں۔ *جس سے محبت کرنے کا دعویٰ کریں اسکی اطاعت نہ کریں تو وہ دعویٰ کہیں جھوٹا تو نہیں؟؟؟*

اگر آپ کو آپ کے والد پانی کا گلاس لانے کو کہیں اور جواب میں آپ حکم بجا لانے کے بجائے یہ کہیں کہ ابا جان میں آپ سے محبت تو بہت کرتا ہوں مگر پانی آپ خود اٹھ کے پی لیں تو دیکھنے والا آپ کے اس دعویٰ محبت کو کھوکھلا دعویٰ ہی کہے گا۔ اسی طرح اگر آپ کہیں کہ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی اولاد سے زیادہ محبت کرتا ہوں لیکن اس اولاد کی خاطر حرام و حلال کی تمیز کیے بغیر اس کی ضرورت پوری کریں اور شریعت محمدی ﷺ کی تمام حدود پھلانگ جائیں تو محبت کا یہ دعویٰ کس درجے میں ہوا؟؟؟ اگر آپ مال کمانے کے لیے جھوٹ، دھوکہ، غبن، سود، ملاوٹ، تول میں کمی جیسے حربے استعمال کریں تو آپ کا دعویٰ عشقِ رسول ﷺ کس کھاتے میں لکھا جائے گا؟؟؟؟ رات کو آپ کا ہمسایہ آپ کے برے سلوک سے تنگ ہو اور صبح آپ سڑک پر حرمت رسول ﷺ کے لیے سراپا احتجاج ہوں تو کون آپ کے دعویٰ محبت کو سچ جانے گا۔

*دعویٰ اگر محبتِ رسولﷺ کا ہو اور چہرے پر سنتِ رسول ﷺ سجاتے ہوئے شرم آئے تو کیا اسے سچی محبت کہا جا سکتا ہے؟؟؟*

محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ محبوب کی ہر ادا سے محبت ہو۔ اُسکا اٹھنا، بیٹھنا، کھانا، پینا، چلنا، پھرنا، سونا، جاگنا غرض یہ کہ ہر ہر ادا پے مر مٹ جایا جائے۔ ایک صحابی رسولﷺ نے آپ ﷺ کو کھلے گریبان میں دیکھا۔ محبت کا یہ عالم تھا کہ اس دن کے بعد انہوں نے کبھی اپنا گریبان بند نہیں کیا۔ ایک صحابی نے آپ ﷺ کے ساتھ سفر کیا۔ آپ ﷺ نے جہاں پڑاؤ ڈالا، جہاں رفع حاجت کے لیے بیٹھے، جہاں وضو کیا، جہاں نماز ادا کی، صحابہؓ جب بھی اس رستے کا سفر کرتے اسی جگہ پڑاؤ ڈالتے، اسی جگہ رفع حاجت کے لیے بیٹھتے، خواہ اسکی ضرورت نہ بھی محسوس کرتے، اسی جگہ وضو کرتے اور اسی جگہ نماز ادا کرتے۔ حالانکہ اسکا حکم اللّٰہ کے رسول ﷺ نے نہیں دیا تھا۔ لیکن انکی محبت کا یہ تقاضا تھا کہ اپنے محبوب کی ہر ہر ادا سے محبت کی جائے۔ تاجدارِ کائناتﷺ جب وضو کرتے تو صحابہ کرامؓ پانی کا ایک قطرہ زمین پر نہ گرنے دیتے بلکہ اپنے جسموں پر مل لیتے۔ آقا علیہ السلام کا حکم ہوتا اور صحابہ کرامؓ کی تعمیل ہوتی!!!!

اور ہمیں اپنا کپڑا اپنے ٹخنوں سے اوپر اٹھاتے شرم آتی ہے۔ لوگ کیا کہیں گے کہ چھوٹے بھائی کی شلوار پہن آیا ہے۔ ہاں اگر فیشن میں ہو تو اور بات ہے۔ داڑھی چہرے پے سجانے کی بات ہو تو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔ رشتہ ہونے میں بھی مسٔلہ درپیش ہوتا ہے۔ ہاں اگر کوئی فلمی ستارہ توڑ مروڑ کر سنتِ رسول ﷺ کا مذاق اڑائے تو وہ چلے گا۔ سٹائل ہے بھائی۔ آج کل یہی اِن ہے۔

*ذرا سوچئے کہ جن کی سنت اپناتے ہوئے ہمیں شرم محسوس ہو، جن کا حکم مانتے ہوئے ہمیں اپنا آپ دقیانوسی لگے، جنکی منع کی گئی باتوں کو ہم اپنا کر فخر محسوس کرتے ہوں، رات دیر تک جاگنے اور صبح دیر تک سونے کو ہم ماڈرنزم سمجھتے ہوں۔ ایسی صورت میں ہم اللّٰہ کے رسول ﷺ کی محبت کے دعوے دار بنیں تو کیا یہ دعویٰ سچا ہو گا؟؟؟؟*

کیا غیر مسلم یہ کہے گا کہ واقعی یہ اپنے نبی پر کٹ مرنے والا مسلمان ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم خود جانے انجانے میں توہین رسالت کے مرتکب ہو رہے ہوں ؟؟؟؟؟ دعویٰ محبت کا ہو اور پانی کا گلاس ابا خود اٹھ کے پئیے تو وہ باپ کا گستاخ ہی کہلائے گا۔ باپ سے محبت کرنے والا نہیں۔

ایک صاحب کے گھر کا پرنالہ مسجد کے صحن میں گرتا تھا۔ مولانا نے ان صاحب سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تاکہ بات کر کے اس نالے کا رخ تبدیل کروایا جا سکے۔ جب ان صاحب کو پتہ چلا تو انہوں نے مولانا کو اپنے گھر مدعو کیا۔ بہت سے پکوان بنائے۔ جھنڈیاں لگائیں۔ اگربتیاں جلا کر فضا کو معطر کیا گیا۔ کھانے پینے سے فارغ ہو کر جب مولانا نے اپنا مدعا بیان کیا تو جواب میں وہ صاحب کہنے لگے کہ میاں صاحب آپ ہمارے گھر آیا کریں، بہت برکت ہوتی ہے۔ ہم آپ کی خاطر تواضع بھی کیا کریں گے لیکن پرنالے کا رخ مسجد کی طرف ہی رہے گا۔

کہیں یہی حال ہمارا بھی تو نہیں۔ محفل بھی کرائیں گے، چراغاں بھی ہو گا مگر بات نہیں مانیں گے۔ من مانی اپنی چلے گی۔ اسے گستاخی نہیں تو اور کیا کہیں گے۔

*احتجاج کیجئے مگر ساتھ ساتھ اپنے اندر بھی اطاعت رسول ﷺ پیدا کیجئے۔ یہی ہے سچی محبت۔ یقین جانیے اپنے اوپر شریعت محمدیﷺ نافذ کیجئے۔ کسی مائی کے لعل کی جراْت نہیں ہوگی کی وہ خاکے بنائے، وہ توہین کرے۔ اسے پتہ چل جائے گا کہ جو اپنے محبوب کی چھوٹی سے چھوٹی ادا سے بھی محبت کرتا ہے اسے اپناتا ہے، اسے حقیر نہیں جانتا وہ ہمارے خاکے بنانے سے پہلے ہمیں خاک میں ملا دے گا۔ یہ مسلمان حرمت رسول میں قتل کرنا بھی جانتا ہے اور قتل ہونا بھی۔*

اللّٰہ ہم سب کو صحیح معنوں میں نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والا بنائے اور انکی سنتوں اور شریعت پر عمل کرنے والا بنائے۔ اور انکی حرمت پر کٹ مرنے والا بنائے۔

آمین یارب العالمین

*——————*

✍🏻 *بشکریہ قربان علی ولدمحمداسما عیل*

*#Everybody Follow Muhammadﷺ*

•┈؛•┈•┈•⊰✿🌹🌼🌹✿⊱•┈•┈•؛┈•

✨✨

*🔖میرے لیے بھی دعاکرنا کہ اللہ تعالی مجھے بھی سچااورپکا عاشق رسولﷺبناے۔آمین