بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ‌ؕ وَمَا لَـکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ وَّلِىٍّ وَّلَا نَصِيۡرٍ

(اے مخاطب ! ) کیا تو نہیں جانتا کہ آسمانوں اور زمینوں کا ملک اللہ ہی کے لیے ہے ؟ (اے مسلمانو ! ) اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے مخاطب ! ) کیا تو نہیں جانتا کہ آسمانوں اور زمینوں کا ملک اللہ ہی کے لیے ہے ؟۔ (البقرہ : ١٠٧)

ربط آیات :

اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب نہیں ہے ‘ بلکہ اس میں عام مخاطب یا عام مسلمانوں سے خطاب ہے ‘ کیونکہ اس آیت کے دوسرے جز میں فرمایا ہے : اللہ کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نسخ پر دلیل قائم کی ہے کہ اللہ تعالیٰ مالک اور حاکم ہے ‘ اور جو مالک اور حاکم ہو وہ اپنے محکوم اور مملوک لوگوں کی مصلحتوں اور ان کے احوال کی رعایتوں سے واقف ہوتا ہے ‘ اس لیے وہ ان کی رعایتوں اور مصلحتوں اور ان کے احوال کی رعایتوں سے واقف ہوتا ہے ‘ اس لیے وہ ان کی رعایتوں اور مصلحتوں کے اعتبار سے احکام بدلتا رہتا ہے ‘ کبھی اعتبار سے دوسرا حکم نازل کرتا ہے ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ اپنی مخلوق کا مالک ہے اور مالک اپنی مملوک میں جو حکم چاہے نازل کرے ‘ اس پر کسی کو اعتراض کا حق نہیں ہے۔ ولی کا معنی ہے : قریب اور دوست ‘ اور نصیر کا معنی ہے : مددگار ‘ کبھی دوست مددگار ہوتا ہے اور کبھی دوست ہوتا ہے اور مددگار نہیں ہوتا اور کبھی اجنبی مدد کرتا ہے اور وہ دوست نہیں ہوتا ‘ ان میں عام خاص من وجہ کی نسبت ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا تم (بھی) اپنے رسول سے ایسے (لا یعنی) سوال کرنا چاہتے ہو جیسے اس سے پہلے موسیٰ سے سوال کئے گئے تھے ؟۔ (البقرہ : ١٠٨)

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوالات کی ممانعت کا محمل :

اس آیت میں کن سائلین کی طرف خطاب متوجہ ہے ؟ اس میں تین قول ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ سوال کرنے والے یہود تھے اور یہی سیاق اور سباق کے مناسب ہے ‘ دوسرا قول ہے : یہ آیت مشکرین مکہ کے سوالوں کے رد میں ہے اور تیسرا قول ہے کہ مسلمانوں کے سوال کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ‘ امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے بیان فرمایا کہ رافع بن حریلمہ اور وھب بن زید (یہودیوں) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : ہمارے پاس ایسی کتاب لے کر آئیں جو آسمان سے نازل ہو اور ہم اس کو پڑھیں ‘ اور ہمارے لیے دریا جاری کردیں ‘ پھر ہم آپ کی اتباع اور تصدیق کریں گے ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی۔

مجاہد (رح) نے بیان کیا کہ قریش نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ کہا کہ وہ ان کے لیے پہاڑ صفا کو سونے کا بنادیں۔

ابوالعالیہ نے بیان کہ ایک مسلمان شخص نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کاش ہمارے کفارات ‘ بنواسرائیل کے کفارات کی طرح ہوتے ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تم کو جو کفارے عطا فرمائے ہیں وہ بنی اسرائیل کے کفاروں سے بہت بہتر ہیں ‘ جب ان میں کوئی شخص گناہ کرتا تھا تو اس کے دروازہ پر وہ گناہ اور اس کا کفارہ لکھا ہوا ہوتا تھا ‘ اگر وہ کفارہ دے دیتا تو اسے دنیا میں ذلت اٹھانی پڑتی اور اگر کفارہ نہ دیتا تو اس کے لیے آخرت میں رسوائی ہوتی ‘ اور تمہارے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جس شخص نے کوئی برائی کی یا اپنی جان پر ظلم کیا ‘ پھر اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا تو وہ اللہ تعالیٰ کو بہت بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا پائے گا ‘ اور فرمایا : دن کی پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کا وقفہ ان کے درمیان میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں اور جس شخص نے کسی نیکی کا قصد کیا اور اس نیکی کو نہیں کیا تو اس کی ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور اگر وہ نیکی کرے تو دس نیکیاں لکھا جاتی ہیں اور اللہ کے غضب میں وہی ہلاک ہوتا ہے جو اپنے آپ کو کسی بڑے گناہ میں مبتلا کرلیتا ہے۔ (جامع البیان ج ١ ص ‘ ٣٨٦۔ ٣٨٥‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

اس وقت یہ آیت نازل ہوئی : کیا تم (بھی) اپنے رسول سے ایسے (لا یعنی) سوال کرنا چاہتے ہو جیسے اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کیے گئے تھے۔ اس آیت کے بعد فرمایا ہے : جس نے ایمان کو کفر سے بدلا یعنی ایمان کے مقابلہ میں کفر کو اختیار کیا وہ سیدھے راستہ سے گمراہ ہوگیا ‘ اس کا مطلب ہے کہ انہوں نے کوئی ایسا سوال کیا تھا جو کفر تھا ‘ یہودیوں نے ایک مکمل کتاب لانے کا مطالبہ کیا تھا اور مشرکین نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کوہ صفا کو سونے کا بنادیں اور نبوت پر کسی دلیل کا مطالبہ کرنا کفر نہیں ہے۔ لیکن ان کا یہ سوال چونکہ بہ طور عناد اور سرکشی تھا اس وجہ سے اس کو کفر فرمایا جیسے بنواسرائیل نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ کہا تھا کہ جب تک ہم خدا کو دیکھ نہ لیں ایمان نہیں لائیں گے ‘ امام جریر (رح) نے مسلمانوں کا جو سوال نقل کیا ہے کہ ہمارے لیے بنواسرائیل کے کفاروں کی مثل کفارے ہوں ‘ یہ کفر نہیں ہے ‘ امام رازی (رح) نے نقل کیا ہے کہ بعض مسلمانوں نے کہا تھا کہ ہمارے لیے بھی ایک خدا بنادیا جائے جس پر ہم چڑھاوے چڑھائیں ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی اور یہ سوال کرنا یقیناً کفر ہے ‘ تاہم زیادہ قوی قول یہ ہے کہ یہ آیت یہودیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ سرکشی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے یا بلاضرورت اور لا یعنی سوالات کرنا ممنوع ہے ہے لیکن کوئی مسئلہ معلوم کرنے کے لیے ‘ یا کسی چیز کی وضاحت کے لیے سوال کرنا جائز ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لاعلمی کا علاج سوال کرنا ہے ‘ صحابہ کرام (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مسائل دینیہ معلوم کرتے تھے اور آپ ان کو جوابات دیتے تھے ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون “۔۔ (النحل : ٤٣)

ترجمہ : اگر تم کو علم نہ ہو تو علم والوں سے سوال کرو۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بہت سے اہل کتاب نے ان پر حق واضح ہوجانے کے باوجود اپنے حسد کی وجہ سے یہ چاہا کہ کاش وہ ایمان کے بعد تم کو پھر کفر کی طرف لوٹا دیں۔ (البقرہ : ١٠٩)

امام رازی (رح) اس آیت کے شان نزول میں لکھتے ہیں :

جب مسلمان جنگ احد میں شکست کھاگئے تو فنخاص بن عاز اور زید بن قیس اور کچھ اور یہودی ‘ حضرت حذیفہ بن یمان (رض) اور عمار بن یاسر (رض) کے پاس گئے اور کہا : تم نے دیکھا تم پر کیسی مصیبت آئی ہے ‘ اگر تم حق پر ہوتے تو تم پر یہ مصیبت نہ آتی ‘ اب تم ہمارے دین میں داخل ہوجاؤ ‘ وہ تمہارے لیے بہتر اور افضل ہے اور ہمارا دین سیدھا راستہ ہے ‘ حضرت عمار نے پوچھا : تمہارے ہاں عہد شکنی کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا : وہ بہت بڑا گناہ ہے ! انہوں نے کہا : میں نے عہد کیا ہے کہ میں تاحیات حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کفر نہیں کروں گا ‘ یہود نے کہا : وہ اپنا آبائی دین ترک کرچکے ہیں ؟ حضرت حذیفہ (رض) نے کہا : میں اس پر راضی ہوں کہ میرا رب اللہ ہے ‘ اسلام میرا دین ہے ‘ قرآن میرا امام ہے کعبہ قبلہ ہے اور سب مسلمان بھائی ہیں ‘ پھر وہ دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ آپ کو سنایا ‘ آپ نے فرمایا : تم نے درست کہا ‘ اور تم کامیاب ہوگئے۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص ٤٣٩ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

حسد کی تحقیق :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہود حسد کی وجہ سے مسلمانوں کو ان کے دین سے لوٹانا چاہتے تھے ‘ اس لیے ہم یہاں حسد کی تحقیق کریں گے حسد کا معنی ‘ حسد کے متعلق احادیث ‘ حسد کے مراتب ‘ حسد کے اسباب ‘ اور حسد کو زائل کرنے کے طریقے بیان کریں گے۔ فنقول وباللہ التوفیق وبہ الاستعانۃ یلیق۔

علامہ راغب اصفہانی (رح) لکھتے ہیں :

جس مستحق شخص کے پاس نعمت ہو اس سے نعمت کے زوال کی تمنا کو حسد کہتے ہیں ‘ روایت ہے کہ مومن رشک کرتا ہے اور منافق حسد کرتا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے : (آیت) ” من شر حاسد اذا حسد “۔ جب حاسد حسد کریں تو میں ان کے شر سے تیری پناہ میں آتاہوں “۔ (المفردات ص ‘ ١١٨ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

صاحب نعمت کے پاس نعمت دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہ اس کے پاس یہ نعمت رہے اور ہمیں بھی اس کی مثل مل جائے یہ رشک ہے۔

حسد کے متعلق احادیث اور آثار :

امام ابوداؤد (رح) کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ سوکھی لکڑیوں اور گھاس کو کھا جاتی ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ‘ ٣٦٦ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے۔ (سنن ابن ماجہ ص ٣١٠‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام نسائی (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی بندے کے دل میں احسان اور حسد جمع نہیں ہوتے۔ (سنن نسائی ج ٢ ص ٤٤ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

ان دونوں حدیثوں کو امام بیہقی (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (شعب الایمان ج ٥ ص ٢٦٧۔ ٢٦٦ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

امام طبرانی (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت حارثہ بن نعمان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین چیزیں میری امت کو لازم ہیں ‘ بدفالی ‘ حسد اور بدگمانی ‘ ایک شخص نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس شخص میں یہ خصلتیں ہوں وہ ان کا کس طرح تدارک کرے ‘ آپ نے فرمایا : جب تم حسد کرو تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرو ‘ اور جب بدگمانی کرو تو اس پر جمے نہ رہو اور جب تم کسی کام کی بدفالی نکالو تو وہ کام کر گزرو۔ (معجم کبیر ج ٣ ص ‘ ٢٢٨ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

امام بیہقی (رح) روایت کرتے ہیں :

بشر بن حارث بیان کرتے ہیں کہ رشتہ داروں میں عداوت ہوتی ہے ‘ پڑوسیوں میں حسد ہوتا ہے اور بھائیوں میں منفعت ہوتی ہے۔ (شعب الایمان ج ٥ ص ٢٧٣ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤٠١ ھ)

احنف بن قیس نے کہا : پانچ چیزیں ایسی ہیں جس طرح ان کو میں بیان کرتا ہوں حاسد کے لیے کوئی راحت نہیں ہے ‘ جھوٹے کی کوئی مروت نہیں ہے ‘ حاکم کی وفا نہیں ‘ بخیل کا کوئی حیلہ نہیں اور بدخلق کی کوئی سیاست نہیں ہے۔ (شعب الایمان ج ٥ ص ٢٧٣ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤٠١ ھ)

امام طبرانی (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت ضمرہ بن ثعلبہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تک لوگ حسد نہیں کریں گے وہ خیریت سے رہیں گے۔ معجم کبیر ج ٨ ص ‘ ٣٠٩ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

حافظ منذری نے لکھا ہے کہ اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں۔ (الترغیب والترھیب ج ٣ ص ٥٤٧‘ مطبوعہ دارالحدیث ‘ قاہرہ)

حافظ منذری (رح) بیان کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن بسر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں : حسد کرنے والا ‘ چغلی کرنے والا اور کہانت۔ ١ (کہانت کا معنی ہے : خبریں سن کر اور اس میں اپنی طرف سے کچھ ملا کر لوگوں کو غیب کی خبریں دینا) کرنے والا میرے طریقہ پر نہیں ہے ‘ اور نہ میں ان کے طریقہ پر ہوں ‘ اس حدیث کو امام طبرانی (رح) نے روایت کیا ہے۔

حضرت زبیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پہلی امتوں کی بعض بیماریاں تم میں سرایت کرگئی ہیں ‘ حسد اور بغض ‘ بغض مونڈنے والا ہے ‘ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ بالوں کو مونڈتا ہے ‘ لیکن وہ دین کو مونڈتا ہے ‘ اس حدیث کو امام بزار (رح) نے جید سند کے ساتھ اور امام بیہقی (رح) نے روایت کیا ہے۔

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ‘ آپ نے فرمایا : ابھی تمہارے پاس اھل جنت میں سے ایک شخص آئے گا ‘ پھر ایک شخص آیا جس کی ڈاڑھی سے وضوء کا پانی ٹپک رہا تھا ‘ اور اس کے بائیں ہاتھ میں اس کی جوتیاں تھیں ‘ دوسرے دن پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہی فرمایا : اور پھر وہی شخص آیا ‘ تیسرے دن پھر آپ نے یہی فرمایا اور پھر وہی شخص آیا ‘ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) تین دن اس شخص کے ساتھ رہے تاکہ اس کا وہ عمل معلوم کریں ‘ جس کی وجہ سے آپ نے اس کو تین بار جنت کی بشارت دی تھی ‘ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے دیکھا ‘ وہ شخص رات کے قیام کے لئے نہیں اٹھتا تھا ‘ البتہ اللہ کا نام لے کر سوتا اور صبح اللہ کا نام لے کر اٹھتا تھا ‘ حضرت عبداللہ (رض) نے کہا : میں نے اس کی زبان سے خیر کے سوا کسی کا ذکر نہیں سنا ‘ جب تین دین گزر گئے تو میں نے اس سے پوچھا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تین مرتبہ تمہارے متعلق جنت کی بشارت سنی ہے اور میں نے تم کو کوئی غیر معمولی نہیں دیکھا ‘ آخر وہ کیا عمل ہے جس کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بشارت دی ہے ؟ اس نے کہا : بس وہی عمل ہے جو آپ نے دیکھا ‘ جب حضرت عبداللہ جانے لگے تو اس نے آپ کو آواز دی اور کہا : وہ عمل میرے دل میں کسی مسلمان کے خلاف کینہ نہیں ہے اور جس کسی مسلمان کو اللہ نے کوئی نعمت دی ہو میں اس پر حسد نہیں کرتا۔ حضرت عبداللہ (رض) نے کہا : اسی نیکی کی وجہ سے تم اس مرتبہ کو پہنچے ہو ‘ اس حدیث کو امام احمد (رح) نے امام بخاری (رح) کی شرط کے مطابق روایت کیا ہے اور اس کو امام مسلم (رح) ‘ امام نسائی (رح) امام ابو یعلی (رح) اور امام بزار نے بھی روایت کیا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ آپ سے پوچھا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! سب سے افضل کون شخص ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو مخموم القلب اور راست گو ہو صحابہ (رض) نے کہا : راست گو کو تم ہم جانتے ہیں مخموم القلب کا کیا معنی ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو شخص متقی ہو ‘ صاف دل ہو ‘ اس نے کوئی گناہ اور سرکشی نہ کی ہو ‘ وہ کسی سے کینہ رکھتا ہو نہ حسد رکھتا ہو ‘ اس حدیث کو امام ابن ماجہ (رح) نے سند صحیح کے ساتھ اور امام بیہقی (رح) نے روایت کیا ہے۔

حضرت حسن (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کے ابدال زیادہ نمازوں ‘ روزوں اور صدقات کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہوں گے لیکن وہ اللہ کی رحمت ‘ نفس کی سخاوت اور (حسد اور بغض سے) سینے صاف رکھنے کی وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے ‘ اس حدیث کو امام ابن ابی الدنیا نے ” کتاب الاولیاء “ میں مرسلا روایت کیا ہے۔ (الترغیب والترھیب ج ٣ ص ٥٥١ ‘۔ ٥٤٧ مطبوعہ دارالحدیث ‘ قاہرہ ‘ ١٤٠٧ ھ)

حسد کے مراتب :

حسد کے چار درجات ہیں :

(١) کسی شخص میں کوئی نعمت دیکھ کر انسان یہ چاہے کہ خواہ اس کو وہ نعمت نہ ملے لیکن اس شخص سے زائل ہوجائے ‘ یہ انتہائی حسد ہے۔

(٢) دوسرے شخص سے وہ نعمت زائل ہوجائے اور اس کو مل جائے۔

(٣) وہ بعینہ اس نعمت کی خواہش نہ کرے بلکہ یہ چاہے کہ اس کو بھی اس جیسی نعمت مل جائے اور اگر اس کو ایسی نعمت نہ ملے تو دوسرے شخص سے وہ نعمت زائل ہوجائے تاکہ دونوں میں فرق نہ رہے۔

(٤) اس کو اس جیسی نعمت مل جائے لیکن اگر اس کو نہ ملے تو دوسرے شخص سے زائل نہ ہو ‘ دنیاوی نعمتوں میں اس قسم کی خواہش مباح اور اخروی نعمتوں میں یہ خواہش مستحسن ہے۔

کسی شخص میں دنیاوی نعمت دیکھ کر اس کی تمنا کرنے سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے :

(آیت) ” ولا تتمنوا ما فضل اللہ بہ بعضکم علی بعض “۔ (النساء : ٣٢)

ترجمہ : اور اس کی تمنا نہ کرو جس کے ساتھ اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔

اور کسی شخص میں اخروی نعمت (کثرت عبادت اور تقوی) دیکھ کر اس کو طلب کر نیکی اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی ہے۔

(آیت) ” وفی ذلک فلیتنا فس المتنا فسون “۔۔ (المطففین : ٢٦)

ترجمہ : اور رغبت کرنے والوں کو اسی (نیک لوگوں) میں رغبت کرنی چاہیے۔

امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صرف دو شخصوں پر حسد کرنا جائز ہے ‘ ایک اس شخص پر جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن عطا فرمایا اور وہ دن رات قرآن مجید کی تلاوت کرتاہو ‘ سو وہ آدمی یہ تمنا کرے کہ کاش مجھے بھی قرآن دیا جاتا تو میں بھی اس کی طرح دن رات قرآن مجید کی تلاوت کرتا ‘ دوسرے اس شخص پر جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ شخص حق کے راستے میں اس مال کو خرچ کرتا ہو ‘ سو آدمی یہ تمنا کرے کہ کاش مجھے بھی مال دیا جاتا تو میں بھی اس کی طرح مال خرچ کرتا ‘۔ ١ (امام محمد اسماعیل بخاری (رح) متوفی ٢٥٦ ھ صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ١٠٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ) اس حدیث میں حسد سے مراد حسد کا یہی چوتھا مرتبہ ہے۔

حسد کے اسباب :

(١) عداوت اور بعض حسد کا سبب ہے ‘ جب انسان کسی سے عداوت رکھتا ہے تو وہ اس کو ذلیل کرنا چاہتا ہے ‘ اگر وہ اس کو ذلیل نہ کرسکے تو یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس جو نعمتیں ہیں وہ اس سے زائل ہوجائیں۔

(٢) تکبر بھی حسد کا سبب ہے ‘ ایک انسان اپنے معاصروں پر فوقیت حاصل کرنا چاہتا ہے ‘ اور اس کو فوقیت ملنے کے بجائے اس کے کسی معاصر کو عزت اور بڑائی مل جاتی ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کو وہ عزت نہیں ملی تو اس کے معاصر سے بھی وہ عزت زائل ہوجائے تاکہ اگر اس کو فوقیت نہیں ملی تو اس کے معاصروں کو بھی نہ ملے۔

(٣) لوگ کسی شخص کو کم درجہ کا خیال کرتے ہوں اور اچانک اس کو کوئی منصب مل جائے تو وہ اس سے حسد کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس سے یہ منصب زائل ہوجائے ‘ مکہ کے سرداروں کے ایمان نہ لانے کا یہی سبب تھا ‘ وہ کہتے تھے کہ ایک یتیم شخص ہم سے کیسے بڑھ گیا ‘ ہم اس کے آگے اپنا سر کیسے جھکائیں ‘ اللہ تعالیٰ ان کے قول کو نقل کرکے فرماتا ہے :

(آیت) ” وقالوا لولا نزل ھذا القران علی رجل من القریتین عظیم۔ (الزخرف : ٣١)

ترجمہ : انہوں نے کہا : یہ قرآن ان دو شہروں (مکہ اور طائف) کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں اتارا گیا۔

(٤) جب کئی شخص کسی ایک مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہوں اور ان میں سے کوئی ایک کامیاب ہوجائے تو باقی لوگ اس سے حسد کرنے لگتے ہیں۔

(٥) اپنا تفرد اور تسلط چاہنا بھی حسد کا سبب ہے مثلا کوئی شخص کسی فن میں کمال حاصل کرکے یگانہ روز گار ہو ‘ پھر اس کو معلوم ہو کہ کوئی اور شخص بھی اس کی طرح صاحب کمال ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اس کا کمال زائل ہوجائے تاکہ اس کا تسلط و تفرد برقرار رہے۔

حسد کو زائل کرنے کا علاج :

حسد کو زائل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان تقدیر پر اپنے ایمان کو مستحکم کرے اور جو نعمتیں اس کو مل گئی ہیں ان پر راضی رہے اور ان کا شکر ادا کرے اور جو نعمتیں اس کو نہیں ملیں ان پر صبر کرے اور دوسرے شخص میں ان نعمتوں کو دیکھ کر ملول نہ ہو اور ان نقصانوں پر غور کرے جو اس کو حسد کی صورت میں پیش آئیں گے :

(١) حسد کی وجہ سے انسان اللہ کے حکم اور اس کی تقسیم کو ناپسند کرتا ہے۔

(ب) انسان جب کسی مسلمان کے پاس زیادہ نعمتیں دیکھ کر حسد کرتا ہے تو وہ اولیاء اللہ کے زمرہ سے خارج ہو کر ابلیس کی جماعت میں شامل ہوجاتا ہے ‘ کیونکہ سب سے پہلے حسد کرنے والا ابلیس تھا جس نے حضرت آدم (علیہ السلام) پر حسد کیا تھا۔

(ج) حسد کرنے والا شخص ہمیشہ جلتا اور کڑھتا رہتا ہے اور جیسے جیسے دوسرے شخص پر زیادہ نعمتیں ہوتی ہیں اس کی جلن بڑھتی جاتی ہیں۔

(د) حسد کرنے والا شخص لوگوں کے نزدیک مذموم اور اللہ کے نزدیک ملعون ہوتا ہے۔

(ھ) حاسد ہمیشہ یہ تمنا کرتا ہے کہ جس سے وہ حسد کرتا ہے اس سے نعمت زائل ہوجائے ‘ اگر وہ عالم ہے تو غلط مسئلہ بتائے اور پکڑا جائے یا کسی مصیبت کا شکار ہو ‘ لوگوں میں رسوا ہو ‘ سخت بیمار ہو یا مرجائے اور جو شخص کسی کا برا چاہتا ہے وہ خود اس برائی میں پڑجاتا ہے۔

حسد کرنے والے کو چاہیے کہ وہ ایسے کام کرے جو حسد کے تقاضوں کے خلاف ہوں ‘ اگر حسد کی وجہ سے وہ اس کی برائی کرنا چاہتا ہو تو اس کی تعریف کرے ‘ اگر حسد کی وجہ سے وہ اس کے سامنے اپنی بڑائی کا اظہار کرنا چاہتا تھا تو اس کے سامنے تواضع کرے ‘ اگر وہ اس سے کسی بھلائی اور فیض کو منقطع کرنا چاہتا تھا تو اس کو خیر اور نفع پہنچائے ‘ وہ اس سے جن نعمتوں کے زوال کی تمنا کرتا تھا اس کے لیے ان نعمتوں میں زیادتی کی دعا کرے۔

جب حسد کرنے والا حسد کے نقصانات پر غور کرے گا اور اس کی تلافی کے لئے محسود کا بھلا چاہے گا تو اس سے حسد زائل ہوجائے گا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو تم (ان کو) معاف کرو اور درگزر کرو حتی کہ اللہ اپنا (کوئی اور) حکم صادر فرمائے۔ (البقرہ : ٩٠١)

کافروں اور مشرکوں کی زیادتی سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا درگزر کرنا :

کافروں اور مشرکوں سے جہاد کا حکم نازل ہونے سے پہلے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی ایذارسانیوں کو برداشت کیا کرتے تھے اور درگزر فرماتے تھے۔

امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت اسامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فدک کی بنی ہوئی ایک موٹی چادر اوڑھ کر دراز گوش پر سوار ہو کو بنو خزرج کے امیر حضرت سعد بن عبادہ کی عبادت کے لئے جارہے تھے اور حضرت اسامہ آپ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ‘ یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے ‘ آپ ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی ابن سلول بیٹھا ہوا تھا ‘ یہ اس وقت تک اسلام نہیں لایا تھا اس مجلس میں مسلمانوں ‘ مشرکوں ‘ بت پرستوں اور یہودیوں کے بہت سے لوگ تھے اور مسلمانوں میں حضرت عبداللہ بن رواحہ بھی تھے ‘ جب اس مجلس کو آپ کی سواری کے گرد و غبار نے ڈھانپ لی تو عبداللہ بن ابی نے اپنی ناک پر چادر رکھ لی ‘ پھر کہا : ہم پر گرد نہ ڈالو ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں سلام کرکے توقف کیا ‘ اور ان کو اللہ کی (عبادت کی) دعوت دی اور ان پر قرآن پڑھا ‘ عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا : اے شخص ! اس کلام سے اچھی کوئی چیز نہیں ہے ‘ اگر یہ حق ہے تو تم ہمیں ہماری مجلس میں ایذا نہ دو اور اپنی سواری پر واپس چلے جاؤ ‘ اور جو تمہارے پاس آئے اس کو سناؤ ‘ حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) نے کہا : کیوں نہیں ! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ہماری مجلس میں ٹھہریں ‘ ہم اس کو پسند کرتے ہیں ‘ پھر مسلمان ‘ مشرک اور یہود ایک دوسرے کو برا کہنے لگے، حتی کہ وہ لڑنے کے قریب ہوگئے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو ٹھنڈا کرتے رہے حتی کہ وہ خاموش ہوگئے ‘ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی سواری پر بیٹھ کر روانہ ہوگئے ‘ اور حضرت سعد بن عبادہ (رض) کے پاس پہنچے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے سعد ! کیا تم نے نہیں سنا کہ ابو حباب (عبداللہ بن ابی) نے کیا کہا ہے ؟ اس نے یہ یہ کہا ہے۔ حضرت سعد بن عبادہ (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو معاف کردیجئے اور اس سے درگزر کیجئے ‘ اس ذات کی قسم جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے ! بیشک اللہ نے آپ پر جو کتاب نازل کی ہے وہ حق ہے ‘ اس شہر کے لوگوں نے اس پر اتفاق کرلیا تھا کہ وہ عبداللہ بن ابی کو سرداری کا تاج پہنائیں گے اور جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو حق دے کر بھیجا اور اس کو یہ موقع نہیں دیا تو وہ غضبناک ہوگیا ‘ اسی وجہ سے اس نے وہ سب کیا جو اس نے کیا اور آپ نے دیکھا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو معاف کردیا ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب ‘ اللہ کے حکم کے بہ موجب اہل کتاب اور یہودیوں کو معاف کردیتے تھے اور ان کی ایذاء پر صبر کرتے تھے۔ ١ (امام محمد اسماعیل بخاری (رح) متوفی ٢٥٦ ھ صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٦٥٦۔ ٦٥٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ) اس حدیث کو امام مسلم (رح) ۔ ٢ (امام مسلم بن حجاج قشیری متوفی ٢٦١ ھ ‘ صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ١١٠۔ ١٠٩ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ) اور امام احمد (رح) ۔ ٣ (امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ٥ ص، ٢٠٣ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ) نے بھی روایت کیا ہے۔

اللہ کا تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” لتبلون فی اموالکم وانفسکم ولتسمعن من الذین اوتوا الکتب من قبلکم ومن الذین اشرکوا اذی کثیرا وان تصبروا وتتقوا فان ذلک من عزم الامور۔۔ (آل عمران : ١٨٦)

ترجمہ : بیشک تمہارے مال اور جان میں ضرور تمہاری آزمائش ہوگی ‘ اور اہل کتاب اور مشرکین سے تم ضرور بہت سی دل آزار باتیں سنو گے ‘ اور اگر تم صبر کرو اور تقوی اختیار کرو تو بیشک یہ بڑی ہمت کا کام ہے۔۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حتی کہ اللہ تعالیٰ اپنا (کوئی اور) حکم صادر فرمائے۔

عفو اور درگزر کا منسوخ ہونا :

اللہ تعالیٰ نے یہود کے حسد اور ان کی ریشہ دوانیوں پر اور اسی طرح مشرکین کی ایذارسانیوں پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معاف کرنے اور درگزر کرنے کا حکم دیا اور یہ حکم دائمی نہیں تھا بلکہ ایک وقت مقرر تک کے لئے تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حتی کہ اللہ اپنا (کوئی اور) حکم صادر فرمائے۔ مشرکین اور یہودیوں سے درگزر کرنے کا حکم اس وقت تک کے لئے تھا جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے قتال کا حکم نہیں دیا تھا۔ بعد میں اللہ نے یہ حکم دیا کہ یا تو وہ اسلام قبول کریں یا مسلمانوں کے تابع ہو کر رہیں اور جزیہ دیں ‘ علماء نے بیان کیا کہ یہ آیت اس آیت سے منسوخ ہے :

(آیت) ” قاتلوا الذین لا یؤمنون باللہ ولا بالیوم الاخرولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہ ولا یدینون دین الحق من الذین اوتوالکتب حتی یعطوالجزیۃ عن ید و ھم صغرون “۔۔ (التوبہ : ٢٩)

ترجمہ : جو اھل کتاب ‘ اللہ اور قیامت کے دین پر ایمان نہ لائیں ‘ اور اللہ اور اس کے رسول کے حرام کئے ہوئے کو حرام نہ کہیں اور دین حق کی اطاعت کریں ان سے قتال کرتے رہو حتی کہ وہ مغلوب ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں ‘۔

اس آیت میں اہل کتاب سے قتال کا حکم ہے اور درج آیت میں مشرکین سے قتال کا حکم ہے :

(آیت) ” فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “۔ (التوبہ : ٥)

ترجمہ : سو مشرکین کو تم جہاں پاؤ انہیں قتل کردو۔

ایک سوال یہ ہے کہ جب کافروں اور مشرکوں سے درگزر کرنے کا حکم دائمی نہیں تھا بلکہ ایک خاصص وقت تک تھا تو قتال کا حکم آنے کے بعد اس پہلے حکم کو منسوخ کیوں کہا جاتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ اس حکم میں مدت کو بیان نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس کو مبہم رکھا گیا تھا اس لیے اس کو منسوخ کہا جاتا ہے۔

شخصی معاملے میں زیادتی سے درگزر کرنا اور دین کے معاملہ میں رعایت نہ کرنا :

معاف کرنے اور درگزر کرنے کے لئے اسی سے کہا جاتا ہے جو سزا دینے اور بدلہ لینے پر قادر ہو ‘ اس میں یہ اشارہ ہے کہ مسلمان تعداد میں کم ہونے کے باوجود ایمان کی طاقت سے اس قدر قوی تھے کہ وہ یہودیوں اور مشرکوں کو سزا دے سکتے تھے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کی وجہ سے ان کو عفو اور درگزر کا حکم دیا۔ بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں بنو قریظہ اور بنو نضیر سے در گزر کرنے کا حکم ہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے بنو قریظہ کو قتل کرنے اور بنو نضیر کو جلاوطن کرنے کا حکم دیا۔ بعض علماء نے یہ کہا کہ اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ کس کو معاف کرو اور کس سے در گزر کرو ‘ اس میں یہ اشارہ ہے کہ مسلمانوں کا عام حال یہ ہونا چاہیے کہ وہ تمام جاہلوں اور زیادتی کرنے والوں کو معاف کردیں اور ان سے در گزر کرلیں ‘ ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مبارک طریقہ یہ تھا کہ اگر آپ کی ذات کے ساتھ کوئی شخص زیادتی کرتا تو معاف کردیتے لیکن اگر کوئی شخص اللہ کی حرمت اور اس کے احکام کے خلاف کوئی کام کرتا تو پھر آپ کوئی رعایت نہیں کرتے تھے ‘ امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شرم وحیا کے منافی بات نہیں کرتے تھے ‘ نہ بازاروں میں زور سے بولتے تھے اور برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے بلکہ معاف کردیتے تھے اور در گزر کرتے تھے۔

حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کبھی کسی زیادتی کا بدلہ لیتے ہوئے نہیں دیکھا ‘ بہ شرطی کہ حدود اللہ کی خلاف ورزی نہ کی جائے ‘ اور جب کوئی حدود اللہ کی خلاف ورزی کرتا تو آپ اس پر سب سے زیادہ غضب کرنے والے تھے اور جب بھی آپ کو دو کاموں میں سے ایک کام کا اختیار دیا جاتا تو آپ ان میں سے آسان کو اختیار کرتے بہ شرطی کہ وہ گناہ نہ ہو۔

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جہاد فی سبیل اللہ کے سوا کسی کو نہیں مارا ‘ کسی خادم کو مارا نہ کسی عورت کو۔

حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے نفس کے لئے تین چیزوں کو ترک کردیا تھا ‘ ضد بحث کرنا ‘ اپنے لئے بڑائی چاہنا اور غیر متعلقہ باتوں میں پڑنا ‘ اور لوگوں کے لئے بھی تین چیزوں کو ترک کردیا تھا ‘ کسی کی مذمت نہیں کرتے تھے ‘ کسی کا عیب نہیں کرتے تھے ‘ اور کسی کے عیوب کا کھوج نہیں لگاتے تھے ‘ صرف انہی امور میں کلام فرماتے جن میں ثواب کی امید ہوتی۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٥٩٦ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

آج ہماری زندگی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت کے بالکل برعکس گزر رہی ہے ‘ اللہ تعالیٰ اصلاح فرمائے اور ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے۔

آخرت کے لئے نیکیوں کا بھیجنا :

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور جو نیک کام تم اپنے لئے پہلے بھیجو گے ان کو اللہ کے پاس پاؤ گے۔ (البقرہ : ١١٠)

علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں :

حدیث میں ہے : جب انسان مرجاتا ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ اس نے کیا چھوڑا اور فرشتے کہتے ہیں کہ اس نے کیا بھیجا ؟ امام نسائی (رح) روایت کرتے ہیں : حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ کون شخص ہے جس کو اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہے ؟ صحابہ (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم میں سے ہر شخصص کو اپنا مال اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبوب ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے ہر شخص اپنے مال کی بہ نسبت اپنے وارث کے مال کو ہی محبوب رکھتا ہے تمہارا مال وہ ہے جس کو تم نے (آخرت کے لئے) بھیج دیا اور تمہارے وارث کا مال وہ ہے جس کو تم نے رکھ چھوڑا ہے۔ ١ (سنن نسائی ج ٢ ص ١٢٨ مطبوعہ نور محمد کراچی ‘ مسند احمد ج ١ ص ٣٨٢‘ بیروت) اس حدیث کو امام بخاری (رح) نے بھی روایت کیا ہے اور اس میں ہے ‘ حضرت عمر بن الخطاب (رض) بقیع الغرقد (مدینہ کا قبرستان) کے پاس سے گزرے تو انہوں نے کہا : ” السلام علیکم اھل القبورا “ ہمارے پاس یہ خبریں ہیں کہ تمہاری بیویوں نے دوسری شادیاں کرلیں ‘ تمہارے مکانوں میں اور لوگ رہنے لگے اور تمہارے اموال تقسیم کردیئے گئے ‘ تو غیب سے ایک آواز آئی : اے ابن الخطاب ! ہمارے پاس یہ خبریں ہیں کہ ہم نے آخرت کے لئے جو صدقات بھیجے تھے وہ ہم نے پالئے اور ہم نے آخرت کے لئے جو خرچ کیا تھا ‘ ہمیں اس کا نفع مل گیا اور ہم نے جو دنیا میں چھوڑ دیا تھا اس کا ہم نے نقصان اٹھایا۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ٧٣ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا کہ کون سے صدقہ کا زیادہ اجر ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم اس وقت صدقہ کرو جب تم تندرست اور بخیل (ضرورت مند) ہو تم کو تنگ دستی کا اندیشہ ہو اور تم کو غنی ہونے کی امید ہو ‘ صدقہ کرنے کو موخر نہ کرتے رہو حتی کہ جب تمہاری روح حلق تک آجائے تو کہو : فلاں کو اتنا دے دو ‘ فلاں کو اتنا دے دو ‘ (اب تم کہو یا نہ کہو) فلاں فلاں کو تو اب مل ہی جائے گا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٩١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام نسائی (رح) روایت کرتے ہیں :

مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کو مال کی کثرت نے عبادت سے غافل کردیا حتی کہ تم نے قبروں کو دیکھ لیا ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابن آدم کہتا رہتا ہے کہ یہ میرا مال ہے ‘ یہ میرا مال ہے حالانکہ تمہارا مال تو صرف وہ ہے جس کو تم نے کھالیا اور فنا کردیا یا کپڑے پہن کر بوسیدہ کردیئے یا صدقہ کرکے آخرت کے لئے روانہ کردیا (یعنی اس کے علاوہ جو مال ہے وہ تمہارا نہیں ہے تمہارے وارثوں کا ہے) (سنن نسائی ج ٢ ص ١٢٨ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ گھر والوں نے ایک بکری ذبح کی ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اس میں کچھ باقی ہے ؟ حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا : اس کی صرف ایک دستی باقی ہے ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ایک دستی کے سوا وہ سب باقی ہے جس کو تم نے تقسیم کردیا۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٣٥٥ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اس حدیث کو امام احمد (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند احمد ج ٦ ص ٥٠‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اہل کتاب نے کہا : جنت میں صرف یہودی یاعیسائی جائیں گے ‘ یہ ان کی باطل تمنائیں ہیں۔ (البقرہ : ١١١)

یعنی یہود نے کہا : صرف جنت میں جائیں گے اور عیسائیوں نے کہا : صرف عیسائی جنت میں جائیں گے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہیے : تم اگر سچے ہو تو اس پر دلیل لاؤ ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا : کیوں نہیں ‘ جس نے اپنا چہرہ اللہ کے لیے جھکا دیا اور وہ نیکی کرنے والا ہے تو اس پر کوئی غم اور خوف نہیں ہے۔ تمام اعضاء میں سے صرف چہرہ کو خاص کیا ہے کیونکہ وہ اشرف الاعضاء ہے اور حواس ‘ فکر اور تخیل کا معدن ہے ‘ جب اللہ کے لیے چہرہ جھک جائے گا تو باقی جسم بہ طریق اولی جھک جائے گا ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ ذات سے چہرہ کو چہرہ کو تعبیر کیا جاتا ہے۔

قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” کل شیء ھالک الا وجھہ، (القصص : ٨٨)

ترجمہ : اللہ کے چہرہ (ذات) کے سوا ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔

(آیت) ” ویبقی وجہ ربک ذوالجلل والاکرام۔ (الرحمن : ٢٧)

ترجمہ : اور آپ کے رب کا چہرہ (ذات) باقی ہے جو عظمت اور بزرگی والا ہے۔

تیسری وجہ یہ ہے کہ نماز میں افضل رکن سجدہ ہے اور وہ چہرہ زمین پر رکھنے سے ادا ہوتا ہے ‘ اس لیے انسان کو چہرہ سے تعبیر فرمایا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 107