بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقُوۡلُوۡا رَاعِنَا وَ قُوۡلُوا انۡظُرۡنَا وَاسۡمَعُوۡا ‌ؕ وَلِلۡڪٰفِرِيۡنَ عَذَابٌ اَلِيۡمٌ

اے ایمان والو ! (اپنے رسول سے) راعنا نہ کہو انظرنا ‘ کہو ‘ اور ابتداء (غور سے) سنا کرو ‘ اور کافروں کے لیے درد ناک عذاب ہے

” راعنا “ کہنے کی ممانعت اور ” انظرنا “ کہنے کا حکم :

ان آیات میں یہود کے ایک اور عناد اور حسد کو بیان فرمایا ہے ‘ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کلام کرتے ہوئے ایسا لفظ استعمال کرتے تھے جس سے گستاخی کا پہلو نکلتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس لفظ کے استعمال کرنے سے منع فرمایا دیا۔ علامہ قرطبی لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ مسلمان نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ” راعنا “ کہتے تھے ‘ یعنی ہماری رعایت فرمائیں “ یہود کی لغت میں یہ لفظ بددعا کے لیے تھا ‘ اور اس کا معنی تھا : سنو تمہاری بات نہ سنی جائے ‘ انہوں نے اس موقع کو غنیمت جانا اور کہنے لگے کہ پہلے ہم ان کو تنہائی میں بدعا دیتے تھے اور اب لوگوں میں اور برسر مجلس ان کو بددعا دینے کا موقع ہاتھ آگیا ہے ‘ تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کرکے ” راعنا “ کہتے تھے اور آپس میں میں ہنستے تھے ‘ حضرت سعد بن معاذ (رض) کو یہود کی لغت کا علم تھا ‘ انہوں نے جب ان سے یہ لفظ سنا تو انہوں نے کہا : تم پر اللہ کی لعنت ہو ‘ اگر میں نے آئندہ تم کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ لفظ کہتے ہوئے سنا تو میں تمہاری گردن اڑا دوں گا ‘ یہود نے کہا : کیا تم لوگ یہ لفظ نہیں کہتے ؟ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں سے کہا گیا (جب کوئی بات سمجھ نہ آئے تو) تم ” راعنا “ نہ کہو بلکہ ” انظرنا “ کہو (ہم پر نظر رحمت اور مہربانی فرمائیں) تاکہ یہود کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ صحیح لفظ کو غلط معنی میں استعمال کریں اور پہلے ہی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات غور سے سن لیا کرو تاکہ یہ نوبت نہ آئے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٥٧ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

قرآن مجید میں ایک اور مقام پر بھی ” راعنا “ کہنے سے منع فرمایا ہے :

(آیت) ” من الذین ھادوا یحرفون الکلم عن مواضعہ ویقولون سمعنا وعصینا واسمع غیر مسمع وراعنا لیابالسنتھم وطعنا فی الدین ‘ ولوانھم قالوا سمعنا واطعنا واسمع وانظرنا لکان خیرالھم واقوم ‘ و لکن لعنھم اللہ بکفرھم بکفرھم فلایؤمنون الا قلیلا۔ (النساء : ٤٦)

ترجمہ : بعض یہود اللہ کے کلمات کو اس کے سیاق اور سباق سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں : ہم نے سنا اور نافرمانی کی ‘ (اور آپ سے کہتے ہیں :) سنیے درآن حالیکہ آپ کی بات نہ سنی گئی ہو ! اور دین میں طعن کرنے کے لیے اپنی زبانوں کو موڑ کر ” راعنا “ کہتے ہیں ‘ اور اگر وہ یہ کہتے کہ ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور آپ ہماری بات سنیں اور ہم پر نظر (کرم) فرمائیں تو یہ (ان) (ان کے حق میں) بہت اچھا اور بہت اچھا اور بہت درست ہوتا ‘ لیکن اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت فرما دی ‘ تو صرف قلیل لوگ ایمان لائیں گے۔

امام بن جریر (رح) نے ابن زید سے روایت کیا ہے کہ وہ زبان موڑ کر ” راعنا “ کی جگہ ” راعن “ کہتے تھے اور ” راعن “ کے معنی خطا ہیں تو وہ اس لفظ میں تحریف کرکے آپ کو خطا کرنے والا کہتے تھے۔ (امام محمد بن جریر طبری (رح) متوفی ٣١٠ ھ ‘ جامع البیان ج ١ ص ‘ ٣٧٤‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

سو اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی اور اس کا سد باب کرنے کے لیے مسلمانوں کو ” راعنا “ کہنے سے منع فرمادیا۔

اس آیت سے یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ اگر کسی صحیح کام سے کسی بڑی برائی کا راستہ نکلتا ہو تو اس بڑی برائی کے سد باب کے لیے اس صحیح کام کو بھی ترک کردیا جائے گا۔ قرآن مجید اور احادیث میں اس کی بہت نظائر ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فیسبوا اللہ عدوا بغیر علم، (الانعام : ١٠٨)

ترجمہ : اور تم مشرکین کے معبودوں کو برا نہ کہو ورنہ وہ عدوات اور جہالت سے اللہ کو برا کہیں گے۔

امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیمار ہوئے تو آپ کی کسی زوجہ نے ذکر کیا کہ میں نے حبشہ کے ملک میں عیسائیوں کی ایک عبادت گاہ دیکھی ہے جس کا نام ماریہ ہے ‘ حضرت ام سلمہ (رض) اور حضرت ام حبیبہ (رض) سے آئی تھیں ‘ انہوں نے اس عبادت گاہ کی خوبصورتی اور اس کی تصویروں کو بیان کیا ‘ آپ نے سر اٹھا کر فرمایا : جب ان میں کوئی نیک آدمی فوت ہوجاتا تو وہ اس کی قبر پر ایک مسجد بنا دیتے اور اس میں یہ تصویریں بنا دیتے ‘ یہ لوگ اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٧٩ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

عیسائیوں کے پہلے لوگوں نے نیک انسانوں کی تصویریں اس لیے بنائی تھیں کہ لوگ ان کی تصویروں کو دیکھ کر ان کے نیک اعمال کو یاد کریں ‘ اور ان کی طرح نیکی کرنے کی کوشش کریں اور ان کی قبروں کے پاس اللہ کی عبادت کریں ‘ جب کافی زمانہ گزر گیا اور بعد میں لوگوں کے عقائد اور اعمال اور اعمال میں فساد ظاہر ہوا اور بعد کے لوگ ان تصویروں کی غرض سے ناواقف ہوگئے تو شیطان نے ان کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالا کہ تمہارے آباء و اجداد ان تصویروں کی عبادت کرتے تھے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے سد باب کے لیے تصویریں بنانے سے مطلقا منع فرما دیا۔

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :

علامہ بیضاوی (رح) نے کہا ہے کہ یہود اور نصاری انبیاء کی قبروں کو سجدہ کرتے تھے اور ان کی تعظیم کے لیے ان کی قبروں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے اور انہوں نے ان کی قبروں کو بت بنا لیا تھا ‘ اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر لعنت کی اور مسلمانوں کو اس فعل سے منع فرمایا ‘ البتہ جو شخص کسی نیک مسلمان کے قرب میں مسجد بنائے اور اس کے قرب سے برکت حاصل کرنے کا قصد کرے اور اس قبر کی تعظیم کا قصد نہ کرے اور نہ اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھے تو وہ اس وعید میں داخل نہیں ہے۔ (فتح الباری ج ١ ص ٥٢٥ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)

اس آیت سے دوسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ جس لفظ میں توہین کا معنی نکلتا ہوا اس لفظ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جناب میں استعمال کرنا ناجائز ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توہین کفر ہے ‘ ہم اس مقام پر اس مسئلہ کی تحقیق کر رہے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں گستاخی کرنے والے کے شرعی حکم کی تحقیق :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی توہین کرنا بالاجماع کفر ہے اور توہین کرنے والا بالاتفاق واجب القتل ہے اور اس کی توبہ قبول کرنے میں ائمہ مذاہب کے مختلف اقوال ہیں خواہ توہین کا تعلق آپ کی ذات کے ساتھ ہو یا آپ کے نسب کے ساتھ ہو ‘ آپ کے دین کے ساتھ ہو یا آپ کی کسی صفت کے ساتھ ہو اور یہ اہانت خواہ صراحۃ ہو یا کنایۃ ہو ‘ تعریضا ہو یا تلویحا ہو اسی طرح کوئی شخص آپ کو بددعا کرے ‘ آپ پر لعنت کرے یا آپ کا برا چاہے آپ کے عوارض بشریہ یا آپ سے متعلق اشیاء یا اشخاص کا آپ کی طرف نسبت کرتے ہوئے بطریق طعن یا مذمت ذکر کرے ‘ غرض جس شخص سے کوئی ایسا کلام صادر ہو جس سے آپ کی اہانت ظاہر ہو وہ کفر ہے اور اس کا قائل واجب القتل ہے۔

قاضی عیاض لکھتے ہیں :

محمد بن سحنون نے کہا ہے کہ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اہانت کرنے والا اور آپ کی تنقیص (آپ کی شان میں کمی) کرنے والا کافر ہے اور اس پر عذاب الہی کی وعید جاری ہے اور امت کے نزدیک اس کا حکم قتل کرنا ہے اور جو شخص اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے۔ (الشفاء ج ٢ ص ١٩٠‘ مطبوعہ عبدالتواب اکیڈمی ‘ ملتان)

بعض فقہاء حنفیہ کا قول یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دینے والے کی توبہ قبول نہیں ہوگی ‘ علامہ علانی لکھتے ہیں :

جو شخص کسی نبی کو گالی دینے سے کافر ہوگیا اس کو بطورحد قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ مطلقا قبول نہیں ہے (خواہ خود توبہ کرے یا اس کی توبہ پر گواہی ہو) اور اگر اس نے اللہ تعالیٰ کو گالی دی تو اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے اور نبی کو گالی دینا بندے کا حق ہے اور جو شخص اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے گا وہ بھی کافر ہوجائے گا۔ (درمختار علی الرد ج ٣ ص ٤٠٠ مطبوعہ مطبع عثمانیہ استنبول)

علامہ شامی حنفی عدم قبول توبہ کی تشریح کرتے ہیں :

کیونکہ حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتی اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ یہ حکم دنیا کے ساتھ خاص ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی توبہ مقبول ہوگی ‘ اسی طرح ” البحر الرائق “ میں ہے۔ (درمختار علی الرد ج ٣ ص ٤٠٠ مطبوعہ مطبع عثمانیہ استنبول)

بعض فقہاء شافعیہ کا بھی یہی قول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دینے والے کی توبہ مطلقا قبول نہیں ہے۔ علامہ عسقلانی (رح) لکھتے ہیں :

علامہ ابن منذر (رح) نے نقل کیا ہے کہ اس بات پر اتفاق ہے کہ جس شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صراحتہ گالی دی اس کو قتل کرنا واجب ہے اور ائمہ شافعیہ میں سے علامہ ابوبکر فاسی نے ” کتاب الاجماع “ میں لکھا ہے کہ جس شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قذف صریح کے ساتھ گالی دی اس کے کفر پر علماء کا اتفاق ہے ‘ اگر وہ توبہ کرے گا تب بھی اس سے قتل ساقط نہیں ہوگا کیونکہ یہ حد قذف ہے اور حد قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔ (فتح الباری ج ١٢ ص ٢٨١ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)

احناف اور شوافع کا ایک قول یہ ہے کہ جس شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دی اس کو قتل کیا جائے گا خواہ اس نے توبہ کرلی ہو ‘ امام مالک (رح) کی مشہور روایت اور حنابلہ کا مشہور مذہب بھی یہی ہے اور جمہور احناف اور شوافع کا مذہب ہے کہ توبہ کے بعد اس کو قتل نہیں کیا جائے گا جیسا کہ ہم عنقریب ذکر کریں گے۔

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں :

جس شخص نے اللہ تعالیٰ کو گالی دی وہ کافر ہوگیا خواہ مذاق سے خواہ سنجیدگی سے اور جس شخص نے اللہ تعالیٰ سے استہزاء کیا یا اس کی ذات سے یا اس کے رسولوں سے یا اس کی کتابوں سے وہ کافر ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

(آیت) ” ولئن سالتھم لیقولن انما کنا نخوض ونلعب قل اباللہ وایتہ ورسولہ کنتم تسھزء ون لا تعتذروا قد کفرتم بعد ایمانکم “۔ (التوبہ : ٦٥۔ ٦٤)

ترجمہ اور اگر آپ ان سے پوچھیں تو یہ کہیں گے : ہم تو صرف مذاق کررہے تھے آپ کہیے : کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی آیات اور اس کے رسول کا استہزاء کر رہے تھے ؟۔ اب عذر نہ پیش کرو کیونکہ تم ایمان لانے کے بعد یقیناً کافر ہوچکے ہو۔ (المغنی ج ٩ ص ٣٣‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

مشہور آزاد محقق شیخ ابن تیمیہ لکھتے ہیں :

محمد بن سحنون فرماتے ہیں : علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دینے والا اور آپ کی تنقیص کرنیوالا کافر ہے۔ اس کے متعلق عذاب الہی کی وعید ہے اور امت کے نزدیک اس کا حکم قتل ہے اور جو شخص اس کے کفر اور اس کے عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے اور اس مسئلہ میں تحقیق یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دینے والا کافر ہے اور اس کو بالاتفاق قتل کیا جائے گا اور یہی ائمہ اربعہ وغیرہ کا مذہب ہے ‘ اسحاق بن راہویہ وغیرہ نے اس اجماع کو بیان کیا ہے اور اگر گالی دینے والا ذمی ہو تو امام مالک اور اہل مدینہ کے نزدیک اس کو بھی قتل کیا جائے گا اور عنقریب ہم ان کی عبارت نقل کریں گے ‘ اور امام احمد اور محدثین کا بھی یہی مذہب ہے ‘ امام احمد (رح) نے متعدد مقامات پر اس بات کی تصریح کی ہے ‘ حنبل کہتے ہیں : میں نے ابوعبداللہ (امام احمد (رح) ) سے سنا وہ فرماتے تھے : جس شخص نے نبی کریم کو گالی دی یا آپ کی تنقیص کی خواہ مسلمان ہو یا کافر اس کو قتل کرنا واجب ہے اور میری رائے یہ ہے کہ اس کو قتل کیا جائے اور اس کی توبہ نہ قبول کی جائے۔ (الصارم المسلول ص ٤ مطبوعہ نشر السنۃ ‘ ملتان)

قاضی عیاض مالکی (رح) لکھتے ہیں :

جان لو کہ امام مالک (رح) ‘ ان کے اصحاب ‘ سلف صالحین اور جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جس نے گالی دی اور اس کے بعد توبہ کرلی تو اس کو بطور حد قتل کیا جائے گا نہ بطور کفر ‘ شیخ ابوالحسن قالبی (رح) نے فرمایا : جب کسی شخص نے آپکو گالی دینے کا اقرار کیا اور اس کے بعد توبہ کرلی اور توبہ کا اظہار کردیا تو اس گالی کے سبب سے قتل کیا جائے گا کیونکہ یہ اس کی حد ہے ‘ ابو محمد بن ابی زید نے بھی یہی کہا ہے ‘ البتہ اس کی توبہ اس کو آخرت میں نفع دے گی اور وہ عنداللہ مومن قرار پائے گا (الشفاء ج ٢ ص ٢٢٣‘ مطبوعہ ملتان)

علامہ شامی (رح) لکھتے ہیں :

جس شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دی ہو اس کی توبہ قبول نہ کرنا امام مالک کا مشہور مذہب ہے ‘ اور امام احمد بن حنبل (رح) کا مشہور مذہب بھی یہی ہے اور ایک روایت ان میں سے یہ ہے کہ اس کا حکم مرتد کی طرح ہے اور یہ بات معلوم ہے کہ مرتد کی توبہ قبول کی جاتی ہے جیسا کہ نتف وغیرہ سے منقول ہے ‘ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دینے والے کا یہ حکم ہے تو حضرت ابوبکر (رض) اور عمر (رض) یا ان میں سے کسی ایک کو گالی دینے والے کا حکم بطریق اولی یہی ہوگا کہ اس کی توبہ قبول کرلی جائے۔

بہرحال یہ بات ظاہر ہوگئی کہ احناف اور شوافع کا مذہب یہ ہے کہ اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی اور امام مالک سے بھی یہ ایک ضعیف روایت سے ثابت ہے۔ (رد المختار ج ٣ ص ٤٠٤۔ ٤٠١ مطبوعہ مطبعہ عثمانیہ استنبول)

خلاصہ یہ ہے کہ امام مالک اور امام احمد بن حنبل کا مذہب یہ ہے کہ گستاخ رسول کی (دنیاوی احکام میں) توبہ قبول نہیں ہوگی اور اس کو قتل کیا جائے گا اور ایک قول یہ ہے کہ اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی اور امام ابوحنفیہ (رح) اور امام شافعی (رح) کا مذہب یہ ہے کہ اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی اور ایک قول یہ ہے کہ (دنیاوی احکام میں) اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور اس کو ہرحال میں قتل کیا جائے گا۔

گستاخانہ کلام میں تاویل کی گنجائش :

عام طور پر مشہور یہ ہے کہ جس کلام میں ننانوے احتمال کفر کے ہوں اور ایک احتمال اسلام کا ہو اس کلام کو اسلام پر محمول کیا جائے گا اور قائل کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ علامہ علائی لکھتے ہیں :

” درر “ وغیرہ میں ہے کہ جب کسی مسئلہ میں کچھ وجوہ کفر کو واجب کرتی ہوں اور ایک وجہ کفر سے روکتی ہو تو مفتی پر واجب ہے کہ اس کو ” منع عن الکفر “ پر محمول کرے بشرطیکہ قائل کی نیت بھی وہی ہو ‘ ورنہ مفتی کے ” منع عن الکفر “ پر محمول کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ (رد المختار علی الرد ج ٣ ص ٣٩٩ مطبوعہ مطبعہ عثمانیہ استنبول)

علامہ ابن نجیم لکھتے ہیں :

” خلاصہ “ وغیرہ میں ہے کہ جب کسی مسئلہ میں متعدد وجوہ سے کفر لازم ہو اور ایک وجہ کفر سے روکتی ہو تومفتی پر لازم ہے کہ اس وجہ کی طرف میلان کرے جو کفر سے روکتی ہو کیونکہ مسلمان کے ساتھ حسن ظن رکھنا چاہیے اور ” بزازیہ “ میں ہے : البتہ جب قائل خود اس احتمال کا التزام کرے جس وجہ سے تکفیر ہو تب تاویل سے فائدہ نہیں ہوگا اور ” تاتارخانیہ “ میں ہے : جس کلام میں کئی احتمال ہوں اس پر تکفیر نہیں کی جائے گی کیونکہ کفر انتہائی سزا ہے جو انتہائی جرم کا تقاضا کرتی ہے اور جب دوسرا احتمال موجود ہو تو یہ انتہائی جرم نہیں ہے۔ (البحرالرائق ج ٥ ص ١٢٥‘ مطبوعہ مکتبہ ماجدیہ ‘ کوئٹہ)

علامہ شامی اور علامہ ابن نجیم کی ان عبارات سے واضح ہوگیا کہ جس لفظ یا جس جملہ میں متعدد احتمالات ہوں اور ان احتمالات میں سے کچھ کفریہ ہوں اور کچھ غیر کفریہ اس وقت یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ مفتی کو چاہیے کہ وہ قائل کے کلام کو غیر کفریہ معنی پر محمول کرے لیکن اگر کسی کلام کے متعدد احتمالات نہ ہو بلکہ صرف ایک معنی ہو اور وہ معنی خدانخواستہ کفر یہ ہو تو اب مفتی صاحب کے لیے قائل کی تکفیر کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں۔

گستاخانہ کلام میں توہین کی نیت کی بحث :

ایک بحث یہ ہے کہ کوئی شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں گستاخانہ کلمہ بولتا ہے اور جب اس کی تکفیر کی جائے تو وہ اپنے دفاع میں کہتا ہے کہ اس کلمہ سے میری نیت یہ نہیں تھی آیا اس کا یہ جواب صحیح ہے یا نہیں ؟ اس سلسلہ میں تحقیق ہے کہ جس لفظ کے متعدد معنی ہوں اس کے متعلق قائل یہ کہہ سکتا ہے کہ میری نیت میں فلاں گستاخانہ معنی نہیں تھا بلکہ فلاں معنی ہے لیکن جس لفظ کا ازروئے لغت یا عرف یا شرع کے اعتبار سے صرف ایک ہی معنی ہو اور وہ معنی خدا نخواستہ گستاخانہ اور کفریہ ہو تو اب قائل عرف اور شرع میں طلاق کے لیے معین ہے ‘ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ” انت طالق “ کہہ دے تو اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی ‘ اب اگر وہ یہ کہے کہ طالق سے میری نیت لغوی معنی تھا یعنی وہ کھلی ہوئی ہے بندھی ہوئی نہیں ہے یا میں نے یہ کلمہ یونہی کہہ دیا تھا ‘ میری نیت اس کلمہ سے طلاق دینا نہیں تھی تو اس کی نیت کا اعتبار نہیں ہوگا کیونکہ لفظ صریح میں نیت کا اعتبار نہیں ہوتا ‘ اس کے برخلاف اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ” انت امی “ (تو میری ماں کی مثل ہے) کہتا ہے تو یہ لفظ کیونکہ طلاق کے لیے معین نہیں ہے اس میں اس کی نیت کا اعتبار ہوگا ‘ اگر وہ طلاق کا ارادہ کرتا ہے تو طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر عزت اور کرامت کا ارادہ کرتا ہے تو اس معنی کا اعتبار ہوگا اور طلاق نہیں ہوگی ! اسی طرح فقہاء نے لکھا ہے کہ کوئی شخص کسی کو ولد الحرام یا حرام زادہ کہتا ہے تو اس پر تعزیر لگائی جائے گی اور اگر قائل یہ کہے کہ حرام سے میری نیت ناجائز اولاد نہیں ‘ بلکہ حرمت اور کرامت تھی یا میری نیت اس شخص کی اہانت نہیں تھی تو اس کی نیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ‘ کوئی عرف میں یہ الفاظ ناجائز اولاد کے لیے معین ہیں ‘ اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کو غصہ میں یا کافر کہہ دے تو اس کو تعزیر لگائی جائے گی اور اگر کہے کہ میری نیت کافر بالطاغوت تھی تو اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا کیونکہ عرف میں کافر ‘ کافر باللہ کے لیے معین ہے۔ ان تصریحات کے پیش نظر جو شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں ایسا کلام کہتا ہے جو عرف میں توہین کے لیے متعین ہو تو اس کی تکفیر کی جائے گی خواہ اس نے توہین کی نیت نہ کی ہو۔ علامہ شامی لکھتے ہیں :

جو چیز توہین کی دلیل ہو اس پر تکفیر کی جائے خواہ اس نے توہین کی نیت نہ کی ہو۔ (رد المختار ج ٣ ص ‘ ٣٩٢ مطبوعہ مطبع عثمانیہ استنبول ‘ ١٣٢٧ ھ)

ایک شخص سے کہا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حق کی قسم ! تو اس نے کہا : اللہ ‘ رسول اللہ کے ساتھ ایسا ایسا کرے اور بہت قبیح کلام ذکر کیا۔ اس سے کہا گیا کہ اے اللہ کے دشمن ! تم کیا کہہ رہے ہو ؟ تو اس نے اس سے بھی زیادہ شدید قبیح کلام کیا ‘ پھر کہا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بچھو کی نیت کی ہے (یعنی بچھو بھی اللہ کا بھیجا ہوا ہے) ابن ابی سلیمان نے کہا : اس کو قتل کرنے میں میں بھی تمہارے ساتھ اس کے خلاف شہادت دیتا ہوں اور اس کے ثواب میں شریک ہوں اور حبیب بن ربیع نے کہا : لفظ صریح میں تاویل کا دعوی قبول نہیں کیا جاتا۔ (الشفاء ج ٢ ص ١٩١‘ مطبوعہ عبدالتواب اکیڈمی ‘ ملتان)

قاضی عیاض کی اس عبارت کی تشریح کرتے ہوئے ملاعلی قاری۔ ١ (ملا علی قاری حنفی متوفی ١٠١٤ ھ ‘ شرح شفاء علی ہامش نسیم الریاض ج ٤ ص ٣٣٥‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) اور علامہ خفاجی۔ ٢ (علامہ شہاب الدین خفاجی حنفی متوفی ١٠٦٩ ھ ‘ نسیم الریاض ج ٤ ص ٣٣٥‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) نے بھی اس بات کو مقرر رکھا ہے کہ صریح لفظ میں تاویل قبول نہیں ہوتی ‘ اسی طرح علامہ وشتانی مالکی۔ ٣ (علامہ وشتانی مالکی متوفی ٨٢٨ ھ ‘ اکمال اکمال المعلم ج ٣ ص ١٩٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) نے بھی شرح مسلم میں کہا ہے کہ لفظ صریح تاویل کو قبول نہیں کرتا نیز قاضی عیاض نے تصریح کی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں توہین آمیز کلمات کہے جائیں تو توہین کا قصد ہو یا نہ ہو قائل کی تکفیر کی جائے گی۔ قاضی عیاض لکھتے ہیں :

جو شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں ایسا کفریہ کلمہ کہے جس میں لعنت ہو یا گالی ہو یا آپ کی تکذیب ہو یا آپ کی طرف کسی ایسی چیز کی اضافت کرے تو جو ناجائز ہو یا اس چیز کی نفی کرے جو آپ کے لیے واجب ہو ‘ یا وہ بات کہے جو آپ کے حق میں نقص ہو یا آپ کی طرف گناہ کبیرہ کی نسبت کرے ‘ یا تبلیغ رسالت میں مداہنت کی نسبت کرے یا آپ کے مرتبہ اور شرف نسب یا آپ کے علم کی عظمت اور آپ کے زہد میں کمی کرے یا آپ کے جو اوصاف مشہور اور متواتر ہیں ان کی تکذیب کرے یا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں کوئی نازیبابات کہے جو از قسم گالی ہو اگرچہ اس کے حال سے یہ ظاہر ہو کہ وہ آپ کی توہین کا قصد نہیں کرتا نہ اس پر اعتماد کرتا ہے یا اس نے جہالت کی وجہ سے کہا ہو یا رنج اور قلق کی بنا پر یا نشہ کی وجہ سے کہا ہو یا سبقت لسانی سے ایسا کہا ہو ‘ یا یونہی بےسوچے سمجھے یا جوش غضب سے ایسا کہہ دیتا ہے تو ایسے شخص کا بلا توقف یہ حکم ہے۔ کہ اس کو قتل کردیا جائے کیونکہ جہالت تکفیر میں عذر نہیں ہے نہ سبقت لسانی کا دعوی نہ مذکور الصدر اسباب میں سے کوئی اور سبب جبکہ اس کی عقل صحیح ہو سو اس شخص کے جس کو ان کلمات کے کہنے پر مجبور کیا گیا ہو ‘ اور اس کے دل میں ایمان ہو۔ (الشفاء ج ٢۔ ٢٠٣‘ مطبوعہ عبدالتواب اکیڈمی ‘ ملتان) قاضی عیاض (رح) کی اس عبارت سے واضح ہوگیا کہ جس شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات یا آپ کی صفات مثلا کمال علم یا کمال قدرت کے متعلق کوئی نازیبات کہی خواہ اس کا قصد اور نیت ‘ توہین نہ ہو اور نہ وہ اس کا اعتقاد رکھتا ہو بلکہ وہ آپ کے کمالات کا قائل ہو پھر بھی اس نازبیابات کی وجہ سے وہ کافر ہوجائے گا اور اس کو قتل کرنا واجب ہے۔ ملاعلی قاری حنفی۔ ١ (ملاعلی قاری ہر وی حنفی متوفی ١٠١٤ ھ شرح شفاء علی ہامش نسیم الریاض ج ٤ ص ٣٨٨۔ ٣٨٧‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) اور علامہ شہاب الدین خفاجی حنفی۔ ٢ (علامہ شہاب الدین خفاجی حنفی متوفی ١٠٦٩ ھ، نسیم الریاض ج ٤ ص ٣٨٨۔ ٣٨٧ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) نے بھی اس عبارت کو مقرر رکھا ہے۔

شیخ رشید احمد گنگوہی ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں :

سوال نمبر : ٣٠ :

شاعر جو اپنے اشعار میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو صنم یا بت یا آشوب ترک فتنہ عرب باندھتے ہیں اس کا کیا حکم ہے۔ بینوا توجروا،

جواب :

یہ الفاظ قبیح بولنے والا اگرچہ معنی حقیقیہ بہ معانی ظاہرہ خود مراد نہیں رکھتا ‘ بلکہ معنی مجازی مقصود لیتا ہے مگر تاہم ایہام گستاخی ‘ اہانت ‘ واذیت ‘ ذات پاک حق تعالیٰ اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خالی نہیں ‘ یہی سبب ہے کہ حق تعالیٰ نے لفظ ” راعنا “ سے صحابہ کو منع فرمایا ” انظرنا “ کا لفظ عرض کرنا ارشاد کیا حالانکہ مقصود صحابہ (رض) ہرگز وہ معنی کہ جو یہود مراد لیتے تھے نہ تھی ‘ مگر ذریعہ شوخی یہود کا اور موہم اذیت و گستاخی جناب رسالت کا تھا لہذا حکم ہوا۔ (آیت) ” لا تقولوا راعنا وقولوا انظرنا “۔ اور علی ہذا حضرات صحابہ (رض) کا پکار کر بولنا مجلس شریف آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں بہ وجہ اذیت و گستاخی معاذ اللہ نہ تھا بلکہ حسب عادت وطبع تھا مگر چونکہ اذیت وبے اعتنائی شان والا کا اس میں ایہام تھا یہ حکم ہوا :

(آیت) ” یایھا الذین امنوالاترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لاتشعرون “ کیا صاف حکم ہے کہ اگرچہ تمہارا قصد گستاخی نہیں مگر اس فعل سے حبط اعمال تمہارے ہوجاویں گے اور تم کو خبر بھی نہ ہوگی ‘ اور ایسا ہی حدیث میں ہے : ” تکنی بکنیۃ ابی القاسم “ آپ کی حیات شریفہ میں منع ہوگئی تھی بہ وجہ اذیت ذات سرور عالم کے کہ کوئی کسی کو اگر پکارے گا تو آپ یہ سمجھ کر کہ مجھ کو ارادہ کرتا ہے التفات فرمائیں گے حالانکہ نادی ہرگز اذیت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہیں کرتا تھا اور ابن ماجہ نے روایت کیا کہ اشعت قیس کندی جب آئے تو انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا آپ ہم میں سے نہیں ہیں ؟ اور یہ عرض والغیب عنداللہ بایں وجہ تھی کہ سب عرب از قریش تاکندہ بنواسماعیل ہیں ‘ تو آپ نے فرمایا : ہمارے ماموؤں کو تہمت زنا مت لگا اور ہمارے نسب کی نفی ہمارے باپوں سے مت کر ‘ ہم اولاد نضر ہیں ‘ دیکھ اس لفظ میں فقط میں فقط ابہام بعید کو کس قدر آپ نے نفی کرکے نہی فرمایا اور کلام کا ادب تلقین کیا ” وعلی ھذا خبثت نفسی “ کو منع فرمایا اور ” لقست نفسی “ کی اجازت دی کہ وہ بہ ظاہر سخت لفظ ہے گومعنی ایک ہیں ‘ الحاصل ان الفاظ میں گستاخی اور اذیت ظاہرہ ہے ‘ پس ان الفاظ کا بکنا کفر ہوگا :” ان الذین یؤذون اللہ ورسولہ لعنہم الہ فی الدنیاوالا والاخرۃ واعدلھم عذابامھینا “۔rnّ (اس کے بعد شیخ گنگوہی نے قاضی عیاض کی عبارت پیش کی ہے جس کا ترجمہ ہم شروع میں لکھ چکے ہیں۔ )

پس ان کلمات کفر کے لکھنے والے کو منع والے کو منع کرنا شدید چاہیے اور مقدور ہو اگر باز نہ آوے تو قتل کرنا چاہیے کہ موذی وگستاخ شان جناب کبریاتعالیٰ اور اس کے رسول نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بندہ رشید احمد گنگوہی عفی عنہ “۔ (فتاوی رشیدیہ کامل مبوب ص ‘ ٧٢۔ ٧١ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز ‘ کراچی)

شیخ گنگوہی نے اپنے اس طویل فتوی میں اس بات کی تصریح کردی ہے کہ جو کلام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بارگاہ میں موجب اہانت ہو اسکا کہنے والا کافر ہے خواہ کہنے والا اس کفریہ معنی کا ارادہ نہ کرے اور نہ ہی اس کی نیت توہین کی ہو اور اس نقط پر استدلال کرنے کے لیے شیخ گنگوہی نے بھی قاضی عیاض کی اسی عبارت سے استدلال کیا ہے جس کا ترجمہ ہم پیش کرچکے ہیں

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 104