دیوبند مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ایک پروفیسر صاحب کی ناموسِ رسالت پر پہرہ دینے کے حوالے سے ایک چشم کشاتحریر۔۔۔۔

مطالعہ فرمائیں، اللہ کا شکر ادا کریں اور دیگر لوگوں تک بھی پہنچائیں ۔۔۔۔۔

کریڈٹ کس کو دیا جائے؟؟؟

گورنمنٹ آف پاکستان پہلے بھی سنجیدگی سے گستاخانہ خاکوں کو رکوانے پر کام کررہی تھی

مگر عالمی سطح پر تنہا ہونے کے خوف سے سخت مؤقف اپنانے سے قاصر تھی اور منت سماجت کا لہجہ اپنائے ہوئے تھی

مگر گذشتہ کل مسلسل تحریکِ لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لانگ مارچ کے آگے رکاوٹیں کھڑی کرنے کے باوجود جب اس کو روکا نہ جا سکا تو سفیر کو حالات سے اس طرح باور کروایاگیا کہ

اس تحریک سے مقابلہ کرنا ہمارے بس کی بات نہیں اور ثبوت کے طور پر فیض آباد دھرنا یاد کروایا گیا اور ویسے بھی یہ ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے فلہٰذا آپ اپنے ملک میں بات کریں اور ان کو کہیں کہ اگر تحریک والے ایمبیسی کے سامنے پہنچ گئے تو ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ ہمیں آپکو یہاں سے نکالنا پڑے گا اس لئے گستاخانہ خاکوں کے سلسلے کو روکنے میں ہی عافیت ہے

مگر یہ بات ہالینڈکے گماشتوں کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی

دوسری طرف شاہ محمود قریشی صاحب بھی بارباراپنے ہم منصب سے رابطے میں تھے

اور دیگر اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کو بھی اس کی حساسیت سے آگاہ کرکے ہالینڈ پر دباؤ ڈالنے کا کہہ رہے تھے

اور ادھرتحریکِ لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مارچ بھی دارالخلافہ کہ حدود میں داخل ہوچکاتھا

ادھروزیرِاعظم عمران خان نے ویڈیو بیان جاری کیا تاکہ تحریکِ لبیک کے لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا کیا جاسکے

امیدکی آخری کرن کے طور پر مذاکرات کے لئے حکومتی عہدیداروں اور تحریکِ لبیک کے ذمہ داروں کے درمیان بیٹھک شروع ہوئی

حکومت کے لئے دونوں طرف مایوسی کی سی کیفیت تھی

نہ ہالینڈ کی طرف سے مناسب جواب مل رہا تھا اور نہ ہی تحریکِ لبیک کی طرف سے نرمی کا اظہار کیا جارہا تھا

کہ ایسے میں ہالینڈ کے سربراہانِ مملکت اور گیرٹ ولڈرز کو احساس ہوا کہ وہ واقعی ایک بہت بڑی غلطی کررہے ہیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ہمارے لئے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوجائے

دودن قبل بھی ہالینڈ کے اخبارات نے مسلم ممالک میں اپنی مصنوعات کے بائیکاٹ کی وجہ سے کام لکھے کہ ناقابلِ تلافی نقصان ہورہا ہے

معیشت کو اپنا خدا کہنے والے اور اللہ کے قرآن کے مطابق موت سے بھاگنے والے یہودی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پہ مجبور ہو گئے

الحمد للہ امتِ مسلمہ سرخ رو ہوئی

مگر مسئلہء ختمِ نبوت کی طرح ایک بار پھر وہی سنی بریلوی بازی لے گئے جن کو ہمارے علماء مشرک ،بدعتی اور نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں۔

اب صبح سے میں حقائق جاننے کی جستجو میں تھا ساتھ سوشل میڈیا پر کریڈٹ کی کھینچاتانی بھی جاری دیکھتارہا

اب جو بھی کریڈٹ لے پھر بھی

لامحالہ ماننا پڑے گا کہ ناموسِ رسالت پرپہرہ دینے میں یہ معذور شخص سب علماء،پیروں،گدی نشینوں، مفتیوں، سیاستدانوں اور حکمرانوں سے بہت آگے ہے

اور ہاں حکمرانوں کا طرزِ عمل بھی پہلے کے حکمرانوں سے بہت مختلف دیکھا گیا جو کہ قابلِ تحسین ہے مگر سچ یہ ہے کہ اگر یہ لانگ مارچ نہ ہوتا توحکومت کبھی بھی اس معاملہ کو اس قدر سنجیدہ نہ لیتی اورہالینڈ کے گستاخ کبھی بھی اس خباثت سے دستبردار نہ ہوتے

اختتام پر میں سب ان متوالوں اور شمعِ رسالت کے پروانوں کو سلام کرتا ہوں جنہوں نے اس مقدس مشن میں کردار ادا کیا

ًنوٹ۔یاد رہے کہ میراتعلق دیوبند مکتبہ فکر سے ہے مگر متشدد رویہ سے عاری ہوں اور ہراچھا کام کرنے والے کی تحسین کا ذہن رکھتا ہوں

ڈاکٹر مشتاق احمد لیکچرار انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد